صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
50. باب مَا يَتَعَلَّقُ بِالْقِرَاءَاتِ:
باب: قرأت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 824 ترقیم شاملہ: -- 1917
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَتَى عَلْقَمَةُ الشَّامَ، فَدَخَلَ مَسْجِدًا فَصَلَّى فِيهِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى حَلْقَةٍ فَجَلَسَ فِيهَا، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ، فَعَرَفْتُ فِيهِ تَحَوُّشَ الْقَوْمِ وَهَيْئَتَهُمْ، قَالَ: فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي، ثُمَّ قَالَ: أَتَحْفَظُ كَمَا كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی، انہوں نے کہا: علقمہ ہشام آئے اور ایک مسجد میں داخل ہوئے، اس میں نماز پڑھی، پھر لوگوں کے ایک حلقے میں جا کر بیٹھ گئے، اتنے میں ایک صاحب آئے تو مجھے ان کے (ارد گرد) لوگوں کے اکھٹا ہونے اور (ان کی وجہ سے) ایک خاص ہیئت اختیار کر لینے کا پتا چل گیا (اس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ خاص شخصیت ہیں)، (علقمہ نے کہا): وہ میرے پہلو میں بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا: عبداللہ رضی اللہ عنہ (بن مسعود) جس طرح پڑھا کرتے تھے کیا تمہیں وہ یاد ہے؟ اس کے بعد اسی (پہلی حدیث کی) طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1917]
علقمہ شام آئے اور ایک مسجد میں داخل ہوئے اس میں نماز پڑھی،پھر لو گو ں کے ایک حلقے میں جا کر بیٹھ گئے، ایک آدمی آیا تو میں نے محسوس کیا وہ لوگوں سے کچھ انقباض رکھتا ہے اور ان کی کیفیت وہیئت سے ناراض ہے، وہ میرے پہلو میں بیٹھ گیا، پھر اس نے پوچھا، کیا تمہیں یاد ہے عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیسے پڑھتے تھے؟ آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1917]
ترقیم فوادعبدالباقی: 824
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 824 ترقیم شاملہ: -- 1918
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ لِي: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، قَالَ: مِنْ أَيِّهِمْ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالَ: هَلْ تَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاقْرَأْ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1، قَالَ: فَقَرَأْتُ 0 وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى 0، قَالَ: فَضَحِكَ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا ".
اسماعیل بن ابراہیم (ابن علیہ) نے داود بن ابی ہند سے، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے علقمہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملا، انہوں نے مجھ سے پوچھا: تم کہاں سے ہو؟ میں نے کہا: اہل عراق سے، انہوں نے پوچھا: ان کے کون سے لوگوں میں سے؟ میں نے کہا: اہل کوفہ سے، انہوں نے پوچھا: کیا تم (قرآن مجید) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت کے مطابق پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: «وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَیٰ» پڑھو۔ میں نے پڑھا: «وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَیٰ ﴿﴾ وَالنَّہَارِ إِذَا تَجَلَّیٰ ﴿﴾ وَالذَّکَرَ وَالْأُنثَیٰ»، کہا: وہ ہنس پڑے پھر فرمایا: میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے سنا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1918]
علقمہ سے روایت ہے کہ میں حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا انھوں نے مجھ سے پوچھا: تم کن لوگوں سے ہو؟ میں نے کہا: اہل عراق سے، انھوں نے پوچھا: ان کے کن لوگو ں سے؟ میں نے کہا: اہل کو فہ سے، انھوں نے پوچھا: کیا تم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت کے مطا بق پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں، انھوں نے کہا: ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ﴾ پڑھو۔ میں نے پڑھا ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ ﴿١﴾ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ ﴿٢﴾ وَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ﴾ وہ ہنس پڑے پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی پڑھتے سنا ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1918]
ترقیم فوادعبدالباقی: 824
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 824 ترقیم شاملہ: -- 1919
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ الشَّامَ، فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ.
عبدالاعلیٰ نے کہا: ہم سے داود نے عامر (شعبی) سے اور انہوں نے علقمہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں شام آیا اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملا۔ آگے ابن علیہ (اسماعیل بن ابراہیم) کی (مذکورہ بالا) حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1919]
علقمہ سے روایت ہے کہ میں شام آیا،اور ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملا، آگے ابن علیہ (اسماعیل بن ابراہیم) کی مذکورہ بالا حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1919]
ترقیم فوادعبدالباقی: 824
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
51. باب الأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلاَةِ فِيهَا:
باب: جن وقتوں میں نماز ممنوع ہے ان کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 825 ترقیم شاملہ: -- 1920
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ، حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔ اور صبح کے بعد سورج طلوع ہونے تک نماز سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1920]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سورج کے غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور صبح کے بعد نماز سے منع فرمایا ہے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جائے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1920]
ترقیم فوادعبدالباقی: 825
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 826 ترقیم شاملہ: -- 1921
وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، وإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، جميعا، عَنْ هُشَيْمٍ ، قَالَ دَاوُدُ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ غَيْر وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَكَانَ أَحَبَّهُمْ إِلَيَّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ".
منصور نے قتادہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوعالیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سے زیادہ ساتھیوں سے سنا ہے ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں اور وہ مجھے ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1921]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سےروایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کئی ساتھیوں سے (یعنی بہت سے صحابہ سے) سنا ہے ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی داخل ہیں جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہو نے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1921]
ترقیم فوادعبدالباقی: 826
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 826 ترقیم شاملہ: -- 1922
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، كُلُّهُمْ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سَعِيدٍ، وهِشَامٍ " بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ ".
شعبہ، سعید اور معاذ بن ہشام نے اپنے والد کے واسطے سے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ یہ روایت بیان کی، البتہ سعید اور ہشام کی حدیث میں (نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک کے بجائے) "صبح کے بعد سورج چمکنے تک" کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1922]
یہی حدیث امام صاحب اپنے اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، سعید اور ہشام کی حدیث میں ہے، صبح کے بعد حتی کہ سورج روشن ہو جائے یا سورج بلند اور روشن ہو جائے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1922]
ترقیم فوادعبدالباقی: 826
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 827 ترقیم شاملہ: -- 1923
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ".
عطاء بن یزید لیثی نے خبر دی کہ انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نماز عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے اور نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1923]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز عصر کے بعد سے غروب شمس تک کوئی نماز نہیں ہے اور نماز فجر سےطلوع شمس تک کوئی نماز نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1923]
ترقیم فوادعبدالباقی: 827
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 828 ترقیم شاملہ: -- 1924
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَتَحَرَّى أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّيَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا ".
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے کوئی شخص (جان بوجھ کر) طلوع شمس اور غروب شمس کے وقت کا قصد کر کے ان اوقات میں نماز نہ پڑھے۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1924]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص طلوع شمس اور غروب شمس کے وقت نماز پڑھنے کا قصد نہ کرے۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1924]
ترقیم فوادعبدالباقی: 828
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 828 ترقیم شاملہ: -- 1925
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، ومُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ، وَلَا غُرُوبَهَا فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بِقَرْنَيْ شَيْطَانٍ ".
ہشام کے والد عروہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اپنی نماز کے لیے جان بوجھ کر نہ سورج کے طلوع ہونے کا قصد کرو اور نہ اس کے غروب ہونے کا کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1925]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سےروایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نماز کےلیے طلوع شمس کا قصد نہ کرو اور نہ اس کے غروب کا، کیونکہ سورج شیطان کے دوسینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1925]
ترقیم فوادعبدالباقی: 828
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 829 ترقیم شاملہ: -- 1926
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وابْنُ بِشْرٍ ، قَالُوا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَبْرُزَ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ ".
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سورج کا کنارہ نمودار ہو جائے تو نماز موخر کر دو حتیٰ کہ وہ (سورج) نکل آئے (بلند ہو جائے) اور جب سورج کا کنارہ غروب ہو جائے تو نماز موخر کر دو حتیٰ کہ وہ (سورج) پوری طرح غائب ہو جائے۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1926]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سورج کا کنارہ نکل آئے تو نماز مؤخرکر دو، حتی کہ وہ پورا نمایاں ہو جائے یعنی بلند ہو جائے اور جب سورج کا کنارہ غروب ہو جائے تو نماز مؤخر کر دو حتی کہ پوری طرح غروب ہو جائے۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1926]
ترقیم فوادعبدالباقی: 829
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة