سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. باب فِي الْحَسَدِ
باب: حسد کا بیان۔
حدیث نمبر: 4903
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ، أَوْ قَالَ: الْعُشْبَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ حسد سے بچو، اس لیے کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا لیتا ہے، جیسے آگ ایندھن کو کھا لیتی ہے یا کہا گھاس کو (کھا لیتی ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4903]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حسد (دوسروں پر جلنے اور کڑھنے) سے اپنے آپ کو بچاؤ، بلاشبہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ ایندھن کو“ یا فرمایا: ”جیسے آگ گھاس پھوس کو کھا جاتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4903]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15488) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
جد إبراهيم بن أبي أسيد لا يعرف (تق: 8503)
وللحديث شاهد ضعيف في سنن ابن ماجه : 4210
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171
إسناده ضعيف
جد إبراهيم بن أبي أسيد لا يعرف (تق: 8503)
وللحديث شاهد ضعيف في سنن ابن ماجه : 4210
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171
حدیث نمبر: 4904
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الْعَمْيَاءِ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَأَبُوهُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِالْمَدِينَةِ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي صَلَاةً خَفِيفَةً دَقِيقَةً كَأَنَّهَا صَلَاةُ مُسَافِرٍ أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ أَبِي: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، أَرَأَيْتَ هَذِهِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ أَوْ شَيْءٌ تَنَفَّلْتَهُ؟ , قَالَ: إِنَّهَا الْمَكْتُوبَةُ وَإِنَّهَا لَصَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَخْطَأْتُ إِلَّا شَيْئًا سَهَوْتُ عَنْهُ، فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ:" لَا تُشَدِّدُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَيُشَدَّدَ عَلَيْكُمْ، فَإِنَّ قَوْمًا شَدَّدُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ فَشَدَّدَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَتِلْكَ بَقَايَاهُمْ فِي الصَّوَامِعِ وَالدِّيَار وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ , ثُمَّ غَدَا مِنَ الْغَدِ، فَقَالَ: أَلَا تَرْكَبُ لِتَنْظُرَ وَلِتَعْتَبِرَ، قَالَ: نَعَمْ، فَرَكِبُوا جَمِيعًا فَإِذَا هُمْ بِدِيَارٍ بَادَ أَهْلُهَا وَانْقَضَوْا وَفَنُوا خَاوِيَةٍ عَلَى عُرُوشِهَا، فَقَالَ: أَتَعْرِفُ هَذِهِ الدِّيَارَ، فَقُلْتُ: مَا أَعْرَفَنِي بِهَا وَبِأَهْلِهَا، هَذِهِ دِيَارُ قَوْمٍ أَهْلَكَهُمُ الْبَغْيُ وَالْحَسَدُ إِنَّ الْحَسَدَ يُطْفِئُ نُورَ الْحَسَنَاتِ وَالْبَغْيُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ وَالْعَيْنُ تَزْنِي وَالْكَفُّ وَالْقَدَمُ وَالْجَسَدُ وَاللِّسَانُ وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ.
سہل بن ابی امامہ کا بیان ہے کہ وہ اور ان کے والد عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں جب وہ مدینے کے گورنر تھے، مدینے میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو دیکھا، وہ ہلکی یا مختصر نماز پڑھ رہے ہیں، جیسے وہ مسافر کی نماز ہو یا اس سے قریب تر کوئی نماز، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میرے والد نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، آپ بتائیے کہ یہ فرض نماز تھی یا آپ کوئی نفلی نماز پڑھ رہے تھے تو انہوں نے کہا: یہ فرض نماز تھی، اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے، اور جب بھی مجھ سے کوئی غلطی ہوتی ہے، میں اس کے بدلے سجدہ سہو کر لیتا ہوں، پھر کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اپنی جانوں پر سختی نہ کرو ۲؎ کہ تم پر سختی کی جائے ۳؎ اس لیے کہ کچھ لوگوں نے اپنے اوپر سختی کی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی کر دی تو ایسے ہی لوگوں کے باقی ماندہ لوگ گرجا گھروں میں ہیں انہوں نے رہبانیت کی شروعات کی جو کہ ہم نے ان پر فرض نہیں کی تھی پھر جب دوسرے دن صبح ہوئی تو کہا: کیا تم سواری نہیں کرتے یعنی سفر نہیں کرتے کہ دیکھو اور نصیحت حاصل کرو، انہوں نے کہا: ہاں (کرتے ہیں) پھر وہ سب سوار ہوئے تو جب وہ اچانک کچھ ایسے گھروں کے پاس پہنچے، جہاں کے لوگ ہلاک اور فنا ہو کر ختم ہو چکے تھے، اور گھر چھتوں کے بل گرے ہوئے تھے، تو انہوں نے کہا: کیا تم ان گھروں کو پہنچانتے ہو؟ میں نے کہا: مجھے کس نے ان کے اور ان کے لوگوں کے بارے میں بتایا؟ (یعنی میں نہیں جانتا) تو انس نے کہا: یہ ان لوگوں کے گھر ہیں جنہیں ان کے ظلم اور حسد نے ہلاک کر دیا، بیشک حسد نیکیوں کے نور کو گل کر دیتا ہے اور ظلم اس کی تصدیق کرتا ہے یا تکذیب اور آنکھ زنا کرتی ہے اور ہتھیلی، قدم جسم اور زبان بھی اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4904]
جناب سہل بن ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ اور ان کے والد مدینہ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے۔ یہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے دور کی بات ہے، جبکہ وہ مدینہ کے گورنر تھے۔ ہم سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے ہاں پہنچے تو وہ بڑی ہلکی پھلکی نماز پڑھ رہے تھے، گویا کہ مسافر کی نماز ہو یا اس کے قریب۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو میرے والد نے پوچھا: ”اللہ آپ پر رحم فرمائے! یہ بتائیں کہ یہ فرض نماز تھی یا آپ نے کوئی نفل پڑھے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”یہ فرض نماز تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ایسے ہی ہوتی تھی۔ میں نے اس میں سے کوئی چیز نہیں چھوڑی سوائے اس کے جو میں بھول گیا ہوں (تو وہ الگ بات ہے)۔“ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”اپنی جانوں پر سختی مت کرو ورنہ تم پر سختی کی جائے گی۔ بلاشبہ کئی قوموں نے اپنی جانوں پر سختیاں کیں تو اللہ نے بھی ان پر سختی کی۔ جنگلوں میں معبدوں کے اندر اور گرجا گھروں میں انہی لوگوں کے بقایا لوگ ہیں (جن کا قرآن مجید میں ذکر ہے)۔ ﴿ان لوگوں نے رہبانیت اختیار کر لی، انہوں نے یہ بدعت نکالی، ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا﴾ [سورة الحديد: 27] ۔“ پھر ہم اگلے دن صبح کے وقت ان کے پاس گئے تو انہوں نے کہا: ”کیا تم سوار نہیں ہو جاتے کہ کچھ دیکھو اور عبرت پکڑو؟“ والد نے کہا: ”ہاں چلتے ہیں۔“ چنانچہ ہم سب سوار ہو لیے۔ تو انہوں نے کچھ بستیاں دکھائیں کہ ان کے لوگ ہلاک ہو گئے تھے، مر کھپ گئے تھے اور انہیں برباد کر دیا گیا تھا اور ان کی بستیاں اپنی چھتوں پر گری پڑی تھیں۔ انہوں نے کہا: ”کیا تم ان بستیوں کو پہچانتے ہو؟“ والد نے کہا: ”نہیں، مجھے ان بستیوں کا اور ان لوگوں کا کوئی علم نہیں ہے۔“ انہوں نے بتایا کہ یہ اس قوم کی بستیاں ہیں جن کو بغاوت اور حسد نے ہلاک کر کے رکھ دیا تھا۔ بلاشبہ حسد سے نیکیوں کا نور بجھ جاتا ہے اور بغاوت اس کی تصدیق کرتی ہے یا اسے جھٹلا دیتی ہے۔ ”آنکھ زنا کرتی ہے اور پھر ہاتھ، پاؤں، جسم، زبان اور شرمگاہ اس کی تصدیق کر دیتے ہیں یا تکذیب۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4904]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 899) (حسن) (اس میں سعید بن عبدالرحمن لین الحدیث ہیں، شواہد وطرق کی بناء پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی 3124 وتراجع الألباني 13)»
وضاحت: ۱؎: دشوار اور شاق عمل کر کے جیسے صوم دہر، پوری پوری رات شب بیداری اور عورتوں سے مکمل علیحدگی وغیرہ اعمال۔
۲؎: یعنی یہ اعمال تم پر فرض قرار دے دئیے جائیں۔
۲؎: یعنی یہ اعمال تم پر فرض قرار دے دئیے جائیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد بن عبد الرحمٰن بن أبي العمياء مقبول (تق: 2353) أي مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده ولبعض الحديث شاهد حسن عند البخاري في التاريخ الكبير (97/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171
إسناده ضعيف
سعيد بن عبد الرحمٰن بن أبي العمياء مقبول (تق: 2353) أي مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده ولبعض الحديث شاهد حسن عند البخاري في التاريخ الكبير (97/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171