Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. (ما ذكر عن داود ﵇
سیدنا داؤد علیہ السلام کا تذکرہ
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35388 ترقیم الشثری: -- 36964
٣٦٩٦٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن ابي عبد الله الجدلي (قال) (١): ما رفع داود راسه إلى السماء حتى مات.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
حضرت ابو عبد اللہ جدلی کہتے ہیں: حضرت داؤد علیہ السلام نے تا حیات اپنا سر آسمان کی طرف نہ اٹھایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36964]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36964، ترقيم محمد عوامة 35388)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35389 ترقیم الشثری: -- 36965
٣٦٩٦٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن ليث عن مجاهد قال: لما اصاب داود الخطيئة، وإنما كانت خطيئته انه لما (ابصر) (١) (امر بها) (٢) (فعزلها) (٣) فلم يقربها، فاتاه الخصمان (فتسورا) (٤) في المحراب، فلما ابصرهما قام إليهما فقال: اخرجا ⦗٢٢٩⦘ عني، ما جاء بكما إلي؟ قال: (فقالا) (٥): إنما نكلمك بكلام يسير، إن هذا اخي له تسع وتسعون نعجة (ولي نعجة) (٦) واحدة، وهو يريد ان (ياخذها) (٧) مني، فقال داود: والله (إنه) (٨) (احق) (٩) ان يكسر منه من لدن (هذا) (١٠) إلى (هذا) (١١) -يعني من انفه إلى صدره- قال: فقال الرجل: فهذا داود قد فعله، فعرف داود (انه) (١٢) إنما يعنى (بذلك) (١٣)، وعرف ذنبه فخر ساجدا اربعين يوما واربعين ليلة، وكانت خطيئته مكتوبة في يده، ينظر إليها لكيلا يغفل حتى (نبت البقل) (١٤) حوله من دموعه، ما غطى راسه فنادى بعد اربعين يوما: (قرح) (١٥) الجبين (وجمدت) (١٦) العين، وداود لم يرجع إليه في خطيئته (بشيء) (١٧)، فنودي اجائع (١٨) فتطعم، او عريان فتكسى، (او) (١٩) مظلوم فتنصر، قال: فنحب نحبة هاج (ما) (٢٠) ثم من البقل حين لم يذكر ⦗٢٣٠⦘ ذنبه، فعند ذلك غفر له، فإذا كان يوم القيامة قال له ربه: كن امامي، فيقول: اي رب ذنبي ذنبي، فيقول (الله) (٢١) له: كن (من) (٢٢) خلفي، فيقول: اي رب ذنبي ذنبي، قال: فيقول له: خذ بقدمي فياخذ بقدمه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [هـ]: (أمرها).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [أ، ب، هـ]: (فتسوروا).
(٥) في [هـ]: (قالا).
(٦) سقط من: [س].
(٧) في [أ، ب]: (يأخذه).
(٨) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (إن).
(٩) في [أ، ب]: (أحد).
(١٠) في [أ، ب، جـ]: (هذه).
(١١) في [أ، ب، جـ]: (هذه).
(١٢) سقط من: [جـ].
(١٣) في [س]: (ذلك).
(١٤) سقط من: [س].
(١٥) في [أ، ب]: (فجزع).
(١٦) في [أ، ب، جـ، س]: (وخمدت).
(١٧) في [أ، ط، هـ]: (شيء)
(١٨) في [أ، ب، جـ]: زيادة (أنت).
(١٩) في [أ، ب، جـ، ع]: (أم).
(٢٠) في [س]: (ماء).
(٢١) سقط من: [هـ، ع].
(٢٢) سقط من: [ط، هـ].

حضرت مجاہد کہتے ہیں: جب داؤد علیہ السلام سے لغزش ہوئی، اور ان کی لغزش کا بھی یہ عالم تھا کہ جونہی آپ کو اس کا احساس ہوا، آپ نے اسے ناپسند فرمایا اور ترک کردیا، اور دوبارہ کبھی اس کے قریب بھی نہ گئے، تو ان کے پاس دو جھگڑنے والے (اپنا جھگڑا لے کر) آئے، اور دیوار پھلانگ کر عبادت گاہ میں جا گھسے۔ جب آپ نے انہیں دیکھا تو ان کی طرف بڑھے اور فرمایا: چلے جاؤمیرے پاس سے، کس لئے یوں اندر چلے آئے؟ راوی کہتے ہیں: انہوں نے جواب دیا: ہم آپ سے چھوٹی سی بات کریں گے، یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس ننانوے بھیڑیں ہیں اور میرے پاس (صرف) ایک بھیڑ ہے اور یہ چاہتا ہے کہ وہ (ایک بھیڑ) بھی مجھ سے ہتھیا لے۔ اس پر داؤد علیہ السلام نے فرمایا: بخدا یہ اس لائق ہے کہ اسے یہاں سے یہاں تک۔ یعنی ناک سے سینے تک۔ چیر دیا جائے۔ راوی کہتے ہیں: اس آدمی نے کہا: یہ ہیں داؤد جنہوں نے (اتنی آسانی سے فیصلہ) کر بھی دیا۔ داؤد علیہ السلام سمجھ گئے کہ انہیں تنبیہ کی گئی ہے، اور اپنی خطا کو بھی پہچان گئے۔ چناچہ آپ چالیس دن اور چالیس راتیں سجدے میں پڑے رہے، اور وہ لغزش آپ کے دست مبارک پر یوں تحریر تھی کہ آپ اسے دیکھتے رہتے، تاکہ غافل نہ ہوجائیں۔ (آہ وزاری کا یہ سلسلہ چلتا رہا) یہاں تک کہ آپ کے ارد گرد اتنا بلند سبزہ اگ آیا جس نے آپ کے سر کو بھی ڈھانپ لیا۔ چالیس دن کے بعد آپ پکار اٹھے: پیشانی زخم زدہ ہوگئی، آنکھیں خشک ہو کر رہ گئیں، لیکن داؤد کے قضیے کی شنوائی نہیں ہوئی۔ اس پر ندا سنائی دی: کیا بھوکا ہے کہ تجھے کھانا کھلایا جائے، کیا بےلباس ہے کہ تجھے لباس پہنایا جائے، کیا مظلوم ہے کہ تیری مدد کی جائے۔ راوی کہتے ہیں: جب آپ نے دیکھا کہ (اس ندا میں) آپ کی خطا کا ذکر بھی نہیں کیا گیا تو آپ ایسی شدت سے روئے کہ آس پاس اگا ہوا سبزہ بھی خشک ہوگیا۔ (جب داؤد علیہ السلام کی یہ حالت ہوگئی) تو اس وقت آپ کی لغزش معاف فرما دی گئی۔ بس جب قیامت کا دن آئے گا تو ان کے ربِ ذوالجلال ان سے فرمائیں گے: میرے سامنے کھڑے ہوجائیے۔ تو آپ عرض کریں گے: اے میرے پروردگار میرا گناہ (اس سے مانع ہے) میرا گناہ۔ اللہ جلّ شانہ فرمائیں گے: میرے پیچھے کھڑے ہوجائیے۔ تو آپ (پھر) عرض کریں گے: اے میرے پالنہار میرا گناہ (مجھے حیا دلاتا ہے) میرا گناہ۔ اس پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرمائیں گے: میرے قدموں میں آجائیے۔ تو آپ علیہ السلام قدموں میں آجائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36965]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36965، ترقيم محمد عوامة 35389)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35390 ترقیم الشثری: -- 36966
٣٦٩٦٦ - حدثنا وكيع عن مسعر عن (علي) (١) بن الاقمر عن ابي (الاحوص) (٢) قال: دخل الخصمان على داود (٣): احدهما آخذ براس صاحبه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [أ، ع]: (الأخوص).
(٣) في [أ، ب]: زيادة ﵇.

حضرت ابو الاحوص کہتے ہیں: حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس دو حریف اس حالت میں آئے تھے کہ ایک نے دوسرے کو بالوں سے پکڑا ہوا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36966]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36966، ترقيم محمد عوامة 35390)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35391 ترقیم الشثری: -- 36967
٣٦٩٦٧ - حدثنا خلف بن خليفة عن ابي هاشم عن سعيد بن جبير قال: إنما كانت فتنة داود (النظر) (١).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (والنظر).
حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں: حضرت داؤد علیہ السلام کی آزمائش دانائی کے ذریعے کی گئی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36967]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36967، ترقيم محمد عوامة 35391)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35392 ترقیم الشثری: -- 36968
٣٦٩٦٨ - حدثنا (عفان) (١) قال: حدثنا حماد بن سلمة عن سعيد (الجريري) (٢) ان داود قال: يا (جبرائيل) (٣) اي الليل افضل؟ قال: ما ادري غير اني (اعلم) (٤) (ان) (٥) العرش (يهتز) (٦) من السحر.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (داود).
(٢) في [أ، ب، ع]: (الحريري).
(٣) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (جبريل).
(٤) في [ع]: (أرى).
(٥) سقط من: [ع].
(٦) في [أ، جـ]: (يبتز).

حضرت سعید جریری سے مروی ہے کہ داؤد علیہ السلام نے فرمایا: اے جبرائیل! رات کا کون سا حصہ سب سے بہتر ہے۔ جبرئیل نے جواب دیا: یہ تو میں نہیں جانتا، البتہ مجھے یہ معلوم ہے کہ صبح سے کچھ پہلے کا وقت ایسا ہے کہ (اللہ تعالیٰ کی رحمت کے جوش سے) عرش بھی جھوم اٹھتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36968]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36968، ترقيم محمد عوامة 35392)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35393 ترقیم الشثری: -- 36969
٣٦٩٦٩ - حدثنا ابو اسامة عن عوف عن خالد الربعي (قال) (١): اخبرت ان ⦗٢٣١⦘ (فاتحة) (٢) الزبور الذي يقال (له) (٣) زبور داود: راس الحكمة خشية الرب.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: تكرر.
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) سقط من: [جـ، س، ع].

حضرت خالد ربعی کہتے ہیں: مجھے بتایا گیا ہے کہ اس زبور کی ابتدا جسے زبور داؤد کہتے ہیں اس جملہ سے ہوتی ہے: دانائی کی بنیادربِ ذو الجلال کا ڈر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36969]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36969، ترقيم محمد عوامة 35393)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35394 ترقیم الشثری: -- 36970
٣٦٩٧٠ - حدثنا ابو اسامة عن (الفزاري) (١) عن الاعمش (عن المنهال) (٢) عن عبد الله بن الحارث عن ابن عباس قال: اوحى الله (إلى) (٣) داود ﵇ (٤): (قل) (٥) للظلمة (لا تذكروني) (٦)، فإنه حق علي ان اذكر من ذكرني، وان (ذكري) (٧) إياهم ان العنهم (٨).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الفراري).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [س]: (تعالى).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [ع]: (قال).
(٦) في [أ، ب، ع]: (لا يذكروني).
(٧) في [س]: (ذاكري).
(٨) صحيح؛ أخرجه أحمد في الزهد ص ٧٣، والبيهقي في شعب الإيمان (٧٤٨٣)، وهناد (٧٨٧).

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ جلّ شانہ نے حضرت داؤد علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی: ظالموں سے کہہ دیجئے: میرا ذکر مت کیا کریں، کیونکہ میرا ذکر کرنے والوں کا مجھ پر یہ حق ہے کہ میں بھی ان کا ذکر کروں، اور ان (ظالموں) کے لئے میرا ذکر یہی ہے کہ میں ان پر لعنت کروں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36970]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36970، ترقيم محمد عوامة 35394)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35395 ترقیم الشثری: -- 36971
٣٦٩٧١ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن الاعمش عن المنهال عن عبد الله بن الحارث قال: اوحى الله إلى داود ﵇ (١): ان احبني واحب احبائي وحببني إلى عبادي، قال: يا رب (٢) احبك، واحب احباءك؟ فكيف احببك إلى (عبادك) (٣)؟ قال: (اذكرني) (٤) لهم، فإنهم لن يذكروا مني (إلا) (٥) خيرا (٦).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [س]: زيادة (كيف).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [هـ]: (ذكرني).
(٥) في [ب]: (حتى).
(٦) حسن؛ أبو خالد صدوق.

حضرت عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: اللہ جل شانہ نے حضرت داؤد علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی کہ مجھ سے محبت کرو اور میرے چاہنے والوں سے بھی محبت کرو اور مجھے میرے بندوں کا محبوب بنادو۔ داؤد علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور آپ کے چاہنے والوں سے بھی محبت کرتا ہوں، لیکن میں آپ کو آپ کے بندوں کا محبوب کیسے بناؤں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان کے سامنے میرا ذکر کیجئے، کیونکہ وہ یقینا میرا ذکر بھلائی کی باتوں سے ہی کریں گے (توخود بخود ان کے دل میں میری محبت پیدا ہوجائے گی)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36971]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36971، ترقيم محمد عوامة 35395)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35396 ترقیم الشثری: -- 36972
٣٦٩٧٢ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن (ابي) (١) إسحاق عن (٢) (ابن) (٣) ابزى قال: قال: داود نبي الله ﵇ (٤): كان ايوب (احلم) (٥) الناس، واصبر الناس، (واكظمه لغيظ) (٦) (٧).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (ابن).
(٢) في [أ، ب]: زيادة (ابن عباس).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [س]: (أعلم).
(٦) في [هـ]: (وأكظمهم للغيظ)، وفي [ب]: (أكظمه للغيظ).
(٧) منقطع حكمًا؛ أبو إسحاق مدلس.

حضرت ابن ابزٰی کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا: ایوب (علیہ السلام) لوگوں میں سب سے زیادہ بردبار تھے، اور سب سے زیادہ صبر کرنے والے تھے، اور سب سے زیادہ اپنے غصہ کو دبانے والے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36972]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36972، ترقيم محمد عوامة 35396)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35397 ترقیم الشثری: -- 36973
٣٦٩٧٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا مبارك عن الحسن قال: كان داود النبي ﷺ (يقول) (١): اللهم لا مرض (يضنيني) (٢) ولا صحة تنسيني (ولكن) (٣) بين ذلك.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ، ب]: (يصيبني).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (وذلك).

حضرت حسن کہتے ہیں: حضرت داؤد نبی علیہ السلام فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! نہ تو مجھے ایسا مرض لاحق کیجئے جو مجھے بالکل بےکار کر دے، اور نہ ہی ایسی صحت عطا کیجئے جو مجھے (حق سے) غافل کر دے، بلکہ اعتدال والی کیفیت عطافرمائیے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36973]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36973، ترقيم محمد عوامة 35397)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں