🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
. باب المناسك
حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 480
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَنَا عِيسَى ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِيَّةُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا سَمِعَتْهَا تَقُولُ،" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقِيلَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ" ، قَالَ يَحْيَى: فَذَكَرْتُهُ لِلْقَاسِمِ، فَقَالَ: أَتَتْكَ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج کے لیے) نکلیں۔ قربانی کے دن ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کی ہے۔ یحییٰ کہتے ہیں: میں نے یہ بات قاسم کے سامنے بیان کی، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تمہیں درست حدیث پہنچی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 480]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1720، صحیح مسلم: 1211/125»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 481
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: وثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ حَدِّثْنِي مَا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ مَا كَانَ يَكْرَهُ مِنَ الأَضَاحِي، فَقَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ، فَقَالَ: " أَرْبَعٌ لا يَجُزْنَ: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ضَلَعُهَا، وَالْكَسِيرَةُ الَّتِي لا تُنْقِي" قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فِي السِّنِّ نَقْصٌ أَوْ فِي الأُذُنِ أَوْ فِي الْقَرْنِ، قَالَ:" مَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ وَلا تُحَرِّمْهُ عَلَى أحَدٍ" .
عُبَيْد بن فَيْرُوز کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے پوچھا: مجھے بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کن جانوروں کی قربانی سے منع کیا یا کون سی قربانی ناپسند فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ سے چھوٹا ہے، آپ نے فرمایا: «چار جانور قربانی کے لیے جائز نہیں: واضح طور پر کانا، واضح طور پر بیمار، واضح طور پر لنگڑا، اور وہ لاغر جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔» عُبَيْد بن فَيْرُوز کہتے ہیں: میں نے کہا: میں دانت، کان یا سینگ میں نقص کو بھی ناپسند کرتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا: «جو تمہیں ناپسند ہو اسے چھوڑ دو، لیکن اسے دوسروں پر حرام قرار نہ دو۔» [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 481]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 284/4، سنن أبي داود: 2802، سنن النسائي: 4374، سنن الترمذي: 1497، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح اور امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2912) نے صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 482
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ ، أَنَّ مُجَاهِدًا ، أَخْبَرَهُمَا، أَنَّ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ يُقْسِمَ لُحُومَهَا وَجُلُودَهَا، وَأَنْ لا يُعْطِيَ فِي جِزَارَتِهَا مِنْهَا شَيْئًا" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ آپ کے قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کریں، ان کے گوشت، چمڑے اور جھول تقسیم کر دیں، اور قصاب کی اجرت اس میں سے کچھ نہ دیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 482]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1717، صحیح مسلم: 1317»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 483
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ أَقْسِمَ لُحُومَهَا وَجِلالَهَا، وَأَمَرَنِي أَنْ لا أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْهَا شَيْئًا، وَقَالَ: " نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدَنَا" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کروں، ان کے گوشت اور جھول تقسیم کر دوں، اور قصاب کی اجرت اس میں سے کچھ نہ دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اس کی اجرت ہم اپنے پاس سے دیں گے۔» [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 483]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1716، صحیح مسلم: 1317»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 484
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالَ: ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: أَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمَّا حَلَقَ رَأْسَهُ، قَالَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الأَيْمَنِ فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ، ثُمَّ حَلَقَ شَقَّ رَأْسِهِ الأَيْسَرِ فَقَسَمَهُ بَيْنَ النَّاسِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سر منڈوایا، تو سر کے دائیں حصے کے بال سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیے، پھر سر کے بائیں حصے کے بال منڈوائے اور انہیں لوگوں میں تقسیم کر دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 484]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 171، صحیح مسلم: 1305/323»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 485
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: وَالْمُقَصِّرِينَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم فرمائے۔» لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بال کتروانے والوں کے لیے بھی دعا کیجیے۔ آپ نے فرمایا: «اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم فرمائے۔» لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! بال کتروانے والوں کے لیے بھی دعا کیجیے۔ آپ نے فرمایا: «اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم فرمائے۔» لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! بال کتروانے والوں کے لیے بھی دعا کیجیے۔ آپ نے فرمایا: «اور بال کتروانے والوں پر بھی اللہ رحم فرمائے۔» [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 485]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1727، صحیح مسلم: 1301»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 486
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى" ، قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُفِيضُ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي الظُّهْرَ بِمِنًى، وَيُذْكَرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن طوافِ افاضہ کیا، پھر واپس آکر منیٰ میں نماز ظہر ادا کی۔ نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی قربانی کے دن طوافِ افاضہ کرتے، پھر واپس آکر منیٰ میں نماز ظہر ادا کرتے اور فرماتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 486]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1308»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 487
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ:" ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ؟ قَالَ: احْلِقْ وَلا حَرَجَ"، فَسَأَلَهُ آخَرُ، فَقَالَ:" حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ؟ قَالَ: اذْبَحْ وَلا حَرَجَ"، قَالَ آخَرُ:" ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ قَالَ: ارْمِ وَلا حَرَجَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں نے سر منڈوانے سے پہلے قربانی کر لی، کوئی حرج تو نہیں؟ فرمایا: «اب سر منڈوا لو، کوئی حرج نہیں۔» ایک اور شخص نے کہا: میں نے قربانی سے پہلے سر منڈوا لیا، کوئی حرج تو نہیں؟ فرمایا: «اب قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں۔» ایک اور نے کہا: میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر دی، کوئی حرج تو نہیں؟ فرمایا: «اب کنکریاں مار لو، کوئی حرج نہیں۔» [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 487]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1737، صحیح مسلم: 1306»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 488
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ بِمِنًى فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ الْحَلْقَ قَبْلَ النَّحْرِ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، قَالَ: انْحَرْ وَلا حَرَجَ"، قَالَ: وَجَاءَهُ آخَرُ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ الْحَلْقَ قَبْلَ الرَّمْيِ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: ارْمِ وَلا حَرَجَ"، قَالَ: فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قَدَّمَهُ رَجُلٌ وَأَخَّرَهُ، إِلا قَالَ:" افْعَلْ وَلا حَرَجَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں اونٹنی پر سوار دیکھا۔ ایک شخص آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میرا خیال تھا کہ قربانی سے پہلے سر منڈوانا ہوتا ہے، اس لیے میں نے قربانی سے پہلے سر منڈوا لیا، کوئی حرج تو نہیں؟ فرمایا: «اب قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں۔» ایک اور شخص آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میرا خیال تھا کہ کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈوانا ہوتا ہے، اس لیے میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈوا لیا، کوئی حرج تو نہیں؟ فرمایا: «اب کنکریاں مار لو، کوئی حرج نہیں۔» اس دن آپ سے جس چیز کے متعلق بھی پوچھا گیا جس میں کسی نے تقدیم یا تاخیر کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «کر لو، کوئی حرج نہیں۔» [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 488]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 83، صحیح مسلم: 1306»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 489
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ ، يَقُولُ: ثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ ، قَالَ: ثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ أَحْسَبُ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: وَفِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، وَنُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ، وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یوم النحر کو خطبہ دے رہے تھے، ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے سوال کیا: میرا خیال تھا... (الحدیث)۔ ابو محمد کہتے ہیں: اس موضوع پر ابو بکرہ، نبیط بن شریط اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 489]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1737، صحیح مسلم: 1306»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں