سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ: الْبَرَاءَةِ مِنَ الْكِبْرِ وَالتَّوَاضُعِ
باب: تکبر اور گھمنڈ سے بے زاری اور تواضع کا بیان۔
حدیث نمبر: 4173
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ جَمِيعًا , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ , وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جنت میں نہیں داخل ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر و غرور ہو گا اور وہ شخص جہنم میں نہیں جائے گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4173]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دل میں رائی کے ایک دانے جتنا بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا اور جس کے دل میں رائی کے ایک دانے جتنا بھی ایمان ہوگا وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4173]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث (رقم: 59) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تو معلوم ہوا کہ اگر رائی کے دانے کے برابر بھی آدمی میں ایمان ہو گا تو وہ تکبر و غرور نہ کرے گا اور جب وہ غرور کرتا ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ ذرہ برابر بھی اس میں ایمان نہیں ہے، اور اس کا جنت میں جانا مشکل ہے، اس لیے آدمی کو اس سے ممکن طور پر دور رہنا چاہئے، اور اللہ تعالیٰ سے اس سے چھٹکارا پانے کی دعا کرنی چاہئے، تاکہ آدمی صاف دل اور متواضع طبیعت کے ساتھ دنیا سے جائے، اور ایمان اور عمل صالح کی برکت سے اللہ کی رحمت کا مستحق ہو، اور جنت اس کا آخری ٹھکانہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4174
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي , وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي , مَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا أَلْقَيْتُهُ فِي جَهَنَّمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بڑائی (کبریائی) میری چادر ہے، اور عظمت میرا تہہ بند، جو ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے بھی مجھ سے جھگڑے، (یعنی ان میں سے کسی ایک کا بھی دعویٰ کرے) میں اس کو جہنم میں ڈال دوں گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4174]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”بڑائی میری چادر ہے اور عظمت میرا پہناوا ہے۔ جو شخص ان میں سے کوئی چیز بھی مجھ سے کھینچے گا، میں اسے جہنم میں پھینک دوں گا۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4174]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 29 (4090)، (تحفة الأشراف: 12192)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البروالصلة 38 (2620)، مسند احمد (2/248، 376، 414ھ 427، 442) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4175
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاق , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي , وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي , فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا أَلْقَيْتُهُ فِي النَّارِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بڑائی میری چادر ہے، اور عظمت میرا تہہ بند ہے، جو ان دونوں میں سے ایک کے لیے بھی مجھ سے جھگڑا کرے گا، میں اس کو آگ میں ڈال دوں گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4175]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”بڑائی میری چادر ہے اور عظمت میرا پہناوا ہے، جو شخص ان میں سے کوئی چیز بھی مجھ سے کھینچے گا میں اسے آگ میں پھینک دوں گا۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4175]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5577، ومصباح الزجاجة: 1481) (صحیح)» (سند میں عطاء بن السائب ہیں، آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، کما تقدم، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 541)
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4176
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنْ يَتَوَاضَعُ لِلَّهِ سُبْحَانَهُ دَرَجَةً , يَرْفَعُهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً , وَمَنْ يَتَكَبَّرُ عَلَى اللَّهِ دَرَجَةً , يَضَعُهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً , حَتَّى يَجْعَلَهُ فِي أَسْفَلِ السَّافِلِينَ".
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے ایک درجہ تواضع کیا، تو اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کر دے گا، اور جو اللہ تعالیٰ پر ایک درجہ تکبر اختیار کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ نیچے کر دے گا، یہاں تک کہ اس کو تمام لوگوں سے نیچے درجہ میں کر دے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4176]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ پاک (کی خوشنودی) کے لیے ایک درجہ تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے سامنے ایک درجہ تکبر اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ کم کر دیتا ہے حتیٰ کہ (درجات کم ہوتے ہوتے یہ نوبت آجاتی ہے کہ) اسے سب سے نچلے طبقے میں ڈال دیتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4176]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4067، ومصباح الزجاجة: 1482)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/76) (ضعیف)» (سند میں دراج ہیں، جو ابو الہیثم سے روایت حدیث میں ضعیف ہیں، لیکن پہلا جملہ صحیح مسلم میں آیا ہے، لفظ «درجة» کے بغیر، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2328)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
حدیث نمبر: 4177
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَسَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: إِنْ كَانَتِ الْأَمَةُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," فَمَا يَنْزِعُ يَدَهُ مِنْ يَدِهَا حَتَّى تَذْهَبَ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ مِنْ الْمَدِينَةِ فِي حَاجَتِهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اگر اہل مدینہ میں سے کوئی ایک باندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنا ہاتھ نہ چھڑاتے، یہاں تک کہ وہ آپ کو اپنی ضرورت کے لیے جہاں چاہتی لے جاتی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4177]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”مدینہ والوں کی ایک لونڈی بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نہیں چھڑاتے تھے حتی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کسی کام کے لیے مدینہ میں جس جگہ چاہتی لے جاتی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4177]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1106، ومصباح الزجاجة: 1483)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/174، 215) (صحیح)» (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، لیکن شواہد سے حدیث صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: یہ آپ کے تواضع کا حال تھا کہ ایک لونڈی کے ساتھ تشریف لے جاتے، اور اس کا کام کر دیتے حالانکہ تمام مخلوقات میں آپ افضل اور اعلیٰ تھے، اور بڑے بڑے دنیا کے بادشاہ درجہ میں آپ کے غلام کے غلام سے بھی کم تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4178
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ , حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَعُودُ الْمَرِيضَ , وَيُشَيِّعُ الْجِنَازَةَ , وَيُجِيبُ دَعْوَةَ الْمَمْلُوكِ , وَيَرْكَبُ الْحِمَارَ , وَكَانَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ , وَالنَّضِيرِ عَلَى حِمَارٍ , وَيَوْمَ خَيْبَرَ عَلَى حِمَارٍ مَخْطُومٍ بِرَسَنٍ مِنْ لِيفٍ , وَتَحْتَهُ إِكَافٌ مِنْ لِيفٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت کرتے، جنازے کے پیچھے جاتے، غلام کی دعوت قبول کر لیتے، گدھے کی سواری کرتے، جس دن بنو قریظہ اور بنو نضیر کا واقعہ ہوا، آپ گدھے پر سوار تھے، خیبر کے دن بھی ایک ایسے گدھے پر سوار تھے جس کی رسی کھجور کی چھال کی تھی، اور آپ کے نیچے کھجور کی چھال کا زین تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4178]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار کی عیادت فرماتے، جنازے کے ساتھ جاتے، غلام کی دعوت قبول کرتے اور گدھے پر سوار ہو جایا کرتے تھے۔ بنو قریظہ اور بنو نضیر کے دن (جس دن بنو قریظہ اور بنو نضیر والا واقعہ ہوا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار تھے۔ اور جنگ خیبر کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار تھے جس کی لگام کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی رسی کی تھی اور آپ کے نیچے کھجور کے پتوں کی زین تھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4178]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 32 (1017)، (تحفة الأشراف: 1588) (ضعیف)» (سند میں مسلم الاعور ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف / تقدم:2296
حدیث نمبر: 4179
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مَطَرٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ مُطَرِّفٍ , عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَطَبَهُمْ , فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَوْحَى إِلَيَّ: أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ".
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”بیشک اللہ عزوجل نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم تواضع و فروتنی اختیار کرو، یہاں تک کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4179]
حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”اللہ عز وجل نے مجھ پر وحی نازل کی ہے کہ تواضع اختیار کرو حتیٰ کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4179]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 48 (4895)، (تحفة الأشراف: 11016)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنةوصفة نعیمہا 16 (2865) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح