صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ:
باب: فرض شروع ہونے کے بعد نفل کا مکروہ ہونا۔ اس حکم میں سنت مؤکدہ مثلاً صبح اور ظہر کی سنتیں اور سنت غیر مؤکدہ برابر ہیں نیز نمازی کو امام کے ساتھ رکعت ملنے کا علم ہونا اور نہ ہونا برابر ہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 711 ترقیم شاملہ: -- 1650
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، قَالَ: " أُقِيمَتِ صَلَاةُ الصُّبْحِ، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَجُلًا يُصَلِّي، وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ، فَقَالَ: أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا؟ ".
ابوعوانہ نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے حفص بن عاصم سے، اور انہوں نے حضرت (عبداللہ) ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: صبح کی نماز کی اقامت (شروع) ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا جبکہ موذن اقامت کہہ رہا تھا تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم صبح کی چار رکعتیں پڑھو گے؟“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1650]
ابن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صبح کی نماز کھڑی ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا جبکہ مؤذن اقامت کہہ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا؟» ”کیا تو صبح کی چار رکعات پڑھے گا؟“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1650]
ترقیم فوادعبدالباقی: 711
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 712 ترقیم شاملہ: -- 1651
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح، وحَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ . ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ عَاصِمٍ . ح، وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ: " دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا فُلَانُ، بِأَيِّ الصَّلَاتَيْنِ اعْتَدَدْتَ، أَبِصَلَاتِكَ وَحْدَكَ، أَمْ بِصَلَاتِكَ مَعَنَا؟ ".
حضرت عبداللہ بن سرجس (المزنی حلیف بنی مخزوم رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی مسجد میں آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے، اس نے مسجد کے ایک کونے میں دو رکعتیں پڑھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”اے فلاں! تو نے دو نمازوں میں سے کون سی نماز کو شمار کیا ہے؟ اپنی اس نماز کو جو تم نے اکیلے پڑھی ہے یا اس کو جو ہمارے ساتھ پڑھی ہے؟“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1651]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک آدمی مسجد میں آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے تو اس نے مسجد کے ایک کونے میں دو رکعتیں پڑھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”اے شخص تو نے دو نمازوں میں کون سی نماز کو فرض قرار دیا ہے؟ کیا اس نماز کو جو تو نے اکیلے پڑھی ہے یا اپنی اس نماز کو جو ہمارے ساتھ پڑھی ہے؟“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1651]
ترقیم فوادعبدالباقی: 712
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
10. باب مَا يَقُولُ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ:
باب: مسجد میں جانے کی دعا کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 713 ترقیم شاملہ: -- 1652
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، أَوْ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ "، قَالَ مُسْلِم: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ يَحْيَى، يَقُولُ: كَتَبْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ كِتَابِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ يَحْيَى الْحِمَّانِيَّ ، يَقُولُ: وَأَبِي أُسَيْدٍ .
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: ہمیں سلیمان بن بلال نے ربیعہ بن عبدالرحمان سے خبر دی، انہوں نے عبدالملک بن سعید سے، اور انہوں نے حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ یا حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو کہے: «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ اور جب مسجد سے نکلے تو کہے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ» اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔“ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: میں نے یحییٰ بن یحییٰ سے سنا، وہ کہتے تھے، میں نے یہ حدیث سلیمان بن بلال کی کتاب سے لکھی ہے، انہوں نے کہا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ یحییٰ (حمانی شک کے بغیر) ”و أبي أسيد اور ابواسید“ سے کہتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1652]
حضرت ابو حمید رضی اللہ عنہ یا ابواسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو کہے «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» ”اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“ اور جب مسجد سے نکلے تو کہے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔“”امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میں نے یحییٰ سے سنا وہ کہہ رہے تھے میں نے یہ حدیث سلیمان بن بلال کی کتاب سے لکھی اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ یحییٰ الحمانی اور ابو اسید کہتے تھے یعنی «أَوْ» کی بجائے «وَ» کہتے تھے گویا یہ دونوں سے مروی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1652]
ترقیم فوادعبدالباقی: 713
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 713 ترقیم شاملہ: -- 1653
وحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، أَوْ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
(سلیمان بن بلال کے بجائے) عمارہ بن غزیہ نے ربیعہ بن عبدالرحمان سے روایت کی، انہوں نے عبدالملک بن سعید بن سوید انصاری سے، انہوں نے حضرت ابوحمید یا حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1653]
”امام مسلم رحمہ اللہ دوسرے استاد سے بھی یہی روایت نقل کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1653]
ترقیم فوادعبدالباقی: 713
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
11. باب اسْتِحْبَابِ تَحِيَّةِ الْمَسْجِدِ بِرَكْعَتَيْنِ وَكَرَاهَةِ الْجُلُوسِ قَبْلَ صَلاَتِهِمَا وَأَنَّهَا مَشْرُوعَةٌ فِي جَمِيعِ الأَوْقَاتِ:
باب: دو رکعات تحیۃ المسجد پڑھنا مستحبب ہے اور دو رکعت پڑھے بغیر مسجد میں بیٹھنے کے مکروہ ہونے اور ان دو رکعتوں کے تمام اوقات میں مشروع ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 714 ترقیم شاملہ: -- 1654
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح، وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ ".
عامر بن عبداللہ بن زبیر نے عمرو بن سلیم زرقی سے اور انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1654]
امام صاحب مختلف اساتذہ سے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ایک مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1654]
ترقیم فوادعبدالباقی: 714
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 714 ترقیم شاملہ: -- 1655
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمِ بْنِ خَلْدَةَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَي النَّاسِ، قَالَ: فَجَلَسْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجْلِسَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُكَ جَالِسًا، وَالنَّاسُ جُلُوسٌ، قَالَ: " فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ ".
محمد بن یحییٰ بن حبان نے عمرو بن سلیم بن خلدہ انصاری سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے، کہا: تو میں بھی بیٹھ گیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں بیٹھنے سے پہلے دو رکعات نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا ہے؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو بیٹھتے دیکھا ہے اور لوگ بھی بیٹھے تھے (اس لیے میں بھی بیٹھ گیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں آئے تو دو رکعت نماز پڑھے بغیر نہ بیٹھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1655]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد میں اس حال میں داخل ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے، تو میں بھی بیٹھ گیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا ہے؟“ تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو بیٹھتے ہوئے دیکھا (اس لیے میں بیٹھ گیا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ایک مسجد میں آئے تو دو رکعت نماز پڑھے بغیر نہ بیٹھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1655]
ترقیم فوادعبدالباقی: 714
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 1656
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ، فَقَضَانِي، وَزَادَنِي، وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ لِي: " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ ".
سفیان نے محارب بن وثار سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے قرض تھا، آپ نے اسے ادا کیا اور مجھے زائد رقم دی اور جب میں آپ کی مسجد میں داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”دو رکعت نماز ادا کر لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1656]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میرا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے قرض تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ادا کیا اور مجھے رقم زائد دی، اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو رکعت نماز ادا کرو۔““ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1656]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
12. باب اسْتِحْبَابِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ لِمَنْ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَوَّلَ قُدُومِهِ:
باب: مسافر کو پہلے مسجد میں آ کر دو رکعت پڑھنا مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 1657
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ، أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ، فَأُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ".
شعبہ نے محارب سے روایت کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک اونٹ خریدا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجد میں آؤں اور دو رکعتیں پڑھوں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1657]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک اونٹ خریدا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مسجد میں آنے کا حکم دیا اور یہ کہ ”میں دو رکعت نماز پڑھوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1657]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 1658
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَا، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلِي، وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ، فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: الْآنَ حِينَ قَدِمْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَعْ جَمَلَكَ، وَادْخُلْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ ".
وہب بن کیسان نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، میرے اونٹ نے مجھے دیر کرا دی اور تھک گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پہلے مدینہ میں آ گئے اور میں اگلے دن پہنچا، میں مسجد میں آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کے دروازے پر پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم اب اس وقت تک پہنچے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا اونٹ چھوڑ دو اور مسجد میں داخل ہو کر دو رکعتیں پڑھو۔“ میں مسجد میں داخل ہوا، نماز پڑھی، پھر واپس (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) آیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1658]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک غزوہ میں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، میرا اونٹ آہستہ آہستہ چلنے لگا اور تھک گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ میں) مجھ سے پہلے آ گئے اور میں اگلے دن صبح آیا (کیونکہ وہ مدینہ سے باہر اپنے گھر ٹھہر گئے تھے) تو میں مسجد میں آیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کے دروازے پر ملا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم اب پہنچے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا اونٹ چھوڑو اور مسجد میں داخل ہو کر دو رکعت نماز پڑھو۔“ میں نے مسجد میں داخل ہو کر دو رکعت نماز پڑھی اور پھر واپس چلا آیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1658]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 716 ترقیم شاملہ: -- 1659
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ . ح، وحَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا جَمِيعًا، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، وَعَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ لَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ، إِلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَى، فَإِذَا قَدِمَ، بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ فِيهِ ".
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن میں چاشت کے وقت کے سوا (کسی اور وقت) سفر سے واپس تشریف نہ لاتے، پھر جب تشریف لاتے تو مسجد جاتے، اس میں دو رکعتیں ادا کرتے، پھر (کچھ دیر) وہیں تشریف رکھتے (تاکہ گھر والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا علم ہو جائے)۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1659]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے دن کو چاشت کے وقت ہی واپس لوٹتے تھے، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آتے، مسجد سے آغاز فرماتے، اس میں دو رکعت نماز ادا کرتے، پھر وہیں تشریف رکھتے (تاکہ گھر والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا علم ہو سکے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1659]
ترقیم فوادعبدالباقی: 716
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة