🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
. باب المناسك
حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 440
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَابْنُ هَاشِمٍ ، قَالا: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لا جُنَاحَ فِي قَتْلِهِنَّ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْحَرَمِ وَالإِحْرَامِ، وَقَالَ ابْنُ هَاشِمٍ: فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ:" الْفَأْرَةُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْغُرَابُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں قتل کرنے میں کوئی گناہ نہیں، خواہ قتل کرنے والا حرم میں ہو یا حالت احرام میں: (1) چوہیا، (2) چیل، (3) کوا، (4) بچھو، (5) کاٹنے والا کتا۔ ابن ہاشم کی روایت میں "حل اور حرم" کے الفاظ ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 440]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1828، صحیح مسلم: 1199»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 441
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: امْتَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي غُسْلِ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ وَهُمَا بِالْعَرْجِ، فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ قَرْنَيْ بِئْرٍ فَسَلَّمْتُ فَضَمَّ الثَّوْبَ إِلَى صَدْرِهِ، فَقُلْتُ: أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ ابْنُ أَخِيكَ أَسْأَلُكَ كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ؟ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ هَكَذَا، فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ مُقْبِلا وَمُدْبِرًا، قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ" .
عبداللہ بن حنین بیان کرتے ہیں کہ مقام عرج پر سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم کے درمیان محرم کے سر دھونے پر اختلاف ہوا، تو انہوں نے مجھے سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔ میں ان کے پاس آیا تو انہیں کنویں پر گاڑی ہوئی دو لکڑیوں کے درمیان غسل کرتے پایا۔ میں نے سلام کیا تو انہوں نے اپنا کپڑا سینے تک لپیٹ لیا۔ میں نے کہا: مجھے آپ کے بھتیجے نے یہ پوچھنے کے لیے بھیجا ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت احرام میں سر کیسے دھوتے دیکھا؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح سر دھوتے دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھوں کو سر پر آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے لاتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 441]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1840، صحیح مسلم: 1205»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 442
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَطَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سینگی لگوائی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 442]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1835، صحیح مسلم: 1202»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 443
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، عَنْ نَبِيهٍ ، قَالَ:" اشْتَكَى عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ عَيْنَيْهِ، فَلَمَّا أَتَى الرَّوْحَاءَ اشْتَدَّ بِهِ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ فَأَرْسَلَ أَبَانُ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَدَّثَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " يُضَمِّدَهُمَا بِالصَّبِرِ" .
نبیہ کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ بن معمر کی آنکھوں میں تکلیف ہوئی۔ جب وہ مقام روحاء پر پہنچے تو تکلیف بڑھ گئی۔ انہوں نے ابان بن عثمان کے پاس پیغام بھیجا، تو ابان نے جواب دیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں آنکھوں پر ایلوویرا (صبر) کی پٹی باندھو۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 443]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1204»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 444
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: أَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ: ثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلا يُنْكِحُ وَلا يَخْطُبُ" .
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم نہ اپنا نکاح کر سکتا ہے، نہ کسی دوسرے کا نکاح کروا سکتا ہے، اور نہ ہی منگنی کا پیغام بھیج سکتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 444]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1409»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 445
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ابْنِ أُخْتِ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفٍ وَنَحْنُ حَلالانِ" .
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام سرف پر مجھ سے نکاح کیا اور ہم دونوں حالت احرام میں نہیں تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 445]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1411»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 446
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، قَالا: ثَنَا سُفْيَانُ ، وَالْحَدِيثُ لابْنِ الْمُقْرِئِ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ" فَأَخْبَرْتُ بِهِ الزُّهْرِيَّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ وَهِيَ خَالَتُهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلالٌ وَهِيَ حَلالٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے حالت احرام میں نکاح کیا۔ عمرو کہتے ہیں: میں نے یہ بات زہری کو بتائی، تو انہوں نے کہا: یزید بن اصم نے مجھے بتایا، جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے ہیں، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا جب وہ اور سیدہ میمونہ دونوں حالت احرام میں نہیں تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 446]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1837، صحیح مسلم: 1410»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 447
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، أَخْبَرَهُ أَنْ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَيْتَنِي أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبٌ قَدْ ظُلِّلَ بِهِ عَلَيْهِ مَعَهُ فِيهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مِنْهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ؟" فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ سَكَتَ، فَجَاءَهُ الْوَحْي فَأَشَارَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِيَدِهِ إِلَى يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ تَعَالَ، قَالَ: فَجَاءَ يَعْلَى، فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ، فَإِذَا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغِطُّ سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ الَّذِي سَأَلَنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا؟ فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ فَجِيءَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْتَزِعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ" .
سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے: کاش! میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتے دیکھ سکتا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے اور آپ پر ایک کپڑے سے سایہ کیا گیا تھا، آپ کے ساتھ چند صحابہ بشمول سیدنا عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ ایک شخص آیا جس نے جبہ پہنا ہوا تھا اور اس نے خوشبو بھی لگائی ہوئی تھی۔ اس نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس شخص کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے جو خوشبو لگانے کے بعد عمرہ کا احرام باندھ لے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف لمحہ بھر دیکھا اور خاموش رہے۔ پھر آپ پر وحی نازل ہوئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ بن امیہ کو ہاتھ سے آنے کا اشارہ کیا۔ یعلیٰ آئے اور اپنا سر (کپڑے کے اندر) داخل کیا، تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا اور آپ خراٹے لے رہے تھے۔ پھر وحی کی کیفیت دور ہوئی، تو آپ نے فرمایا: وہ شخص کہاں ہے جس نے ابھی عمرہ کے متعلق پوچھا تھا؟ اس شخص کو تلاش کر کے لایا گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوشبو کو تین مرتبہ دھو ڈالو اور جبہ اتار دو، پھر عمرہ میں وہی کرو جو تم حج میں کرتے ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 447]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1789، صحیح مسلم: 1180»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 448
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: كَانَ عَطَاءٌ يَأْخُذُ بِشَأْنِ صَاحِبِ الْجُبَّةِ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَالآخِرُ فَالآخِرُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ، وَكَانَ مِنْ شَأْنِ صَاحِبِ الْجُبَّةِ، أَنَّ عَطَاءً ، أَخْبَرَنِي أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ يَعْلَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ نَحْوَهُ.
ابن جریج کہتے ہیں کہ عطاء بن ابی رباح جبہ والے شخص کے واقعہ کو حجتہ الوداع سے پہلے کا سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل زیادہ درست ہے۔ عطاء نے مجھے بتایا کہ صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے انہیں بتایا کہ سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ بھی اسی کے قائل تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 448]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1789، صحیح مسلم: 1180»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 449
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ: ثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: ثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ مُقَطَّعَةٌ يَعْنِي جُبَّةً وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَحْرَمْتُ بِالْعُمْرَةِ وَعَلَيَّ هَذِهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا كُنْتَ تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ؟ قَالَ: كُنْتُ أَنْزِعُ هَذِهِ الْمُقَطَّعَةَ وَأَغْسِلُ هَذَا الْخَلُوقَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ" .
سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں جعرانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک شخص آیا جس نے جبہ پہنا ہوا تھا اور اس نے خلوق (خوشبو) لگائی ہوئی تھی۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے عمرہ کا احرام باندھا اور یہ چیزیں (جبہ اور خوشبو) مجھ پر ہیں، تو کیا کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اپنے حج میں کیا کرتے ہو؟ اس نے کہا: میں یہ جبہ اتار دیتا ہوں اور خوشبو دھو ڈالتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: جو تم حج میں کرتے ہو، وہی عمرہ میں کرو۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 449]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1789، صحیح مسلم: 1180»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں