الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَاب مَا جَاءَ فِي أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11930
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ مِنْ حَلَقِ الْأَنْصَارِ فَجَاءَنَا أَبُو مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَأَنَّهُ مَذْعُورٌ فَقَالَ إِنَّ عُمَرَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ فَأَتَيْتُهُ فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ وَقَدْ قَالَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنِ اسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ“ فَقَالَ لَتَجِيئَنَّ بِبَيِّنَةٍ عَلَى الَّذِي تَقُولُ وَإِلَّا أَوْجَعْتُكَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَتَانَا أَبُو مُوسَى مَذْعُورًا أَوْ قَالَ فَزِعًا فَقَالَ أَسْتَشْهِدُكُمْ فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَكُنْتُ أَصْغَرَهُمْ فَقُمْتُ مَعَهُ وَشَهِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنِ اسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں انصار کے ایک حلقہ میں بیٹھا ہواتھا کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور وہ کچھ ڈرے ڈرے سے لگ رہے تھے انہوں نے کہا، دراصل سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنے پاس بلایا تھا، پس میں ان کے پاس آیا اور تین بار اجازت طلب کی، لیکن جب مجھے اجازت نہیں دی گئی تو میں واپس پلٹ گیا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تین مرتبہ کسی سے اجازت طلب کرے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ واپس چلا جائے۔ جب میں نے یہ حدیث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتلائی تو انھوں نے کہا: اس بات کی دلیل لاؤ، وگرنہ میں تم کو سزا دوں گا، پس میں گواہی طلب کرنے کے لیے آیا ہوں، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر ہم میں جو سب سے چھوٹا ہے، وہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوگا، سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہی سب سے چھوٹا تھا، پس میں کھڑا ہوا اور یہ گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تین مرتبہ اجازت طلب کرے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ واپس چلا جائے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11930]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6245، ومسلم: 2153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11029 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11043»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11931
عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ بِهِ وَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ يَوْمَ عِيدٍ وَلَمْ يَكُ يُخْرَجُ بِهِ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَمْ يَكُ يُبْدَأُ بِهَا قَالَ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ مَنْ هَذَا قَالُوا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ قَالَ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيَفْعَلْ وَقَالَ مَرَّةً فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِيَدِهِ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ“
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مروان نے عید والے دن (عید گاہ میں) منبر رکھوایا، جبکہ یہ اس سے پہلے نہیں نکالا جاتا تھا اور نماز سے پہلے خطبے سے ابتدا کی، جبکہ اس سے نہیں، بلکہ نماز سے ابتدا کی جاتی تھی۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: مروان! تو نے سنت کی مخالفت کی ہے، تونے آج عید کے دن منبر نکالا ہے، جبکہ اسے نہیں نکالا جاتا تھا اور تو نے نماز سے پہلے خطبہ سے ابتدا کی ہے، حالانکہ خطبہ سے تو ابتدا نہیں کی جاتی تھی۔ سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ آدمی کون ہے؟ لوگوں نے کہا: فلان بن فلان ہے۔ پھر انھوں نے کہا؛ اس شخص نے تو اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے جو شخص برائی کو دیکھے اور اسے ہاتھ سے روکنے کی طاقت ہو تو وہ اس کو روکے، اگر ہاتھ سے ایسا کرنے کی طاقت نہ رکھے تو زبان سے روکے، اگر زبان سے بھی قدرت نہ ہو تو دل سے (برا جانے) اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11931]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 49، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11073/أ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11089»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11932
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِالْحَقِّ إِذَا شَهِدَهُ أَوْ عَلِمَهُ“ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَحَمَلَنِي عَلَى ذَلِكَ أَنِّي رَكِبْتُ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَمَلَأْتُ أُذُنَيْهِ ثُمَّ رَجَعْتُ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو لوگوں کا خوف حق بات کہنے سے نہ روکے، جبکہ وہ موقع پر موجود ہو یا حق بات کو جانتا ہو۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:اس حدیث نے مجھے آمادہ کیا اور میں سواری پر سوار ہو کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا اور ان کو بہت سی احادیث سنا کر واپس آگیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11932]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الترمذي: 2191، وابن ماجه: 4007، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11793 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11815»
الحكم على الحديث: صحیح
8. بابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11933
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ ثُمَّ قَالَ ”إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ“ فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ فَقَالَ ”لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ“ ثُمَّ قَالَ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ اللَّهُمَّ افْسَحْ فِي قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ“
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی آنکھیں یعنی نظر اوپر کو اٹھ چکی تھیں۔ (دراصل ان کی وفات ہو رہی تھی یا ہو چکی تھی اور آنکھیں کھلی تھیں)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھوں کو بند کیا اور فرمایا: جب روح قبض کی جاتی ہے تو نظر اس کا پیچھا کر تی ہے۔ یہ سن کر ان کے گھر والے رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے حق میں صرف خیر و بھلائی کی ہی دعا کرو، تم جو کچھ بھی کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود یوں دعا کی: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِأَبِی سَلَمَۃَ وَارْفَعْ دَرَجَتَہُ فِی الْمَہْدِیِّینَ، وَاخْلُفْہُ فِی عَقِبِہِ فِی الْغَابِرِینَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَہُ یَا رَبَّ الْعَالَمِینَ، اللَّہُمَّ افْسَحْ فِی قَبْرِہِ وَنَوِّرْ لَہُ فِیہِ (یا اللہ! ابو سلمہ کی مغفرت فرما اور ہدایت یافتہ لوگوں میں ان کے درجات بلند فرما اور ان کے بعد باقی رہ جانے والوں میں تو اس کا خلیفہ بن جا اور اے رب العالمین! تو اس کی اور ہماری مغفرت فرما، یا اللہ! اس کی قبر کو کشادہ کر اور اسے اس کے لیے روشن فرما۔) [الفتح الربانی/حدیث: 11933]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 920، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26543 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27078»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ قریش کی شاخ بنو مخزوم سے ہیں،یہ قدیم الاسلام صحابی ہیں، انہوںنے اپنی اہلیہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مکہ مکرمہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور پھر مدینہ منورہ کی طرف بھی ہجرت کرنے کی سعادت حاصل ہوئی، بدر اور احد کے غزوات میں شریک ہوئے، غزوۂ احد میں ان کو زخم آئے تھے، ان کے زخم ٹھیک ہوگئے تھے،لیکن پھر دوبارہ تازہ ہوگئے اور اسی کے سبب ان کی وفات ہو گئی۔
الحكم على الحديث: صحیح
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي الطُّفَيْلِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11934
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ قَالَ كُنْتُ أَطُوفُ مَعَ أَبِي الطُّفَيْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَا بَقِيَ أَحَدٌ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيْرِي قَالَ قُلْتُ وَرَأَيْتَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ كَيْفَ كَانَ صِفَتُهُ قَالَ كَانَ أَبْيَضَ مَلِيحًا مُقَصَّدًا
جریری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا: میرے سوا کوئی ایسا آدمی باقی نہیں رہا، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی ہو۔ میں نے ان سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ کیسا تھا؟ انھوں نے کہا: آپ گورے خوبصورت اور میانہ قد کے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11934]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2340، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23797 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24207»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11935
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَدْرَكْتُ ثَمَانِ سِنِينَ مِنْ حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَوُلِدْتُ عَامَ أُحُدٍ
سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری ولادت احد کے سال ہوئی تھی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے آٹھ سال پائے ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11935]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الحاكم: 3/ 618، والطبراني في الاوسط: 4302، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23799 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24209»
وضاحت: فوائد: … سیدناابوطفیل رضی اللہ عنہ کا نام عامر بن واثلہ ہے،ان کی وفات (۱۱۰) سن ہجری میںہوئی، صحابۂ کرام میں سب سے آخر میں ان کا انتقال ہوا تھا، حدیث نمبر (۱۱۶۰۸) میں ان کی وفات کا ذکر ہو چکا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِي
سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11936
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ كَانَ يَرْمِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ يَتَتَرَّسُ بِهِ وَكَانَ رَامِيًا وَكَانَ إِذَا رَمَى رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَخْصَهُ يَنْظُرُ أَيْنَ يَقَعُ سَهْمُهُ وَيَرْفَعُ أَبُو طَلْحَةَ صَدْرَهُ وَيَقُولُ هَكَذَا بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا يُصِيبُكَ سَهْمٌ نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَسُوقُ نَفْسَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ إِنِّي جَلْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَجِّهْنِي فِي حَوَائِجِكَ وَمُرْنِي بِمَا شِئْتَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑے کفار پر تیربرسا رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے ان کو ڈھال بنائے ہوئے تھے، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بڑے اچھے تیر انداز تھے، جب وہ تیر چھوڑتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سر اٹھا کر دیکھتے کہ تیر کہاں جا کر گرتا ہے اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بھی خوشی سے سینہ تان کر کہتے: اللہ کے رسول میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! ایسے ہوتی ہے تیر اندازی، اللہ کی قسم! کوئی تیر آپ تک نہیں پہنچے گا، میری گردن آپ کے آگے ہے۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ خود کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے لے جاتے اور کہتے: اے اللہ کی رسول! میں مضبوط ہوں، آپ اپنے کاموں کے لیے مجھے بھیجا کریں اور جوچاہیں مجھے حکم دیا کریں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11936]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2880، 3811، 4064،ومسلم: 1811، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14058 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14104»
وضاحت: فوائد: … کیا بات ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس محبت کی، جو اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرام کے دلوں میں ودیعت کر دی تھی، اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفاع میں جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑ جاتا تو یہ ان نفوسِ قدسیہ کے لیے کوئی مشکل مرحلہ نہیں ہوتا تھا۔ سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کا نام زید بن سہل بن اسود بن حرام ہے، انصار کے قبیلہ خزرج سے ان کا تعلق ہے، بدر اور اس کے بعد کے تمام معرکوں میں شریک رہے، یہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے شوہر ہیں،جب سیدنا ابو طلحہ نے سیدہ ام سلیم کو نکاح کا پیغام بھیجا تو انھوں نے نے جواباً کہا: آپ جیسے آدمی کو رد تو نہیں کرنا چاہیے، لیکن وجہ یہ ہے کہ میں مسلمان ہوں اور تم کا فر ہو، اس لیے تم میرے لیے حلال نہیں ہو، اگر تم اسلام لے آؤ تو یہی میرا مہر ہوگا، چنانچہ وہ مسلمان ہوگئے اور ان کا یہی مہر قرار پایا۔ ان کی وفات ۳۴ھ میں ہوئی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ ایک روایت کے مطابق یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد چالیس برس حیات رہے۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غزوہ کے دوران ایک سمندر میں ان کی وفات ہوئی، ان کی تدفین کے لیے سات دن بعد ایک جزیرہ میں جگہ مل سکی۔ اس وقت تک ان کے جسم میں کسی قسم کا تغیر نہ آیا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11937
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”صَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ خَيْرٌ مِنْ فِئَةٍ“ قَالَ وَكَانَ يَجْثُو بَيْنَ يَدَيْهِ فِي الْحَرْبِ ثُمَّ يَنْثُرُ كِنَانَتَهُ وَيَقُولُ وَجْهِي لِوَجْهِكَ الْوِقَاءُ وَنَفْسِي لِنَفْسِكَ الْفِدَاءُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لشکر میں ابوطلحہ اکیلے کی آواز پوری جماعت کی آواز سے بہتر ہے۔ جنگ کے دوران سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے گھٹنوں کے بل کھڑے ہو جاتے اور اپنے تر کش کے تیروں کو بکھیر دیتے اور کہتے: اے اللہ کے رسول! میرا چہرہ آپ کے چہرے کو بچانے والا ہے اور میری جان آپ کے لیے فدا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11937]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابويعلي: 3983، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13745 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13781»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی آواز میں رعب اور دبدبہ تھا، جس سے دشمن سہم جاتے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ واقعی کسی جنگجو کی آواز آ رہی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11938
قَالَ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَتَتَرَّسُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِتُرْسٍ وَاحِدٍ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ حَسَنَ الرَّمْيِ فَكَانَ إِذَا رَمَى أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک ہی ڈھال کی اوٹ میں ہو جاتے اور سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بہترین تیر انداز تھے، جب وہ تیر چلاتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گردن اٹھا کر دیکھتے کہ تیر کہاں جا کر گرتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11938]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2902، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13836»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11939
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ”أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ فَإِنَّهُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اپنی قوم کو میرا سلام کہنا، میرے علم کے مطابق یہ لوگ پاکدامن اور صابر ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11939]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف محمد بن ثابت البناني، اخرجه الترمذي: 3903، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12521 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12549»
الحكم على الحديث: ضعیف