سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
119. باب افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ
باب: نماز شروع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 741
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ،" أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ"، وَيَرْفَعُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الصَّحِيحُ قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ لَيْسَ بِمَرْفُوعٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى بَقِيَّةُ أَوَّلَهُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَأَسْنَدَهُ وَرَوَاهُ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَأَوْقَفَهُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ، قَالَ فِيهِ: وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ يَرْفَعُهُمَا إِلَى ثَدْيَيْهِ، وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَمَالِكٌ، وَأَيُّوبُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ مَوْقُوفًا، وَأَسْنَدَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَحْدَهُ، عَنْ أَيُّوبَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَيُّوبُ، وَمَالِكٌ الرَّفْعَ: إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ، وَذَكَرَهُ اللَّيْثُ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ فِيهِ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَجْعَلُ الْأُولَى أَرْفَعَهُنَّ؟ قَالَ: لَا سَوَاءً، قُلْتُ: أَشِرْ لِي؟ فَأَشَارَ إِلَى الثَّدْيَيْنِ أَوْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جب نماز میں داخل ہوتے تو «الله اكبر» کہتے، اور جب رکوع کرتے اور «سمع الله لمن حمده» کہتے تو رفع یدین کرتے یعنی دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب دونوں رکعتوں سے اٹھتے تو رفع یدین کرتے یعنی دونوں ہاتھ اٹھاتے، اسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صحیح یہی ہے کہ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے، مرفوع نہیں ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بقیہ نے اس حدیث کا ابتدائی حصہ عبیداللہ سے روایت کیا ہے، اور اسے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور ثقفی نے بھی اسے عبیداللہ سے روایت کیا ہے مگر ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف ٹھہرایا ہے، اس میں یوں ہے: ”جب آپ دونوں رکعت پوری کر کے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھ دونوں چھاتیوں تک اٹھاتے“، اور یہی صحیح ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے لیث بن سعد، مالک، ایوب اور ابن جریج نے موقوفاً روایت کیا ہے، صرف حماد بن سلمہ نے اسے ایوب کے واسطے سے مرفوعاً روایت کیا ہے، ایوب اور مالک نے اپنی روایت میں دونوں سجدوں سے تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے وقت رفع یدین کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے، البتہ لیث نے اپنی روایت میں اس کا ذکر کیا ہے۔ ابن جریج نے اپنی روایت میں یہ بھی کہا ہے کہ میں نے نافع سے پوچھا: کیا ابن عمر رضی اللہ عنہما پہلی بار میں ہاتھ زیادہ اونچا اٹھاتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ ہر مرتبہ برابر اٹھاتے تھے۔ میں نے کہا: اشارہ کر کے مجھے بتاؤ تو انہوں نے دونوں چھاتیوں تک یا اس سے بھی نیچے تک اشارہ کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 741]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جب نماز شروع کرتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور (ایسے ہی) جب رکوع کو جاتے اور جب (رکوع سے اٹھتے اور) «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہتے۔ اور جب دو رکعتوں سے (تیسری کے لیے) اٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے۔ اور وہ اپنا یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے، مرفوع حدیث نہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”اور بقیہ نے اس حدیث کا پہلا حصہ عبیداللہ سے بیان کیا تو اسے مرفوع ذکر کیا (بغیر اس کے کہ آپ نے دو رکعتوں سے اٹھ کر رفع یدین کیا) مگر عبدالوہاب ثقفی نے عبیداللہ سے روایت کیا تو اسے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف کیا اور اس میں کہا: جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو اپنے ہاتھوں کو اپنی چھاتیوں تک اٹھاتے۔ اور یہی صحیح ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ ”اسے لیث بن سعد، مالک، ایوب اور ابن جریج نے موقوف ہی روایت کیا ہے۔ صرف حماد بن سلمہ نے بواسطہ ایوب مرفوع بیان کیا۔ ایوب اور مالک نے دو سجدوں (یعنی رکعتوں) سے اٹھ کر رفع یدین کا ذکر نہیں کیا، صرف لیث نے ذکر کیا ہے۔“ ابن جریج نے اس میں کہا کہ ”میں نے نافع سے پوچھا: کیا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پہلی بار رفع یدین میں اپنے ہاتھ زیادہ اونچے اٹھاتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ سب میں برابر ہی اٹھاتے تھے۔ میں نے کہا: مجھے کر کے دکھاؤ، تو انہوں نے چھاتیوں تک اٹھائے یا اس سے ذرا کم ہی۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 741]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 83 (739)، (تحفة الأشراف: 8017، 8396) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ان سندوں سے یہ حدیث موقوف ہے، لیکن حدیث نمبر (۷۲۱) میں اس کے مرفوع ہونے کی صراحت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح بخاري (739)
صححه البغوي في شرح السنة (3/21) وما قال بعض الناس في تعليله فليس بعله قادحة والحمد لله
صححه البغوي في شرح السنة (3/21) وما قال بعض الناس في تعليله فليس بعله قادحة والحمد لله
حدیث نمبر: 742
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ،" أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلَاةَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا دُونَ ذَلِكَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَذْكُرْ رَفَعَهُمَا دُونَ ذَلِكَ أَحَدٌ غَيْرُ مَالِكٍ فِيمَا أَعْلَمُ.
نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس سے کم اٹھاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جہاں تک مجھے معلوم ہے مالک کے علاوہ کسی نے «رفعهما دون ذلك» (انہیں یعنی ہاتھوں کو اس سے کم یعنی مونڈھے سے نیچے اٹھاتے) کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 742]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب وہ نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اونچا کرتے (یعنی رفع یدین کرتے)۔ اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو انہیں ذرا کم اونچا کرتے (یعنی رفع یدین کرتے)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”جہاں تک مجھے معلوم ہے، ہاتھوں کو ذرا کم اونچا اٹھانے کا ذکر مالک کے علاوہ کسی اور نے نہیں کیا۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 742]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (721)، (تحفة الأشراف: 8017، 8396) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
---. باب مَنْ ذَكَرَ أَنَّهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا قَامَ مِنْ الثِّنْتَيْنِ
باب: جنہوں نے دو رکعت کے بعد اٹھتے وقت رفع یدین کرنے کا ذکر کیا ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 743
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعتیں پڑھ کر (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے، تو «الله اكبر» کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 743]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے)۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 743]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7415)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/145)، البخاري في رفع الیدین (25)(صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 744
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ وَكَبَّرَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد فِي حَدِيثِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ حِينَ وَصَفَ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ.
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے اور جب اپنی قرآت پوری کر چکتے اور رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو بھی اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور جب رکوع سے اٹھتے تو بھی اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھنے کی حالت میں کبھی بھی نماز میں اپنے دونوں ہاتھ نہیں اٹھاتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر (تیسری) کے لیے اٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور «الله اكبر» کہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جس وقت انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کی تو کہا: ”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو «الله اكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کر لیتے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت «الله اكبر» کہتے وقت کرتے تھے“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 744]
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے۔ اور جب اپنی قراءت پوری کر لیتے اور رکوع کرنا چاہتے تو اسی طرح ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور جب رکوع سے اٹھتے تو اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے)۔ اور نماز میں بیٹھے ہوئے ہونے کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفع یدین نہ کرتے تھے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو اپنے ہاتھ اٹھاتے اور «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث، جس میں انہوں نے نماز نبوی کی تفصیل بیان فرمائی ہے اس میں ہے کہ آپ جب دو رکعتوں کے بعد اٹھتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، حتیٰ کہ آپ کے کندھوں کے برابر آ جاتے جیسے کہ شروع نماز کے وقت تکبیر کہتے تھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 744]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 26 (771)، سنن الترمذی/الدعوات 32 (3421، 3422، 3423)، سنن النسائی/الافتتاح 17(896)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 15(864)، (تحفة الأشراف: 10228)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 4(16)، مسند احمد (1/93) سنن الدارمی/الصلاة 33 (1274) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
صححه ابن خزيمة (584 وسنده حسن)
صححه ابن خزيمة (584 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 745
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ حَتَّى يَبْلُغَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے جب آپ تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہتے جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کانوں کی لو تک لے جاتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 745]
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہتے تو رفع یدین کرتے، اور جب رکوع کو جاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اپنے ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں کی لوؤں تک پہنچ جاتے، (یا کانوں کے اوپر کے حصے تک پہنچ جاتے تھے)۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 745]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 9 (391)، سنن النسائی/الافتتاح 4 (881)، 85 (1025)، التطبیق 18(1057)، 36 (1086)، 84 (1144)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 15 (859)، (تحفة الأشراف: 11184)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 84 (737)، مسند احمد (3/436، 437، 5/53)، سنن الدارمی/الصلاة 41 (1286) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (391)
حدیث نمبر: 746
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ الْمَعْنَى، عَنْ عِمْرَانَ، عَنْ لَاحِقٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ" لَوْ كُنْتُ قُدَّامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَأَيْتُ إِبِطَيْهِ"، زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: يَقُولُ لَاحِقٌ: أَلَا تَرَى أَنَّهُ فِي الصَّلَاةِ، وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَكُونَ قُدَّامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَزَادَ مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ يَعْنِي: إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ.
بشیر بن نہیک کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ہوتا تو (رفع یدین کرتے وقت) آپ کی بغل دیکھ لیتا۔ عبیداللہ بن معاذ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ لاحق (ابومجلز) کہتے ہیں: کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ نماز میں تھے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نہیں ہو سکتے تھے، ابوداؤد کے شیخ موسیٰ بن مروان رقی نے یہ اضافہ کیا یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے تو رفع یدین کرتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 746]
جناب بشیر بن نہیک کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ہوتا تو میں آپ کی بغلیں دیکھ سکتا تھا۔“ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ رفع یدین کے وقت نمایاں طور پر بغلوں سے علیحدہ، دور اور اونچے ہوتے تھے۔) ابن معاذ نے کہا کہ لاحق نے کہا: ”بھلا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز میں ہوتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے کیوں کر ہو سکتے تھے؟“ موسیٰ نے یہ اضافہ کیا ہے: ”(مقصد یہ ہے کہ) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے تو ہاتھ اونچے کرتے تھے (یعنی نمایاں طور پر اونچے کرتے تھے)۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 746]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/التطبیق 51 (1108)، (تحفة الأشراف: 12215) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 747
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ"، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا، فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي، قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا، يَعْنِي الْإِمْسَاكَ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی تو آپ نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی اور رفع یدین کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو دونوں ہاتھ ملا کر آپ نے انہیں اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ میں رکھ لیا، جب یہ خبر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: سچ کہا میرے بھائی (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے، پہلے ہم ایسا ہی کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کا یعنی دونوں ہاتھوں سے دونوں گھٹنوں کے پکڑنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 747]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔ جب رکوع کیا تو دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر گھٹنوں میں رکھ لیا (یعنی تطبیق کی)۔“ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی تو کہا: ”میرے بھائی نے سچ کہا۔ ہم یہ عمل کیا کرتے تھے۔ پھر ہمیں اس کا حکم دیا گیا۔ یعنی گھٹنے پکڑنے کا۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 747]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/التطبیق 1 (1032)، (تحفة الأشراف: 3907، 9469) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انظر الحديث الآتي (868)
انظر الحديث الآتي (868)
121. باب مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ
باب: جنہوں نے رکوع کے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں کیا ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 748
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ يَعْنِي ابْنَ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ:" أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَصَلَّى، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حَدِيثٌ مُخْتَصَرٌ مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَلَيْسَ هُوَ بِصَحِيحٍ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ.
علقمہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟ علقمہ کہتے ہیں: پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی، تو رفع یدین صرف ایک بار (نماز شروع کرتے وقت) کیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ایک طویل حدیث سے ماخوذ ایک مختصر ٹکڑا ہے، اور یہ حدیث اس لفظ کے ساتھ صحیح نہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 748]
جناب علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھ کر دکھاؤں؟“ چنانچہ انہوں نے نماز پڑھی اور اپنے ہاتھ صرف ایک ہی بار اٹھائے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ حدیث ایک لمبی حدیث سے مختصر ہے اور ان الفاظ میں صحیح نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 79 (257)، سنن النسائی/الافتتاح 87 (1027)، التطبیق 20 (1059)، (تحفة الأشراف: 9468)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/388، 441)، وقد أخرجہ البخاري في رفع الیدین (32) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ائمہ حدیث: احمد، ابن مبارک، بخاری، رازی ابوحاتم، دارقطنی اور ابن حبان نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے، لیکن ترمذی نے اس حدیث کو حسن اور ابن حزم نے صحیح کہا ہے، نیز یہ حدیث ان احادیث صحیحہ کثیرہ کے معارض نہیں ہے جن سے رکوع وغیرہ میں رفع یدین ثابت ہے اس لئے کہ رفع یدین مستحب ہے فرض یا واجب نہیں ہے، دوسرے یہ کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے یاد نہ رکھنے سے یہ لازم نہیں کہ دوسرے صحابہ کرام کی روایات غلط ہوں، کیونکہ کبار صحابہ نے رفع یدین نقل کیا ہے جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بعض مسائل مخفی رہ گئے تھے، ہو سکتا ہے یہ بھی انہیں میں سے ہو جیسے جنبی کے تیمم کا مسئلہ ہے یا تطبیق (یعنی رکوع میں دونوں ہاتھ کو گھٹنے پر نہ رکھ کر دونوں کے بیچ میں رکھنا) کے منسوخ ہونے کا معاملہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (257) نسائي (1027،1059)
الثوري مدلس مشھوروعنعن
والحديث ضعفه ابن المبارك والشافعي و أحمد والبخاري والجمهور ولم أر لمصححه حجة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 40
إسناده ضعيف
ترمذي (257) نسائي (1027،1059)
الثوري مدلس مشھوروعنعن
والحديث ضعفه ابن المبارك والشافعي و أحمد والبخاري والجمهور ولم أر لمصححه حجة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 40
حدیث نمبر: 749
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، وَخَالِدُ بْنُ عَمْرٍو، وَأَبُو حُذَيْفَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا، قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَرَّةً وَاحِدَةً.
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کے قریب تک اٹھاتے تھے پھر دوبارہ ایسا نہیں کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 749]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں تک اٹھاتے، پھر دوبارہ نہ اٹھاتے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1785)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/282، 301، 302، 303) (ضعیف)» (اس کے راوی یزید ضعیف ہیں آخر عمر میں ان کا حافظہ خراب ہو گیا تھا، کبھی «لایعود» کے ساتھ روایت کرتے تھے اور کبھی بغیر اس کے، اس لئے ان کی روایت کا اعتبار نہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يزيد بن أبي زياد ضعيف،مدلس،مختلط (انظر التقريب : 7717،وطبقات المدلسين : 112/ 3) و قال البوصيري : وضعفه الجمھور (زوائد ابن ماجه : 2116) وانظر ح 1966 وحدث به بعد اختلاطه وعنعن في ھذا اللفظ و قال الحافظ ابن حجر : و الجمهور علي تضعيف حديثه(ھدي الساري ص459)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 40
إسناده ضعيف
يزيد بن أبي زياد ضعيف،مدلس،مختلط (انظر التقريب : 7717،وطبقات المدلسين : 112/ 3) و قال البوصيري : وضعفه الجمھور (زوائد ابن ماجه : 2116) وانظر ح 1966 وحدث به بعد اختلاطه وعنعن في ھذا اللفظ و قال الحافظ ابن حجر : و الجمهور علي تضعيف حديثه(ھدي الساري ص459)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 40
حدیث نمبر: 750
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ أُذُنَيْهِ ثُمَّ لَا يَعُودُ".
اس طریق سے بھی یزید سے شریک ہی کی حدیث کی طرح حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے «ثم لا يعود» (پھر ایسا نہیں کرتے تھے) کا لفظ نہیں کہا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: اس کے بعد ہم سے یزید نے کوفہ میں «ثم لا يعود» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو ہشیم، خالد اور ابن ادریس نے یزید سے روایت کیا ہے، ان لوگوں نے «ثم لا يعود» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 750]
عبداللہ بن محمد زہری رحمہ اللہ کی سند سے، یزید سے شریک کی مانند مروی ہے اور انہوں نے «ثُمَّ لَا يَعُودُ» کے لفظ ذکر نہیں کیے (یعنی ”پھر دوبارہ نہ اٹھاتے“ کے لفظ نقل نہیں کیے)۔ سفیان رحمہ اللہ نے کہا: ”بعد میں کوفہ میں ہم کو «ثُمَّ لَا يَعُودُ» کے لفظ بیان کیے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”اس حدیث کو ہشیم، خالد اور ابن ادریس نے یزید سے روایت کیا ہے مگر ان حضرات نے «لَا يَعُودُ» کا لفظ روایت نہیں کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 750]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1785) (ضعیف)» (گذشتہ حدیث ملاحظہ فرمائیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق(749)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 40
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق(749)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 40