🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

93. بَابُ: فِيمَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ
باب: بغیر عذر کے جمعہ چھوڑنے والے کے بارے میں وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1125
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي عُبَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ وَكَانَ لَهُ صُحْبَةٌ وَكَانَ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَهَاوُنًا بِهَا، طُبِعَ عَلَى قَلْبِهِ".
ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ (انہیں شرف صحبت حاصل ہے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تین جمعے سستی سے چھوڑ دئیے، اس کے دل پہ مہر لگ گئی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1125]
صحابیِ رسول حضرت ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اہمیت نہ دیتے ہوئے تین بار جمعہ کی نماز ترک کر دی، اس کے دل پر مہر لگا دی جائے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1125]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 210 (1052)، سنن الترمذی/الصلاة 242 (500)، سنن النسائی/الجمعة 14 (1368)، (تحفة الأشراف: 11883) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کا دل خیر اور ہدایت کو قبول کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا جائے گا۔ اس کے دل پر غفلت چھا جائے گی، اور عبادت کا ذوق و شوق جاتا رہے گا، اور بعض نے کہا: اس میں نفاق آ جائے گا، اور ایمان کا نور جاتا رہے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری زندگی جمعہ کی نماز پابندی سے پڑھائی، اہل علم نے اس کے فرض عین ہونے پر اجماع کیا ہے، اس لیے فریضہ جمعہ کا ادا کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1126
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلَاثًا مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ، طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تین جمعے بغیر کسی ضرورت کے چھوڑ دئیے اللہ تعالیٰ اس کے دل پہ مہر لگا دے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1126]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مجبوری کے بغیر تین بار جمعے کی نماز ترک کی، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1126]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: 2363، ومصباح الزجاجة: 401)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجمعة 3 (1373)، مسند احمد (3/332) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1127
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا هَلْ عَسَى أَحَدُكُمْ أَنْ يَتَّخِذَ الصُّبَّةَ مِنَ الْغَنَمِ عَلَى رَأْسِ مِيلٍ أَوْ مِيلَيْنِ فَيَتَعَذَّرَ عَلَيْهِ الْكَلَأُ، فَيَرْتَفِعَ ثُمَّ تَجِيءُ الْجُمُعَةُ، فَلَا يَجِيءُ وَلَا يَشْهَدُهَا، وَتَجِيءُ الْجُمُعَةُ، فَلَا يَشْهَدُهَا، وَتَجِيءُ الْجُمُعَةُ، فَلَا يَشْهَدُهَا حَتَّى يُطْبَعَ عَلَى قَلْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سن لو! قریب ہے کہ تم میں سے کوئی شخص ایک یا دو میل کے فاصلے پہ بکریوں کا ایک ریوڑ اکٹھا کر لے، وہاں گھاس ملنی مشکل ہو جائے تو دور چلا جائے، پھر جمعہ آ جائے اور وہ واپس نہ آئے، اور نماز جمعہ میں شریک نہ ہو، پھر جمعہ آئے اور وہ حاضر نہ ہو، اور پھر جمعہ آئے اور وہ حاضر نہ ہو، بالآخر اس کے دل پہ مہر لگا دی جاتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1127]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! (توجہ سے سنو!) ممکن ہے ایک آدمی (شہر سے) ایک دو میل کے فاصلے پر چند بکریاں لیے ہوئے ہو، اسے گھاس ملنے میں مشکل پیش آ جائے اور وہ مزید دور چلا جائے، پھر جمعے کا دن آئے اور وہ آ کر جمعے کی نماز میں شریک نہ ہو، پھر (دوسرا) جمعہ آ جائے اور وہ (اس بار بھی) حاضر نہ ہو، پھر (تیسرا) جمعہ آئے اور وہ حاضر نہ ہو، حتیٰ کہ اس کے دل پر مہر لگا دی جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1127]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14148، ومصباح الزجاجة: 402) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں معدی بن سلیمان ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث شاہد کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب: 733)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف لضعف معدي بن سليمان ‘‘
وللحديث شاھد ضعيف جدًا عند أبي يعلي (2198)
وشاھد آخر عند الطبراني في الأوسط (338)
وإسناده ضعيف (راجع مجمع الزوائد 2/ 193)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 417

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1128
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِنِصْفِ دِينَارٍ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ جان بوجھ کر چھوڑ دیا، تو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اور اگر ایک دینار نہ ہو سکے تو آدھا دینار ہی سہی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1128]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر جمعہ چھوڑ دیا، اسے چاہیے کہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر اس کے پاس (ایک دینار) نہ ہو تو آدھا دینار صدقہ کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1128]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الجمعة 3 (1373)، (تحفة الأشراف: 4599)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 211 (1053)، مسند احمد (5/8، 14) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (عقیقہ والی حدیث کے علاوہ حسن بصری کاسماع سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1053) نسائي (1373ب)
قتادة عنعن
وللحديث شاهد ضعيف عند أبي داود (1053)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 417

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں