صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
34. باب اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ:
باب: خوش آوازی سے قرآن پڑھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 792 ترقیم شاملہ: -- 1847
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ، مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ، يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ، يَجْهَرُ بِهِ ".
عبدالعزیز بن محمد نے کہا: یزید بن ہاد نے ہمیں محمد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "اللہ تعالیٰ نے (کبھی) کسی چیز پر اس طرح کان نہیں دھرا جس طرح کسی خوش آواز نبی (کی قراءت) پر جب وہ بلند آواز کے ساتھ خوش الحانی سے قراءت کرے۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1847]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی چیز پر کان نہیں دھرتا جس قدر کان اس نبی کی خوش الحانی پر دھرتا ہے جو قراءت خوش الحانی سے کرتا ہے، اس کو بلند آواز سے پڑھتا ہے۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1847]
ترقیم فوادعبدالباقی: 792
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 793 ترقیم شاملہ: -- 1848
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مَالِكٍ ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ سَوَاءً وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَمْ يَقُلْ: سَمِعَ.
عمر بن مالک اور حیوہ بن شریح نے ابن ہاد سے اسی سند کے ساتھ بالکل اس جیسی روایت بیان کی اور انہوں نے (ان رسول اللہ) (بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) کہا اور «سَمِعَ» (اس نے سنا) کا لفظ نہیں بولا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1848]
مصنف نے یہی حدیث اپنے دوسرے استاد سے بھی بیان کی ہے۔ لیکن (سَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) (کی بجائے) (اِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1848]
ترقیم فوادعبدالباقی: 793
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 793 ترقیم شاملہ: -- 1849
وحَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِقْلٌ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ، كَأَذَنِهِ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ، يَجْهَرُ بِهِ ".
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے (کبھی) کسی چیز پر اس طرح کان نہیں دھرا جیسے وہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز) پر کان دھرتا ہے جو بلند آواز کے ساتھ خوش الحانی سے قراءت کرتا ہے۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1849]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی چیز پر کان نہیں دھرتا جیسے وہ نبی پر کان دھرتا ہے جو خوش الحانی سے قرأت کرتا ہے، اس کے لیے آواز بلند کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1849]
ترقیم فوادعبدالباقی: 793
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 793 ترقیم شاملہ: -- 1850
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، غَيْرَ أَنَّ ابْنَ أَيُّوبَ، قَالَ فِي رِوَايَتِهِ: كَإِذْنِهِ.
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید اور ابن حجر نے کہا: ہمیں اسماعیل بن جعفر نے محمد بن عمرو سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث کی طرح روایت بیان کی مگر ابن ایوب نے اپنی روایت میں ( «كاذنه» کے بجائے) «كأذنه» (جس طرح وہ اجازت دیتا ہے) کہا۔ اس (طرح «ما اذن الله» کا معنی ہو گا اللہ تعالیٰ نے (باریابی کی اجازت نہیں دی)۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1850]
مصنف یہی حدیث اپنے دوسرے اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، صرف اس فرق کے ساتھ کہ پہلی جگہ (أَذَ نِهِ) تھا اور اس جگہ (اِذْنِهِ) ہے، اس صورت میں معنی اجازت دینا ہوگا، پہلی صورت میں معنی کان دھرنا تھا۔ اس لیے بقول قاضی عیاض، اس میں، اس کام پرآمادہ کرنا اور حکم دینے کا مفہوم پیدا ہو جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1850]
ترقیم فوادعبدالباقی: 793
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 793 ترقیم شاملہ: -- 1851
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَهُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَوِ الأَشْعَرِيَّ، أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ ".
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عبداللہ بن قیس۔ یا اشعری۔ کو آل داود کی بنسریوں (خوبصورت آوازوں) میں سے ایک بنسری (خوبصورت آواز) عطا کی گئی ہے۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1851]
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ بن قیس یا اشعری کو آل داؤد کی خوش الحانی میں سے حصہ ملا ہے۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1851]
ترقیم فوادعبدالباقی: 793
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 793 ترقیم شاملہ: -- 1852
وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي مُوسَى: " لَوْ رَأَيْتَنِي وَأَنَا أَسْتَمِعُ لِقِرَاءَتِكَ الْبَارِحَةَ، لَقَدْ أُوتِيتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ ".
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: "کیا ہی خوب ہوتا کاش! تم مجھے دیکھتے جب گزشتہ رات میں بڑے انہماک سے تمہاری قراءت سن رہا تھا، تمہیں آل داؤد کی خوبصورت آوازوں میں سے ایک خوبصورت آواز دی گئی ہے۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1852]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرمایا: ”اگر تم مجھے کل رات دیکھتے جب میں تمہاری قراءت کو انتہائی توجہ سے سن رہا تھا، (تو تم بہت خوش ہوتے) تمہیں داؤد علیہ السلام کی خوش الحانی سے حسنِ آواز نصیب ہوئی ہے۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1852]
ترقیم فوادعبدالباقی: 793
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
35. باب ذِكْرِ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ الْفَتْحِ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ:
باب: فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سورۃ الفتح پڑھنا۔
ترقیم عبدالباقی: 794 ترقیم شاملہ: -- 1853
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيَّ ، يَقُولُ: " قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي مَسِيرٍ لَهُ سُورَةَ الْفَتْحِ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَرَجَّعَ فِي قِرَاءَتِهِ "، قَالَ مُعَاوِيَةُ: لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ يَجْتَمِعَ عَلَيَّ النَّاسُ، لَحَكَيْتُ لَكُمْ قِرَاءَتَهُ.
عبداللہ بن ادریس اور وکیع نے شعبہ سے اور انہوں نے معاویہ بن قرہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے سال اپنے سفر میں اپنی سواری پر سورہ فتح کی تلاوت فرمائی اور اپنی قراءت میں آواز کو دہرایا۔ معاویہ نے کہا: اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ میرے گرد جمع ہو جائیں گے تو میں تمہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی قراءت سناتا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1853]
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے سال راستہ میں اپنی سواری پر سورہ فتح کی تلاوت فرمائی اور اپنی قراءت میں آواز کو دہرایا۔ معاویہ بن قرۃ کہتے ہیں، اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ میرے گرد جمع ہو جائیں گے تو میں تمھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کی نقل اتار کر سناتا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1853]
ترقیم فوادعبدالباقی: 794
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 794 ترقیم شاملہ: -- 1854
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَتِهِ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ "، قَالَ: فَقَرَأَ ابْنُ مُغَفَّلٍ، وَرَجَّعَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَوْلَا النَّاسُ، لَأَخَذْتُ لَكُمْ بِذَلِكَ الَّذِي ذَكَرَهُ ابْنُ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد بن جعفر نے کہا: شعبہ نے ہمیں معاویہ بن قرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن مغفل سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن اپنی اونٹنی پر (سوار) سورہ فتح پڑھتے ہوئے دیکھا۔ (معاویہ بن قرہ نے) کہا: حضرت ابن مغفل رضی اللہ عنہ نے قراءت کی اور اس میں ترجیع کی، معاویہ نے کہا: اگر مجھے لوگوں (کے اکھٹے ہو جانے) کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے (قراءت کا) وہی (طریقہ اختیار) کرتا جو حضرت ابن مغفل رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کیا تھا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1854]
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن اپنی اونٹنی پر بیٹھے ہوئے سورہ فتح پڑھتے ہوئے دیکھا، عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد کہتے ہیں کہ ابن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قراءت میں ترجیع کی یعنی گنگناہٹ پیدا کی، معاویہ کہتے ہیں اگر مجھے لوگوں (کے اجتماع) کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمھارے لئے وہی طریقہ اپناتا کرتا جو حضرت ابن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان کیا تھا، یعنی اس طرح قرآت کر کے سناتا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1854]
ترقیم فوادعبدالباقی: 794
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 794 ترقیم شاملہ: -- 1855
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَفِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: عَلَى رَاحِلَةٍ يَسِيرُ، وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ.
خالد بن حارث اور معاذ نے کہا: شعبہ نے ہمیں اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث بیان کی، خالد بن حارث کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سورہ فتح تلاوت کرتے ہوئے اپنی) سواری پر سفر کر رہے تھے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1855]
امام صاحب نے دوسرے استاد سے یہی روایت نقل کی ہے، اور خالد بن حارث کی روایت یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتی ہوئی سواری پر سورہ فتح کی تلاوت فرما رہے تھے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1855]
ترقیم فوادعبدالباقی: 794
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
36. باب نُزُولِ السَّكِينَةِ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ:
باب: قرأت قرآن کی برکت سے تسکین کا اترنا۔
ترقیم عبدالباقی: 795 ترقیم شاملہ: -- 1856
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: " كَانَ رَجُلٌ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْكَهْفِ وَعِنْدَهُ فَرَسٌ مَرْبُوطٌ بِشَطَنَيْنِ، فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ فَجَعَلَتْ تَدُورُ وَتَدْنُو، وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ مِنْهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: تِلْكَ السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ ".
ابوخثیمہ نے ابواسحاق سے اور انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک آدمی سورہ کہف کی تلاوت کر رہا تھا اور اس کے پاس ہی دو رسیوں میں بندھا ہوا گھوڑا (موجود) تھا، تو اسے ایک بدلی نے ڈھانپ لیا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1856]
حضرت بر اء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ، ایک آدمی سورہ کہف کی تلاوت کر رہا تھا اور اس کے پاس دو لمبی رسیوں میں بندھا ہوا گھوڑا کھڑا تھا، اسے ایک بدلی نے ڈھانپ لیا اور وہ بدلی گھومنے اور قریب آنے لگی اور اس کا گھوڑا اس سے بدکنے لگا، جب صبح ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ماجرا سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سکینت تھی، جوقرآن کی قرآت کی بنا پر اتری۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1856]
ترقیم فوادعبدالباقی: 795
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة