صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3ق. باب تَحْرِيمِ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَغَيْرِ ذٰلَكَ لِلرِّجَالِ
باب: مردوں کے لیے ریشم وغیرہ پہننے کی حرمت کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2069 ترقیم شاملہ: -- 5415
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قال: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، قَالَ: جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ أَوْ بِالشَّامِ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ إِلَّا هَكَذَا إِصْبَعَيْنِ "، قَالَ أَبُو عُثْمَانَ: فَمَا عَتَّمْنَا أَنَّهُ يَعْنِي الْأَعْلَامَ.
شعبہ نے قتادہ سے روایت کی، کہا: میں نے ابوعثمان نہدی سے سنا، کہا: ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مکتوب آیا، اس وقت ہم آذربائیجان میں عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے یا شام میں تھے، اس میں یہ لکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مقدار یعنی دو انگلیوں سے زیادہ ریشم پہننے سے منع کیا ہے۔ ابوعثمان نے کہا: ہم نے یہ سمجھنے میں ذرا توقف نہ کیا کہ ان کی مراد نقش و نگار سے ہے (جو کناروں پر ہوتے ہیں۔) [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5415]
ابو عثمان النہدی بیان کرتے ہیں، ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا خط آیا، جبکہ ہم حضرت عتبہ بن فرقد رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ آذربائیجان یا شام میں تھے، حمد و صلاۃ کے بعد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم سے منع فرمایا ہے، مگر اتنا دو انگلیوں کے بقدر، ابو عثمان کہتے ہیں، ہم نے یہ سمجھنے میں تاخیر نہیں کی کہ ان کا مقصد نقش و نگار ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5415]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2069
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2069 ترقیم شاملہ: -- 5416
وحدثنا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ أَبِي عُثْمَانَ.
ہشام نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ، اسی کے مانند حدیث بیان کی اور ابوعثمان کا قول ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5416]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے یہی حدیث بیان کرتے ہیں اور ابو عثمان کا قول بیان نہیں کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5416]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2069
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2069 ترقیم شاملہ: -- 5417
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ بِالْجَابِيَةِ، فَقَالَ: " نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ إِلَّا مَوْضِعَ إِصْبَعَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ ".
معاذ کے والد ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے عامر شعبی سے روایت کی، انہوں نے حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جابیہ میں خطبہ دیا اور کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا، سوائے دو یا تین یا چار انگلیوں (کی پٹی) کے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5417]
امام صاحب اپنے چھ اساتذہ سے حضرت سوید بن غفلہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے جابیہ کے مقام پر خطبہ میں فرمایا، نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے، مگر دو، یا تین یا چار انگلیوں کے بقدر۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5417]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2069
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2069 ترقیم شاملہ: -- 5418
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5418]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5418]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2069
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2070 ترقیم شاملہ: -- 5419
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، ويحيى بن حبيب ، وحجاج بن الشاعر ، واللفظ لابن حبيب، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: لَبِسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ ثُمَّ أَوْشَكَ أَنْ نَزَعَهُ، فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقِيلَ لَهُ: قَدْ أَوْشَكَ مَا نَزَعْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: " نَهَانِي عَنْهُ جِبْرِيلُ "، فَجَاءَهُ عُمَرُ يَبْكِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَرِهْتَ أَمْرًا وَأَعْطَيْتَنِيهِ فَمَا لِي، قَالَ: " إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهُ لِتَلْبَسَهُ إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهُ تَبِيعُهُ "، فَبَاعَهُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ.
ابوزبیر نے کہا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن دیباج کی قبا پہنی جو آپ کو ہدیہ کی گئی تھی، پھر فوراً ہی آپ نے اس کو اتار دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دی۔ آپ سے کہا گیا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کو فوراً اتار دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے جبریل علیہ السلام نے اس سے منع کر دیا۔“ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے ایک چیز ناپسند کی اور وہ مجھے دے دی! اب میرے لیے کیا (راستہ) ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے یہ تمہیں پہننے کے لیے نہیں دی، میں نے تمہیں اس لیے دی کہ اس کو بیچ لو۔“ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو دو ہزار درہم میں فروخت کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5419]
امام صاحب اپنے چار اساتذہ سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت بیان کرتے ہیں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیباج کی قبا پہنی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفتا دی گئی تھی، پھر آپ نے اسے جلدی کھینچ ڈالا اور اسے حضرت عمر بن خطاب کی طرف بھیج دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اسے فورا ہی اتار ڈالا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”مجھے جبریل علیہ السلام نے اس سے منع کر دیا ہے“ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ روتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمائی ہے اور وہ مجھے عطا کر دی ہے تو میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے وہ تمہیں پہننے کے لیے نہیں دی، صرف اس لیے دی ہے کہ تم اسے بیچ لو۔“ تو انہوں نے وہ دو ہزار درہم میں فروخت کردی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5419]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2070
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2071 ترقیم شاملہ: -- 5420
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، قال: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيٍّ ، قال: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ سِيَرَاءَ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ فَلَبِسْتُهَا، فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُشَقِّقَهَا خُمُرًا بَيْنَ النِّسَاءِ ".
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوعون سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے ابوصالح سے سنا، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حدیث سنا رہے تھے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی حلہ ہدیہ کیا گیا، آپ نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں نے اس کو پہن لیا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ محسوس کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم اس کو پہن لو، میں نے تمہارے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ تم اس کو کاٹ کر عورتوں میں دوپٹے بانٹ دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5420]
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ میں ریشمی دھاری دار جوڑا دیا گیا اور آپ نے وہ مجھے بھیج دیا تو میں نے وہ پہن لیا، پھر میں نے آپ کے چہرے پر ناراضی کے آثار دیکھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں، یہ اس لیے نہیں بھیجا کہ تم اس کو پہن لو، میں نے تو صرف اس لیے یہ بھیجا تھا کہ تم اسے پھاڑ کر عورتوں میں دوپٹے بانٹ دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5420]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2071
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2071 ترقیم شاملہ: -- 5421
وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ مُعَاذٍ فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي، وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَر، فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي وَلَمْ يَذْكُرْ فَأَمَرَنِي.
عبیداللہ کے والد معاذ اور محمد بن جعفر، دونوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوعون سے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی۔ معاذ کی بیان کردہ حدیث میں ہے: ”آپ نے مجھے حکم دیا تو میں نے کاٹ کر (اپنے گھر کی) عورتوں میں بانٹ دیا۔“ اور محمد بن جعفر کی حدیث میں ہے: ”میں نے اس کو کاٹ کر (اپنے گھر کی) عورتوں میں بانٹ دیا۔“ اور انہوں نے (آپ نے مجھے حکم دیا) کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5421]
یہی روایت امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، معاذ کی روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا اور محمد بن جعفر کی روایت میں ہے، میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا، اس میں حکم دینے کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5421]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2071
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2071 ترقیم شاملہ: -- 5422
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَ حَرِيرٍ، فَأَعْطَاهُ عَلِيًّا، فَقَالَ: " شَقِّقْهُ خُمُرًا بَيْنَ الْفَوَاطِمِ "، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ بَيْنَ النِّسْوَةِ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب اور زہیر بن حرب نے ہمیں حدیث بیان کی۔ الفاظ زہیر کے ہیں۔ کہا: ہمیں وکیع نے مسعر سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوعون ثقفی سے، انہوں نے ابوصالح حنفی سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ دومۃ الجندل کے (حکمران) اکیدر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشم کا ایک کپڑا ہدیہ بھیجا، آپ نے وہ کپڑا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیا اور فرمایا: ”اس کو کاٹ کر (تینوں) فاطماؤں (فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، فاطمہ بنت اسد، یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ، اور فاطمہ بنت حمزہ رضی اللہ عنہا) میں اوڑھنیاں بانٹ دو۔“ ابوبکر اور ابوکریب نے (فاطماؤں کے مابین کے بجائے) (عورتوں کے مابین) کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5422]
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، دومہ علاقہ کے رئیس اکیدر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کپڑا تحفتا بھیجا، آپ نے وہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو دے دیا اور فرمایا: ”اسے فاطمات میں دوپٹے بنا کر تقسیم کر دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5422]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2071
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2071 ترقیم شاملہ: -- 5423
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةَ سِيَرَاءَ، فَخَرَجْتُ فِيهَا، " فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، قَالَ: فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي ".
زید بن وہب نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی حلہ دیا، میں اسے پہن کر نکلا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ دیکھا، کہا: پھر میں نے اس کو پھاڑ کر اپنے گھر کی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5423]
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے داری دار ریشمی جوڑا دیا، میں اسے پہن کر نکلا تو آپ کے چہرے پر ناراضی کے آثار دیکھے تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں بانٹ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5423]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2071
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2072 ترقیم شاملہ: -- 5424
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ، فَقَالَ عُمَرُ: بَعَثْتَ بِهَا إِلَيَّ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ، قَالَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَإِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَنْتَفِعَ بِثَمَنِهَا ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سُندس (باریک ریشم) کا ایک جبہ بھیجا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے میرے پاس یہ جبہ بھیجا ہے حالانکہ آپ نے اس کے متعلق (پہلے) جو فرمایا تھا وہ فرما چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا کہ تم اس کو پہنو، میں نے تمہارے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس کی قیمت سے فائدہ اٹھاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5424]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سندس کا ایک جبہ بھیجا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا، آپ نے یہ مجھے بھیجا ہے، حالانکہ آپ اس کے بارے میں جو فرما چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے اس لیے نہیں بھیجا کہ تم اسے پہن لو، میں نے تو صرف اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس کی قیمت سے فائدہ اٹھا لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5424]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2072
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة