صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب الأَمْرِ بِقَضَاءِ النَّذْرِ:
باب: نذر کو پورا کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1638 ترقیم شاملہ: -- 4235
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ، كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَاقْضِهِ عَنْهَا "،
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے بارے میں فتویٰ پوچھا جو ان کی والدہ کے ذمے تھی، وہ اسے پورا کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گئی تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ان کی طرف سے تم پورا کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4235]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے بارے میں دریافت کیا، جو ان کی والدہ کے ذمہ تھی، اور وہ اسے پورا کرنے سے پہلے فوت ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے اس کی طرف سے پورا کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4235]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1638
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1638 ترقیم شاملہ: -- 4236
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ كُلُّهُمْ، عَنْ الزٌّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ اللَّيْثِ وَمَعْنَى حَدِيثِهِ.
امام مالک، ابن عیینہ، یونس، معمر اور بکر بن وائل سب نے زہری سے لیث کی مذکورہ سند کے ساتھ، انہی کی حدیث کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4236]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے اساتذہ کی پانچ سندوں سے، زہری رحمہ اللہ ہی کی مذکورہ بالا سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4236]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1638
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
2. باب النَّهْيِ عَنِ النَّذْرِ وَأَنَّهُ لاَ يَرُدُّ شَيْئًا:
باب: نذر ماننے کی ممانعت اور اس سے کوئی چیز نہ لوٹنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1639 ترقیم شاملہ: -- 4237
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَنْهَانَا عَنِ النَّذْرِ وَيَقُولُ: إِنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الشَّحِيحِ ".
جریر نے منصور سے، انہوں نے عبداللہ بن مرہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمیں نذر سے منع کرنے لگے، آپ فرمانے لگے: ”یہ کسی چیز کو نہیں ٹالتی، اس کے ذریعے سے تو بخیل سے (اللہ کی راہ میں کچھ) نکلوایا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4237]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمیں نذر سے روکنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”وہ کسی چیز کو ٹالتی نہیں ہے، اس کے ذریعے تو بس بخیلوں اور کنجوسوں سے مال نکلوایا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4237]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1639
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1639 ترقیم شاملہ: -- 4238
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " النَّذْرُ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلَا يُؤَخِّرُهُ، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ ".
عبداللہ بن دینار نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نذر کسی چیز کو آگے کرتی ہے نہ پیچھے، اس کے ذریعے سے تو بخیل سے (مال) نکلوایا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4238]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نذر کسی چیز کو مقدم یا مؤخر (آگے پیچھے) نہیں کرتی، اس کے ذریعہ تو بس بخیل سے مال نکلوایا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4238]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1639
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1639 ترقیم شاملہ: -- 4239
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ النَّذْرِ، وَقَالَ: " إِنَّهُ لَا يَأْتِي بِخَيْرٍ وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ "،
شعبہ نے ہمیں منصور سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن مرہ سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے نذر سے منع کیا اور فرمایا: ”بلاشبہ یہ کوئی خیر لے کر نہیں آتی، اس کے ذریعے سے تو بخیل سے (کچھ) نکلوایا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4239]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر سے منع کیا اور فرمایا: ”وہ خیر کے لانے کا سبب نہیں ہے، اس کے ذریعہ تو بس بخیل سے مال نکلوایا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4239]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1639
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1639 ترقیم شاملہ: -- 4240
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ كِلَاهُمَا، عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ.
مفضل اور سفیان دونوں نے منصور سے اسی سند کے ساتھ جریر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4240]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے منصور کے واسطہ ہی سے، جریر کی طرح حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4240]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1639
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1640 ترقیم شاملہ: -- 4241
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَنْذِرُوا، فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يُغْنِي مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ ".
عبدالعزیز دراوردی نے ہمیں علاء سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نذر نہ مانا کرو، نذر تقدیر کے معاملے میں کوئی فائدہ نہیں دیتی، اس کے ذریعے سے تو بخیل سے (مال) نکلوایا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4241]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منت نہ مانا کرو، کیونکہ نذر، تقدیر سے کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی، اس کے ذریعے تو بس بخیل سے مال نکلوایا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4241]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1640
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1640 ترقیم شاملہ: -- 4242
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ نَهَى عَنِ النَّذْرِ، وَقَالَ: إِنَّهُ لَا يَرُدُّ مِنَ الْقَدَرِ وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ ".
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے علاء سے سنا، وہ اپنے والد سے اور وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے منت ماننے سے منع کیا اور فرمایا: ”یہ تقدیر کے کسی فیصلے کو نہیں ٹال سکتی، اس کے ذریعے سے تو بخیل سے (مال) نکلوایا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4242]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ماننے سے منع فرمایا اور کہا: ”وہ تقدیر کو نہیں ٹالتی، اور اس کے ذریعہ تو صرف بخیل سے کچھ نکلوایا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4242]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1640
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1640 ترقیم شاملہ: -- 4243
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ النَّذْرَ لَا يُقَرِّبُ مِنَ ابْنِ آدَمَ شَيْئًا لَمْ يَكُنِ اللَّهُ قَدَّرَهُ لَهُ، وَلَكِنْ النَّذْرُ يُوَافِقُ الْقَدَرَ فَيُخْرَجُ بِذَلِكَ مِنَ الْبَخِيلِ مَا لَمْ يَكُنِ الْبَخِيلُ يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَ "،
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں عمرو بن ابی عمرو سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمان اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”بلاشبہ نذر کسی چیز کو ابن آدم کے قریب نہیں کرتی، جو اللہ نے اس کے لیے مقدر نہیں کی، بلکہ نذر تقدیر کے ساتھ موافقت کرتی ہے، اس کے ذریعے سے بخیل سے وہ کچھ نکلوایا جاتا ہے جسے بخیل نکالنا نہیں چاہتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4243]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نذر آدم کے بیٹے کے قریب کسی ایسی چیز کو نہیں کر سکتی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقدر نہ کی ہو، لیکن نذر تقدیر کے موافق ہی ہوتی ہے، تو اس طرح بخیل سے وہ کچھ نکلوایا جاتا ہے جسے وہ نکالنا نہیں چاہتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4243]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1640
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1640 ترقیم شاملہ: -- 4244
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ كِلَاهُمَا، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
یعقوب بن عبدالرحمان القاری اور عبدالعزیز دراوردی دونوں نے عمرو بن ابی عمرو سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4244]
امام صاحب ایک اور استاد سے، عمرو بن ابی عمرو کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4244]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1640
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة