🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب تَحْرِيمِ أَوَانِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فِي الشُّرْبِ وَغَيْرِهِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ:
باب: مرد یا عورت کسی کو چاندی یا سونے کے برتن میں کھانا پینا درست نہیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2065 ترقیم شاملہ: -- 5385
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ ".
امام مالک نے نافع سے، انہوں نے زید بن عبداللہ سے، انہوں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابوبکر صدیق سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں غٹاغٹ جہنم کی آگ بھر رہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5385]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو انسان چاندی کے برتن میں پیتا ہے، وہ بس اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹاغٹ ڈالتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5385]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2065
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2065 ترقیم شاملہ: -- 5386
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّرَّاجِ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ نَافِعٍ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّ الَّذِي يَأْكُلُ أَوْ يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ ذِكْرُ الْأَكْلِ وَالذَّهَبِ إِلَّا فِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ.
قتیبہ اور محمد بن رمح نے ہمیں لیث بن سعد سے یہی حدیث بیان کی۔ یہی حدیث مجھے علی بن حجر سعدی نے بیان کی، کہا: ہمیں اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے حدیث بیان کی، اور ہمیں ابن نمیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں محمد بن بشر نے حدیث سنائی۔ محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے حدیث بیان کی، ابوبکر بن ابی شیبہ اور ولید بن شجاع نے کہا: ہمیں علی بن مسہر نے عبید اللہ سے حدیث بیان کی، محمد بن ابی بکر مقدمی نے کہا: ہمیں فضیل بن سلیمان نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے حدیث سنائی۔ شیبان بن فروخ نے کہا: ہمیں جریر بن حازم نے عبدالرحمٰن سراج سے، ان سب (لیث بن سعد، ایوب، محمد بن بشر، یحییٰ بن سعید، عبید اللہ، موسیٰ بن عقبہ اور عبدالرحمٰن سراج) نے نافع سے امام مالک بن انس کی حدیث کے مانند اور نافع سے (اوپر) انہی کی سند کے ساتھ روایت بیان کی اور عبید اللہ سے علی بن مسہر کی روایت میں اضافہ کیا: بلاشبہ جو شخص چاندی یا سونے کے برتن میں کھاتا یا پیتا ہے۔ ان میں سے اور کسی کی حدیث میں کھانے اور سونے (کے برتن) کا ذکر نہیں۔ صرف ابن مسہر کی حدیث میں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5386]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت اپنے اساتذہ کی سات سندوں سے بیان کرتے ہیں، علی بن مسہر کی روایت میں یہ اضافہ ہے جو شخص چاندی اور سونے کے برتن میں کھاتا یا پیتا ہے۔ ابن مسہر کے سوا کسی کی روایت میں کھانے اور سونے کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5386]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2065
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2065 ترقیم شاملہ: -- 5387
وحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَعْنٍ الرَّقَّاشِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَرِبَ فِي إِنَاءٍ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ، فَإِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارًا مِنْ جَهَنَّمَ ".
عثمان بن مرہ نے کہا: ہمیں عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے اپنی خالہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سونے یا چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں غٹاغٹ جہنم کی آگ بھر رہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5387]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سونے یا چاندی کے برتن میں پیتا ہے، وہ بس اپنے پیٹ میں غٹاغٹ جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5387]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2065
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ:
باب: چاندی اور سونے کے استعمال کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2066 ترقیم شاملہ: -- 5388
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوِ الْمُقْسِمِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ، وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمَ أَوْ عَنْ تَخَتُّمٍ بِالذَّهَبِ، وَعَنْ شُرْبٍ بِالْفِضَّةِ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ، وَالْإِسْتَبْرَقِ، وَالدِّيبَاجِ ".
ابوخیثمہ زہیر نے کہا: ہمیں اشعث نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے معاویہ بن سوید بن مقرن نے حدیث بیان کی، کہا: میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو ان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں سے روکا مریض کی عیادت کرنے، جنازے کے ساتھ شریک ہونے، چھینک کا جواب دینے، (اپنی) قسم یا قسم دینے والے (کی قسم) پوری کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، دعوت قبول کرنے، انگوٹھی پہننے سے، چاندی کے برتن میں (کھانے) پینے، ارغوانی (سرخ) گدوں سے (اگر وہ ریشم کے ہوں)، مصر کے علاقے قس کے بنے ہوئے کپڑوں (جو ریشم کے ہوتے تھے۔) اور (کسی بھی قسم کے) ریشم استبرق اور دیباج کو پہننے سے روکا (استبراق ریشم کا موٹا کپڑا تھا اور دیباج باریک۔) [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5388]
معاویہ بن سوید بن مقرن بیان کرتے ہیں، میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں یہ کہتے سنا، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کا حکم دیا اور سات چیزوں سے منع فرمایا، آپ نے ہمیں بیمار پرسی، جنازہ کے ساتھ جانے، چھینکنے والے کو دعا دینے، قسم پوری کرنے یا قسم دینے والے کی بات پوری کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، دعوت قبول کرنے اور سلام کو عام کرنے کا حکم دیا اور ہمیں انگوٹھیوں یا سونے کی انگوٹھی پہننے، چاندی کے برتن میں پینے، ریشمی گدوں پر بیٹھنے، قسی، ریشم، استبرق اور دیباج پہننے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5388]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2066 ترقیم شاملہ: -- 5389
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، إِلَّا قَوْلَهُ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوِ الْمُقْسِمِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ فِي الْحَدِيثِ وَجَعَلَ مَكَانَهُ وَإِنْشَادِ الضَّالِّ.
ابوعوانہ نے ہمیں اشعث بن سلیم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث سنائی، سوائے اپنی قسم یا قسم دینے والے (کی قسم) کے الفاظ کے، انہوں نے حدیث میں یہ فقرہ نہیں کہا: اور اس کے بجائے گمشدہ چیز کا اعلان کرنے کا ذکر کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5389]
امام صاحب ایک اور استاد سے اشعث بن سلیم ہی کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، مگر اس میں قسم کو پورا کرنے یا قسم دینے والے کی تصدیق کرنے کا ذکر نہیں ہے اور اسکی جگہ گم شدہ چیز کے اعلان کا ذکر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5389]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2066 ترقیم شاملہ: -- 5390
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ زُهَيْرٍ، وَقَالَ إِبْرَارِ الْقَسَمِ: مِنْ غَيْرِ شَكٍّ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي الْفِضَّةِ فَإِنَّهُ مَنْ شَرِبَ فِيهَا فِي الدُّنْيَا، لَمْ يَشْرَبْ فِيهَا فِي الْآخِرَةِ.
علی بن مسہر اور جریر دونوں نے شیبانی سے، انہوں نے اشعث بن ابی شعثاء سے اسی سند کے ساتھ زہیر کی حدیث کے مانند روایت کی اور بغیر شک کے قسم دینے والے (کی قسم) پوری کرنے کے الفاظ کہے اور حدیث میں مزید بیان کیا: اور چاندی (کے برتن) میں پینے سے (منع کیا) کیونکہ جو شخص دنیا میں اس میں پیے گا۔ وہ آخرت میں اس میں نہیں پیے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5390]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ کی سند سے زہیر کی طرح حدیث بیان کرتے ہیں اور اس میں بغیر شک کے قسم پوری کرنے کا ذکر کرتے ہیں اور حدیث میں یہ اضافہ کرتے ہیں، چاندی کے برتن میں پانی پینے سے، کیونکہ جو اس میں دنیا میں پیے گا، آخرت میں نہیں پی سکے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5390]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2066 ترقیم شاملہ: -- 5391
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ بِإِسْنَادِهِمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ زِيَادَةَ جَرِيرٍ وَابْنِ مُسْهِرٍ.
ابن ادریس نے کہا: ہمیں ابواسحٰق شیبانی اور لیث بن ابی سلیم نے اشعث بن ابی شعثاء سے ان سب کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور جریر اور ابن مسہر کے اضافے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5391]
امام صاحب یہی روایت ابوکریب سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں جریر اور ابن مسہر والا اضافہ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5391]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2066 ترقیم شاملہ: -- 5392
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنِي بَهْزٌ ، قَالُوا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ بِإِسْنَادِهِمْ وَمَعْنَى حَدِيثِهِمْ إِلَّا قَوْلَهُ وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ، فَإِنَّهُ قَالَ بَدَلَهَا وَرَدِّ السَّلَامِ، وَقَالَ: نَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ أَوْ حَلْقَةِ الذَّهَبِ.
شعبہ نے اشعث بن سلیم سے ان سب کی سند کے ساتھ ان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، سوائے ان کے روایت کردہ الفاظ: سلام عام کرنے کے بجائے کہا: اور سلام کا جواب دینے اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھی یا سونے کے کڑے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5392]
اور یہی روایت پانچ اور اساتذہ کی چار سندوں سے بیان کرتے ہیں، مگر اس میں اسلام عام کرنے کی جگہ سلام کا جواب دینا بیان کیا ہے، اور کہا ہے: آپ نے ہمیں سونے کی انگوٹھی یا سونے کے چھلہ سے منع فرمایا۔ اور امام صاحب پانچ اور اساتذہ کی چار سندوں سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5392]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2066 ترقیم شاملہ: -- 5393
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، وَعَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، بِإِسْنَادِهِمْ، وَقَالَ وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ من غير شك.
ہمیں سفیان نے اشعث بن ابی شعثاء سے ان سب کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور شک کے بغیر سلام عام کرنے اور سونے کی انگوٹھی کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5393]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں شک کے بغیر بیان کیا ہے، اسلام کو عام کرنا اور سونے کی انگوٹھی پہننا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5393]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2067 ترقیم شاملہ: -- 5394
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، سَمِعْتُهُ يَذْكُرُهُ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ، فَاسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ ، فَجَاءَهُ دِهْقَانٌ بِشَرَابٍ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَرَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: إِنِّي أُخْبِرُكُمْ أَنِّي قَدْ أَمَرْتُهُ أَنْ لَا يَسْقِيَنِي فِيهِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَشْرَبُوا فِي إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَا تَلْبَسُوا الدِّيبَاجَ وَالْحَرِيرَ، فَإِنَّهُ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهُوَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
سعید بن عمرو بن سہل بن اسحٰق بن محمد بن اشعث بن قیس نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے انہیں ابوفروہ سے ذکر کرتے ہوئے سنا کہ انہوں نے عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا: ہم (ایران کے سابقہ دارالحکومت) مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا تو ایک زمیندار چاندی کے برتن میں مشروب لے آیا، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس (مشروب) کے سمیت وہ برتن پھینک دیا اور کہا: میں تم لوگوں کو بتا رہا ہوں کہ میں پہلے اس سے کہہ چکا ہوں کہ وہ مجھے اس (چاندی کے برتن) میں نہ پلائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور دیباج اور حریر نہ پہنو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں ان (کفار) کے لیے ہیں اور آخرت میں قیامت کے دن تمہارے لیے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5394]
عبداللہ بن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانی مانگا تو ان کے پاس زمیندار چاندی کے برتن میں پانی لایا تو انہوں نے وہ برتن اسے دے مارا اور کہا: میں تمہیں آگاہ کرتا ہوں کہ میں اسے کہہ چکا ہوں، مجھے اس برتن میں پانی نہ پلانا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور دیباج و حریر نہ پہنو، کیونکہ یہ چیزیں، ان کے لیے (کافروں کے لیے) دنیا میں ہے اور تمہارے لیے قیامت کے دن آخرت میں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5394]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2067
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں