المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
22. في طهارة الماء والقدر الذي ينجس ولا ينجس
پانی کی طہارت اور وہ مقدار جس سے پانی ناپاک ہوتا ہے یا نہیں
حدیث نمبر: 60
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، وَحَدَّثَنِي مُطَرِّفُ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَكَبَتْ لَهُ وُضُوءًا فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا الإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ، قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجِسٍ إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ" .
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی بہو، کبشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، تو انہوں نے انہیں وضو کے لیے پانی ڈال کر دیا۔ بلی آئی اور پینے لگی۔ انہوں نے اس کی طرف برتن جھکا دیا حتی کہ اس نے سیر ہو کر پی لیا، کبشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ نے مجھے دیکھ کر کہ میں انہیں دیکھ رہی ہوں فرمایا: اے بھتیجی! کیا آپ تعجب کر رہی ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں! فرمایا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ (بلی) پلید نہیں ہے، کیوں کہ یہ تم پر گھومنے پھرنے والے مرد یا عورتوں میں سے ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطهارة/حدیث: 60]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: موطأ الإمام مالك: 23,22/1، مسند الإمام أحمد: 303/5-309، سنن أبي داود: 75، سنن النسائي: 68، سنن الترمذي: 92، سنن ابن ماجه: 367، اس حديث كو امام ترمذي رحمہ اللہ نے ”حسن صحيح“، امام ابن خزيمه رحمہ اللہ 104، امام ابن حبان رحمہ اللہ 1299 اور امام حاكم رحمہ اللہ 160/1 نے ”صحيح“ كہا ہے، حافظ ذہبي رحمہ اللہ نے ان كي موافقت كي ہے. امام عقيلی رحمہ اللہ فرماتے ہيں: هذا اسناد ثابت صحيح: [الضعفاء الكبير: 141/2] ، حافظ نووي رحمہ اللہ [الجموع: 1/ 118] اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ [المطالب العالية: 111/2] نے ”صحيح“ كہا ہے. امام دارقطني رحمہ اللہ فرماتے هيں: احسنها إسنادا ما رواه مالك.... [العلل: 163/6] »
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 61
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ الرَّمْلِيُّ ، قَالا: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَرْفَعُهُ، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ قَالَ مَرَّةً: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ" ، وَقَالَ ابْنُ شَيْبَانَ: قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دباغت سے چمڑا پاک ہو جاتا ہے۔ ابن شیبان نے «قَالَ النَّبِيُّ» اور ابن المقری نے «أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ» کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطهارة/حدیث: 61]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 366»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح مسلم
حدیث نمبر: 62
حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ ، قَالَ: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: ثَنَا أَبُو رَيْحَانَةَ ، عَنْ سَفِينَةَ ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ" .
صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع پانی سے غسل کر لیا کرتے تھے اور ایک مد پانی سے وضو کر لیا کرتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطهارة/حدیث: 62]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 326»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح مسلم
23. ما جاء في السواك
مسواک کے متعلق جو کچھ مروی ہے
حدیث نمبر: 63
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: ثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ وُضُوءٍ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی امت کے لیے دشواری نہ سمجھتا، تو انہیں ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطهارة/حدیث: 63]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: مسند الإمام أحمد: 460/2، 517، السنن الكبرىٰ للنسائي: 3031، شرح معاني الآثار للطحاوي: 43/1، اس حديث كو امام ابن خزيمه رحمہ اللہ 140 نے ”صحيح“ كہا ہے.»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
24. في النية في الأعمال
اعمال میں نیت کے (ضروری ہونے کے) بارے میں
حدیث نمبر: 64
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يُخْبِرُ ذَلِكَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الأَعْمَالَ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّ لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ" .
علقمہ بن وقاص رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہوئے سنا: اعمال کا بدلہ نیت پر منحصر ہے، جس نے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہجرت کی، اس کی ہجرت انہی کی خاطر ہو گی اور جس نے حصولِ دنیا کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی خاطر ہجرت کی تو اس کی ہجرت ان چیزوں کے لیے ہی ہو گی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطهارة/حدیث: 64]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1، صحيح مسلم: 1907»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
25. لا تقبل صلاة بغير طهور
پاکیزگی کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 65
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: جَعَلَ النَّاسُ يُثْنُونَ عَلَى ابْنِ عَامِرٍ عِنْدَ مَوْتِهِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمَا إِنِّي لَسْتُ بِأَغَشِّهِمْ لَكَ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ لا يَقْبَلُ صَلاةً بِغَيْرِ طَهُورٍ وَلا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ" .
مصعب بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عامر (بصرہ کے گورنر) کی وفات کے وقت لوگ ان کی تعریف کرنے لگے، تو سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے: میں ان کو آپ سے متنفر تو نہیں کرنا چاہتا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ بغیر وضو کے نماز قبول نہیں کرتا اور حرام مال سے صدقہ قبول نہیں کرتا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطهارة/حدیث: 65]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 224»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح مسلم
حدیث نمبر: 66
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، قَالَ: أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُقْبَلُ صَلاةُ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے وضو آدمی کی نماز قبول نہیں ہوتی، تا آنکہ وہ (دوبارہ) وضو نہ کر لے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطهارة/حدیث: 66]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 135، صحيح مسلم: 225»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
26. صفة وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم وصفة ما أمر به
رسول اللہ ﷺ کے وضو کا طریقہ اور اس کا بیان جس کا آپ نے حکم دیا
حدیث نمبر: 67
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلاثًا فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى مثل ذَلِكَ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى مثل ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فِيهِمَا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
حمران بن ابان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، انہوں نے تین مرتبہ ہاتھوں پر پانی ڈال کر دھویا، پھر تین مرتبہ کلی کی اور ناک (میں پانی ڈال کر) جھاڑا، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا، پھر تین مرتبہ دایاں ہاتھ کہنی تک دھویا، پھر اسی طرح بایاں ہاتھ دھویا، سر کا مسح کیا، تین مرتبہ دایاں پاؤں ٹخنے تک دھویا، اسی طرح بایاں پاؤں دھویا، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرح وضو کرنے کے بعد فرمایا: جس نے میری طرح وضو کیا، پھر دو رکعتیں (تحیۃ الوضو) اس طرح ادا کیں کہ اپنے خیالات میں مگن نہ ہوا، تو اس کے سابقہ سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطهارة/حدیث: 67]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 159-160-164، صحيح مسلم: 226»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
حدیث نمبر: 68
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: ثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ: دَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الرَّحَبَةَ بَعْدَمَا صَلَّى الْفَجْرَ، فَجَلَسَ فِي الرَّحَبَةِ ثُمَّ قَالَ لِغُلامٍ لَهُ: ائْتِنِي بِطَهُورٍ، فَجَاءَهُ الْغُلامُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ، قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ، وَنَحْنُ جُلُوسٌ نَنْظُرُ إِلَيْهِ، " فَأَخَذَ بِيَمِينِهِ الإِنَاءَ فَأَكْفَأَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ أَخَذَ الأَنَاءَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الإِنَاءَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ فَعَلَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ فَمَلأَ فَمَهُ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ: كُلُّ ذَلِكَ لا يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا الْمَاءُ ثُمَّ رَفَعَهَا بِمَا حَمَلَتْ مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا مَرَّةً ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ ثُمَّ صَبَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى فَغَسَلَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ فَمَلأَهَا مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ شَرِبَ مِنْهُ" ثُمَّ قَالَ: هَذَا طَهُورُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طَهُورِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا طُهُورِهِ .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نماز فجر ادا کرنے کے بعد رحبہ (کوفے کا ایک مقام) میں گئے، وہاں بیٹھ کر اپنے غلام سے پانی منگوایا، غلام پانی کا ایک برتن اور ایک طشت لے کر آیا، عبد خیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم بیٹھ کر دیکھ رہے تھے کہ آپ نے دائیں ہاتھ سے برتن پکڑ کر بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھوں کو دھویا، دوبارہ پھر آپ نے دائیں ہاتھ سے برتن پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر دونوں ہاتھوں کو دھویا، سہ بارہ پھر آپ نے دائیں ہاتھ سے برتن پکڑ کر بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھوں کو دھویا، چنانچہ آپ نے تین مرتبہ ہاتھ دھوئے، عبد خیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب تک آپ نے تین مرتبہ ہاتھ دھو نہ لیے ان کو برتن میں داخل نہ کیا، پھر آپ نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا، منہ بھر کے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ سے تین مرتبہ ناک صاف کیا، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا، پھر تین مرتبہ دایاں ہاتھ کہنی تک دھویا، پھر تین مرتبہ بایاں ہاتھ کہنی تک دھویا، پھر دایاں ہاتھ پانی والے برتن میں اچھی طرح ڈبو کر پانی سمیت باہر نکالا اور بائیں ہاتھ سے ملا کر دونوں ہاتھوں سے ایک مرتبہ سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا، پھر دائیں پاؤں پر پانی ڈال کر تین مرتبہ اسے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر داہنے ہاتھ سے بائیں پاؤں پر پانی ڈال کر اسے بائیں ہاتھ سے تین مرتبہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اسے پانی سے بھر کر پی لیا، پھر فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے۔ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضود یکھنا پسند کرتا ہو، تو وہ یہی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطهارة/حدیث: 68]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 135/1-154، سنن أبى داود: 112، سنن النسائي: 91، اس حديث كو امام ابن خزيمہ رحمہ اللہ 147 اور امام ابن حبان رحمہ اللہ 1056 نے ”صحيح“ كہا ہے.»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 69
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: ثَنَا الثَّوْرِيُّ ، وَمَعْمَرٌ ، وَدَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک مرتبہ (اعضا کو دھو کر) وضو کیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطهارة/حدیث: 69]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 157»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح البخاري