الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهَلِي وَاسْمُهُ الصَّدَى مِنْ عَجْلَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ، ان کا صدی بن عجلان تھا
حدیث نمبر: 11900
عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ فَقَالَ ”اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ“ قَالَ فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا قَالَ ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا ثَانِيًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ فَقَالَ ”اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ“ قَالَ ثُمَّ أَنْشَأَ غَزْوًا ثَالِثًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَتَيْتُكَ مَرَّتَيْنِ قَبْلَ مَرَّتِي هَذِهِ فَسَأَلْتُكَ أَنْ تَدْعُوَ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ فَدَعَوْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسَلِّمَنَا وَيُغَنِّمَنَا فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ فَقَالَ ”اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ“ قَالَ فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِعَمَلٍ قَالَ ”عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ“ قَالَ فَمَا رُئِيَ أَبُو أُمَامَةَ وَلَا امْرَأَتُهُ وَلَا خَادِمُهُ إِلَّا صِيَامًا قَالَ فَكَانَ إِذَا رُئِيَ فِي دَارِهِمْ دُخَانٌ بِالنَّهَارِ قِيلَ اعْتَرَاهُمْ ضَيْفٌ نَزَلَ بِهِمْ نَازِلٌ قَالَ فَلَبِثَ بِذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَرْتَنَا بِالصِّيَامِ فَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ بَارَكَ اللَّهُ لَنَا فِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمُرْنِي بِعَمَلٍ آخَرَ قَالَ ”اعْلَمْ أَنَّكَ لَنْ تَسْجُدَ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَ اللَّهُ لَكَ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً“
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک غزوہ تیار کیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست کی: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے میرے حق میں شہید ہونے کی دعا فرمائیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! ان کو سلامت رکھ اور انہیں غنیمت سے سر فراز فرما۔ پس اس دعا کے نتیجے میں ہم سلامت رہے اور مال غنیمت لے کر واپس ہوئے۔ اس کے بعد پھر ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ کی تیاری کی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اب کی بار تو آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے شہادت کی دعا فرمائیں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! انہیں سلامت رکھ اور انہیں مال غنیمت سے سرفراز فرما۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس دعا کی برکت سے ہم صحیح سلامت رہے اور مال غنیمت سمیت واپس ہوئے۔ اس کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسرے غزوے کی تیاری کی ہے، میں نے آپ کی خدمت میں آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے شہادت کی دعا فرمائیں۔ آپ نے دونوں دفعہ دعا فرمائی کہ اللہ ہمیں سلامت رکھے اور مال غنیمت سے نوازے۔ چنانچہ دونوں دفعہ ہم سلامت رہے اور مال غنیمت لے کر واپس ہوئے۔ اللہ کے رسول! آپ اللہ سے میرے حق میں شہادت کی دعا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! انہیں سلامت رکھ اور ان کو مال غنیمت سے سرفراز فرما۔ چنانچہ ہم صحیح سلامت رہے اور مال غنیمت لے کر واپس ہوئے۔ میں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کسی ایسے کام کا حکم فرمائیں کہ میں جس پر عمل کروں اور اللہ مجھے اس سے نفع پہنچائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم روزے رکھا کرو، کوئی عمل روزے کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ رجاء بن حیوہ کہتے ہیں: اس کے بعد سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ، ان کی بیوی اوران کے خادم کو روزے کی حالت ہی میں دیکھا گیا۔ رجاء کہتے ہیں: اگر کبھی دن کے وقت ان کے گھر سے دھواں اٹھتا دکھائی دیتا تو لوگ کہتے کہ ان کے ہاں کوئی مہمان یا ملاقاتی آیا ہو گا، سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور رہا میں روزوں پر کار بند رہا۔ پھر ایک بار میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول!آپ نے ہمیں روزے رکھنے کا حکم فرمایا ہے، مجھے امید ہے کہ اللہ نے ہمارے لیے اس عمل میں برکت فرمائی ہے، اب آپ ہمیں اس کے علاوہ مزید کسی دوسرے عمل کا حکم بھی فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جان لو کہ تم اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے جو سجدہ کرو گے تو اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ تمہارا ایک درجہ بلند کرے گا اور تمہارا ایک گناہ معاف کر ے گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11900]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه النسائي: 4/165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22492»
وضاحت: فوائد: … اس باب سے سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کی فضیلت معلوم ہوئی،ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی قوم کی طرف اسلام کا داعی بنا کر روانہ کیا،یہ جا کر ان کو اسلام کی دعوت دینے لگے، جب ان کو بھوک لگی تھی تو ان کی قوم کے لوگ ان کے سامنے ایسی خوراک لائے جو اسلام میں حرام ہے، وہ کھانے کے لیے بیٹھے اور ان کو بھی کھانے کی دعوت دی، انہوںنے کہا کہ میں جس شخصیت کی طرف سے آیا ہوں، انہوںنے اسے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ ان کو اسلام کی دعوت دیتے اور وہ قبول اسلام سے انکار کرتے رہے۔ بالآخر انہوںنے قوم سے کہا کہ پانی تو پلائو، مجھے شدید پیاس لگی ہے، انہوں نے پانی دینے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ تم اسی طرح بھوکے پیاسے مرو گے۔ انہوںنے اپنا عمامہ سر پر لپیٹ لیا اور شدید گرمی میں دھوپ میں لیٹ گئے۔ خواب میں اللہ کی طرف سے ان کو دودھ نوش کرایا گیا،دودھ نوش کرکے یہ سیر ہوگئے اور ان کا پیٹ بھر گیا۔ یہ بیدار ہو گئے تو بھوک پیاس زائل ہو چکی تھی۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ تمہارے معزز اور سردار لوگوں میں سے ہے، اسے کچھ کھانا وغیرہ تو پیش کرو۔ انہوں نے ان کے سامنے کھانا پیش کیا تو انہوں نے فرمایا، مجھے اب تمہارے کھانے وغیرہ کی حاجت نہیں رہی۔ میرے اللہ تعالیٰ نے مجھے کھلا پلا دیا ہے۔ انہوںنے قوم کو اپنا پیٹ دکھلایا، انہوں نے دیکھا تو ساری قوم مسلمان ہوگئی۔ ان کی وفات (۸۱یا۸۶) سن ہجری میں (۱۰۶) برس کی عمر میں حمص میں ہوئی، سر زمین شام میں یہ سب سے آخر میں وفات پانے والے صحابی ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي أَبُوبَ الْأَنْصَارِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11901
عَنْ عَاصِمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ كَانَ أَمِيرًا عَلَى الْجَيْشِ الَّذِي غَزَا فِيهِ أَبُو أَيُّوبَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ عِنْدَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُ أَبُو أَيُّوبَ إِذَا مِتُّ فَاقْرَؤُوا عَلَى النَّاسِ مِنِّي السَّلَامَ فَأَخْبِرُوهُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا جَعَلَهُ اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ“ وَلْيَنْطَلِقُوا بِي فَلْيَبْعُدُوا بِي فِي أَرْضِ الرُّومِ مَا اسْتَطَاعُوا فَحَدَّثَ النَّاسَ لَمَّا مَاتَ أَبُو أَيُّوبَ فَاسْتَلْأَمَ النَّاسُ وَانْطَلَقُوا بِجِنَازَتِهِ
عاصم نے مکہ کے ایک باشندے سے روایت کیا ہے کہ یزید بن معاویہ اس لشکر کا امیر تھا جس میں سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ شریک تھے، ان کی وفات کے وقت یزید ان کے پاس آیا تو انہوں نے اس سے کہا: میری وفات ہو تو میری طرف سے لوگوں کو سلام کہنا اور انہیں بتلا دینا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جو کوئی اس حال میں فوت ہوا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا تھا، اللہ اسے جنت عطا فرمائے گا۔ اس کے بعد یہ لوگ میری میت کو اٹھا کر روم کی حدود میں جہاں تک ممکن ہو دورلے جائیں، پس جب سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تویزید نے لوگوں کو ان کے انتقال کی خبر دی،لوگوں نے اپنے ہتھیار زیب تن کر لیے اور ان کی میت کو لے کر چل پڑے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11901]
تخریج الحدیث: «صحيح بمجموع طرقه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23523 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23920»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا اصل نام خالد بن زید ہے، ان کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار سے تھا، یہ بیعت عقبہ، غزوہ بدر، غزوہ احد، خندق اور بیعت رضوان میں شریک ہونے کی سعادت سے بہر مند ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کے بعد مدینہ منورہ تشریف لائے تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میز بانی کا شرف حاصل ہوا، (دیکھیں حدیث نمبر۱۰۶۲۱)۔(۵۰یا۵۱یا۵۲) سن ہجری میں فوت ہوئے اور ان کی قبر قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) میں ہے۔ اس وقت یہ اس لشکر میں تھے جس کی قیادتیزید بن معاویہ کر رہے تھے۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے وصیت کی کہ ان کی نماز جنازہ یزید پڑھائے، چنانچہ یزید نے ہی ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11902
عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ظِبْيَانَ وَيَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ قَالَ غَزَا أَبُو أَيُّوبَ الرُّومَ فَمَرِضَ فَلَمَّا حُضِرَ قَالَ أَنَا إِذَا مِتُّ فَاحْمِلُونِي فَإِذَا صَافَفْتُمُ الْعَدُوَّ فَادْفِنُونِي تَحْتَ أَقْدَامِكُمْ وَسَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا حَالِي هَذَا مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ“
ابو ظبیان سے مروی ہے کہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ روم کے خلاف ایک غزوۂ میں شریک تھے اور وہاں بیمار پڑ گئے، جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے کہا: جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے اٹھا کر لے جانا، جہاں دشمن سامنے آجائے تم مجھے وہیں اپنے قدموں کے نیچے دفن کر دینا، میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث سناتا ہوں۔ اگر میں اس حال میں (یعنی اس مرض الموت میں) نہ ہوتا تو میں تمہیں یہ حدیث نہ سناتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جو آدمی اس حال میں فوت ہوا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا تو وہ جنت میں جائے گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11902]
تخریج الحدیث: «صحيح بمجموع طرقه، اخرجه الطبراني في الكبير: 4044، وابن ابي شيبة: 5/ 320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23560 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23956»
الحكم على الحديث: صحیح
3. بابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي الدَّحْدَاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو دحداح رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11903
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَةً وَأَنَا أُقِيمُ حَائِطِي بِهَا فَأْمُرْهُ أَنْ يُعْطِيَنِي حَتَّى أُقِيمَ حَائِطِي بِهَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَعْطِهَا إِيَّاهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ“ فَأَبَى فَأَتَاهُ أَبُو الدَّحْدَاحِ فَقَالَ بِعْنِي نَخْلَتَكَ بِحَائِطِي فَفَعَلَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدِ ابْتَعْتُ النَّخْلَةَ بِحَائِطِي قَالَ فَاجْعَلْهَا لَهُ فَقَدْ أَعْطَيْتُكَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كَمْ مِنْ عَذْقٍ رَاحَ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ“ قَالَهَا مِرَارًا قَالَ فَأَتَى امْرَأَتَهُ فَقَالَ يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ اخْرُجِي مِنَ الْحَائِطِ فَإِنِّي قَدْ بِعْتُهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ فَقَالَتْ رَبِحَ الْبَيْعُ أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! فلاں آدمی کا کھجور کا ایک درخت ہے، میں اس درخت کا ضرورت مند ہوں تاکہ اس کے ذریعے اپنے باغ کی دیوار کو سیدھا کر سکوں، آپ اسے حکم دیں کہ وہ یہ درخت مجھے دے دے اور میں اپنے باغ کی دیوار کو مضبوط کر لوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم یہ درخت اسے دے دو، اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں ایک درخت لے دوں گا۔ اس نے اس بات سے انکار کیا۔ یہ بات سن کر سیدنا ابو دحداح رضی اللہ عنہ نے آکر اس آدمی سے کہا کہ میرے پورے باغ کے عوض تم یہ ایک کھجور مجھے فروخت کر دو، اس نے ایسے ہی کیا، پھر سیدنا ابو دحداح رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے وہ ایک کھجور اپنے پورے باغ کے عوض خریدلی ہے، آپ یہ کھجور اس ضرورت مند کو دے دیں، میں کھجور کا یہ درخت آپ کے حوالے کر چکا ہوں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں کھجور کے کتنے ہی خوشے ابو دحداح رضی اللہ عنہ کے لیے لٹک رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات متعدد مرتبہ دہرائی، ابو دحداح رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کے پاس آکر اس سے کہا: اے ام وحداح! باغ سے باہر نکل آؤ، میں نے یہ باغ جنت کی ایک کھجور کے عوض فروخت کر دیا ہے۔ اس نے کہا: آپ نے تو بڑے فائدے والا سودا کیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11903]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابن حبان: 7159، والطبراني: 22/ 763، والحاكم: 2/ 20، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12510»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا ابو دحداح رضی اللہ عنہ کی کمال رغبت ہے، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش کی تکمیل اور جنت کے حصول کا راز مضمر ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے صلہ بھی ان کی رغبت سے کوئی گنا بڑھ کر ملا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11904
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ الدَّحْدَاحِ قَالَ حَجَّاجٌ عَلَى أَبِي الدَّحْدَاحِ ثُمَّ أُتِيَ بِفَرَسٍ مَعْرُورٍ فَعَقَلَهُ رَجُلٌ فَرَكِبَهُ فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ وَنَحْنُ نَتَّبِعُهُ نَسْعَى خَلْفَهُ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”كَمْ عِذْقٍ مُعَلَّقٍ أَوْ مُدَلًّى فِي الْجَنَّةِ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ“ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ رَجُلٌ مَعَنَا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ فِي الْمَجْلِسِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كَمْ مِنْ عِذْقٍ مُدَلًّى لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ“
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دحداح رضی اللہ عنہ کے بیٹےیا ابو دحداح کی نماز جنازہ ادا کی، اس کے بعد بغیرزین کے ایک گھوڑا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، ایک آدمی نے اس کی ٹانگ کو رسی سے باندھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہوئے، وہ گھوڑا اچھلتا ہوا چلنے لگا، ہم آپ کے پیچھے پیچھے تیز تیز جا رہے تھے، لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں کھجور کے کتنے ہی خوشے ابو دحداح کی انتظار میں لٹک رہے ہیں۔ حجاج نے اپنی حدیث میں یوں بیان کیا کہ محفل میں ہمارے ساتھ بیٹھے ایک آدمی نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں کھجور کے کتنے ہی خوشے ابو دحداح کے لیے لٹک رہے ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11904]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 965، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20894 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21200»
وضاحت: فوائد: … دحداح کا بیٹایا دحداح کا باپ، ان دو روایات میںکوئی تعارض نہیں ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ اس صحابی کے باپ کا نام بھی دحداح ہو اور بیٹے کا نام بھی دحداح۔ سیدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ کا نام ثابت بن دحداح ہے، غزوۂ احد میں جب یہ خبر پھیل گئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہوگئے ہیں تو صحابۂ کرام کے حوصلے پست ہوگئے اور ہمتیں جواب دے گئیںتو اس موقع پر سیدنا ابو دحداح رضی اللہ عنہ نے انصاریوں سے کہا: اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہوگئے ہیں تو کیا ہوا؟ اللہ تو زندہ ہے، اسے کبھی موت نہیں آئے گی، تم اٹھو اور دین کے دفاع کی خاطر قتال کرو، چنانچہ وہ چند مسلمانوں کو ساتھ لے کر کفار کی طرف نکلے، خالد بن ولید جو اس غزوہ میں کفار کی طرف سے شریک تھے، انہوں نے سیدنا ابو دحداح کو نیزے کا وار کرکے شہید کر دیا۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ یہ نیزہ لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئے تھے، بعد میں صحت یاب ہوگئے تھے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیبیہ سے واپسی کے بعد ان کا انتقال ہوا تھا۔ واللہ اعلم۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو دردائ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11905
عَنْ أَبِي عُمَرَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ نَزَلَ بِأَبِي الدَّرْدَاءِ رَجُلٌ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ مُقِيمٌ فَنَسْرَحَ أَمْ ظَاعِنٌ فَنَعْلِفَ قَالَ بَلْ ظَاعِنٌ قَالَ فَإِنِّي سَأُزَوِّدُكَ زَادًا لَوْ أَجِدُ مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْهُ لَزَوَّدْتُكَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ نُصَلِّي وَيُصَلُّونَ وَنَصُومُ وَيَصُومُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ قَالَ ”أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى شَيْءٍ إِنْ أَنْتَ فَعَلْتَهُ لَمْ يَسْبِقْكَ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَكَ وَلَمْ يُدْرِكْكَ أَحَدٌ بَعْدَكَ إِلَّا مَنْ فَعَلَ الَّذِي تَفْعَلُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً“
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے ہاں مہمان ٹھہرا، انھوں نے اس سے دریافت کیا کہ اگر آپ ہمارے ہاں قیام فرمائیں تو ہم آپ کی سواری کو چراگاہ میں بھجوا دیں اور اگر جلد روانگی کا پروگرام ہو تو ہم اسے یہیں چارہ ڈال دیں۔ اس آدمی نے کہا:نہیں، میں تو بس جانے والا ہوں، انہوں نے فرمایا: میں آپ کو ایک زادِ راہ دینا چاہتا ہوں، اگر میرے پاس اس سے بہتر کوئی تحفہ ہوتا تو میں وہ آپ کی نذر کرتا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گیا تھا اور آپ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مالدار لوگ دنیا کے لحاظ سے بھی آگے نکل گئے اور آخرت کے لحاظ سے بھی۔ہم (غریب لوگ) نماز پڑھتے ہیں اور وہ امیر لوگ بھی نماز ادا کرتے ہیں، ہم بھی روزے رکھتے ہیں اور وہ بھی روزے رکھتے ہیں، لیکن وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کر سکتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایک ایسا عمل نہ بتلاؤں، اگر تم اس پر عمل کرو تو نہ اگلوں میں سے کوئی تم سے آگے بڑھ سکے گا اور نہ پچھلوں میں سے کوئی تجھ کو پا سکے گا، ماسوائے اس کے جو اسی پر عمل کرے، تم ہر نماز کے بعد تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰہِ تینتیس بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور چونتیس بار اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا کرو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11905]
تخریج الحدیث: «صحيح بطرقه وشواھده، اخرجه الطيالسي: 982، وابن ابي شيبة: 13/ 453، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21709 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22052»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کا نام عویمریا عامر بن زید ہے، یہ خزرجی انصاری صحابی ہیں،یہ فقہ، حکمت اور زہد و تقوی سے متصف تھے، غزوۂ بدر کے موقع پر مسلمان ہوئے اور غزوۂ احد میں شرکت کی اور اس غزوے میں ان کو خوب آزمایا گیا، خلافت ِ فاروقی میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو دمشق کا والی بنایا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں (۳۱یا۳۲) سن ہجری میں وفات پا گئے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11906
عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ صَحِبْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَتَعَلَّمُ مِنْهُ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ آذِنْ النَّاسَ بِمَوْتِي فَآذَنْتُ النَّاسَ بِمَوْتِهِ فَجِئْتُ وَقَدْ مُلِئَ الدَّارُ وَمَا سِوَاهُ قَالَ فَقُلْتُ قَدْ آذَنْتُ النَّاسَ بِمَوْتِكَ وَقَدْ مُلِئَ الدَّارُ وَمَا سِوَاهُ قَالَ أَخْرِجُونِي فَأَخْرَجْنَاهُ قَالَ أَجْلِسُونِي قَالَ فَأَجْلَسْنَاهُ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يُتِمُّهُمَا أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا سَأَلَ مُعَجَّلًا أَوْ مُؤَخَّرًا“ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِيَّاكُمْ وَالِالْتِفَاتَ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِلْمُلْتَفِتِ فَإِنْ غُلِبْتُمْ فِي التَّطَوُّعِ فَلَا تُغْلَبُنَّ فِي الْفَرِيضَةِ
سیدنا یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں حصول علم کے لیے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا، جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا: تم لوگوں کو میری وفات کی اطلاع کردو۔ میں نے لوگوں کو ان کی وفات کی اطلاع دی، میں واپس آیا تو ان کا گھر اور ارد گرد کے مقامات لوگوں سے بھرے تھے، میں نے جا کر ان سے عرض کیا: میں نے لوگوں کو آپ کی وفات کی اطلاع دی اورگھر اور اردگرد کے مقامات لوگوں سے بھر گئے ہیں۔ انھوں نے مجھے کہا: تم مجھے باہر لے چلو، ہم ان کو باہر لے گئے۔ انھوں نے کہا: مجھے بٹھا دو، ہم نے ان کو بٹھا دیا۔ انہوں نے کہا: لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جو آدمی اچھی طرح مکمل وضو کرکے مکمل دو رکعت نماز ادا کرے تو وہ اللہ سے جو بھی دعا کرے، اللہ اسے جلد یا بدیر اس کی مطلوبہ چیز ضرور عطا فرمائے گا۔ پھر انھوں نے کہا: لوگو! نماز میں ادھر ادھر نہ دیکھا کرو، جو کوئی ادھر ادھر دیکھتا ہے اس کی نماز نہیں ہوتی، اگر نفل نماز میں اس کی ضرورت پیش آ جائے تو خیر، مگر فرض نماز میں اس کی گنجائش نہ نکالا کرو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11906]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ميمون ابو محمد المَرَائي لا يعرف أو ھو المَرَئي، وھو ميمون بن موسي، وھو ضعيف كذالك، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28045»
الحكم على الحديث: ضعیف
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي ذَرِّ الْغَفَّارِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقِصَّةِ إسلامه
سیدنا ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ اور ان کے اسلام لانے کا واقعہ
حدیث نمبر: 11907
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَامِتٍ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ خَرَجْنَا مِنْ قَوْمِنَا غِفَارٍ وَكَانُوا يُحِلُّونَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ أَنَا وَأَخِي أُنَيْسٌ وَأُمُّنَا فَانْطَلَقْنَا حَتَّى نَزَلْنَا عَلَى خَالٍ لَنَا ذِي مَالٍ وَذِي هَيْئَةٍ فَأَكْرَمَنَا خَالُنَا فَأَحْسَنَ إِلَيْنَا فَحَسَدَنَا قَوْمُهُ فَقَالُوا إِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ عَنْ أَهْلِكَ خَلَفَكَ إِلَيْهِمْ أُنَيْسٌ فَجَاءَنَا خَالُنَا فَنَثَا عَلَيْهِ مَا قِيلَ لَهُ فَقُلْتُ أَمَّا مَا مَضَى مِنْ مَعْرُوفِكَ فَقَدْ كَدَّرْتَهُ وَلَا جِمَاعَ لَنَا فِيمَا بَعْدُ قَالَ فَقَرَّبْنَا صِرْمَتَنَا فَاحْتَمَلْنَا عَلَيْهَا وَتَغَطَّى خَالُنَا ثَوْبَهُ وَجَعَلَ يَبْكِي قَالَ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى نَزَلْنَا بِحَضْرَةِ مَكَّةَ قَالَ فَنَافَرَ أُنَيْسٌ رَجُلًا عَنْ صِرْمَتِنَا وَعَنْ مِثْلِهَا فَأَتَيَا الْكَاهِنَ فَخَيَّرَ أُنَيْسًا فَأَتَانَا بِصِرْمَتِنَا وَمِثْلِهَا وَقَدْ صَلَّيْتُ يَا ابْنَ أَخِي قَبْلَ أَنْ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ سِنِينَ قَالَ فَقُلْتُ لِمَنْ قَالَ لِلَّهِ قَالَ قُلْتُ فَأَيْنَ تَوَجَّهْ قَالَ حَيْثُ وَجَّهَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ وَأُصَلِّي عِشَاءً حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أُلْقِيتُ كَأَنِّي خِفَاءٌ (قَالَ أَبِي قَالَ أَبُو النَّضْرِ قَالَ سُلَيْمَانُ كَأَنِّي جِفَاءٌ) حَتَّى تَعْلُونِي الشَّمْسُ قَالَ فَقَالَ أُنَيْسٌ إِنَّ لِي حَاجَةً بِمَكَّةَ فَاكْفِنِي حَتَّى آتِيَكَ قَالَ فَانْطَلَقَ فَرَاثَ عَلَيَّ ثُمَّ أَتَانِي فَقُلْتُ مَا حَبَسَكَ قَالَ لَقِيتُ رَجُلًا يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَهُ عَلَى دِينِكَ قَالَ فَقُلْتُ مَا يَقُولُ النَّاسُ لَهُ قَالَ يَقُولُونَ إِنَّهُ شَاعِرٌ وَسَاحِرٌ وَكَاهِنٌ قَالَ وَكَانَ أُنَيْسٌ شَاعِرًا قَالَ فَقَالَ قَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكُهَّانِ فَمَا يَقُولُ بِقَوْلِهِمْ وَقَدْ وَضَعْتُ قَوْلَهُ عَلَى أَقْرَاءِ الشِّعْرِ فَوَاللَّهِ مَا يَلْتَامُ لِسَانُ أَحَدٍ أَنَّهُ شِعْرٌ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ هَلْ أَنْتَ كَافِيَّ حَتَّى أَنْطَلِقَ فَأَنْظُرَ قَالَ نَعَمْ فَكُنْ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ عَلَى حَذَرٍ فَإِنَّهُمْ قَدْ شَنِفُوا لَهُ وَتَجَهَّمُوا لَهُ وَقَالَ عَفَّانُ شِيفُوا لَهُ وَقَالَ بَهْزٌ سَبَقُوا لَهُ وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ شَفَوْا لَهُ قَالَ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى قَدِمْتُ مَكَّةَ فَتَضَيَّفْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ فَقُلْتُ أَيْنَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي تَدْعُونَهُ الصَّابِئَ قَالَ فَأَشَارَ إِلَيَّ قَالَ الصَّابِئُ قَالَ فَمَالَ أَهْلُ الْوَادِي عَلَيَّ بِكُلِّ مَدَرَةٍ وَعَظْمٍ حَتَّى خَرَرْتُ مَغْشِيًّا عَلَيَّ فَارْتَفَعْتُ حِينَ ارْتَفَعْتُ كَأَنِّي نُصُبٌ أَحْمَرُ فَأَتَيْتُ زَمْزَمَ فَشَرِبْتُ مِنْ مَائِهَا وَغَسَلْتُ عَنِّي الدَّمَ فَدَخَلْتُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا فَلَبِثْتُ بِهِ ابْنَ أَخِي ثَلَاثِينَ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَمَا لِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سَخْفَةَ جُوعٍ قَالَ فَبَيْنَا أَهْلُ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ قَمْرَاءَ أَضْحِيَانٍ وَقَالَ عَفَّانُ أَصْخِيَانٍ وَقَالَ بَهْزٌ أَصْخِيَانٍ وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو النَّضْرِ فَضَرَبَ اللَّهُ عَلَى أَصْمِخَةِ أَهْلِ مَكَّةَ فَمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ غَيْرُ امْرَأَتَيْنِ فَأَتَتَا عَلَيَّ وَهُمَا تَدْعُوَانِ إِسَافَ وَنَائِلَ قَالَ فَقُلْتُ أَنْكِحُوا أَحَدَهُمَا الْآخَرَ فَمَا ثَنَاهُمَا ذَلِكَ قَالَ فَأَتَتَا عَلَيَّ فَقُلْتُ وَهَنٌ مِثْلُ الْخَشَبَةِ غَيْرَ أَنِّي لَمْ أَكْنِ قَالَ فَانْطَلَقَتَا تُوَلْوِلَانِ وَتَقُولَانِ لَوْ كَانَ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ أَنْفَارِنَا قَالَ فَاسْتَقْبَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا هَابِطَانِ مِنَ الْجَبَلِ فَقَالَ مَا لَكُمَا فَقَالَتَا الصَّابِئُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا قَالَا مَا قَالَ لَكُمَا قَالَتَا قَالَ لَنَا كَلِمَةً تَمْلَأُ الْفَمَ قَالَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَصَاحِبُهُ حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ صَلَّى قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ أَهْلِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ ”عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ مِمَّنْ أَنْتَ“ قَالَ قُلْتُ مِنْ غِفَارٍ قَالَ فَأَهْوَى بِيَدِهِ فَوَضَعَهَا عَلَى جَبْهَتِهِ قَالَ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي كَرِهَ أَنِّي انْتَمَيْتُ إِلَى غِفَارٍ قَالَ فَأَرَدْتُ أَنْ آخُذَ بِيَدِهِ فَقَذَعَنِي صَاحِبُهُ وَكَانَ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي قَالَ ”مَتَى كُنْتَ هَاهُنَا“ قَالَ كُنْتُ هَاهُنَا مُنْذُ ثَلَاثِينَ مِنْ بَيْنِ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ قَالَ ”فَمَنْ كَانَ يُطْعِمُكَ“ قُلْتُ مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ قَالَ فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ وَإِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ“ قَالَ أَبُو بَكْرٍ ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي طَعَامِهِ اللَّيْلَةَ قَالَ فَفَعَلَ قَالَ فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا حَتَّى فَتَحَ أَبُو بَكْرٍ بَابًا فَجَعَلَ يَقْبِضُ لَنَا مِنْ زَبِيبِ الطَّائِفِ قَالَ فَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ طَعَامٍ أَكَلْتُهُ بِهَا فَلَبِثْتُ مَا لَبِثْتُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي قَدْ وُجِّهَتْ إِلَيَّ أَرْضٌ ذَاتُ نَخْلٍ وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا يَثْرِبَ فَهَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي قَوْمَكَ لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَنْفَعَهُمْ بِكَ وَيَأْجُرَكَ فِيهِمْ“ قَالَ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ أُنَيْسًا قَالَ فَقَالَ لِي مَا صَنَعْتَ قَالَ قُلْتُ إِنِّي صَنَعْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ قَالَ قَالَ فَمَا لِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكَ إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ثُمَّ أَتَيْنَا أُمَّنَا فَقَالَتْ فَمَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكُمَا فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ فَتَحَمَّلْنَا حَتَّى أَتَيْنَا قَوْمَنَا غِفَارًا فَأَسْلَمَ بَعْضُهُمْ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَقَالَ يَعْنِي يَزِيدَ بِبَغْدَادَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا قَدِمَ فَقَالَ بَهْزٌ إِخْوَانُنَا نُسْلِمُ وَكَذَا قَالَ أَبُو النَّضْرِ وَكَانَ يَؤُمُّهُمْ خُفَافُ بْنُ إِيمَاءِ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيُّ وَكَانَ سَيِّدَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَقَالَ بَقِيَّتُهُمْ إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْنَا فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَأَسْلَمَ بَقِيَّتُهُمْ قَالَ وَجَاءَتْ أَسْلَمُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِخْوَانُنَا نُسْلِمُ عَلَى الَّذِي أَسْلَمُوا عَلَيْهِ فَأَسْلَمُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ“
سیدنا عبد اللہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اپنی قوم غفار، جو حرمت والے مہینے کو حلال سمجھتے تھے، سے وفد کی صورت میں نکلے۔ میں (ابو ذر)، میرا بھائی انیس اور میری ماں روانہ ہوئے، ہم اپنے ماموں کے پاس آکر ٹھہرے جو مالدار اور اچھی پوزیشن والا تھا۔ انھوں نے ہماری بڑی عزت کی اور ہمارے ساتھ احسان کیا، لیکن ان کی قوم ہم سے حسد کرنے لگی۔ اس لیے انھوں نے کہا: جب تو اپنے اہل خانہ سے باہر جاتا ہے تو انیس ان کے پاس آ جاتا ہے۔ پس ہمارا ماموں آیا اور جو بات اسے کہی گئی، اس کے سلسلے میں ہماری غیبت کرنے لگ گیا۔ میں نے اسے کہا: جو تو نے ہمارے ساتھ نیکی کی تھی، اسے تو تو نے گدلا کر دیا ہے اور آئندہ ہم آپ کے پاس نہیں آئیں گے۔ ہم اپنی اونٹنیوں کے قریب پہنچے اور سوار ہو کر چل پڑے، میرے ماموں نے کپڑا اوڑھ کر رونا شروع کر دیا۔ ہم چلتے گئے اور مکہ کے قریب جا کر پڑاؤ ڈالا۔ انیس نے ایک آدمی سے ہماری اونٹنیوں اور اتنی ہی اور کے عوض فخر کا اظہار کیا۔ وہ دونوں فیصلہ کرانے کے لیے ایک نجومی کے پاس گئے، اس نے انیس کو منتخب کیا، پس انیس ہماری اور اتنی اور اونٹنیاں لے کر ہمارے پاس آیا۔ اس نے کہا: اے میرے بھتیجے! میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملنے سے تین برس پہلے سے نماز پڑھ رہا تھا۔ میں نے کہا: کس کے لیے؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ کے لیے۔ میں نے کہا: تو کس طرف رخ کرتا تھا۔ اس نے کہا: جس طرف میرا ربّ میرا رخ موڑ دیتا تھا۔ میں رات کے آخری حصے میں نمازِ عشا ادا کرتا تھا۔ اب میں گم سم ہو کر لیٹ گیا،یہاں تک کہ سورج چڑھ آیا۔ انیس نے کہا: مجھے مکہ میں کوئی کام ہے، تو مجھے کفایت کر۔ انیس چلا گیا، مکہ پہنچ گیا اور مجھے اچھائی کا بدلہ برائی سے دیا۔ پھر وہ واپس آ گیا۔ میں نے پوچھا: تو نے وہاں کیا کیا ہے؟ اس نے کہا: میں مکہ میں ایک ایسے آدمی کو ملا ہوں جو تیرے دین پر ہے، وہ خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مبعوث فرمایا ہے۔ میں نے کہا: لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا: لوگ اسے شاعر، نجومی اور جادو گر کہتے ہیں۔ انیس خود بھی ایک شاعر تھا۔ اس نے کہا: لیکن میں نے نجومیوں کا کلام سنا ہے اور اس کے کلام کو زبان آور شعراء کے کلام پر پیش کیا ہے، لیکن کسی کی زبان یہ فیصلہ نہیں کر سکتی کہ وہ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام بھی) شعر ہے۔ اللہ کی قسم! وہ صادق ہے اور لوگ جھوٹے ہیں۔ میں نے کہا: اب تو مجھے کفایت کر، تاکہ میں بھی جا کر دیکھ سکوں (کہ اصل ماجرا کیا ہے؟) اس نے کہا: تم مکہ والوں سے بچ کر رہنا کیونکہ وہ اسے ناپسند کر رہے ہیں میں مکہ پہنچ گیا اور ایک آدمی کے پاس مہمان ٹھہرا اور اس سے پوچھا: وہ آدمی کہاں ہے جس کو تم لوگ بے دین کہتے ہو؟ اس نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ بے دین۔ (یہ سنتے ہی) اہل وادی مٹی کے ڈھیلے اور ہڈیاں لے کر مجھ پر چڑھ دوڑے، میں بے ہوش ہو کر گر پڑا، جب (مجھے افاقہ ہوا اور)میں اٹھا تو ایسے لگتا تھا کہ میں ایک سرخ پتھر ہوں۔ میں زمزم پانی پر آیا، خون دھویا، اس کا پانی پیا اور میں کعبہ کے پردوں کے اندر داخل ہو گیا اے میرے بھتیجے! میں وہاں تیس دنوں تک ٹھہرا رہا۔ میرے پاس ماسوائے زمزم کے علاوہ کوئی کھانا نہیں تھا، وہی پی کر میں موٹا ہوتا رہا (یعنی خوراک کی کمی پوری کرتا رہا) اور اپنے پیٹ کی سلوٹیں ختم کرتا رہا۔ مجھے بھوک کی وجہ سے ہونے والی لاغری محسوس نہیں ہوئی۔ (دن گزرتے رہے اور) ایک دن مکہ میں چاندنی رات اور صاف فضا تھی، اچانک ان کے کانوں میں یہ آواز پڑی کہ کوئی بھی بیت اللہ کا طواف نہ کرے اور دو عورتیں اساف اور نائلہ کو پکار رہی تھیں۔ اس نے کہا: وہ طواف کے دوران میرے پاس سے گزریں، میں نے کہا: ایک کی دوسرے سے شادی کر دو۔ لیکن وہ اپنے قول سے باز نہ آئیں۔ (چکر کے دوران پھر) میرے پاس سے گزریں۔ میں نے کہا: شرمگاہ تو لکڑی کی طرح ہے اور میں نے بات کنایۃً نہیں کی۔ وہ دونوں چیختی چلاتی چلتی گئیں اور یہ کہتی گئیں کہ کاش ہماری جماعت کا بھی کوئی آدمی یہاں ہوتا! اس نے کہا: اسی اثنا میں ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابو بکر (بلندی سے) اترتے ہوئے آ رہے تھے۔ آپ نے کہا: تمھیں کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے کہا: کعبہ اور اس کے پردوں کے درمیان بے دین ہے۔ انہوں نے کہا: اس نے تمھیں کیا کہا: انھوں کہا: ایسی بات کہی کہ جس سے منہ بھر جاتا ہے۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور حجرِ اسود کا استلام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی نے بیت اللہ کا طواف کیا اور پھر نماز پڑھی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابوذر نے کہا: میں پہلا آدمی تھا جس نے انھیں اسلام کا سلام پیش کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وعلیک ورحمۃ اللہ پھر فرمایا: آپ کون ہیں؟ میں نے کہا: میں غفار قبیلے سے ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ جھکایا اور اپنی انگلی اپنی پیشانی پر رکھی۔ میں دل ہی دل میں کہنے لگا کہ شاید آپ نے غفار کی طرف میری نسبت کو ناپسند کیا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑنا چاہا لیکن آپ کے ساتھی نے مجھے روک دیااور وہ آپ کو مجھ سے زیادہ جانتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا: آپ اس جگہ کب سے ہیں؟ میں نے کہا: میں تیس دنوں سے یہاں ہوں، پھر آپ نے فرمایا: کون تجھے کھانا کھلاتا تھا؟ میں نے کہا: زمزم کے پانی کے علاوہ میرے پاس کوئی کھانا نہیں ہے، یہی پانی پی کر میں موٹا ہوتا رہا اور اپنے پیٹ کی سلوٹیں پر کرتا رہا اور مجھے بھوک کی وجہ سے کوئی لاغری محسوس نہیں ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ پانی مبارک ہے اور یہ کھانے کا کھانا ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں، آج رات میں اس کو کھانا کھلاؤں گا۔ آپ نے اجازت دے دی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر چل پڑے اور میں بھی ان کے ساتھ چل دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دروازہ کھولا اور طائف کا منقی لانا شروع کیا۔ یہ پہلا کھانا تھا جو میں نے کھایا، پھر کچھ مدت میں وہاں ٹھہرا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی کھجوروں والی زمین میرے لیے مطیع کر دی گئی ہے، مجھے لگتا ہے کہ وہ یثرب (مدینہ) ہے، کیا تو اپنی قوم کو میرا پیغام پہنچا دے گا، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تیرے ذریعے ان کو نفع دے اور ان کی وجہ سے تجھے اجرو ثواب بھی عطا کرے۔ میں انیس کے پاس پہنچا۔ اس نے پوچھا: تو نے کیا کیا ہے؟ میں نے کہا: اسلام قبول کر لیا ہے اور تصدیق کی ہے۔ اس نے کہا: میں بھی تیرے دین سے بے رغبتی نہیں کرتا، میں بھی مطیع ہو گیا ہوں اورمیں نے بھی تصدیق کی ہے ہم دونوں اپنی ماں کے پاس گئے تو کہنے لگی مجھے بھی تمہارے دین سے بے رغبتی نہیں میں بھی مسلمان ومطیع ہوگئی۔ ہم سوار ہوئے اور اپنی قوم غفار کے پاس پہنچ گئے۔ نصف قبیلہ تو مسلمان ہو گیا۔ ایماء بن رحضہ غفاری، جو ان کا سردار تھا، ان کو نماز پڑھاتا تھا۔ اور نصف قبیلے نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائیں گے تو ہم بھی مسلمان ہو جائیں گے۔ پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو وہ نصف قبیلہ کے لوگ بھی مسلمان ہو گئے۔ اسلم قبیلہ کے لوگ آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! جس چیز پر ہمارے بھائی مسلمان ہوئے، ہم بھی اسی چیز پر مسلمان ہوتے ہیں۔ پھر وہ مسلمان ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غفار قبیلہ، اللہ اس کو بخش دے اور اسلم قبیلہ، اللہ اسے سلامتی کے ساتھ رکھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11907]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2473، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21525 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21858»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا اصل نام جندب بن جنادہ ہے، انہوںنے اسلام کے اولین دور میں مکہ مکرمہ آ کر اسلام قبول کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لے کر اپنے علاقے میں واپس چلے گئے اور پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہنے کا شرف حاصل رہا، سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کا امتیازی وصف یہ تھا کہ ڈٹ کر حق بات کرنے والے اور دنیا سے اتنی بے رغبتی برتنے والے تھے کہ انسان کی ضرورت سے زائد چیز کو ذخیرہ کرنا حرام سمجھتے تھے۔ آپ کی وفات ربذہ میں (۳۲) سن ہجری میں ہوئی، سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور وہ بھی ان سے دس دنوں کے بعد مدینہ منورہ میں وفات پا گئے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11908
عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ وَلَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ مِنْ رَجُلٍ أَصْدَقَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ“
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمین نے نہیں اٹھایا کسی ایسے آدمی کو اور آسمان نے سایہ نہیں کیا کسی ایسے آدمی پر جو ابوذر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر سچا ہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11908]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، اخرجه الترمذي: 3801،وابن ماجه: 156، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7078 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7078»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11909
(وَعَنْهُ فِي أُخْرَى) ”أَصْدَقَ لَهْجَةً مِنْ أَبِي ذَرٍّ“
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: جو زبان کے لحاظ سے ابو ذر سے سچا ہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11909]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6630»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے صدق اور سچائی کو ثابت کرنے کے لیے کمال کی تاکید اور مبالغہ ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح