🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب جَوَازِ صَلاَةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ:
باب: سفر میں سواری پر نفل پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 702 ترقیم شاملہ: -- 1620
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، قَالَ: تَلَقَّيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، حِينَ قَدِمَ الشَّامَ، فَتَلَقَّيْنَاهُ بِعَيْنِ التَّمْرِ، " فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَوَجْهُهُ ذَلِكَ الْجَانِبَ "، وَأَوْمَأَ هَمَّامٌ عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: رَأَيْتُكَ تُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ، قَالَ: لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَفْعَلُهُ، لَمْ أَفْعَلْهُ.
ہمام نے کہا: ہمیں انس بن سیرین نے حدیث بیان کی کہ جب حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ شام سے آئے تو ہم نے ان کا استقبال کیا، ہم عین التمر کے مقام پر جا کر ان سے ملے تو میں نے انہیں دیکھا، وہ گدھے پر نماز پڑھ رہے تھے اور ان کا رخ اس طرف تھا۔ ہمام نے قبلے کی بائیں طرف اشارہ کیا۔ تو میں (انس بن سیرین) نے ان سے کہا: میں نے آپ کو قبلے کی بائیں طرف نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں (کبھی) ایسا نہ کرتا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1620]
انس بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ جب انس بن مالک رضی اللہ عنہ شام سے آئے تو ہم نے آپ کا استقبال کیا، ہم آپ سے عین التمر مقام پر ملے تو میں نے انہیں دیکھا، وہ گدھے پر نماز پڑھ رہے تھے اور ان کا رخ اس طرف تھا (ہمام نے قبلہ کی طرف اشارہ کیا) تو میں نے ان سے پوچھا: میں نے آپ کو غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے نہ دیکھا ہوتا تو میں یہ کام نہ کرتا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1620]
ترقیم فوادعبدالباقی: 702
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب جَوَازِ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فِي السَّفَرِ:
باب: سفر میں نمازوں کے جمع کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 703 ترقیم شاملہ: -- 1621
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ، جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1621]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب تیز چلنے کی ضرورت ہوتی تو مغرب اور عشاء کی نماز جمع کر لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1621]
ترقیم فوادعبدالباقی: 703
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 703 ترقیم شاملہ: -- 1622
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ، جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، بَعْدَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ، جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ".
عبیداللہ سے روایت ہے، کہا: مجھے نافع نے خبر دی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جب (سفر کے لیے) جلدی چلنا ہوتا تو شفق (سورج کی سرخی) غائب ہونے کے بعد (یعنی عشاء کا وقت شروع ہونے کے بعد) مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے اور بتاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب جلد چلنا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کو جمع کر لیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1622]
نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب انہیں تیز رفتاری کی ضرورت ہوتی تو شفق (سورج کی سرخی) کے غروب ہونے کے بعد (عشاء کے وقت میں) مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے اور بتاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب تیز چلنا مطلوب ہوتا تو مغرب اور عشاء کی نماز جمع کر لیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1622]
ترقیم فوادعبدالباقی: 703
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 703 ترقیم شاملہ: -- 1623
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ كلهم، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ ".
سفیان نے (ابن شہاب) زہری سے، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو آپ مغرب اور عشاء کو جمع کر لیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1623]
سالم اپنے باپ (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب ان کو تیز چلنا مقصود ہوتا تو مغرب اور عشاء کو جمع کر لیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1623]
ترقیم فوادعبدالباقی: 703
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 703 ترقیم شاملہ: -- 1624
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَاهُ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ فِي السَّفَرِ، يُؤَخِّرُ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ، حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ ان کے والد نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ کو سفر میں جلد چلنا ہوتا تو مغرب کی نماز کو موخر کر دیتے حتیٰ کہ اسے اور عشاء کی نماز کو جمع کر لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1624]
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے بتایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں تیز چلنے کی ضرورت ہوتی تو مغرب کی نماز کو مؤخر کر دیتے، حتیٰ کہ اسے اور عشاء کی نماز کو جمع کر لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1624]
ترقیم فوادعبدالباقی: 703
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 704 ترقیم شاملہ: -- 1625
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ، أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا، فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ، صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَكِبَ ".
مفضل بن فضالہ نے عقیل سے، انہوں نے ابن شہاب سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو اس وقت تک موخر فرماتے کہ عصر کا وقت ہو جاتا، پھر آپ (سواری سے) اترتے، دونوں نمازوں کو جمع کرتے، اور اگر آپ کے کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھ کر سوار ہوتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1625]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کر لیتے تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر فرماتے، پھر (سواری سے) اتر کر دونوں کو جمع کر لیتے، پس اگر سورج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کوچ کرنے سے پہلے ڈھل جاتا تو ظہر پڑھ کر سوار ہو جاتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1625]
ترقیم فوادعبدالباقی: 704
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 704 ترقیم شاملہ: -- 1626
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ الْمَدَايِنِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ، أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَدْخُلَ أَوَّلُ وَقْتِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا ".
لیث بن سعد نے عقیل بن خالد سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جب دو نمازوں کو جمع کرنا چاہتے تو ظہر کو موخر کرتے حتیٰ کہ عصر کا اول وقت ہو جاتا، پھر آپ دونوں نمازوں کو جمع کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1626]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جب دو نمازوں کو جمع کرنا چاہتے تو ظہر کو مؤخر کرتے حتی کہ عصر کا اول وقت ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں نمازوں کو جمع کر لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1626]
ترقیم فوادعبدالباقی: 704
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 704 ترقیم شاملہ: -- 1627
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا عَجِلَ عَلَيْهِ السَّفَرُ، يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ إِلَى أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ، فَيَجْمَعُ بَيْنَهُمَا، وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ، حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ ".
جابر بن اسماعیل نے بھی عقیل بن خالد سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو ظہر کو عصر کے اول وقت تک موخر کر دیتے، پھر دونوں کو جمع کر لیتے اور مغرب کو موخر کرتے اور عشاء کے ساتھ اکٹھا کر کے پڑھتے جب شفق غائب ہو جاتی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1627]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو ظہر کو عصر کے اول وقت تک مؤخر کرتے اور دونوں کو جمع کر لیتے اور مغرب کو مؤخر کرتے اور جب شفق غروب ہو جاتا تو اسے اور عشاء کو جمع کر لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1627]
ترقیم فوادعبدالباقی: 704
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ:
باب: اقامت میں دو نمازوں کو جمع کرنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 705 ترقیم شاملہ: -- 1628
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا سَفَرٍ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے ابوزبیر سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کو اکٹھا پڑھا اور مغرب اور عشاء کو اکٹھا پڑھا کسی خوف اور سفر کے بغیر۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1628]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف اور سفر کے بغیر ظہر اور عصر کو جمع کیا اور مغرب اور عشاء کو جمع کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1628]
ترقیم فوادعبدالباقی: 705
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 705 ترقیم شاملہ: -- 1629
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ جميعا، عَنْ زُهَيْرٍ ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا سَفَرٍ "، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: فَسَأَلْتُ سَعِيدًا: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ.
زہیر نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے سعید بن جبیر سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کو مدینہ میں کسی خوف اور سفر کے بغیر جمع کر کے پڑھا۔ ابوزبیر نے کہا: میں نے (ابن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگرد) سعید سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تھا جیسے تم نے مجھ سے سوال کیا ہے تو انہوں نے کہا: آپ نے چاہا کہ اپنی امت کے کسی فرد کو تنگی اور دشواری میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1629]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خوف اور سفر کے بغیر ظہر اور عصر کو جمع کیا۔ ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے (ابن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگرد) سعید سے پوچھا: آپ نے ایسا کیوں کیا تھا؟انہوں نے جواب دیا: جیسے تو نے مجھ سے یہ سوال کیا ہے، میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ اپنی امت کے کسی فرد کو تنگی اور دشواری میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1629]
ترقیم فوادعبدالباقی: 705
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں