صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب كَرَاهَةِ شِرَاءِ الإِنْسَانِ مَا تَصَدَّقَ بِهِ مِمَّنْ تَصَدَّقَ عَلَيْهِ:
باب: جس کو جو چیز صدقہ دے پھر اس سے وہی چیز خریدنا مکروہ ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1620 ترقیم شاملہ: -- 4163
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ: " حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ عَتِيقٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَضَاعَهُ صَاحِبُهُ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: لَا تَبْتَعْهُ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ، فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ "،
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے ہمیں حدیث بیان کی: ہمیں مالک بن انس نے زید بن اسلم سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے کے لیے کسی کو) ایک عمدہ گھوڑے پر سوار کیا (اسے دے دیا) تو اس کے (نئے) مالک نے اسے ضائع کر دیا (اس کی ٹھیک طرح سے خبرگیری نہ کی)، میں نے خیال کیا کہ وہ اسے کم قیمت پر فروخت کر دے گا، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اسے مت خریدو اور نہ اپنا (دیا ہوا) صدقہ واپس لو کیونکہ صدقہ واپس لینے والا ایسے کتے کی طرح ہے جو قے (چاٹنے کے لیے) اس کی طرف لوٹتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الهبات/حدیث: 4163]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک عمدہ گھوڑا اللہ کی راہ میں یعنی بطور صدقہ دیا، تو اس کے مالک نے اسے ضائع کر دیا، تو میں نے خیال کیا، وہ اس کو سستا بیچ دے گا، میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مت خریدو، اور اپنا صدقہ واپس نہ لو، کیونکہ اپنا صدقہ واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الهبات/حدیث: 4163]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1620
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1620 ترقیم شاملہ: -- 4164
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ لَا تَبْتَعْهُ وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ.
عبدالرحمان بن مہدی نے ہمیں مالک بن انس سے اسی سند کے ساتھ (یہ) حدیث بیان کی اور اضافہ کیا: ”اسے مت خریدو، چاہے وہ اسے تم کو ایک درہم میں دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الهبات/حدیث: 4164]
یہی حدیث امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں یہ اضافہ ہے، ”اسے مت خریدیے اگرچہ وہ تمہیں ایک درہم میں دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الهبات/حدیث: 4164]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1620
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1620 ترقیم شاملہ: -- 4165
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ " أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَوَجَدَهُ عِنْدَ صَاحِبِهِ وَقَدْ أَضَاعَهُ وَكَانَ قَلِيلَ الْمَالِ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: لَا تَشْتَرِهِ وَإِنْ أُعْطِيتَهُ بِدِرْهَمٍ، فَإِنَّ مَثَلَ الْعَائِدِ فِي صَدَقَتِهِ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ "،
روح بن قاسم نے ہمیں زید بن اسلم سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا سواری کے طور پر دیا، تو انہوں نے اسے اس کے مالک کے ہاں اس حال میں پایا کہ اس نے اسے ضائع کر دیا تھا اور وہ تنگ دست تھا، چنانچہ انہوں (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا: ”اسے مت خریدو، چاہے وہ تمہیں ایک درہم میں دیا جائے، صدقہ واپس لینے والے کی مثال اس کتے کی سی ہے جو اپنی قے میں لوٹ جاتا ہے (چاٹتا ہے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الهبات/حدیث: 4165]
حضرت عمر رضی الله تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا، بعد میں اس کے مالک کے پاس اس طرح پایا کہ اس نے اس کو ضائع کر دیا تھا، کیونکہ وہ تنگدست یا نادار تھے، تو حضرت عمر رضی الله تعالی عنہ نے اس کے خریدنے کا ارادہ کر لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مت خریدیے، اگرچہ وہ تمہیں ایک درہم میں ملے، کیونکہ صدقہ کر کے، واپس لینے والے کی مثال، اس کتے کی مثال ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الهبات/حدیث: 4165]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1620
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1620 ترقیم شاملہ: -- 4166
وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ مَالِكٍ، وَرَوْحٍ أَتَمُّ وَأَكْثَرُ.
سفیان نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی، البتہ مالک اور روح کی حدیث زیادہ مکمل اور زیادہ (مفصل) ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الهبات/حدیث: 4166]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں لیکن مذکورہ بالا حدیثیں زیادہ مکمل اور جامع ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الهبات/حدیث: 4166]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1620
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1621 ترقیم شاملہ: -- 4167
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَوَجَدَهُ يُبَاعُ، فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: لَا تَبْتَعْهُ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ "،
امام مالک نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا سواری کے طور پر دیا، پھر انہوں نے اسے اس حالت میں پایا کہ اس کو فروخت کیا جا رہا تھا، انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مت خریدو اور (کبھی) اپنا صدقہ واپس نہ لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الهبات/حدیث: 4167]
حضرت ابن عمر رضی الله تعالی عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی الله تعالی عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا، بعد میں اسے بکتے ہوئے پایا، تو اسے خریدنے کا ارادہ کر لیا، تو اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مت خریدو، اور اپنے صدقہ میں رجوع نہ کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الهبات/حدیث: 4167]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1621
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1621 ترقیم شاملہ: -- 4168
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ رُمْحٍ جَمِيعًا، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ كِلَاهُمَا، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ.
لیث بن سعد اور عبیداللہ دونوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث کی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الهبات/حدیث: 4168]
امام صاحب مذکورہ روایت اپنے چھ اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں، دو لیث بن سعد سے بیان کرتے ہیں، اور باقی چار عبیداللہ سے، اور دونوں نافع کی مذکورہ بالا سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الهبات/حدیث: 4168]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1621
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1621 ترقیم شاملہ: -- 4169
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ عُمَرَ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ رَآهَا تُبَاعُ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهَا فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ يَا عُمَرُ ".
سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں سواری کے لیے ایک گھوڑا دیا، پھر انہوں نے اسے دیکھا کہ فروخت کیا جا رہا ہے۔ تو انہوں نے اس کو خریدنے کا ارادہ کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! اپنا صدقہ واپس مت لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الهبات/حدیث: 4169]
حضرت ابن عمر رضی الله تعالی عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی الله تعالی عنہ نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا دیا، پھر اسے بکتا ہوا دیکھا، تو اسے خریدنے کا ارادہ کر لیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے صدقہ میں رجوع نہ کر، اے عمر!“ [صحيح مسلم/كتاب الهبات/حدیث: 4169]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1621
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
2. باب تَحْرِيمِ الرُّجُوعِ فِي الصَّدَقَةِ وَالْهِبَةِ بَعْدَ الْقَبْضِ إِلاَّ مَا وَهَبَهُ لِوَلَدِهِ وَإِنْ سَفَلَ:
باب: صدقہ دے کر لوٹانا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1622 ترقیم شاملہ: -- 4170
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَثَلُ الَّذِي يَرْجِعُ فِي صَدَقَتِهِ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ فَيَأْكُلُهُ "،
عیسیٰ بن یونس نے ہمیں خبر دی: ہمیں اوزاعی نے ابوجعفر محمد بن علی سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابن مسیب سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”اس شخص کی مثال جو صدقہ واپس لیتا ہے اس کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے، پھر اپنی قے کی طرف لوٹتا ہے اور کھاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الهبات/حدیث: 4170]
حضرت ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کر کے واپس لینے والے کی مثال، اس کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے، پھر اپنی قے میں منہ ڈالتا ہے، اور اسے کھا لیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الهبات/حدیث: 4170]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1622
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1622 ترقیم شاملہ: -- 4171
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ يَذْكُرُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ،
ابن مبارک نے ہمیں اوزاعی سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے (ابوجعفر) محمد بن (زین العابدین) علی بن حسین رحمہم اللہ سے سنا، وہ اسی سند سے اسی طرح بیان کر رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الهبات/حدیث: 4171]
امام صاحب یہی روایت اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الهبات/حدیث: 4171]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1622
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1622 ترقیم شاملہ: -- 4172
وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو : أَنَّ مُحَمَّدَ ابْنَ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
یحییٰ بن ابی کثیر نے ہمیں حدیث بیان کی: مجھے عبدالرحمان بن عمرو نے حدیث بیان کی کہ انہیں فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند (پڑپوتے)، محمد (الباقر) نے یہ حدیث اسی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کی طرح بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الهبات/حدیث: 4172]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الهبات/حدیث: 4172]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1622
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة