مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی باتیں
ترقیم عوامۃ: 35368 ترقیم الشثری: -- 36944
٣٦٩٤٤ - حدثنا عباد بن العوام عن العلاء بن المسيب عن (شمر) (١) بن عطية قال: (قال) (٢) عيسى بن مريم ﵇ (٣): كلوا من (بقل) (٤) البرية، واشربوا من الماء القراح، وانجوا من (الدنيا) (٥) سالمين.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (سمر).
(٢) سقط من: [س، ع، هـ].
(٣) سقط من: [ط، هـ].
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [أ]: (الدني).
حضرت شمر بن عطیہ کہتے ہیں: حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے فرمایا: جنگلی سبزی کھاؤ، سادہ پانی پیو، اور سلامتی کے ساتھ دنیا سے رہائی پا جاؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36944]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36944، ترقيم محمد عوامة 35368)
ترقیم عوامۃ: 35369 ترقیم الشثری: -- 36945
٣٦٩٤٥ - حدثنا شريك عن عاصم عن ابي صالح يرفعه إلى عيسى بن مريم ﵇ (١) قال: قال لاصحابه: اتخذوا المساجد (مساكن) (٢)، واتخذوا البيوت منازل، وانجوا من (الدنيا) (٣) بسلام، وكلوا من بقل البرية، (٤) قال: (وزاد) (٥) فيه الاعمش: واشربوا من الماء القراح.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [أ]: (الدني).
(٤) في [ط، هـ]: زيادة (و).
(٥) في [أ]: (فزاد)، وفي [هـ]: (زاد).
حضرت ابو صالح کہتے ہیں: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے فرمایا: مسجدوں کو اپنا گھر بنا لو اور گھروں کو آرام گاہ، اور سلامتی کے ساتھ دنیا سے نجات پا جاؤاور جنگلی ترکاری کھاؤ۔ ابو صالح کہتے ہیں: اعمش نے یہ روایت ”سادہ پانی پیو“ کے اضافے کے ساتھ ذکر کی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36945]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36945، ترقيم محمد عوامة 35369)
ترقیم عوامۃ: 35370 ترقیم الشثری: -- 36946
٣٦٩٤٦ - حدثنا عباد بن العوام عن العلاء بن المسيب عن رجل حدثه قال: قال الحواريون لعيسى بن مريم ﵇ (١): ما تاكل؟ قال: خبز الشعير، قالوا: وما تلبس؟ قال: الصوف، قالوا: وما تفترش؟ قال: الارض، قالوا: كل هذا شديد، قال: لن تنالوا ملكوت السماوات حتى تصيبوا هذا على لذة -او قال-: على شهوة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
حضرت علاء بن مسیب کو کسی آدمی نے یہ روایت سنائی۔ اس نے کہا: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے انصار نے ان سے عرض کیا: آپ کیا کھاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو کی روٹی۔ انہوں نے عرض کیا: آپ پہنتے کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: اون۔ انہوں نے عرض کیا آپ بچھاتے کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: زمین۔ انہوں نے کہا: ان سب کو اختیار کرنا تو بہت مشکل ہے۔ آپ نے فرمایا: تم اس وقت تک آسمانوں میں عزت نہیں پاسکتے جب تک تم ان چیزوں کو لذت پر ترجیح نہ دو۔ یا پھر فرمایا: شہوتوں پر (ترجیح نہ دو)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36946]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36946، ترقيم محمد عوامة 35370)
ترقیم عوامۃ: 35371 ترقیم الشثری: -- 36947
٣٦٩٤٧ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن محمد بن عجلان عن محمد بن يعقوب قال: قال عيسى بن مريم: لا تكثروا الكلام بغير ذكر الله فتقسوا قلوبكم فإن القلب (القاسي) (١) بعيد من الله، ولكن لا تعلمون، لا تنظروا في (ذنوب) (٢) العباد كانكم ارباب، وانظروا في ذنوبكم، فإنما الناس رجلان: مبتلى ومعافى، فارحموا اهل البلاء، واحمدوا الله على العافية.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [جـ]: (ذنو).
حضرت محمد بن یعقوب کہتے ہیں عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے فرمایا: خدا کے ذکر کے سوا اور کوئی کلام کثرت سے مت کیا کرو، ورنہ تمہارے دل سخت ہوجائیں گے۔ اور سخت دل اللہ تعالیٰ سے دور ہوتے ہیں لیکن تمہیں معلوم نہیں ہوتا۔ لوگوں کے گناہوں کو یوں مت دیکھا کرو جیسے کہ تم ہی رب ہو۔ بلکہ اپنے گناہوں کو یوں دیکھا کرو جیسے تم کوئی غلام ہو۔ کیونکہ لوگوں کی دو ہی حالتیں ہیں۔ ایک وہ جو کسی آزمائش میں مبتلا ہیں اور دوسرے وہ جو عافیت میں ہیں۔ چناچہ مبتلا لوگوں پر رحم کیا کرو اور عافیت پر اللہ تعالیٰ کا شکر کیا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36947]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36947، ترقيم محمد عوامة 35371)
ترقیم عوامۃ: 35372 ترقیم الشثری: -- 36948
٣٦٩٤٨ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن (خيثمة) (١) قال: مرت بعيسى (٢) امراة فقالت: طوبى لبطن حملك، ولثدي ارضعك، فقال: عيسى ﵇ (٣): بل طوبى لمن قرا القرآن واتبع ما فيه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (خثيمة).
(٢) في [أ، ب]: (ابن مريم ﵇، وسقط (ابن مريم) في: [جـ، س].
(٣) سقط من: [هـ].
حضرت خیثمہ کہتے ہیں: حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے ایک عورت گزری تو اس نے کہا: خوش بختی ہو اس بطن کے لئے جس نے تجھے اپنے اندر رکھا، اور ان چھاتیوں کے لئے جنہوں نے تجھے دودھ پلایا۔ تو عیسیٰ علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: بلکہ خوش بختی ہو اس شخص کے لئے جس نے قرآن پڑھا اور اس میں موجود احکامات کی پیروی کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36948]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36948، ترقيم محمد عوامة 35372)
ترقیم عوامۃ: 35373 ترقیم الشثری: -- 36949
٣٦٩٤٩ - [حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن سالم قال: قال: عيسى بن مريم ﵇ (١): اتقوا الله (واعملوا) (٢) لله (ولا تعملوا) (٣) لبطونكم، وانظروا إلى هذه الطير لا تحصد ولا تزرع يرزقها الله، فإن زعمتم ان بطونكم اعظم من بطون الطير، فهذه البقر والحمير (لا تحرث) (٤) ولا تزرع يرزقها الله، وإياكم و (فضل) (٥) الدنيا فإنها عند الله رجس.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [ب]: (واعلموا).
(٣) في [ب]: (ولا تعلموا).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (لتحرث).
(٥) سقط من: [س].
حضرت سالم کہتے ہیں: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اور اللہ تعالیٰ کے لئے عمل کرو، اور اپنے پیٹوں کے لئے عمل مت کرو۔ ان پرندوں کو دیکھو، یہ کھیتی باڑی نہیں کرتے مگر اللہ تعالیٰ انہیں رزق دیتا ہے۔ اگر تمہیں یہ شبہ ہو کہ تمہارے پیٹ تو ان پرندوں سے بڑے ہیں (اس لئے تمہیں تو کھیتی باڑی کرنی پڑے گی)، تو ان گائے بھینسوں اور گدھوں کو دیکھو یہ بھی زراعت نہیں کرتے مگر اللہ تعالیٰ انہیں رزق دیتا ہے۔ دنیا کو بڑی چیز مت سمجھو، بیشک یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک گندگی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36949]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36949، ترقيم محمد عوامة 35373)
ترقیم عوامۃ: 35374 ترقیم الشثری: -- 36950
٣٦٩٥٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن العلاء عن خيثمة قال: قال عيسى بن مريم ﵇ (١): طوبى لولد المؤمن، (طوبى) (٢) (لهم) (٣) يحفظون من بعده، وقرا خيثمة: ﴿وكان ابوهما صالحا﴾ [الكهف: ٨٢]] (٤).
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [أ، ب، جـ]: (لا)، وفي [جـ]: (له).
(٤) سقط من: [ع] الأحاديث السابقة [٣٦٩٤٩ - ٣٦٩٥٠].
حضرت خیثمہ کہتے ہیں: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے فرمایا: خوش بختی ہے مومن کی اولاد کے لئے، خوش بختی ہے ان کے لئے، کہ اس (مومن کے انتقال کر جانے) کے بعد بھی (اس کی وجہ سے) ان کی حفاظت کی جاتی ہے۔ یہ کہہ کر خیثمہ نے یہ آیت پڑھی: { وَکَانَ أَبُوہُمَا صَالِحًا } اور ان دونوں کا باپ نیک آدمی تھا (اس لئے ان کے خزانے کی حفاظت کی گئی)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36950]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36950، ترقيم محمد عوامة 35374)
ترقیم عوامۃ: 35375 ترقیم الشثری: -- 36951
٣٦٩٥١ - (حدثنا جرير بن عبد الحميد عن عبد العزيز بن رفيع عن ابي ثمامة قال) (١): (قال) (٢) الحواريون: يا عيسى ما الإخلاص لله؟ قال: ان يعمل الرجل العمل لا يحب ان (يحمده) (٣) عليه احد من الناس، والمناصح لله الذي يبدا بحق الله قبل حق الناس، (يؤثر حق الله على حق الناس) (٤)، وإذا عرض امران: احدهما للدنيا، والآخر للآخرة، بدا بامر الآخرة قبل (امر) (٥) (الدنيا) (٦).
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [ع]: (فقال).
(٣) في [أ، ب]: (يحمد).
(٤) سقط من: [ع]، وفي [جـ]: (فمؤثر).
(٥) سقط من: [ع].
(٦) في [أ]: (الدنى).
حضرت ابو ثمامہ کہتے ہیں: (عیسیٰ علیہ السلام کے) انصار نے عرض کیا: اے عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے لئے کسی چیز کو خالص کردینے کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: آدمی کا اس حالت میں عمل کرنا کہ وہ یہ بات پسند نہ کرتا ہو کہ اس کے اس عمل پر لوگوں میں سے کوئی اس کی تعریف کرے۔ اور اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہوجانے والا شخص وہ ہے جو لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں لگنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرے، اور اللہ تعالیٰ کے حق کو لوگوں کے حق پر ترجیح دے۔ اور جب اس کے پیش نظر دو کام آجائیں، ان میں سے ایک دنیا (کے فائدے) کے لئے ہو اور دوسرا آخرت (کے فائدے) کے لئے ہو تو وہ آخرت (کے فائدے) کے کام کو دنیا (کے فائدے) کے کام سے پہلے سر انجام دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36951]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36951، ترقيم محمد عوامة 35375)
ترقیم عوامۃ: 35376 ترقیم الشثری: -- 36952
٣٦٩٥٢ - حدثنا ابو اسامة عن سليمان بن المغيرة عن ثابت البناني قال: (قال) (١) رجل لعيسى بن مريم ﵇ (٢): لو اتخذت حمارا تركبه لحاجتك؟ قال: انا اكرم على الله من ان يجعل لي شيئا يشغلني به.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (قيل).
(٢) سقط من: [س، ط، هـ].
حضرت ثابت بنانی کہتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے عرض کیا: کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ آپ ایک گدھا لے لیں اور اپنی حاجات پوری کرنے کے لئے اس پر سفر کیا کریں۔ آپ نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آتا ہوں اس بات سے کہ وہ مجھے کوئی ایسی چیز عطا فرماے جو مجھے اس سے غافل کر دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36952]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36952، ترقيم محمد عوامة 35376)
ترقیم عوامۃ: 35377 ترقیم الشثری: -- 36953
٣٦٩٥٣ - حدثنا محمد بن بشر العبدي عن إسماعيل بن ابي خالد (قال) (١): حدثني رجل قبل الجماجم من اهل المساجد قال: اخبرت ان عيسى ﵇ (٢) كان يقول: اللهم اصبحت لا املك لنفسي ما ارجو، ولا استطيع عنها دفع ما اكره، واصبح الخير بيد غيري، واصبحت مرتهنا بما كسبت، فلا فقير افقر مني، فلا تجعل مصيبتي في ديني، ولا تجعل الدنيا (اكبر) (٣) همي، ولا تسلط علي من لا يرحمني.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) تكرر في: [هـ].
(٢) سقط من: [س، ط، هـ].
(٣) في [س]: (أكثر).
حضرت اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں: اہلِ مساجد کے سرداروں سے پہلے مجھے ایک شخص نے یہ بات سنائی۔ اس نے کہا: مجھے خبر ملی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! میرا یہ حال ہے کہ میں اپنے لئے جو چیز چاہتا ہوں اسے حاصل کرنے پر قادر نہیں ہوں، اور نہ ہی جو چیز مجھے بری لگتی ہے اسے خود سے دور کرنے کی استطاعت رکھتا ہوں۔ تمام مال و متاع میرے غیروں کے پاس چلا گیا ہے، اور جو کچھ میں نے کمایا ہے وہ بھی میرے پاس بطور امانت ہے۔ خلاصہ یہ کہ کوئی فقیر مجھ سے زیادہ حاجت مند نہیں ہے۔ بس تو مجھے میرے دین کے معاملے میں مت آزما، اور دنیا کو میرا مقصد اصلی مت بنا، اور مجھ پر کوئی ایسا شخص مسلط مت فرما جو مجھ پر رحم نہ کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36953]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36953، ترقيم محمد عوامة 35377)