صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب النَّهْيِ عَنِ اتِّبَاعِ مُتَشَابِهِ الْقُرْآنِ وَالتَّحْذِيرِ مِنْ مُتَّبِعِيهِ وَالنَّهْيِ عَنْ الاِخْتِلاَفِ فِي الْقُرْآنِ:
باب: قرآن میں جو متشابہ آیتیں ہیں ان میں کھوج کرنا منع ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2665 ترقیم شاملہ: -- 6775
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلا أُولُو الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 7، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ، فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّى اللَّهُ فَاحْذَرُوهُمْ ".
قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ آیات) تلاوت فرمائیں: ”وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی، اس میں سے محکم (معنی میں واضح) آیتیں ہیں، وہی اصل کتاب ہیں اور دوسری متشابہ آیات ہیں، پھر وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے، وہ فتنے کی تلاش میں ان آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جو ان (آیات قرآنی) میں سے متشابہ ہیں۔ ان (متشابہ آیات) کا حقیقی معنی اللہ اور ان لوگوں کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا جو علم میں راسخ ہیں۔ وہ (یہی) کہتے ہیں: ہم ان (آیات) پر ایمان لائے، سب (آیتیں) ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور دانائی رکھنے والوں کے سوا کوئی (ان سے) نصیحت حاصل نہیں کرتا۔“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآن میں سے متشابہ (آیات) کے پیچھے پڑتے ہیں، تو یہی لوگ ہیں جن کا اللہ نے (سابقہ آیات میں) ذکر کیا ہے، لہٰذا ان سے بچ کر رہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6775]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت ﴿هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ﴾ [سورة آل عمران: 7] پڑھی: ”وہی تو ہے جس نے آپ پر یہ کتاب نازل کی جس کی کچھ آیات «مُّحْكَمَاتٌ» (محکم) ہیں اور یہی کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری «مُتَشَابِهَاتٌ» (متشابہات) ہیں، چنانچہ جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے تو وہ اس کی متشابہ آیات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، فتنہ انگیزی کی خاطر اور ان کا حقیقی معنی تلاش کرنے کے لیے، حالانکہ ان کا صحیح اور حقیقی مفہوم (اصل مراد) اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور جو لوگ علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم ان (متشابہات) پر ایمان لائے، سارا قرآن ہمارے رب کی طرف سے ہے اور کسی چیز سے عبرت یا سبق صرف عقلمند حاصل کرتے ہیں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو اس کی متشابہ آیتوں کے درپے ہیں تو یہ وہی لوگ ہیں جن کا اللہ نے نام بتایا ہے، ان سے بچو۔“ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6775]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2665
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2666 ترقیم شاملہ: -- 6776
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، قَالَ: هَجَّرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، قَالَ: فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ، فَقَالَ: " إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِاخْتِلَافِهِمْ فِي الْكِتَابِ ".
حماد بن زید نے کہا: ہمیں ابوعمران جونی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: عبداللہ بن رباح انصاری نے میری طرف لکھ بھیجا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایک روز دن چڑھے (مسجد میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی آوازیں سنیں جو ایک آیت کے بارے میں (ایک دوسرے سے) اختلاف کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر ہمارے سامنے تشریف لائے۔ آپ کے چہرہ مبارک پر غصہ (صاف) پہچانا جا رہا تھا تو آپ نے فرمایا: ”جو لوگ تم سے پہلے تھے وہ کتاب اللہ کے بارے میں اختلاف کرنے سے ہلاک ہو گئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6776]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے جلدی حاضر ہوا یعنی صبح سویرے گیا تو آپ نے دو آدمیوں کی آوازیں سنیں جو ایک آیت کے بارے میں اختلاف کر رہے تھے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس باہر تشریف لائے، آپ کے چہرے پر غصے کے آثار نظر آرہے تھے سو آپ نے فرمایا: ”تم سے پہلے لوگ اپنی کتاب میں اختلاف کی بنا پر ہلاک ہوئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6776]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2666
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2667 ترقیم شاملہ: -- 6777
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو قُدَامَةَ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ فَقُومُوا ".
ابوقدامہ حارث بن عبید نے ابوعمران سے، انہوں نے حضرت جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس وقت تک قرآن پڑھتے رہو جب تک تمہارے دل اس پر ایک دوسرے کے ساتھ موافقت کرتے رہیں (قرآن کے معانی تمہارے دل پر واضح ہوتے جا رہے ہوں) جب تم اس میں اختلاف کرنے لگو تو اٹھ جاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6777]
حضرت جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن پڑھو جب تک تمہارے دل اس پر جڑے رہیں اور جب تم میں اختلاف پیدا ہو جائے تو اٹھ جاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6777]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2667
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2667 ترقیم شاملہ: -- 6778
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ جُنْدَبٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا ".
ہمام نے کہا: ہمیں ابوعمران نے حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس پر ایک دوسرے کے ساتھ موافقت اور مطابقت کرتے رہیں، چنانچہ جب تمہارا اختلاف شروع ہو جائے تو اٹھ جاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6778]
حضرت جندب رضی اللہ عنہ (یعنی عبداللہ کے بیٹے) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن پڑھو جب تک تمہارے دل اس سے موافقت کریں اور جب تمہارے دل اس سے موافقت نہ کریں (اختلاف پیدا ہو جائے) تو اٹھ کھڑے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6778]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2667
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2667 ترقیم شاملہ: -- 6779
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ ، قَالَ: قَالَ لَنَا جُنْدَبٌ وَنَحْنُ غِلْمَانٌ بِالْكُوفَةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَءُوا الْقُرْآنَ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا.
ابان نے کہا: ہمیں ابوعمران نے حدیث سنائی، کہا: ہم کوفہ میں (رہنے والے) نوجوان لڑکے تھے جب حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے ہمیں (نصیحت کرتے ہوئے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس وقت تک) قرآن پڑھو۔“ جیسے ان دونوں (ابوقدامہ حارث بن عبید اور ہمام) کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6779]
ابو عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جندب رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا، جبکہ ہم کوفہ میں بچے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6779]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2667
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
2. باب فِي الأَلَدِّ الْخَصِمِ:
باب: بڑا جھگڑالو کون؟
ترقیم عبدالباقی: 2668 ترقیم شاملہ: -- 6780
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑھ کر بغض کے قابل وہ شخص ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6780]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب مردوں سے برا اور مبغوض وہ شخص ہے، جو انتہائی سخت جھگڑالو ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6780]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2668
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
3. باب اتِّبَاعِ سُنَنِ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى:
باب: یہود و نصاریٰ کے طریقوں پر چلنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2669 ترقیم شاملہ: -- 6781
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا فِي جُحْرِ ضَبٍّ لَاتَّبَعْتُمُوهُمْ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آلْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى، قَالَ: فَمَنْ ".
حفص بن میسرہ نے کہا: مجھے زید بن اسلم نے عطاء بن یسار سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ضرور ان لوگوں کے طریقوں پر بالشت بر بالشت اور ہاتھ بر ہاتھ چلتے جاؤ گے جو تم سے پہلے تھے (بعینہ ان کے طریقے اختیار کرو گے، ان سے ذرہ برابر آگے پیچھے نہ ہو گے) حتی کہ اگر وہ سانڈے کے بل میں گھسے تو تم بھی ان کے پیچھے گھسو گے۔“ ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! کیا یہود اور نصاریٰ (کے پیچھے چلیں گے؟) آپ نے فرمایا: ”تو (اور) کن کے؟“ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6781]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پہلی امتوں کی ڈگر پر چلو گے، برابر برابر، جس طرح ایک بالشت بالشت کے برابر ہے اور ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے برابر ہے، حتیٰ کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے تھے تو تم اس میں بھی ان کی پیروی کرو گے۔“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہود اور نصاریٰ مراد ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور کون؟“ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6781]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2669
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2669 ترقیم شاملہ: -- 6782
وحَدَّثَنَا عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ،
مجھے میرے بہت سے ساتھیوں نے سعید بن ابی مریم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوغسان محمد بن مطرف نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی۔ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6782]
امام صاحب اپنے چند رفقاء سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6782]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2669
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2669 ترقیم شاملہ: -- 6783
قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَي ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ نحوه.
محمد بن یحییٰ نے کہا: ہمیں ابن ابی مریم نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوغسان نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے زید بن اسلم نے عطاء بن یسار سے حدیث بیان کی، پھر اسی طرح حدیث سنائی (جس طرح حفص بن میسرہ کی روایت ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6783]
امام مسلم رحمہ اللہ کے شاگرد اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کو متصل بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6783]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2669
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
4. باب هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ:
باب: تشدد کرنے والوں کے ہلاک ہونے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2670 ترقیم شاملہ: -- 6784
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، وَيَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ، قَالَهَا ثَلَاثًا ".
احنف بن قیس نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلو میں گہرے اترنے والے ہلاک ہو گئے۔“ آپ نے تین بار یہ بات ارشاد فرمائی۔ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6784]
حضرت عبداللہ(بن مسعود) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بال کی کھال اتارنے والے تباہ ہوئے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین دفعہ فرمائی۔ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6784]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2670
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة