المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
. باب المناسك
حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
حدیث نمبر: 500
حَدَّثَنَا، عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ قَالا: ثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، زَادَ ابْنُ هَاشِمٍ: وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَلا الظَّعْنَ؟ قَالَ: " حُجَّ عَنْ أَبِيكِ وَاعْتَمِرْ" .
سیدنا ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: میرے والد بوڑھے ہیں، وہ حج، عمرہ اور سفر کی استطاعت نہیں رکھتے۔ آپ نے فرمایا: «اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کر لو۔» [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 500]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: سنن أبي داود: 1810، سنن النسائي: 2621، سنن الترمذی: 930، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 501
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَنَا عِيسَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَإِنَّهَا مَاتَتْ؟ فَقَالَ: لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاقْضُوا اللَّهَ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری بہن نے حج کی نذر مانی تھی اور وہ فوت ہو گئی۔ آپ نے پوچھا: «اگر اس پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟» اس نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: «تو اللہ کا حق ادا کرو، کیونکہ وہ ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے۔» [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 501]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1852»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 502
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلا الْجَنَّةَ، وَالْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ يُكَفِّرُ مَا بَيْنَهُمَا" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «حجِ مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے، اور ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے درمیان کے گناہوں کو مٹاتا ہے۔» [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 502]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1773، صحيح مسلم: 1349»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 503
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، بِنَحْوِهِ.
ابن مقری سے بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 503]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1773، صحيح مسلم: 1349»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 504
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لامْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ قَدْ سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَسِيتُ اسْمَهَا: مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّي مَعَنَا الْعَامَ؟ قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ لِي نَاضِحَانِ، فَرَكِبَ أَبُو فُلانٍ وَابْنُهُ لِزَوْجِهَا وَابْنُهَا نَاضِحًا، وَتَرَكَ نَاضِحًا يَنْضَحُ عَلَيْهِ الْمَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِذَا كَانَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي فَإِنَّ عَمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً"، أَوْ قَالَ بِحَجَّةٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاریہ عورت (ام سنان) سے فرمایا: (سیدنا عبداللہ بن عباس نے اس کا نام بتایا تھا، لیکن میں بھول گیا) «اس سال ہمارے ساتھ حج کرنے سے تمہیں کیا چیز روک رہی تھی؟» اس نے کہا: یا نبی اللہ! میرے پاس دو اونٹ تھے، ایک پر میرا خاوند اور اس کا بیٹا سوار ہو کر چلے گئے، اور دوسرا پانی لانے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جب رمضان آئے تو اس میں عمرہ کر لینا، کیونکہ رمضان میں عمرہ حج کے برابر ثواب رکھتا ہے۔» [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 504]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1782، صحيح مسلم: 1256»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 505
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، فِيمَا حَدَّثَنَا مِنَ الْمَغَازِي، قَالَ: قَالَ مَعْمَرٌ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ يصدق كل واحد منهما حديث صاحبه، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ، وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ وَبَعَثَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَيْنًا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ يُخْبِرُهُ عَنْ قُرَيْشٍ، وَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِغَدِيرِ الأَشْطَاطِ قَرِيبًا مِنْ عُسْفَانَ، أَتَاهُ عَيْنَهُ الْخُزَاعِيُّ، فَقَالَ: إِنَّنِي تَرَكْتُ كَعْبَ بْنَ لُؤَيٍّ، وَعَامِرَ بْنَ لُؤَيٍّ قَدْ جَمَعُوا لَكَ الأَحَابِيشَ وَجَمَعُوا لَكَ جُمُوعًا وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَشِيرُوا عَلَيَّ، فَذَكَرَ ابْنُ يَحْيَى الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي صَدِّ الْمُشْرِكِينَ إِيَّاهُمْ عَنِ الْبَيْتِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ بَعْدَ ذِكْرِ الْقَضِيَّةِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ: " قُومُوا فَانْحَرُوا ثُمَّ احْلِقُوا" ، وَذَكَرَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ.
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم رضی اللہ عنہ ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے سال تیرہ سو سے زائد صحابہ کے ساتھ نکلے۔ جب ذوالحلیفہ پہنچے، تو آپ نے قربانی کے جانور کو قلادہ پہنایا، اشعار کیا، اور عمرہ کا احرام باندھا، اور بنو خزاعہ کے ایک شخص کو جاسوس بنا کر آگے بھیجا تاکہ وہ قریش کے حالات کی خبر دے۔ آپ عسفان کے قریب غدیر اشطاط پر پہنچے، تو خزاعی جاسوس نے آ کر بتایا کہ کعب بن لؤی اور عامر بن لؤی نے آپ کے خلاف احابیش اور دیگر جماعتیں اکٹھی کر لی ہیں، وہ آپ سے لڑیں گے اور بیت اللہ سے روکیں گے۔ آپ نے فرمایا: «مجھے مشورہ دو۔» ابن یحییٰ نے مشرکوں کے بیت اللہ سے روکنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا اور آخر میں کہا کہ فیصلے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: «اٹھو، قربانیاں کر دو اور سر منڈوا لو۔» انہوں نے باقی حدیث بھی بیان کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 505]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2731-2732»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 506
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُخْبِرُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَّرَ رَجُلٌ عَنْ بَعِيرِهِ فَوقِصَ فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُهِلُّ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص احرام کی حالت میں اپنے اونٹ سے گرا اور گردن ٹوٹنے سے مر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اس کی دونوں چادروں میں کفن دو، لیکن اس کا سر نہ ڈھانپو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن تلبیہ پڑھتے ہوئے اٹھائے گا۔» [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 506]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1267، صحيح مسلم: 1206»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 507
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثَنَا عُبَيْدَةُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ ، قَالَ: ثَنِي مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِر ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" وَقَصَتْ بِرَجُلٍ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَفَّنَ فِي ثَوْبَيْهِ وَيُغَسَّلَ، وَلا يُغَطَّى وَجْهُهُ، وَلا يَمَسَّ طِيبًا، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص احرام کی حالت میں تھا، اس کی اونٹنی نے اس کی گردن توڑ دی اور وہ مر گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے اس کی دونوں چادروں میں کفن دیا جائے، غسل دیا جائے، لیکن اس کا چہرہ نہ ڈھانپا جائے اور نہ ہی اسے خوشبو لگائی جائے، کیونکہ اسے قیامت کے دن تلبیہ پڑھتے ہوئے اٹھایا جائے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 507]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1839»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 508
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، أَخْبَرَهُ، قَالَ: ثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: ثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: ثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ: ثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَتَلَتْ هُذَيْلٌ رَجُلا مِنْ بَنِي لَيْثٍ بِقَتِيلٍ لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي وَلا تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ، لا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلا يُخْتَلَى شَوْكُهَا، وَلا يُلْتَقَطُ سَاقِطَتُهَا إِلا لِمُنْشِدٍ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُقَادَ وَإِمَّا أَنْ يُفَادَى، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شَاةٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اكْتُبْ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اكْتُبُوا لأَبِي شَاةٍ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلا الإِذْخَرَ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي مَسَاكِنِنَا وَقُبُورِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِلا الإِذْخَرَ إِلا الإِذْخَرَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا، تو بنو ہذیل نے جاہلیت کے ایک مقتول کے بدلے بنو لیث کے ایک شخص کو قتل کر دیا۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی، تو آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا: «اللہ تعالیٰ نے مکہ میں قتال منع کر دیا ہے اور اپنے رسول اور مومنین کو اس پر مسلط کیا۔ یہ میرے سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھی، اور میرے بعد کسی کے لیے حلال نہیں ہو گی۔ میرے لیے بھی یہ صرف دن کے ایک حصے کے لیے حلال کی گئی۔ اس وقت یہ حرم ہے، اس کے درخت نہیں کاٹے جائیں گے، نہ اس کے کانٹے توڑے جائیں گے، نہ اس کی گم شدہ چیز اٹھائی جائے گی سوائے اس کے جو اس کا اعلان کرے۔ اور جس کا کوئی قتل کر دیا جائے، وہ دو چیزوں میں سے بہتر اختیار کر سکتا ہے: یا تو قصاص لے یا دیت قبول کرے۔» اس پر یمن کا ایک شخص ابو شاہ کھڑا ہوا اور بولا: یا رسول اللہ! یہ میرے لیے لکھ دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ابو شاہ کے لیے لکھ دو۔» پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اذخر گھاس کو مستثنیٰ کر دیں، کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: «اذخر مستثنیٰ ہے، اذخر مستثنیٰ ہے۔» [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 508]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2434، صحيح مسلم: 1355»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 509
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ: ثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ:" إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ، فَهُوَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا أُحِلَّ لأَحَدٍ فِيهِ الْقَتْلُ غَيْرِي، وَلا يَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، وَمَا أُحِلَّ لِي فِيهَا إِلا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَهُوَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ، لا يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلا يُخْتَلَى خَلاهُ، وَلا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «یہ شہر (مکہ) حرم ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے اس دن حرم بنایا جب اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ یہ اللہ کی حرمت کے ساتھ قیامت تک حرم رہے گا۔ میرے علاوہ کسی کے لیے اس میں قتال جائز نہیں تھا، اور میرے بعد بھی کسی کے لیے جائز نہیں ہو گا۔ میرے لیے بھی یہ صرف دن کے ایک حصے کے لیے حلال کیا گیا۔ یہ اللہ کی حرمت کے ساتھ قیامت تک حرم رہے گا۔ نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں، نہ اس کی گھاس توڑی جائے، اور نہ اس کا شکار بھگایا جائے۔» [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 509]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1834، صحيح مسلم: 1353»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح