المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. أول كتاب الزكاة
کتاب الزکوٰۃ کا آغاز
حدیث نمبر: 342
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ فَكَتَبَ لِي هَذَا الْكِتَابَ:" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى وجُوهِهَا فَلْيُعْطِهَا، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهُ فَلا يُعْطِهِ، فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ فَمَا دُونَهَا الْغَنَمُ، فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ أُنْثَى، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ أُنْثَى فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، فَإِنْ بَلَغَتْ سِتَّةً وَثَلاثِينَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّةً وَأَرْبَعِينَ إِلَى سِتِّينَ فَفِيهَا حَقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّةً وَسَبْعِينَ إِلَى تِسْعِينَ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، فَإِذَا تَبَايَنَ أَسْنَانُ الإِبِلِ فِي فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ مَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَتُهُ مِنَ الإِبِلِ الْجَذَعَةَ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيُجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، فَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ الْحِقَّةَ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ الْحِقَّةُ وَعِنْدَهُ الْجَذَعَةُ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ الْحِقَّةَ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلا ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ لَبُونٍ وَيُعْطِي مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، فَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيُعْطِيهِ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ مَخَاضٍ وَيُعْطِي مَعَهَا عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ لَبُونٍ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ عَلَى وَجْهِهَا وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ يَقْبَلُ مِنْهُ ابْنُ اللَّبُونِ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ إِلا أَرْبَعٌ مِنَ الإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ فَفِيهَا شَاةٌ، وَفِي صَدَقَةِ الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ شَاةً فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا شَاتَانِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى الْمِائَتَيْنِ إِلَى ثَلاثِمِائَةٍ فَفِيهَا ثَلاثُ شِيَاةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلاثِمِائَةِ شَاةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ وَلا يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلا ذَاتُ عَوَارٍ وَلا تَيْسٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَدِّقُ وَلا يُجْمَعْ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلا يُفَرَّقْ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، فَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي الرِّقَةِ رُبُعُ الْعَشْرِ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ مَالُهُ إِلا تِسْعِينَ وَمِائَةَ دِرْهَمٍ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا" .
بہر بن حکیم اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس چرنے والے اونٹوں پر بنت لبون ہے، اونٹوں کو ان کی جگہ سے نہ ہٹائیں، جو حصول اجر کی نیت سے زکاة ادا کرتا ہے اسے اجر ملے گا، اور جو شخص زکاة نہیں دے گا ہم اس کی زکاة کے ساتھ آدھا مال بھی لے لیں گے، یہ ہمارے رب کی طرف سے مقرر کردہ حصے ہیں اور ان صدقات میں سے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ بھی جائز نہیں ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الزكاة/حدیث: 342]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1448, 1450, 1455»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 343
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنَا سُفْيَانُ ، ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ: ثَنَا قَبِيصَةُ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، وَمَنْ كُلِّ ثَلاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً" , وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ: قَالَ: بَعَثَهُ النَّبِيُّ إِلَى الْيَمَنِ فَأَمَرَهُ.
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زکاة لینے کے لیے یمن بھیجا، تو چالیس گائیوں سے ایک مسنہ دو سالہ بچہ اور تیس گائیوں سے ایک تبیعہ ایک سالہ بچہ لینے کا حکم دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الزكاة/حدیث: 343]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: سنن أبي داود: 1578، سنن النسائي: 2454، سنن الترمذي: 623، سنن ابن ماجه: 1803، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2268) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4886) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/398) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ (التمهيد: 2/130)، نیز فرماتے ہیں: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُعَاذٍ هَذَا الْخَبَرُ بِإِسْنَادٍ مُّتَصِلٍ وَصَحِيحٌ ثَابِتٌ (التمهيد: 2/275) اعمش مدلس ہیں، مسند الشاشي (1348) میں ان سے شعبہ بیان کر رہے ہیں، لہذا یہ روایت سماع پر محمول ہے، سنن الدارمي (1664, 1709) اور المعجم الكبير للطبراني (20/129، ح: 262) میں اعمش کی متابعت عاصم بن بہدلہ نے کر رکھی ہے، رہا مسروق کا سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سماع کا مسئلہ تو یہ سب سے پہلے علامہ ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے، ان سے اس کا رجوع بھی ثابت ہے۔ (المحلی: 6/16) حافظ ابن القطان فاسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: هُوَ الَّذِي كَانَ رَمَاهَا بِالِانْقِطَاعِ ثُمَّ رَجَعَ (بيان الوهم والإيهام: 2/574) ابن القطان رحمہ اللہ نے بھی انقطاع کا رد کیا ہے، ان سے پہلے یہ رد امام اندلس ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے کیا ہے، نیز ائمہ محدثین نے اس حدیث کی تصحیح کر کے انقطاع کا رد کر دیا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 344
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ السَّلامِ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ ، قَالَ: أَنَا خُصَيْفٌ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فِي ثَلاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعٌ، أَوْ تَبِيعَةٌ وَفِي أَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیس گائیوں پر ایک تبیع یا تبیعہ (ایک سالہ بچہ یا بچی) اور چالیس گائیوں پر ایک مسنہ (دو سالہ بچہ یا بچی) زکاة کے طور پر واجب ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الزكاة/حدیث: 344]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف والحديث حسن: مسند الإمام أحمد: 1/411، سنن الترمذي: 622، سنن ابن ماجه: 1804، خصیف بن عبدالرحمن (حسن الحدیث عند الجمہور) کے اختلاط کا مسئلہ ہے، نیز ابو عبیدہ نے اپنے باپ سے نہیں سنا۔ اوپر والی حدیث اس کا شاہد ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف والحديث حسن
حدیث نمبر: 345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَقَالَ: " لا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلا فِي دُورِهِمْ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: لوگوں کی زکاة ان کے گھروں میں جا کر وصول کی جائے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الزكاة/حدیث: 345]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 2/80، سنن أبي داود: 1591، حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (تحفة المحتاج: 914) نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے، محمد بن اسحاق نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، نیز مسند احمد (2/215، وسندہ حسن) میں ان کی متابعت عبد الرحمن بن حارث نے کر رکھی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 346
حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحِ بْنِ مُسْلِمٍ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُؤْخَذُ صَدَقَاتُ أَهْلِ الْبَادِيَةِ عَلَى مِيَاهِهِمْ وَأَفْنِيَتِهِمْ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیہاتی لوگوں کی زکاة ان کے پانی کے مقامات (جہاں جانور پانی پیتے ہیں) یا ان کے گھروں کے قریب جا کر وصول کی جائے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الزكاة/حدیث: 346]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: المعجم الأوسط للطبراني: 346، السنن الكبرى للبيهقي: 4/110، عبدالملک بن محمد بن ابی بکر ابوطاہر ثقہ ہیں، امام ابن حبان رحمہ اللہ نے الثقات (7/110) میں ذکر کیا ہے، امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ (تاریخ بغداد: 10/410) نے ثقہ کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 347
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: أَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فِيمَا سَقَتِ الأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّانِيَةِ نِصْفُ الْعُشْرِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہروں اور چشموں سے سیراب ہونے والی زراعت پر عشر (دسواں حصہ) اور رہٹ (کنواں) سے سیراب ہونے والی زراعت پر نصف عشر (بیسواں حصہ) زکاة واجب ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الزكاة/حدیث: 347]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 981»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 348
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: ثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " سَنَّ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرَ وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفَ الْعُشْرِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش، چشموں یا خود رو زمین سے سیراب ہونے والی زراعت پر عشر (دسواں حصہ) اور ڈول سے سیراب ہونے والی زراعت پر نصف عشر (بیسواں حصہ) زکاة مقرر کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الزكاة/حدیث: 348]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1483»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 349
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ مِنْ حُبٍّ وَلا تَمْرٍ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم غلہ اور کھجوروں پر زکاة واجب نہیں ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الزكاة/حدیث: 349]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1447، صحيح مسلم: 979»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 350
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ،" أَنَّ بَنِي شَبَابَةَ بَطْنٌ مِنْ فَهْمٍ كَانُوا يُؤَدُّونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْلٍ كَانَ عَلَيْهِمُ الْعُشْرَ مِنْ كُلِّ عَشْرِ قِرَبٍ قِرْبَةً، وَكَانَ يَحْمِي لَهُمْ وَادِيَيْنِ لَهُمْ، ثُمَّ أَدُّوا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا يُؤَدُّونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَى لَهُمْ وَادِيَيْهِمْ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بنی سبابہ، جو قبیلہ فہم کا حصہ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد میں سے عشر (دسواں حصہ) یعنی دس مشکیزوں میں سے ایک مشکیزہ ادا کرتے تھے، جو ان پر واجب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دو وادیوں کا تحفظ فراہم کیا تھا۔ پھر انہوں نے وہی عشر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کرتے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی ادا کیا اور انہوں نے بھی ان کے لیے ان دو وادیوں کا تحفظ جاری رکھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الزكاة/حدیث: 350]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: سنن أبي داود: 1601، سنن ابن ماجه: 1824، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2324) نے صحیح کہا ہے، عبدالرحمن بن حارث مخزومی کی سنن ابی داود (1200، وسندہ حسن) اور سنن نسائی (2501) میں عمرو بن حارث نے متابعت کر رکھی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 351
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يُخْرَصَ الْعِنَبَ كَمَا يُخْرَصُ النَّخْلَ، وَأَنْ يَأْخُذَ زَكَاةَ الْعِنَبِ زَبِيبًا كَمَا يَأْخُذُ زَكَاةَ النَّخْلِ تَمْرًا" .
سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ انگوروں کا اندازہ کھجوروں کی طرح لگائیں اور انگوروں کی زکاة منقیٰ (خشک انگور) کی صورت میں لیں، جیسے کھجوروں کی زکاة خشک کھجوروں کی صورت میں لی جاتی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الزكاة/حدیث: 351]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: سنن أبي داود: 1603، سنن النسائي: 2619، سنن الترمذي: 644، سنن ابن ماجه: 2619، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2317) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3279) نے صحیح کہا ہے، امام ابو داؤد رحمہ اللہ (1604) فرماتے ہیں کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف