صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
33. باب الْأَمْرِ بِتَعَهُّدِ الْقُرْآنِ، وَكَرَاهَةِ قَوْلِ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا، وَجَوَازِ قَوْلِ أُنْسِيتُهَا
باب: قرآن کی نگہبانی کرنے کا حکم اور اس قول کے کہنے کی ممانعت کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں۔
ترقیم عبدالباقی: 788 ترقیم شاملہ: -- 1837
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ: يَرْحَمُهُ اللَّهُ، لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً، كُنْتُ أَسْقَطْتُهَا مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا ".
ابواسامہ نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی قراءت سنی جو وہ رات کو کر رہا تھا تو فرمایا: "اللہ اس پر رحم فرمائے! اس نے مجھے فلاں آیت یاد دلا دی جس کی تلاوت فلاں سورت میں چھوڑ چکا تھا۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1837]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو ایک آدمی کی قراءت سنی تو فرمایا: ”اللہ اس انسان پر رحم فرمائے! اس نے مجھے فلاں فلاں آیت یاد دلا دی، جسے میں فلاں فلاں سورت سے چھوڑ چکا تھا۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1837]
ترقیم فوادعبدالباقی: 788
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 788 ترقیم شاملہ: -- 1838
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يَسْتَمِعُ قِرَاءَةَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: رَحِمَهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي آيَةً كُنْتُ أُنْسِيتُهَا ".
عبدہ اور ابومعاویہ نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ایک آدمی کی قراءت سن رہے تھے تو آپ نے فرمایا: "اللہ اس پر رحم فرمائے، اس نے مجھے ایک آیت یاد دلا دی ہے جو مجھے بھلا دی گئی تھی۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1838]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ایک آدمی کی قراءت پر کان دھرے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس پر رحم فرمائے، اس نے مجھے فلاں آیت یاد دلا دی ہے جو مجھے بھلا دی گئی تھی۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1838]
ترقیم فوادعبدالباقی: 788
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 789 ترقیم شاملہ: -- 1839
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ الإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ "،
امام مالک نے نافع کے واسطے سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "صاحب قرآن (قرآن حفظ کرنے والے) کی مثال پاؤں بندھے اونٹوں (کے چرواہے) کی مانند ہے، اگر اس نے ان کی نگہداشت کی تو وہ انہیں قابومیں رکھے گا اور اگر انہیں چھوڑ دے گا تو وہ چلے جائیں گے۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1839]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حافظِ قرآن کی مثال ان اونٹوں کی طرح ہے، جس کا پاؤں رسی سے باندھا گیا ہے، اگر اس نے ان کی نگہداشت کی تو وہ قابو میں رکھے گا، اوراگرانھیں چھوڑ دے گا تو وہ بھاگ جائیں گے۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1839]
ترقیم فوادعبدالباقی: 789
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 789 ترقیم شاملہ: -- 1840
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ جَمِيعًا، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ: وَإِذَا قَامَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ فَقَرَأَهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ذَكَرَهُ، وَإِذَا لَمْ يَقُمْ بِهِ نَسِيَهُ.
عبیداللہ، ایوب اور موسیٰ بن عقبہ سب نے (جن تک سندوں کے مختلف سلسلے پہنچے) نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی اور موسیٰ بن عقبہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے: "جب صاحب قرآن قیام کرے گا اور رات دن اس کی قراءت کرے گا تو وہ اسے یاد رکھے گا اور جب اس (کی قراءت) کے ساتھ قیام نہیں کرے گا تو وہ اسے بھول جائے گا۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1840]
یہی روایت امام صاحب نے اپنے مختلف اساتذہ سے بیان کی ہے، موسیٰ بن عقبہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ”اگرحاملِ قرآن، رات اور دن کو اس کے پڑھنے کا فریضہ سر انجام دیتا ہے تو وہ اسے یاد رکھے گا، اور جب اس فریضہ کو سر انجام نہیں دے گا تو وہ اسے بھول جائے گا۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1840]
ترقیم فوادعبدالباقی: 789
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 790 ترقیم شاملہ: -- 1841
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإسحاق بن إبراهيم ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ يَقُولُ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ، اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ، فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا، مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ، مِنَ النَّعَمِ بِعُقُلِهَا ".
منصور نے ابووائل (شفیق بن سلمہ) سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کسی بھی انسان کے لیے انتہائی نازیبا بات ہے کہ وہ کہے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ وہ بھلا دیا گیا ہے، قرآن کو یاد کرتے رہو کیونکہ وہ لوگوں کے سینوں سے دور بھاگنے میں رسیوں سمیت بھاگ جانے والے اونٹوں سے بھی بڑھ کر ہے۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1841]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انتہائی نازیبا بات ہے کہ کوئی انسان یہ کہے، میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ وہ بھلا دیا گیا ہے، قرآن مجید کی تلاوت پر مداومت و ہمیشگی کرو، کیونکہ وہ لو گوں کے سینے سے، بندھے ہوئے جانوروں سے (اونٹوں سے) زیادہ بھاگنے والا ہے۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1841]
ترقیم فوادعبدالباقی: 790
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 790 ترقیم شاملہ: -- 1842
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : تَعَاهَدُوا هَذِهِ الْمَصَاحِفَ، وَرُبَّمَا قَالَ: الْقُرْآنَ، فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ، مِنَ النَّعَمِ، مِنْ عُقُلِهِ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ ".
اعمش نے شفیق بن سلمہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ان مصاحف۔ اور کبھی کہا: قرآن۔ کے ساتھ تجدید عہد کرتے رہو کیونکہ وہ انسانوں کے سینوں سے بھاگ جانے میں اپنے پاؤں کی رسیوں سے نکل بھاگنے والے اونٹوں سے بھی بڑھ کر ہے، کہا: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے کسی کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ اسے بھلا دیا گیا ہے۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1842]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا! ان مصاحف کے ساتھ تجدید عہد کرتے رہا کرو یعنی ان کی تلاوت کی پابندی کرو اور بعض دفعہ انہوں نے مصاحف کی بجائے قرآن کہا، کیونکہ وہ انسانوں کے سینوں سے،اونٹوں کے اپنی رسیوں سے بڑھ کر بھاگنے والا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا ہے: ”تم میں سے کسی کو یہ نہیں کہنا چا ہیے کہ میں فلا ں فلا ں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ وہ بھلا دیا گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1842]
ترقیم فوادعبدالباقی: 790
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 790 ترقیم شاملہ: -- 1843
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بِئْسَمَا لِلرَّجُلِ، أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ سُورَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، أَوْ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ ".
عبدہ بن ابی لبابہ نے شفیق بن سلمہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "کسی آدمی کے لیے یہ بہت بری بات ہے کہ وہ کہے: میں فلاں فلاں سورت بھول گیا یا فلاں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ اسے بھلا دیا گیا ہے۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1843]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت بُری بات ہے کہ آدمی کہے کہ میں فلاں فلاں سورت بھول گیا، یا فلاں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ وہ بھلایا گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1843]
ترقیم فوادعبدالباقی: 790
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 791 ترقیم شاملہ: -- 1844
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَعَاهَدُوا هَذَا الْقُرْآنَ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الإِبِلِ فِي عُقُلِهَا "، وَلَفْظُ الْحَدِيثِ لِابْنِ بَرَّادٍ.
عبداللہ بن براد اشعری اور ابوکریب نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے برید سے، انہوں نے ابوبردہ سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قرآن کی نگہداشت کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! یہ بھاگنے میں پاؤں بندھے اونٹوں سے بڑھ کر ہے۔" اس حدیث کے الفاظ ابن براد (کی روایت) کے ہیں۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1844]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس قرآن کی تلاوت کا اہتمام کرو، اس ذات کی قسم جس کی مٹھی میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! یہ اونٹوں کے اپنی رسیوں سے بڑھ کر بھاگنے والا ہے۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1844]
ترقیم فوادعبدالباقی: 791
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
34. باب اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ:
باب: خوش آوازی سے قرآن پڑھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 792 ترقیم شاملہ: -- 1845
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ، مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ ".
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ اس (فرمان) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے (کبھی) کسی چیز پر اس قدر کان نہیں دھرا (توجہ سے نہیں سنا) جتنا کسی خوش آواز نبی (کی آواز) پر کان دھرا جس نے خوش الحانی سے قراءت کی۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1845]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی چیز پر اس قدر کان نہیں دھرتا (انتہائی توجہ سے سنتا) جس طرح نبی کی آواز پر جو خوش الحانی سے قراءت کر رہا ہو، کان دھرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1845]
ترقیم فوادعبدالباقی: 792
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 792 ترقیم شاملہ: -- 1846
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: كَمَا يَأْذَنُ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ.
یونس اور عمر (بن حارث) دونوں نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ یہ روایت کی، اس میں (ما اذن لنبی کے بجائے) «كما يأذن لنبي» (جس طرح ایک نبی کے لیے کان دھرتا ہے جو خوش الحانی سے قراءت کر رہا ہو۔) کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1846]
مصنف نے یہی حدیث اپنے دوسرے استاد سے بیان کی ہے، لیکن اس میں (مَااَذِنَ لِنَبِيٍّ) کی بجائے (كَمَا يَأْذَنُ لِنَبِيٍّ) کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1846]
ترقیم فوادعبدالباقی: 792
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة