🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
مسجد میں اعتکاف کرنے کے لئے کھجور کی ٹہنیوں اور پتوں سے جھونپڑی بنانے کی رخصت ہے
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھجور کی ٹہنیوں اور پتّوں سے جھونپڑی بنائی گئی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک میں اعتکاف کیا۔ حتّیٰ کہ جب ایک رات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک باہر نکالا اور صحابہ کرام کو (بلند آواز سے) قرآن مجید پڑھتے ہوئے سنا تو آپ نے فرمایا: بیشک نمازی جب نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے تو تم میں کسی شخص کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا سرگوشیاں کررہا ہے، کیا تم میں سے بعض لوگ دوسروں پر بلند آواز سے (اُن کی قراءت و ذکر میں) خلل ڈالتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے پر بلند آواز سے قراءت کرنے کو ناپسند کیا تھا اور اس سے روکنا چاہتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2237]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2237، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5023، والبزار فى (مسنده) برقم: 6148، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 8549»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مسجد میں اعتکاف میں بیٹھتے وقت معتکف اپنی ضرورت کی چیزیں اپنے پاس رکھ سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2238
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدَرِيِّ ، قَالَ: اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَشْرِ الأَوْسَطِ مِنْ رَمَضَانَ، فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةُ عِشْرِينَ ذَهَبْنَا نَنْقِلُ مَتَاعَنَا، فَقَالَ لَنَا: " مَنْ كَانَ مِنْكُمُ اعْتَكَفَ، فَلْيَرْجِعْ إِلَى مُعْتَكَفِهِ، فَإِنِّي أُرِيتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، فَنُسِّيتُهَا، وَأُرِيتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رمضان المبارک کے درمیانی عشرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا، پھرجب بیسویں رات کی صبح ہوئی تو ہم نے اپنا سامان منتقل کرنا شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حُکم دیا کہ جس شخص نے بھی تم میں سے اعتکاف کیا تھا وہ اپنے معتکف میں واپس آجائے، بیشک مجھے یہ رات دکھائی گئی تھی پھر مجھے وہ بھلادی گئی ہے اور مجھے دکھایا گیا ہے کہ میں کیچڑ میں سجدہ کررہا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2238]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 669، 813، 836، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1167، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1139، وابن الجارود فى "المنتقى"، 223، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2171، 2176، 2219، 2220، 2238، 2243، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3661، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1038، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1094، وأبو داود فى (سننه) برقم: 894، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1766، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2696، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11191»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس بات کی دلیل کا بیان کہ روزے کے بغیر بھی اعتکاف کیا جاسکتا ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات کا اعتکاف کرنے کا حُکم دیا اور رات کے وقت روزہ نہیں ہوتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2239
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، سَأَلَ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلامُ، فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْفِ بِنَذْرِكَ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال پوچھتے ہوئے عرض کی کہ میں نے جاہلیت میں ایک رات کا اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی نذر پوری کرو۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2239]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2032، 2042، 2043، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1656، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1013، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2239، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4379، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1610، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3829، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2474، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1539، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2378، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1772، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8669، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2353، وأحمد فى (مسنده) برقم: 261، والحميدي فى (مسنده) برقم: 708»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عورتوں کے لئے جامع مساجد میں اپنے خاوندوں کے ساتھ اعتکاف کرنے کی رخصت ہے جبکہ وہ بھی اعتکاف کریں
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ کے ساتھ اعتکاف کرنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں اجازت دے دی، پھر اُنہوں نے آپ سے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے لئے بھی اجازت طلب کی۔ میں یہ مکمّل حدیث لکھواچکا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2240]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، تقدم برقم: 2224»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس معتکف کا بیان جو اپنے اعتکاف کے دوران ایسے کام کی نذر مانتا ہے جو اللہ کی اطاعت والی نہیں اور نہ اس سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کے حصول کی کوشش ہوتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2241
أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، قَالَ: وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ قَائِمًا، فَلا يُكَلِّمْ أَحَدًا، وَلا يَأْكُلْ، وَلا يَضْطَجِعْ عَلَى فِرَاشٍ، عَلَى مَعْنَى التَّقَرُّبِ بِلا يَمِينٍ، جَلَسَ وَتَكَلَّمَ وَأَكَلَ وَافْتَرَشَ بِلا كَفَّارَةٍ، وَإِنَّمَا يُوفِي مِنَ النَّذْرِ بِمَا كَانَتْ لِلَّهِ فِيهِ طَاعَةٌ، فَأَمَّا مَنْ نَذَرَ مَا لَيْسَ لِلَّهِ فِيهِ طَاعَةٌ فَلا يَفِي بِهِ، وَلا يُكَفِّرْ أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الأَيْلِي ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلا يَعْصِيهِ"
امام شافعی رحمه الله فرماتے ہیں کہ جو شخص تقربِ الٰہی کے حصول کے لئے بغیر قسم کھائے یہ نذر مانے کہ وہ کھڑا ہوکر اعتکاف کرے گا، کسی شخص سے بات چیت نہیں کرے گا، وہ نہ کھانا کھائے گا اور نہ بستر پر لیٹے گا۔ تو وہ کفّارہ دیئے بغیر بیٹھ جائے، بات چیت کرلے اور کھانا کھالے اور بستر پر آرام کرے۔ بلاشبہ صرف وہ نذر پوری کی جائے گی جس میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری ہو۔ ربا وہ شخص جس نے ایسی نذر مانی جس میں اللہ کی اطاعت نہیں ہے تو وہ نہ نذر پوری کرے اور نہ کفّارہ دے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے نذر مانی کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور جس شخص نے اللہ کی نافرمانی کی نذرمانی تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2241]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2242
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى أَبَا إِسْرَائِيلَ قَائِمًا فِي الشَّمْسِ، فَقَالَ:" مَا لَهُ قَائِمٌ فِي الشَّمْسِ؟" قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَصُومَ، وَأَنْ لا يَجْلِسَ وَلا يَسْتَظِلَّ، قَالَ:" مُرُوهُ فَلْيَجْلِسْ، وَلْيَسْتَظِلَّ، وَلْيَصُمْ". فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْوَفَاءِ بِالصَّوْمِ الَّذِي هُوَ طَاعَةٌ، وَتَرْكِ الْقِيَامِ فِي الشَّمْسِ، إِذْ لا طَاعَةَ فِي الْقِيَامِ فِي الشَّمْسِ. وَإِنْ كَانَ الْقِيَامُ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ بِمَعْصِيَةٍ، إِلا أَنْ يَكُونَ فِيهِ تَعْذِيبٌ، فَيَكُونُ حِينَئِذٍ مَعْصِيَةً. قَدْ خَرَّجْتُ هَذَا الْجِنْسَ عَلَى الاسْتِقْصَاءِ فِي كِتَابِ النُّذُورِ
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابواسرائیل کو دھوپ میں کھڑے دیکھا تو پوچھا: اسے کیا ہوا ہے کہ دھوپ میں کھڑا ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی کہ انہوں نے نذر مانی ہے کہ وہ روزہ رکھیں گے اور بیٹھیں گے نہیں، اور نہ سایہ حاصل کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو کہو کہ وہ بیٹھ جائے، اور سایہ میں رہے اور روزہ رکھ لے۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں روزے کی نذر پوری کرنے کا حُکم دیا کیونکہ روزہ اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری ہے اور دھوپ میں کھڑے ہونے سے روکا کیونکہ دھوپ میں کھڑے ہونا اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کا کام نہیں ہے۔ اگر چہ دھوپ میں کھڑا ہونا معصیت نہیں ہے لیکن اگر اس میں جسمانی اذیت ہو تو پھر یہ معصیت ہوگا۔ میں نے یہ قسم مکمّل طور پر کتاب النذور میں بیان کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2242]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري 6704، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2242، وأبو داود: 3300، وابن ماجه: 2136»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
معتکف شخص کا اپنی اعتکاف گاہ سے نکلنے کے وقت کا بیان اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ معتکف اپنی اعتکاف گاہ سے صبح کے وقت نکلے گا، شام کے وقت نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2243
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَهُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْوَسَطِ مِنْ رَمَضَانَ، فَاعْتَكَفَ عَامًا، حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَهِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَخْرُجُ مِنْ صَبِيحَتِهَا مِنَ اعْتِكَافِهِ، قَالَ: " مَنِ اعْتَكَفَ مَعَنَا فَلْيَعْتَكِفْ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ" . وَذَكَرَ الْحَدِيثِ بِطُولِهِ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے تو آپ نے ایک سال اعتکاف کیا، حتّیٰ کہ جب اکیسویں رات ہوئی، جس رات کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اعتکاف سے نکلتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ہمارے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ آخری عشرہ بھی اعتکاف کرے۔ اور مکمّل حدیث بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2243]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 669، 813، 836، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1167، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1139، وابن الجارود فى "المنتقى"، 223، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2171، 2176، 2219، 2220، 2238، 2243، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3661، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1038، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1094، وأبو داود فى (سننه) برقم: 894، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1766، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2696، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11191»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں