Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. كلام سليمان بن داود ﵉
سیدنا سلیمان بن داؤد علیہ السلام کی باتیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35408 ترقیم الشثری: -- 36984
٣٦٩٨٤ - حدثنا عبد الله بن نمير عن الاعمش عن (خيثمة) (١) قال: (اتى) (٢) ملك الموت سليمان بن داود، وكان له صديقا، فقال له سليمان: مالك تاتي اهل البيت (فتقبضهم) (٣) جميعا وتدع اهل البيت إلى جنبهم لا تقبض منهم احدا، قال: (ما اعلم) (٤) بما اقبض (منها) (٥) إنما اكون تحت العرش فتلقى إلى صكاك فيها اسماء.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، س]: (خثيمة).
(٢) في [أ]: (أتا).
(٣) في [ي]: (لتقبضهم).
(٤) في [أ، ب]: (لا أعلم).
(٥) في [جـ]: (منك).

حضرت خیثمہ کہتے ہیں: حضرت سلیمان بن داؤد i کے پاس موت کا فرشتہ حاضر ہوا، اور آپ علیہ السلام کا اس سے دوستی کا تعلق تھا۔ تو آپ نے اس سے فرمایا: تم عجیب ہو! ایک گھر میں آتے ہو اور تمام اہل خانہ کی ارواح قبض کرلیتے ہو، جبکہ ان کے پہلو (میں موجود گھر) کے اہل خانہ کو (زندہ سلامت) چھوڑ دیتے ہو، ان میں سے ایک کی بھی روح قبض نہیں کرتے (یہ کیا ماجرا ہے)؟ موت کے فرشتہ نے (جواب میں) عرض کیا: مجھے کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ مجھے کس کی روح قبض کرنی ہے۔ میں تو عرش کے نیچے (دست بستہ) ہوتا ہوں، تو ایک پرچی میری جانب گرادی جاتی ہے، اس میں (ان لوگوں کے) نام درج ہوتے ہیں (جن کی مجھے روح قبض کرنا ہوتی ہے)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36984]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36984، ترقيم محمد عوامة 35408)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35409 ترقیم الشثری: -- 36985
٣٦٩٨٥ - حدثنا عبد الله بن نمير عن الاعمش عن (خيثمة) (١) قال: دخل ملك الموت إلى سليمان فجعل ينظر إلى رجل من جلسائه يديم النظر إليه، فلما خرج قال الرجل: من هذا؟ قال: هذا ملك الموت، قال: رايته ينظر إلي كانه يريدني، قال: فما تريد؟ قال: اريد ان تحملني على الريح حتى تلقيني بالهند، قال: فدعا (بالريح) (٢) فحمله عليها فالقته في الهند، ثم اتى ملك الموت سليمان فقال: إنك ⦗٢٣٧⦘ كنت تديم النظر إلى رجل من جلسائي؟ قال: كنت اعجب منه، امرت ان اقبضه بالهند وهو عندك.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، س]: (خثيمة).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (الريح).

حضرت خیثمہ کہتے ہیں: موت کا فرشتہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس حاضر ہوا اور آپ علیہ السلام کے ہم نشینوں میں سے ایک کی جانب ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگا۔ جب وہ (وہاں سے) چلا گیا تو اس آدمی نے عرض کیا: یہ کون تھا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: یہ موت کا فرشتہ تھا۔ اس نے کہا: مجھے تو وہ یوں میری جانب گھورتا دکھائی دیا کہ بس مجھے ہی لے جانے کا ارادہ ہو۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا: تو تم کیا چاہتے ہو؟ اس نے عرض کیا: میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے دوش ہوا پر ملک ہندو ستان پہنچا دیں۔ راوی کہتے ہیں: آپ علیہ السلام نے ہوا کو حکم کیا تو ہوا نے اس شخص کو اٹھا کر ملک ہندوستان میں لے جا ڈالا۔ پھر موت کا فرشتہ (دوبارہ) حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس حاضر ہوا تو آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا: تم (کیوں) میرے ہمنشینوں میں سے ایک آدمی کو گھورے جا رہے تھے۔ موت کے فرشتے نے کہا: مجھے اس پر تعجب ہو رہا تھا، (کیونکہ) مجھے تو حکم ہوا تھا کہ اس کی روح ہندوستان میں قبض کرنی ہے اور وہ آپ کے پاس (بیٹھا) تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36985]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36985، ترقيم محمد عوامة 35409)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35410 ترقیم الشثری: -- 36986
٣٦٩٨٦ - حدثنا عيسى بن يونس عن الاوزاعي عن يحيى بن ابي كثير قال: قال سليمان بن داود ﵇ (١) لابنه: يا بني (كما يدخل) (٢) الوتد بين الحجرين كذلك تدخل الخطيئة بين البائع والمشتري.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [أ، ب]: [لا تدخل].

حضرت یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں: حضرت سلیمان بن داؤد i نے اپنے بیٹے سے (معاملات میں احتیاط کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے) فرمایا: اے میرے پیارے بیٹے! جیسے کیل (بڑے غیر محسوس انداز میں) دو پتھروں میں گھس جاتا ہے، ایسے ہی خریدو فروخت کرنے والوں کے درمیان بھی (معاملات کی) خرابی (بڑے غیر محسوس انداز میں) داخل ہوجاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36986]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36986، ترقيم محمد عوامة 35410)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35411 ترقیم الشثری: -- 36987
٣٦٩٨٧ - حدثنا ابو اسامة عن الإفريقي عن (سلامان) (١) بن عامر (الشعباني) (٢) قال: ارايتم سليمان وما اوتي (من) (٣) ملكه فإنه لم يرفع راسه إلى السماء حتى قبضه الله تخشعا لله.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (سليمان)، وفي [أ، ب، جـ، ط، ع، هـ]: (سلمان)، وانظر: تاريخ بغداد ٦/ ١٠٠، وزوائد الزهد لنعيم (١٧٦)، وتاريخ دمشق ٢٢/ ٢٧٤.
(٢) في [هـ]: (الشيباني).
(٣) في [هـ]: (في).

حضرت سلامان بن عامر شیبانی کہتے ہیں: حضرت سلیمان علیہ السلام اور ان کی سلطنت (کی شان و شوکت) کو دیکھئے! اور ان کی (ایمانی) حالت یہ تھی کہ انہوں نے تاحیات اللہ تعالیٰ کے ڈر سے آسمان کی جانب سر نہ اٹھایا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36987]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36987، ترقيم محمد عوامة 35411)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35412 ترقیم الشثری: -- 36988
٣٦٩٨٨ - حدثنا ابو اسامة عن الاعمش عن مالك بن الحارث عن ابن عباس قال: كان سليمان بن داود (النبي) (١) ﷺ لا يكلم إعظاما له، قال: فلقد فاتته العصر فما اطاق احد يكلمه (٢).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٢) صحيح.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی حضرت سلیمان بن داؤد i کے رعب و دبدبہ کی بنا پر (کسی سے) ان کے ساتھ بات تک نہ کی جاتی تھی۔ راوی کہتے ہیں: حتیٰ کہ (ایک شام) ان سے (بےخبری میں) نمازِ عصر بھی جاتی رہی، مگر کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ ان سے کلام (کر کے انہیں مطلع) کرسکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36988]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36988، ترقيم محمد عوامة 35412)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35413 ترقیم الشثری: -- 36989
٣٦٩٨٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن عبد الرحمن بن ابي ليلى عن ابي الدرداء قال: مات ابن (لسليمان) (١) (بن داود) (٢) فوجد عليه وجدا شديدا حتى عرف ذلك فيه وفي قضائه، ⦗٢٣٨⦘ (فبرز) (٣) ذات يوم (ملكان) (٤) بين (يديه للخصوم) (٥) فقال احدهما: إني بذرت بذرا، حتى إذا اشتد واستحصد مر هذا به (افسده) (٦)، فقال للآخر: ما تقول؟ فقال: صدق، اخذت الطريق فاتيت على زرع فنظرت يمينا وشمالا، فإذا الطريق عليه فاخذت عليه، فقال سليمان للآخر: (لم) (٧) بذرت على الطريق؟ اما علمت ان ماخذ الناس على الطريق؟ فقال: يا سليمان فلم تحزن على ابنك وانت تعلم انك ميت، وان سبيل الناس إلى الآخرة؟ (٨).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (سليمان).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [أ، ب]: (فتدر).
(٤) في [س]: (لمكان).
(٥) في [أ، ب، جـ]: (يدي الخصوم).
(٦) في [جـ]: (وأفسده).
(٧) سقط من: (س).
(٨) ضعيف؛ عطاء بن السائب اختلط.

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک بیٹے فوت ہوگئے تو آپ علیہ السلام نے اس پر شدید رنج و غم محسوس کیا۔ حتی کہ ان کی شخصیت اور فیصلوں میں بھی اس کا اثر محسوس کیا گیا۔ چناچہ ایک دن جب آپ (مجلسِ قضا میں) تشریف لائے تو دو فرشتے (انسانوں کی شکل میں) آپ کی خدمت میں ایک جھگڑے کے تصفیہ کے لئے حاضر ہوئے۔ ان میں سے ایک بولا: میں نے بیج بویا، جب وہ پک کر کاٹنے کے قابل ہوگیا تو یہ (دوسرا شخص) وہاں سے گزرا اور اس کو برباد کر گیا۔ آپ علیہ السلام نے دوسرے سے دریافت فرمایا: تم کیا کہتے ہو؟ تو اس نے جواب دیا: یہ سچ کہتا ہے۔ میں راستے پر جا رہا تھا کہ اس کے کھیت پر جا پہنچا، میں نے دائیں بائیں دیکھا مگر راستہ وہی تھا (جس پر اس نے کھیت اگا رکھا تھا)، چناچہ میں اس (کے کھیت) میں ہی چل پڑا (تو وہ خراب ہوگیا)۔ (یہ سنا) تو سلیمان علیہ السلام نے پہلے شخص سے دریافت فرمایا: تم نے راستے میں کیوں بیج بو دیا تھا؟ کیا تمہیں نہیں معلوم تھا کہ لوگوں نے تو راستے پر سے ہی گزرنا ہوتا ہے؟ اس پر اس شخص نے جواب دیا: اے سلیمان (علیہ السلام)! (اگر ایسا ہے) تو تم کیوں اپنے بیٹے پر (اتنا زیادہ) غمگین ہوتے ہو، حالانکہ تم جانتے ہو کہ ایک دن تم بھی مرنے والے ہو، اور یہ (بھی جانتے ہو) کہ تمام لوگ آخرت کی جانب ہی رواں دواں ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36989]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36989، ترقيم محمد عوامة 35413)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35414 ترقیم الشثری: -- 36990
٣٦٩٩٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا مسعر عن زيد العمي عن ابي الصديق الناجي: ان سليمان بن داود خرج بالناس (ليستسقي) (١) فمر على نملة مستلقية على قفاها رافعة قوائمها إلى السماء وهي تقول: اللهم (انا) (٢) خلق من خلقك ليس بنا غنى عن رزقك، فإما ان تسقينا وإما ان تهلكنا، فقال سليمان للناس: ارجعوا فقد سقيتم بدعوة غيركم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (يستسقي).
(٢) في [هـ]: (إني).

حضرت ابو صدیق ناجی سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان بن داؤد i لوگوں کو لے کر (اللہ تعالیٰ سے) بارش کی دعا کرنے نکلے تو آپ کا گزر ایک ایسی چیونٹی پر ہوا جو اپنی ٹانگیں آسمان کی طرف اٹھائے چت لیٹی کہہ رہی تھی: اے اللہ! میں بھی تیری مخلوقات میں سے (ایک ادنی سی) مخلوق ہوں، میں تیرے رزق سے بےنیاز نہیں ہوں، یا تو مجھے پانی پلا دے، یا پھر مجھے موت دیدے۔ سلیمان علیہ السلام نے لوگوں سے فوراً کہا: لوٹ چلو، تمہیں کسی اور کی دعا نے ہی سیراب کر وا دیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36990]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36990، ترقيم محمد عوامة 35414)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35415 ترقیم الشثری: -- 36991
٣٦٩٩١ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل بن ابي خالد قال: ذكر عن بعض الانبياء (١) انه قال: اللهم لا تكلفني طلب ما لم (تقدره) (٢) لي، وما (قدرت) (٣) لي (به) (٤) من رزق فإنني به في يسر منك وعافية، واصلحني بما ⦗٢٣٩⦘ اصلحت به الصالحين، فإنما (اصلح) (٥) الصالحين انت.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: زيادة ﵈.
(٢) في [أ، ب، جـ]: (تقدر).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (قدر).
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ، ع].
(٥) في [ع]: (صلح).

حضرت اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں: کسی نبی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: اے اللہ! مجھے اسی چیز کی تلاش کی تکلیف مت دیجئے جو آپ نے میرے مقدر میں لکھی ہی نہیں، اور جو رزق آپ نے میرے مقدر میں لکھ دیا ہے اسے بسہولت و عافیت مجھ تک پہنچا دیجئے۔ اور جس طرح سے آپ نے صالح لوگوں کی اصلاح فرمائی میری بھی اسی طرح سے اصلاح فرما دیجئے۔ کیونکہ (میں جانتا ہوں کہ) صالحین کی اصلاح بھی آپ ہی نے فرمائی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36991]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36991، ترقيم محمد عوامة 35415)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35416 ترقیم الشثری: -- 36992
٣٦٩٩٢ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن محمد بن عجلان عن زيد بن اسلم ان نبيا من انبياء الله قال: من اهلك الذين هم اهلك الذين في ظل عرشك قال: هم البريئة ايديهم الطاهرة قلوبهم، الذين يتحابون (بجلالي) (١)، الذين (إذا ذكروا ذكرت بهم) (٢)، وإذا ذكرت ذكروا (بي) (٣)، (الذين) (٤) (يسبغون الوضوء على المكاره، والذين يكلفون بحبي كما يكلف الصبي بالناس) (٥)، (و) (٦) الذين (ياوون) (٧) إلى ذكري كما تاوي الطير إلى وكرها، والذين يغضبون لمحارمي إذا استحلت كما يغضب النمر إذا حرم، او قال: حرب.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (لجلالي).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [هـ]: (به).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) في [جـ]: (يؤون).

حضرت زید بن اسلم سے مروی ہے: اللہ تعالیٰ کے نبیوں (o) میں سے کسی نبی نے فرمایا: تیرے کون سے برگزیدہ بندے ایسے برگزیدہ ہیں جو (روزِ قیامت) تیرے عرش کے سائے تلے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے ہاتھ (ظلم و ستم) سے بری ہیں، جن کے دل پاکیزہ ہیں، جو میری بزرگی کی وجہ سے آپس میں محبت کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہوں گے کہ جب ان کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان (کے میرے ساتھ انتہائی تعلق) کی وجہ سے میرا ذکر بھی کیا جاتا ہے، اور جب میرا ذکر کیا جاتا ہے تو میری (ان پر انتہائی شفقت و مہربانی کی) وجہ سے اُ ن کا ذکر بھی کیا جاتا ہے، یہ وہ لوگ ہوں گے جو باوجود (سردی کی) تکلیف کے اپنا وضو مکمل طور پر کرتے ہیں، اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو میری محبت کے یوں دیوانے ہیں جیسا بچہ (اپنے شناسا) لوگوں کا دیوانہ ہوتا ہے، اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو (تپشِ معاصی سے ڈر کر) میرے ذکر (کی ٹھنڈی چھاؤں) میں یوں پناہ لیتے ہیں جیسے پرندہ اپنے گھونسلے میں پناہ لیتا ہے، اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو میری حرام کردہ چیزوں کو حلال سمجھے جانے (یا ان کا ارتکاب کئے جانے) پر یوں غضبناک ہوتے ہیں جیسے چیتا (شکار سے) محروم کئے جانے پر (غضبناک ہوتا ہے)، یا پھر فرمایا: (جیسے چیتا) لڑائی کے وقت (غضبناک ہوتا ہے)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36992]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36992، ترقيم محمد عوامة 35416)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35417 ترقیم الشثری: -- 36993
٣٦٩٩٣ - (حدثنا عفان قال) (١): حدثنا المبارك عن الحسن (ان) (٢) داود النبي ﷺ (٣) قال: اللهم (إني) (٤) اسالك (من) (٥) الإخوان و (الاصحاب والجيران) (٦) ⦗٢٤٠⦘ والجلساء من إن نسيت ذكروني، (وإن ذكرت) (٧) اعانوني، واعوذ بك من الاصحاب والاخوان والجيران والجلساء من إن نسيت لم يذكروني، وإن ذكرت (لم) (٨) يعينوني.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [هـ]: (عن).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) سقط من: [س].
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) في [أ، ب]: (الجيران والأصحاب).
(٧) في [ع]: تكرر.
(٨) في [س]: (لا).

حضرت حسن فرماتے ہیں کہ داؤد نبی 5 نے فرمایا: اے اللہ تعالیٰ! آپ مجھے ایسے بھائی، دوست، پڑوسی اور ہم نشین عطا فرما دیجئے کہ اگر مجھ سے (تقاضہِ بشری کے تحت معمولی سی) غفلت (بھی) سر زد ہوجائے تو وہ مجھے اس پر متنبہ کردیں، اور تنبہ کے عالم میں (نیکی کے کاموں میں) میری معاونت کریں۔ اور مجھے ایسے بھائیوں، دوستوں، پڑوسیوں اور ہم نشینوں سے اپنی پناہ میں لے لیجئے جو نہ تو غفلت پر تنبیہ کریں، اور نہ ہی تنبہ کے وقت اعانت کریں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36993]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36993، ترقيم محمد عوامة 35417)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں