المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
663. ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ -
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 6040
أخبرني أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي بنيسابور، حَدَّثَنَا أبو عُلَاثة (1) ، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا ابن لَهِيعة، حَدَّثَنَا أبو الأسود، عن عُرْوة، في (2) تسميةِ أصحابِ العَقَبة الذين بايَعوا النَّبِيَّ ﷺ من بني غَنْم بن مالك بن النّجَّار: أبو أيوب، وهو خالد بن زيد بن كُليب، وفي تسمية من شهد بدرًا مع رسول الله ﷺ من بني النّجَّار بن مالك بن الخَزرج، ثم من بني غَنْم بن مالك، ثم من بني ثَعْلبة بن عوف بن غَنْم: أبو أيوب، واسمه خالد بن زيد بن كُليب بن ثعلبة (3) .
عروہ بن زبیر سے بیعتِ عقبہ میں شریک ہونے والے صحابہ کے ناموں کے متعلق مروی ہے کہ بنو غنم بن مالک بن نجار میں سے سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ شامل تھے جن کا نام خالد بن زید بن کلیب ہے، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک ہونے والے بنو نجار کے صحابہ کے ناموں میں بھی سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے، جن کا پورا نام خالد بن زید بن کلیب بن ثعلبہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6040]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6040] [ترقيم الشركة 5982]
حدیث نمبر: 6041
أخبرني أبو سهل بن زياد القطّان ببغداد، حدثني علي بن الحسن الأزرق، حَدَّثَنَا أحمد بن الوليد، حَدَّثَنَا الوليد بن مسلم، حَدَّثَنَا عبد الله بن لَهِيعة والليث بن سعد قالا: حَدَّثَنَا يزيد بن أبي حَبِيب، عن أبي عِمران التُّجِيبي قال: غَزَونا القُسْطَنطينيّة ومَعَنا أبو أيوب الأنصاري، فصَفَفْنا صفَّين، ما رأيت صفَّين قطُّ أطولَ منهما، ومات أبو أيوب الأنصاري في هذه الغَزَاةِ، وكان أَوصَى أن يُدفَن في أصل سُور القُسْطَنطينيّة، وأن نقضيَ دَينًا عليه، ففُعِل (4) .
ابو عمران تجیبی سے روایت ہے کہ ہم نے سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی معیت میں قسطنطنیہ پر حملہ کیا، ہم نے وہاں ایسی لمبی صفیں بنائیں کہ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھیں، سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اسی غزوے کے دوران وفات پا گئے، انہوں نے وصیت فرمائی تھی کہ انہیں قسطنطنیہ کی دیوار کی بنیاد میں دفن کیا جائے اور ان کا قرض ادا کیا جائے، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6041]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة علي بن الحسن الأزرق وأحمد بن الوليد، فلم نتبينهما. أبو سهل بن زياد: هو أحمد بن محمد بن زياد النحوي، والوليد بن مسلم: هو القرشي، وأبو عمران التجيبي: اسمه أسلم. وانظر ما سلف برقم (2465) من طريق حيوة بن شريح عن يزيد بن أبي» [ترقيم الرساله 6041] [ترقيم الشركة 5983]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة علي بن الحسن الأزرق وأحمد بن الوليد
حدیث نمبر: 6042
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، قال آخَى رسولُ الله ﷺ بين أَبي أيوب وبين مُصعب بن عُمير، وشهد أبو أيوب بدرًا وأُحدًا والخندقَ والمشاهدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ، وتُوفي عام غزا يزيدُ بنُ معاوية القُسْطَنطينيّةَ في خلافة أبيه معاويةَ سنة اثنتين وخمسين، وقبرُه بأصل حِصْنِ القُسْطَنطِينيّة بأرض الروم - فيما ذُكر - يتعاهدون قبره يَرُمُّونه (1) ويَستسقُون به إذا قُحِطُوا (2) .
محمد بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو ایوب انصاری اور سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا تھا، سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ غزوہ بدر، احد، خندق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تمام معرکوں میں شریک رہے، ان کی وفات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں سن 52 ہجری میں اس وقت ہوئی جب یزید بن معاویہ نے قسطنطنیہ پر چڑھائی کی تھی، ان کی قبر قسطنطنیہ کے قلعے کی بنیاد میں ارضِ روم میں واقع ہے، جس کے متعلق یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ لوگ وہاں کثرت سے جاتے ہیں، اس کی مرمت کرتے ہیں اور جب قحط پڑتا ہے تو اس کے ذریعے (اللہ سے) بارش کی دعا مانگتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6042]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6042] [ترقيم الشركة 5984]
وضاحت: اس سند میں مرکزی راوی محمد بن عمر الواقدی ہیں۔ الواقدی: جمہور محدثین (جیسے امام احمد، ابن معین، اور بخاری) کے نزدیک یہ "متروک" یا "ضعیف" قرار دیے گئے ہیں۔ تاہم، مغازی (غزوات) اور سیرت و تاریخ کے باب میں ان کی روایات کو معلومات کے لیے قبول کیا جاتا ہے، اگرچہ وہ احکام اور حلال و حرام میں حجت نہیں ہیں۔ دیگر راوی: سلیمان بن داؤد الشاذکونی بھی کلام سے خالی نہیں۔