سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
64. بَابُ: مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان۔
حدیث نمبر: 1618
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ: أَيْ أُمَّهْ أَخْبِرِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَتْ:" اشْتَكَى فَعَلَقَ يَنْفُثُ، فَجَعَلْنَا نُشَبِّهُ نَفْثَهُ بِنَفْثَةِ آكِلِ الزَّبِيبِ، وَكَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ، فَلَمَّا ثَقُلَ اسْتَأْذَنَهُنَّ أَنْ يَكُونَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ وَأَنْ يَدُرْنَ عَلَيْهِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ بِالْأَرْضِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ، فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّهِ عَائِشَةُ، هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ".
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اماں جان! مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا حال بیان کیجئے تو انہوں نے بیان کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو (اپنے بدن پر) پھونکنا شروع کیا، ہم نے آپ کے پھونکنے کو انگور کھانے والے کے پھونکنے سے تشبیہ دی ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کا باری باری چکر لگایا کرتے تھے، لیکن جب آپ سخت بیمار ہوئے تو بیویوں سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہنے کی اجازت مانگی، اور یہ کہ بقیہ بیویاں آپ کے پاس آتی جاتی رہیں گی۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس دو آدمیوں کے سہارے سے آئے، اس حال میں کہ آپ کے پیر زمین پہ گھسٹ رہے تھے، ان دو میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے۔ عبیداللہ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کی تو انہوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ دوسرا آدمی کون تھا، جن کا عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا؟ وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1618]
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عقبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ”میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے استفسار کرتے ہوئے کہا: ”امی جان! مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے (قریبِ وفات) مرض کے متعلق بتائیے۔“ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھونک مارنے لگے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھونک کو منقیٰ کھانے والے کی پھونک سے تشبیہ دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باری باری ازواجِ مطہرات کے ہاں اقامت فرماتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بیمار ہو گئے تو امہاتِ المومنین سے اجازت طلب کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ٹھہرے رہیں اور ازواجِ مطہرات اپنی اپنی باری پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتی رہیں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان (ان کے سہارے سے چلتے ہوئے) میرے گھر میں داخل ہوئے اور (ضعف کی وجہ سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک زمین پر لکیر بناتے آ رہے تھے۔ ان دو حضرات میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے“۔ (عبید اللہ بیان کرتے ہیں) میں نے یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے بیان کی۔ انہوں نے فرمایا: ”کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ دوسرے صاحب کون تھے جن کا عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا؟ وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے“۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 39 (665)، 46 (679)، 47 (683)، 51 (687)، 67 (712)، 68 (713)، 70 (796)، المغازي 83 (4442)، الاعتصام 5 (7303)، صحیح مسلم/الصلاة 21 (418)، سنن النسائی/الإمامة 40 (834)، (تحفة الأشراف: 16309)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصرالصلاة 24 (83)، مسند احمد (6/34، 96، 97، 210، 224، 228، 249، 251)، دي الصلاة 44 (1292) (صحیح)» (زبیب کے جملہ کے علاوہ بقیہ حدیث صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی انگور کھانے والا منہ سے بیج نکالنے کے لیے جس طرح پھونکتا ہے اس طرح آپ پھونک رہے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون جملة الزبيب
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1619
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا"، فَلَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ وَأَقُولُهَا، فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى"، قَالَتْ: فَكَانَ هَذَا آخِرَ مَا سَمِعْتُ مِنْ كَلَامِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ حفاظت و عافیت کی دعا کرتے تھے «أذهب الباس رب الناس. واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» ”اے لوگوں کے رب! بیماری دور کر دے، اور شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، شفاء تو بس تیری ہی شفاء ہے، تو ایسی شفاء عنایت فرما کہ کوئی بیماری باقی نہ رہے“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بیماری سخت ہو گئی جس میں آپ کا انتقال ہوا، تو میں آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کے جسم پر پھیرتی تھی، اور یہ کلمات کہتی جاتی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے نکال لیا، اور فرمایا: «اللهم اغفر لي وألحقني بالرفيق الأعلى» ”اے اللہ! مجھے بخش دے، اور رفیق اعلیٰ سے ملا دے) یہی آخری کلمہ تھا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1619]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ کے ساتھ اللہ کی پناہ حاصل کرتے تھے: «أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”اے انسانوں کے رب! بیماری دور کر دے اور شفا دے دے تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا عطا فرما جو بیماری کو بالکل باقی نہ چھوڑے۔“ جس بیماری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اس کے دوران میں جب طبیعت زیادہ ناساز ہوگئی تو میں یہ دعا پڑھتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر آپ کے جسم پر پھیرتی تھی۔ (حیاتِ مبارکہ کے آخری دن جب میں نے دم کرنا چاہا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک میرے ہاتھ سے نکال لیا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى» ”اے اللہ! میری مغفرت فرما اور مجھے بلند مرتبہ ساتھیوں سے ملا دے۔“ ام المومنین نے فرمایا: ”یہ آخری الفاظ ہیں جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے سنے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 84 (4437)، المرضی 18 (5675)، الدعوات 29 (6348)، صحیح مسلم/الطب 19 (2191)، سنن الترمذی/ الدعوات 77 (3496)، (تحفة الأشراف: 17638)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز 16 (46)، مسند احمد (6/44، 45، 109، 127)، (یہ حدیث مکرر ہے دیکھئے: 3520) (صحیح)» (صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں «یعوذ» کے لفظ سے ہے، اور وہی محفوظ ہے)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق بلفظ يعوذ وهو المحفوظ
قال الشيخ زبير على زئي:عبد اﷲ بن زياد: مجهول (تقريب: 3329)
حدیث نمبر: 1620
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ"، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ مَرَضُهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ فَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ:" مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ سورة النساء آية 69" فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو نبی بھی بیمار ہوا اسے دنیا یا آخرت میں رہنے کا اختیار دیا گیا“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کا انتقال ہوا، تو آپ کو ہچکی آنے لگی، میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہے تھے: «مع الذين أنعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين» ”ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے احسان کیا، انبیاء، صدیقین شہداء، اور صالحین میں سے“ تو اس وقت میں نے جان لیا کہ آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1620]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”جو بھی نبی بیمار ہوتا ہے، اسے دنیا اور آخرت میں سے ایک چیز کے انتخاب کا اختیار دیا جاتا ہے۔““ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ بیماری آئی جس میں آپ کی وفات ہوئی (اس دوران میں ایک دفعہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بھاری ہوگئی۔ میں نے سنا تو آپ فرما رہے تھے: ﴿مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ﴾ [سورة النساء: 69] ”ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعامات نازل کیے ہیں، نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور نیک لوگوں میں سے۔“ تب مجھے یقین ہو گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اختیار دے دیا گیا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 84 (4435، 4436)، تفسیر سورة النساء 13 (4586)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 (2444)، (تحفة الأشراف: 16338)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/176، 205، 269) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:والحديث السابق: في سنن ابن ماجه (الأصل:1616) حسن يغني عنه
حدیث نمبر: 1621
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: اجْتَمَعْنَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ تُغَادِرْ مِنْهُنَّ امْرَأَةٌ، فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ كَأَنَّ مِشْيَتَهَا مِشْيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَرْحَبًا بِابْنَتِي"، ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا، فَبَكَتْ فَاطِمَةُ، ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّهَا فَضَحِكَتْ أَيْضًا، فَقُلْتُ لَهَا: مَا يُبْكِيكِ؟، قَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حُزْنٍ، فَقُلْتُ لَهَا: حِينَ بَكَتْ أَخَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ دُونَنَا، ثُمَّ تَبْكِينَ، وَسَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ؟، فَقَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا قُبِضَ سَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ، فَقَالَتْ:" إِنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُنِي، أَنَّ جِبْرَائِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً، وَأَنَّهُ عَارَضَهُ بِهِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ، وَلَا أُرَانِي إِلَّا قَدْ حَضَرَ أَجَلِي، وَأَنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لُحُوقًا بِي، وَنِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ فَبَكَيْتُ"، ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّنِي، فَقَالَ:" أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ، فَضَحِكْتُ لِذَلِكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اکٹھا ہوئیں اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہی، اتنے میں فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں، ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال کی طرح تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری بیٹی! خوش آمدید“ پھر انہیں اپنے بائیں طرف بٹھایا، اور چپکے سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں، پھر چپکے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے ان سے پوچھا کہ تم کیوں روئیں؟ تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو فاش نہیں کرنا چاہتی، میں نے کہا: آج جیسی خوشی جو غم سے قریب تر ہو میں نے کبھی نہیں دیکھی، جب فاطمہ روئیں تو میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی خاص بات تم سے فرمائی ہے، جو ہم سے نہیں کہی کہ تم رو رہی ہو، اور میں نے پوچھا: آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کرنے والی نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد میں نے ان سے پھر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ جبرائیل مجھ سے ہر سال ایک بار قرآن کا دور کراتے تھے اب کی سال دو بار دور کرایا، تو میں سمجھتا ہوں کہ میری موت کا وقت قریب آ گیا ہے، اور تم میرے رشتہ داروں میں سب سے پہلے مجھ سے ملو گی، اور میں تمہارے لیے کیا ہی اچھا پیش رو ہوں“ یہ سن کر میں روئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم مومنوں کی عورتوں کی یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو گی، یہ سن کر میں ہنسی ۱؎“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1621]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”(ایک بار) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن (ایک جگہ) جمع تھیں۔ ان میں سے کوئی بھی غیر حاضر نہ تھی۔ (اتنے میں) فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لے آئیں، ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے انتہائی مشابہ تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری بیٹی کو خوش آمدید۔“ پھر انہیں اپنی بائیں طرف بٹھا لیا اور چپکے سے انہیں کوئی بات بتائی تو فاطمہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پھر چپکے سے کوئی بات بتائی تو وہ ہنس پڑیں۔ میں نے ان سے کہا: ”آپ رو کیوں رہی تھیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز ظاہر نہیں کر سکتی۔“ میں نے کہا: ”میں نے کبھی اس طرح غم کے فوراً بعد خوشی حاصل ہوتے نہیں دیکھی۔“ جب وہ روئی تھیں، تو میں نے ان سے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سب کو چھوڑ کر آپ سے خاص طور پر بات کی ہے (یہ تو ایک شرف اور خوشی کی بات ہے) پھر بھی آپ رو رہی ہیں؟“ میں نے ان سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا۔ انہوں نے کہا: ”میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا راز ظاہر نہیں کر سکتی۔“ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو اس کے بعد (کسی مناسب موقع پر) میں نے ان سے (پھر) پوچھ لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتا رہے تھے کہ جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر سال ایک بار قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے، اس سال دو بار دور کیا ہے (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”میرا یہی خیال ہے کہ میرا وقت قریب آ گیا ہے اور میرے گھرانے میں سب سے پہلے تم مجھ سے ملو گی اور میں تمہارا بہتر پیش رو ہوں۔“ (یہ سن کر) مجھے رونا آ گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے سر گوشی میں فرمایا: ”کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم مومنوں کی عورتوں کی سردار ہو؟ یا فرمایا: کہ تم اس امت کی عورتوں کی سردار ہو؟“ اس (خوشخبری) کی وجہ سے مجھے ہنسی آ گئی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1621]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المناقب 25 (3623)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 15 (2450)، (تحفة الأشراف: 17615)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/282) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دوسری روایت میں یوں ہے کہ جب آپ نے فرمایا: میری وفات ہونے والی ہے تو میں روئی، آپ نے پھر فرمایا: تم سب سے پہلے مجھے ملو گی تو میں ہنسی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:انوار الصحيفه، صفحه نمبر 437
حدیث نمبر: 1622
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ :" مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کسی پر مرض الموت کی تکلیف اتنی سخت نہیں دیکھی جتنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دیکھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1622]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی پر تکلیف کی شدت نہیں دیکھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1622]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المرضی 2 (5646)، صحیح مسلم/البروالصلة 14 (2570)، (تحفة الأشراف: 17609)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزہد 56 (2397)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/181) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ سکرات کی شدت اور موت کی سختی بری چیز نہیں ہے، بلکہ اس سے درجے بلند ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1623
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ، فَيُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موت کے وقت دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک پیالہ تھا، آپ اپنا ہاتھ پیالہ میں داخل کرتے، اور پانی اپنے منہ پر ملتے، پھر فرماتے: ”اے اللہ! موت کی سختیوں میں میری مدد فرما“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1623]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک پیالہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں ہاتھ ڈالتے، پھر پانی (والا ہاتھ) چہرے پر پھیر لیتے پھر فرماتے: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى غَمَرَاتِ الْمَوْتِ أَوْ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ» ”اے اللہ! موت کی سختیوں پر میری مدد فرما۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1623]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 8 (978)، (تحفة الأشراف: 17556)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/64، 70، 77، 151) (ضعیف)» (سند میں موسی بن سرجس مستور ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 1624
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَشْفُ السِّتَارَةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، فَنَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ، كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ، وَالنَّاسُ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فِي الصَّلَاةِ، فَأَرَادَ أَنْ يَتَحَرَّكَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ اثْبُتْ، وَأَلْقَى السِّجْفَ، وَمَاتَ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری دیدار مجھے دوشنبہ کے دن ہوا، آپ نے (اپنے حجرہ کا) پردہ اٹھایا، میں نے آپ کا چہرہ مبارک دیکھا، تو گویا مصحف کا ایک ورق تھا، لوگ اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی جگہ سے ہٹنے کا ارادہ کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، اور پردہ گرا دیا، پھر اسی دن کی شام کو آپ کا انتقال ہو گیا ۱؎“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1624]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”میں نے آخری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی زیارت اس وقت کی جب سوموار کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارکہ کا) پردہ ہٹایا، میری نظر آپ کے چہرہ مبارک پر پڑی تو وہ یوں محسوس ہو رہا تھا گویا قرآن مجید کا ایک ورق ہو۔ (اس وقت) لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز (فجر) ادا کر رہے تھے۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے (اپنی جگہ سے) ہٹنا چاہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ (وہیں) کھڑے رہو اور پردہ گرا دیا۔ اسی دن کے آخری حصے میں آپ کی وفات ہوگئی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1624]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 21 (419)، سنن الترمذی/الشمائل 53 (385)، سنن النسائی/الجنائز 7 (1832)، (تحفة الأشراف: 1487)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/110، 163، 196، 197) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ہر چند نماز میں التفات کرنا (یعنی ادھر اُدھر دیکھنا) منع ہے، لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قدر محبت تھی کہ نماز کی حالت میں بے اختیاری کی وجہ سے آپ کے دیدار میں محو ہو گئے، دوسری روایت میں یوں ہے کہ قریب تھا کہ ہم فتنہ میں پڑ جائیں، یعنی نماز بھول جائیں آپ کے دیدار کی خوشی میں، سبحان اللہ۔ ایمان صحابہ ہی کا ایمان تھا کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں ایسے غرق تھے جیسے حدیث شریف میں وارد ہے کہ کوئی مومن نہیں ہوتا جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ماں باپ اور تمام اعزہ و اقارب سے زیادہ نہ ہو، افسوس اس زمانہ میں ایسے کامل الایمان لوگ کہاں ہیں؟ اب تو دنیا کے حقیر فائدہ کے لئے اور ادنی ادنی امیروں اور نوابوں کو خوش کرنے کے لئے سنت نبوی سے اعراض اور تغافل کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1625
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ سَفِينَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ:" الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ" فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى مَا يَفِيضَ بِهَا لِسَانُهُ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس مرض میں کہ جس میں آپ کا انتقال ہو گیا، فرما رہے تھے: «الصلاة وما ملكت أيمانكم» ”نماز کا، اور لونڈیوں اور غلاموں کا خیال رکھنا۔“ آپ برابر یہی جملہ کہتے رہے، یہاں تک کہ آپ کی زبان مبارک رکنے لگی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1625]
حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جس مرض میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال فرمایا، اس کے دوران میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ» ”نماز (کی حفاظت کرو) اور (ان لونڈی، غلاموں کی) جو تمہارے ہاتھوں کی ملکیت ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ بار بار فرمائے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک رک گئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1625]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18154، ومصباح الزجاجة: 590)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/290، 311، 315، 321) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کا بڑا خیال تھا کیونکہ نماز توحید باری تعالیٰ کے بعد اسلام کا سب سے اہم اور بنیادی رکن ہے، اسی لئے وفات کے وقت بھی آپ نے اس کے لئے وصیت فرمائی، مطلب یہ تھا کہ نماز کی محافظت کرو، وقت پر پڑھو، شرائط اور ارکان کے ساتھ ادا کرو، دوسرا اہم مسئلہ لونڈی اور غلام کا تھا، آپ کی وصیت کا مقصد یہ تھا کہ لوگ لونڈیوں اور غلاموں کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں اور ان پر ظلم نہ کریں۔ جو لوگ غلامی کی وجہ سے اسلام پر تنقید کرتے ہیں ان کو یہ خبر نہیں ہوئی کہ درحقیقت غلامی کیا ہے گویا فرزندی میں لینا ہے اور اپنی اولاد کی طرح ایک بے وارث شخص کی پرورش کرنا ہے، اس میں عقلاً کون سی قباحت ہے؟ بلکہ قیدیوں کے گزارے کے لئے اس سے بہتر دوسری کوئی صورت عقل ہی میں نہیں آتی، البتہ اس زمانہ میں بعض جاہل لوگ لونڈیوں اور غلاموں کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک کرتے تھے تو یہ بری بات ہے، مگر دین اسلام پر یہ تنقید صحیح نہیں ہے کیونکہ اسلام نے تو ایسے برتاؤ سے منع کیا ہے، اور ان کے ساتھ بار بار نیک سلوک کرنے کی وصیت کی ہے یہاں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک اسی پر بے قابو ہو گئی، اور آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی صلی اللہ علیہ وسلم ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
والحديث الآتي (الأصل: 2698) يغني عنه
قتادة عنعن
وللحديث شواھد كلھا معلولة،انظر ح: 2697
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 437
إسناده ضعيف
والحديث الآتي (الأصل: 2698) يغني عنه
قتادة عنعن
وللحديث شواھد كلھا معلولة،انظر ح: 2697
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 437
حدیث نمبر: 1626
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: ذَكَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا كَانَ وَصِيًّا، فَقَالَتْ:" مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ، فَلَقَدْ كُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَى صَدْرِي، أَوْ إِلَى حَجْرِي فَدَعَا بِطَسْتٍ، فَلَقَدِ انْخَنَثَ فِي حِجْرِي، فَمَاتَ وَمَا شَعَرْتُ بِهِ، فَمَتَى أَوْصَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
اسود کہتے ہیں کہ لوگوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی تھے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے ان کو کب وصیت کی؟ میں تو آپ کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے تھی، یا گود میں لیے ہوئے تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طشت منگوایا، پھر آپ میری گود میں لڑھک گئے، اور وفات پا گئے، مجھے محسوس تک نہ ہوا، پھر آپ نے وصیت کب کی؟۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1626]
حضرت اسود رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”کچھ لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں یہ ذکر کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ وصی تھے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں وصیت کی تھی)۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کس وقت وصیت کی؟ (جب کہ وفات کے وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میرے سینے پر یا (فرمایا) میری گود میں تھا (میں نے ان کو سینے یا گود کا سہارا دیا ہوا تھا) آپ نے برتن طلب فرمایا، (اچانک) میری گود ہی میں آپ کا جسم مبارک ڈھیلا پڑ گیا اور مجھے (روح اقدس کے پرواز کر جانے کا) احساس بھی نہ ہوا، پھر آپ نے وصیت کس وقت کی؟““ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1626]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوصایا 1 (2741)، المغازي 83 (4459)، صحیح مسلم/الوصیة 5 (1636)، سنن الترمذی/الشمائل 53 (386)، سنن النسائی/الطہارة 29 (33)، الوصایا 2 (3654)، (تحفة الأشراف: 15970)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/22، 32) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم