سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. باب فِي اللَّعْنِ
باب: لعنت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4905
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نِمْرَانَ يَذْكُرُ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا لَعَنَ شَيْئًا صَعِدَتِ اللَّعْنَةُ إِلَى السَّمَاءِ، فَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ دُونَهَا ثُمَّ تَهْبِطُ إِلَى الْأَرْضِ فَتُغْلَقُ أَبْوَابُهَا دُونَهَا، ثُمَّ تَأْخُذُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَإِذَا لَمْ تَجِدْ مَسَاغًا رَجَعَتْ إِلَى الَّذِي لُعِنَ فَإِنْ كَانَ لِذَلِكَ أَهْلًا وَإِلَّا رَجَعَتْ إِلَى قَائِلِهَا" , قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ: هُوَ رَبَاحُ بْنُ الْوَلِيدِ سَمِعَ مِنْهُ وَذَكَرَ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ حَسَّانَ وَهِمَ فِيهِ.
ام الدرداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ابو الدرداء کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہے، تو یہ لعنت آسمان پر چڑھتی ہے، تو آسمان کے دروازے اس کے سامنے بند ہو جاتے ہیں پھر وہ اتر کر زمین پر آتی ہے، تو اس کے دروازے بھی بند ہو جاتے ہیں پھر وہ دائیں بائیں گھومتی ہے، پھر جب اسے کوئی راستہ نہیں ملتا تو وہ اس کی طرف پلٹ آتی ہے جس پر لعنت کی گئی تھی، اب اگر وہ اس کا مستحق ہوتا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ وہ کہنے والے کی طرف ہی پلٹ آتی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4905]
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب کسی چیز کو لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی جانب چڑھتی ہے تو اس کے آگے آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر وہ زمین کی طرف اترتی ہے تو اس کے آگے اس کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر وہ دائیں اور بائیں جاتی ہے۔ اگر کوئی جگہ نہ پائے تو جس پر لعنت کی گئی ہو اس پر واقع ہو جاتی ہے، بشرطیکہ وہ چیز اس کی حقدار ہو ورنہ اس کے کہنے والے کی طرف لوٹ جاتی ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مروان بن محمد نے کہا: ”(سند میں مذکور راوی ولید بن رباح دراصل) رباح بن ولید ہے، یحییٰ بن حسان کو اس میں وہم ہوا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4905]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11000) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نمران بن عتبة الذماري : مجهول (التحرير : 7188)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171
إسناده ضعيف
نمران بن عتبة الذماري : مجهول (التحرير : 7188)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171
حدیث نمبر: 4906
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَلَاعَنُوا بِلَعْنَةِ اللَّهِ وَلَا بِغَضَبِ اللَّهِ وَلَا بِالنَّارِ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی لعنت یا اللہ کا غضب یا جہنم کی لعنت کسی پر نہ کیا کرو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4906]
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی لعنت سے لعنت مت کیا کرو اور اللہ کے غضب اور دوزخ کی بددعا مت دیا کرو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4906]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البر والصلة 48 (1976)، (تحفة الأشراف: 4594)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/15) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یوں نہ کہو: تجھ پر اللہ کی لعنت ہو، یا اللہ کا غضب ہو، یااللہ تجھے جہنم میں داخل کرے، یہ ممانعت اس صورت کے ساتھ مخصوص ہے کہ آدمی کسی معین شخص پر لعنت بھیجے، اور اگر کسی وصف عام یا وصف خاص کے ساتھ لعنت بھیج رہا ہو مثلاً یوں کہے «لعنة الله على الكافرين» ، یا «لعنة الله على اليهود» ، یا کسی ایسے متعین کافر پر لعنت بھیج رہا ہو جس کا کفر کی حالت میں مرنا معلوم ہو تو یہ جائز ہے جیسے «لعنة الله على الكافرين» ، یا «لعنة الله على أبي جهل» کہنا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1976)
قتادة عنعن
ولحديثه شاهد مرسل عند عبد الرزاق (المصنف : 19531)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171
إسناده ضعيف
ترمذي (1976)
قتادة عنعن
ولحديثه شاهد مرسل عند عبد الرزاق (المصنف : 19531)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171
حدیث نمبر: 4907
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ , وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ أُمَّ الدَّرْدَاءِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَكُونُ اللَّعَّانُونَ شُفَعَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ".
ام الدرداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ابوالدرداء کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”لعنت کرنے والے نہ سفارشی ہو سکتے ہیں اور نہ گواہ ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4907]
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو بہت زیادہ لعنت کرنے والے ہوں گے وہ (کسی کے) سفارشی یا گواہ نہیں بن سکیں گے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4907]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البروالصلة 24 (2598)، (تحفة الأشراف: 10980)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/448) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے فرد نہیں ہو سکتے، کیونکہ آپ کی امت قیامت کے روز دوسری امتوں پر سفارشی اور گواہ ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2598)
حدیث نمبر: 4908
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ. ح حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ زَيْدٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ:" أَنَّ رَجُلًا لَعَنَ الرِّيحَ، وَقَالَ مُسْلِمٌ: إِنَّ رَجُلًا نَازَعَتْهُ الرِّيحُ رِدَاءَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَعَنَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلْعَنْهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ وَإِنَّهُ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ہوا پر لعنت کی (مسلم کی روایت میں اس طرح ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا نے ایک شخص کی چادر اڑا دی، تو اس نے اس پر لعنت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر لعنت نہ کرو، اس لیے کہ وہ تابعدار ہے، اور اس لیے کہ جو کوئی ایسی چیز کی لعنت کرے جس کا وہ اہل نہ ہو تو وہ لعنت اسی کی طرف لوٹ آتی ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4908]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ہوا کو لعنت کی۔ اور مسلم (مسلم بن ابراہیم) کے الفاظ ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا سے ایک شخص کی چادر اڑ گئی تو اس نے اسے لعنت کر دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لعنت مت کرو، بلاشبہ یہ (اللہ کے حکم کی) پابند ہے۔ اور بلاشبہ جس نے کسی چیز کو لعنت کی جب کہ وہ اس کی حقدار نہ ہو، تو یہ لعنت کرنے والے پر لوٹ آتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4908]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البر والصلة 48 (1978)، (تحفة الأشراف: 5426، 18641) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1978)
قتادة مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171
إسناده ضعيف
ترمذي (1978)
قتادة مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171