المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
. باب المناسك
حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
حدیث نمبر: 430
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُلَبِّي: لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج اور عمرہ دونوں کے لیے ایک ساتھ تلبیہ پڑھتے سنا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 430]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1251»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 431
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: ثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: ذَكَرْتُ لابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنْ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ، فَقَالَ: وَهَلَ أَنَسٌ رَحِمَهُ اللَّهُ إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ وَأَهْلَلْنَا بِهِ مَعَهُ" .
بکر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا۔ انہوں نے فرمایا: انس پر اللہ رحم کرے، وہ بھول گئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ حج کا احرام باندھا تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 431]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 4353، صحیح مسلم: 1322»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 432
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَيْسٍ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ لِي: أَحَجَجْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: كَيْفَ صَنَعْتَ؟، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ بِإِهْلالٍ كَإِهْلالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَدْ أَحْسَنْتَ، اذْهَبْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَحَلَّ" ، قَالَ: فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ بطحاء میں (حج کے لیے جاتے ہوئے) اترے ہوئے تھے۔ آپ نے پوچھا: کیا تم نے حج کا ارادہ کیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: تم نے کیسا احرام باندھا؟ میں نے کہا: میں نے وہی احرام باندھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا۔ آپ نے فرمایا: تم نے اچھا کیا، جا کر بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرو، پھر احرام کھول دو۔ چنانچہ میں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 432]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1559، صحیح مسلم: 1221»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 433
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ تَلْبِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ، وَالْمُلْكَ، لا شَرِيكَ لَكَ" , قَالَ: وَزَادَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:" لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلبیہ یہ تھی: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» (اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور ہر قسم کی بادشاہی تیرے لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں)۔ نافع کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی تلبیہ میں یہ اضافہ کرتے تھے: «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ» (میں حاضر ہوں، تیری اطاعت میں سعادت ہے، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھوں میں ہیں، تو ہی مطلوب ہے اور تمام عمل تیری طرف پلٹتے ہیں)۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 433]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1549، صحیح مسلم: 1184»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 434
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، يُخْبِرُ عَنْ خَلادِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ رضيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ: وَقَالَ مَرَّةً: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ مَرَّةً: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالإِهْلالِ أَوْ بِالتَّلْبِيَةِ" .
سیدنا سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ کو کہوں کہ وہ احرام باندھتے وقت یا تلبیہ پڑھتے وقت اپنی آواز بلند کریں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 434]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 55/4، 56، سنن أبي داود: 1814، سنن النسائي: 2754، سنن الترمذي: 829، سنن ابن ماجه: 2922، امام ابن حبان رحمہ اللہ (3802) اور امام حاکم رحمہ اللہ (450/1) نے اسے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 435
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ،" أَنَّهُ كَانَ مَعَ أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَأَبُو قَتَادَةَ لَيْسَ بِمُحْرِمٍ، فَرَكِبَ فَرَسًا فَصَرَعَ حِمَارَ وَحْشٍ فَأَكَلَ مِنْ لَحْمِهِ، وَأَبَى أَصْحَابُهُ أَنْ يَأْكُلُوا وَإِنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَشَرْتُمْ، أَوْ قَتَلْتُمْ، أَوْ أَصَدْتُمْ" قَالُوا: لا، قَالَ:" لا بَأْسَ بِهِ كُلُوهُ" .
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند محرم صحابہ کے ساتھ تھے، جبکہ وہ خود حالت احرام میں نہیں تھے۔ انہوں نے گھوڑے پر سوار ہو کر ایک جنگلی گدھے کو مار گرایا اور اس کا گوشت کھایا، مگر ان کے ساتھیوں نے کھانے سے انکار کیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: کیا تم نے اشارہ کیا، قتل کیا یا شکار کیا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں، اسے کھاؤ۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 435]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1824، صحیح مسلم: 1196»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 436
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ح وَأَخْبَرَنَا ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَاللَّيْثُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وَجْهِي، قَالَ: " إِنَّمَا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلا أَنَّا حُرُمٌ" ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِي هَذَا: لَحْمُ حِمَارٍ، وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: عَجُزُ حِمَارٍ.
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگلی گدھے کا گوشت تحفہ بھیجا جب آپ ابواء یا ودان میں تھے۔ آپ نے اسے واپس کر دیا۔ صعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آپ نے میرے چہرے پر ناراضی کے آثار دیکھے تو فرمایا: ہم نے تمہارا ہدیہ صرف اس لیے واپس کیا کہ ہم حالت احرام میں ہیں۔ ابن عیینہ کی روایت میں «لَحْمُ حِمَارٍ» اور سعید بن جبیر کی روایت میں «عَجُزُ حِمَارٍ» کے الفاظ ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 436]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1825، صحیح مسلم: 1193»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 437
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، وَيَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ عَمْرًا مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، أَخْبَرَهُمَا، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَحْمُ صَيْدِ الْبَرِّ لَكُمْ حَلالٌ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خشکی کا وہ شکار تمہارے لیے حلال ہے جب تم محرم ہو، بشرطیکہ تم نے اسے شکار نہ کیا ہو اور نہ ہی وہ تمہارے لیے شکار کیا گیا ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 437]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 362/3، سنن أبي داود: 1851، سنن النسائي: 2830، سنن الترمذي: 846، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2641) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3971) نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 438
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ أبي عَمَّارٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ الضَّبُعِ، فَقَالَ: " كُلْهَا، قَالَ: قُلْتُ: آكُلُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، كُلْهَا بِأَمْرِي، قُلْتُ: صَيْدٌ هِيَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ" .
عبدالرحمن بن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بجھو (ایک قسم کا جانور) کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: اسے کھاؤ۔ میں نے کہا: کیا میں اسے کھاؤں؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اسے کھاؤ۔ میں نے کہا: کیا یہ شکار ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 438]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 297/3، 318، 322، سنن أبي داود: 3801، سنن النسائي: 2839، سنن الترمذي: 851، سنن ابن ماجه: 3236، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2626) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3965) نے اسے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 439
أَخْبَرَنَا ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنُ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الضَّبُعِ، قَالَ: " هِيَ صَيْدٌ وَفِيهَا كَبْشٌ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بجھو کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: وہ شکار ہے اور (حالت احرام میں) اس کا شکار کرنے والے پر ایک مینڈھا (فدیہ) ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 439]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: انظر الحديث السابق»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح