الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي ذَرِّ الْغَفَّارِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقِصَّةِ إسلامه
سیدنا ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ اور ان کے اسلام لانے کا واقعہ
حدیث نمبر: 11910
عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ أَقْرَبَكُمْ مِنِّي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ خَرَجَ مِنَ الدُّنْيَا كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ تَرَكْتُهُ عَلَيْهِ“ وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ تَشَبَّثَ مِنْهَا بِشَيْءٍ غَيْرِي
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: قیامت کے دن میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوں گا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ تم میں سے جو آدمی دنیا سے اس حال میں گیا، جس حال میں میں اسے چھوڑ کر جاؤں تو وہ قیامت کے دن سب سے زیادہ میرے قریب ہو گا۔ اللہ کی قسم! میرے سوا تم میں سے ہر ایک دنیوی امور اور معاملات سے ملوث ہو چکا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11910]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين، اخرجه الطبراني في الكبير: 1627، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21458 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21790»
وضاحت: فوائد: … دنیا ہی واحد چیز ہے، جو انسان کو آخرت کے معاملے میں دھوکہ دے سکتی ہے اور سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے دنیا کو اپنے قریب تک نہیں پھٹکنے دیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11911
عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ قَالَ شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ كَانَ أَبُو ذَرٍّ يَسْمَعُ الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ الشِّدَّةُ ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى قَوْمِهِ يُسَلِّمُ لَعَلَّهُ يُشَدِّدُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُرَخِّصُ فِيهِ بَعْدُ فَلَمْ يَسْمَعْهُ أَبُو ذَرٍّ فَيَتَعَلَّقَ أَبُو ذَرٍّ بِالْأَمْرِ الشَّدِيدِ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسی حدیث سنتے، جس میں کوئی سخت حکم ہوتا، وہ یہ حدیث سن کر اپنی قوم کی طرف چلے جاتے تاکہ اس حدیث کی روشنی میں ان پر سختی کریں، بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حکم میں رخصت اور نرمی کر دیتے۔ لیکن سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ اس نرمی اور رخصت والا حکم نہ سن پاتے، پس وہ اس سخت حکم پر ہی کاربند رہتے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11911]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17137 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17267»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11912
وَعَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ يَفِرُّ النَّاسُ مِنْهُ حِينَ يَرَوْنَهُ قَالَ قُلْتُ مَنْ أَنْتَ قَالَ أَنَا أَبُو ذَرٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ مَا يُفِرُّ النَّاسَ قَالَ إِنِّي أَنْهَاهُمْ عَنِ الْكُنُوزِ بِالَّذِي كَانَ يَنْهَاهُمْ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
احنف بن قیس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں تھا، میں نے دیکھا کہ لوگ ایک آدمی کو دیکھتے تو اس سے دور بھاگ جاتے، میں نے اس آدمی سے دریافت کیا کہ آپ کون ہیں؟ اس نے بتلایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابی ابوذر رضی اللہ عنہ ہوں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ لوگ آپ کو دیکھ کر کیوں بھاگ جاتے ہیں؟ انہوں نے بتلایا کہ میں ان لوگوں کو وہ خزانے یعنی مال و دولت جمع کرنے سے روکتا ہوں، جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع کیا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11912]
تخریج الحدیث: «صحيح، اخرجه الحاكم: 4/ 522، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21782»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11913
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ جَالِسًا، وَكَانُوا يَظُنُّونَ أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، فَأَقْصَرُوا عَنْهُ حَتَّى جَاءَ أَبُو ذَرٍّ فَاقْتَحَمَ، فَأَتَى فَجَلَسَ إِلَيْهِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ”يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ صَلَّيْتَ الْيَوْمَ؟“ قَالَ: لَا، قَالَ: ”قُمْ فَصَلِّ.“ فَلَمَّا صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ الضُّحَى أَقْبَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: ”يَا أَبَا ذَرٍّ تَعَوَّذْ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ.“ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! وَهَلْ لِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟ قَالَ: ”نَعَمْ، شَيَاطِينُ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا.“ ثُمَّ قَالَ: ”يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أُعَلِّمُكَ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ.“ قَالَ: بَلَى جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ، قَالَ: ”قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ.“ قَالَ: فَقُلْتُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ سَكَتَ عَنِّي فَاسْتَبْطَأْتُ كَلَامَهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ وَعَبَدَةَ أَوْثَانٍ فَبَعَثَكَ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ أَرَأَيْتَ الصَّلَاةَ مَاذَا هِيَ؟ قَالَ: ”خَيْرٌ مَوْضُوعٌ مَنْ شَاءَ اسْتَقَلَّ وَمَنْ شَاءَ اسْتَكْثَرَ.“ قَالَ: قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ الصِّيَامَ مَاذَا هُوَ؟ قَالَ: ”فَرْضٌ مُجْزِئٌ.“ قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ الصَّدَقَةَ مَاذَا هِيَ؟ قَالَ: ”أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ، وَعِنْدَ اللَّهِ الْمَزِيدُ.“ قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ”سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ، وَجُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ.“ قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَيُّمَا نَزَلَ عَلَيْكَ أَعْظَمُ؟ قَالَ: {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [سورة البقرة: آية 255]، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ”مَنْ سُفِكَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ.“ قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ”أَغْلَاهَا ثَمَنًا وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا.“ قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! فَأَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ؟ قَالَ: ”آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ.“ قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَوَنَبِيٌّ كَانَ آدَمُ؟ قَالَ: ”نَعَمْ، نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ، خَلَقَهُ اللَّهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِ رُوحَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: يَا آدَمُ قُبْلًا.“ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَمْ وَفَّى عِدَّةُ الْأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ: ”مِائَةُ أَلْفٍ وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفًا، الرُّسُلُ مِنْ ذَلِكَ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا.“
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، صحابۂ کرام نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا نزول ہو رہا ہے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے خاموشی اختیار کئے رکھی،یہاں تک کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ آکر مجلس میں گھس گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا بیٹھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ابو ذر! کیا تم نے آج نماز چاشت ادا کر لی ہے؟ انہوں نے کہا:جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اٹھو اور نماز ادا کرلو۔ انہوں نے چاشت کی چار رکعات ادا کیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف رخ کرکے فرمایا: ابوذر! آپ جنات اور انسانی شیاطین کے شر سے پناہ طلب کرتے رہا کریں۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے نبی! کیا انسانوں میں بھی شیاطین ہوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جنات اور انسانی شیاطین دھوکہ دیتے ہوئے جھوٹی باتوں کو ایک دوسرے کی طرف القاء کرتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! کیا میں تمہیں جنت کے خزانے کا ایک کلمہ نہ سکھاؤں؟ انہوں نے کہا: اللہ مجھے آپ پر فدا کرے، ضرور سکھلائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ کہو۔ میں نے یہ کلمہ دہرایا، اس کے بعد آپ میری طرف سے خاموش ہو گئے، میں نے آپ کی بات کا انتظار کیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ہم مشرک اور بت پرست تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث کیا، نماز کے متعلق ارشاد فرمائیں کہ یہ کیسی چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک بہترین عبادت ہے، اب یہ انسانوں کی مرضی ہے تھوڑی عبادت کریں یا زیادہ؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! روزے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ فرض ہے اور اس کا ثواب بہت ہے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! صدقہ کے بارے میں فرمائیں کہ اللہ کے ہاں اس کا کیا ثواب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا اجر کئی گنا ہے اور اللہ کے ہاں اس کا مزید اجر بھی ہے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پوشیدہ طور پر کسی حاجت مند تہی دست کو صدقہ دینا اور تنگ دست آدمی کا صدقہ کرنا سب سے افضل صدقہ ہے۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے نبی! آپ پر جو قرآن نازل ہوا ہے۔اس میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت کونسی ہے؟ آپ نے فرمایا: {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ}یعنی آیت الکرسی، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کون سا شہید سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا خون اللہ کی راہ میں بہادیا گیا اور اس کے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دی گئیں۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کس قسم کے غلام کو آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو سب سے زیادہ قیمت والا ہو اور اپنے مالکوں کی نظر میں زیادہ پسند ہو۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! سب سے پہلے نبی کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ ایسے نبی تھے، جن سے اللہ تعالیٰ نے براہ راست کلام کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے مبارک ہاتھ سے پیدا کیا، پھر اس میں اپنی پیدا کی ہوئی روح پھونکی، پھر اللہ نے ان سے فرمایا:آدم! سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انبیاء کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار اور ان میں سے تین سو پندرہ افراد کی بڑی جماعت رسول ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11913]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا من اجل علي بن يزيد الالھاني، اخرجه الطبراني في الكبير: 7871، وابن حبان: 6190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22288 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22644»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11914
عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْتُ لِأَبِي ذَرٍّ شَبِيهًا.
ابو اسود دیلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے متعدد صحابۂ کرام کی زیارت کی ہے، میں نے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ جیسا کوئی نہیں دیکھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11914]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21908»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11915
حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، أَنَّهُ زَارَ أَبَا الدَّرْدَاءِ بِحِمْصَ فَمَكَثَ عِنْدَهُ لَيَالِيَ وَأَمَرَ بِحِمَارِهِ فَأُوكِفَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: مَا أَرَانِي إِلَّا مُتَّبِعَكَ، فَأَمَرَ بِحِمَارِهِ فَأُسْرِجَ فَسَارَا جَمِيعًا عَلَى حِمَارَيْهِمَا، فَلَقِيَا رَجُلًا شَهِدَ الْجُمُعَةَ بِالْأَمْسِ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بِالْجَابِيَةِ، فَعَرَفَهُمَا الرَّجُلُ وَلَمْ يَعْرِفَاهُ فَأَخْبَرَهُمَا خَبَرَ النَّاسِ، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ قَالَ: وَخَبَرٌ آخَرُ كَرِهْتُ أَنْ أُخْبِرَكُمَا أُرَاكُمَا تَكْرَهَانِهِ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: فَلَعَلَّ أَبَا ذَرٍّ نُفِيَ، قَالَ: نَعَمْ وَاللَّهِ فَاسْتَرْجَعَ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَصَاحِبُهُ، قَرِيبًا مِنْ عَشْرِ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: ارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ كَمَا قِيلَ لِأَصْحَابِ النَّاقَةِ، اللَّهُمَّ إِنْ كَذَّبُوا أَبَا ذَرٍّ فَإِنِّي لَا أُكَذِّبُهُ، اللَّهُمَّ وَإِنِ اتَّهَمُوهُ فَإِنِّي لَا أَتَّهِمُهُ، اللَّهُمَّ وَإِنِ اسْتَغَشُّوهُ فَإِنِّي لَا أَسْتَغِشُّهُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتَمِنُهُ حِينَ لَا يَأْتَمِنُ أَحَدًا وَيُسِرُّ إِلَيْهِ حِينَ لَا يُسِرُّ إِلَى أَحَدٍ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الدَّرْدَاءِ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ قَطَعَ يَمِينِي مَا أَبْغَضْتُهُ بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ مِنْ ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ.“
شہر بن حوشب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے عبدالرحمن بن غنم نے بیان کیا کہ وہ حمص میں سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کی زیارت کو گئے اور کئی راتیں ان کے ہاں قیام کیا، انہوں نے اپنے گدھے پر کاٹھی رکھنے کا حکم دیا، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں بھی آپ کے ہم راہ چلتا ہوں، انہوں نے اپنے گدھے پر گدی رکھنے کا حکم دیا، دونوں اپنے اپنے گدھے پر سوار ہو کر سفر پر روانہ ہوئے، ان کی ملاقات ایک آدمی سے ہوئی جو صرف ایک ہی دن قبل جابیہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز جمعہ ادا کرکے آیا تھا۔ اس نے ان دونوں کو پہچان لیا،یہ دونوں اسے نہیں پہچانتے تھے، اس نے ان کو لوگوں کے احوال سے آگاہ کیا، پھر اس نے کہا: ایک خبر اور بھی ہے، میں وہ آپ کو بتلانا نہیں چاہتا، میں جانتا ہوں کہ آ پ اس خبر کو اچھا نہیں سمجھیں گے۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بول اٹھے کہ شاید سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو شہر بدر کر دیا گیا ہوگا، اس نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! واقعی واقعہ رو نماہو چکا ہے، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی عبدالرحمن بن غنم نے تقریباً دس مرتبہ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کے کلمات دہرائے۔ پھر سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا: اب آپ ان لوگوں پر اللہ کے عذاب کے منتظر رہیں اور دیکھتے رہیں کہ ہوتا کیا ہے؟ یہ اسی طرح کا معاملہ ہے جیسے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی ٹانگیں کاٹنے والوں سے کہا گیا تھا کہ تم اپنے گھروں میں تین دن گزار لو۔ پھر سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: یااللہ! یہ لوگ اگر ابو ذر رضی اللہ عنہ کی تکذیب کرتے ہیں تو کریں میں اس کی بات کی تکذیب نہیں کرتا۔ یا اللہ! اگر یہ لوگ ان پر الزامات لگاتے ہیں تو لگائیں میں ان پر کسی قسم کا الزام نہیں دھرتا۔ یا اللہ! اگر یہ لوگ اس پر غالب آنا چاہتے ہیں تو آئیں میں ان پر غالب آنے کی کوشش نہیں کروں گا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر اس وقت بھروسہ کیا کرتے تھے، جب آپ کو کسی پر بھروسہ نہ ہوتا تھا، اور آپ اس وقت ان سے راز کی باتیں کر لیا کرتے تھے، جبکہ آپ کسی بھی شخص کے ساتھ راز دارانہ گفتگو نہ کیا کرتے تھے، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں ابو درداء کی جان ہے! اگر ابو ذر میرا دایاں ہاتھ کاٹ بھی ڈالیں تو میں ان سے ناراض نہ ہوں گا، کیونکہ میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات کہتے سن چکا ہوں کہ زمین نے نہیں اٹھایا کسی ایسے آدمی کو اور آسمان نے سایہ نہیں کیا کسی ایسے آدمی پر جو ابوذر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر سچا ہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11915]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، والمرفوع في آخره حسن لغيره، اخرجه مختصرا البزار: 2714، والحاكم: 3/344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22067»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11916
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ الْأَشْتَرِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ، حَضَرَهُ الْمَوْتُ وَهُوَ بِالرَّبَذَةِ فَبَكَتِ امْرَأَتُهُ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: أَبْكِي لَا يَدَ لِي بِنَفْسِكَ وَلَيْسَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُكَ كَفَنًا، فَقَالَ: لَا تَبْكِي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَأَنَا عِنْدَهُ فِي نَفَرٍ يَقُولُ: ”لَيَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْكُمْ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ، يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ.“ قَالَ: فَكُلُّ مَنْ كَانَ مَعِي فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ مَاتَ فِي جَمَاعَةٍ وَفُرْقَةٍ فَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ غَيْرِي، وَقَدْ أَصْبَحْتُ بِالْفَلَاةِ أَمُوتُ فَارَاقِبِي الطَّرِيقَ فَإِنَّكِ سَوْفَ تَرَيْنَ مَا أَقُولُ، فَإِنِّي وَاللَّهِ! مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ، قَالَتْ: وَأَنَّى ذَلِكَ وَقَدِ انْقَطَعَ الْحَاجُّ؟، قَالَ رَاقِبِي الطَّرِيقَ، قَالَ: فَبَيْنَا هِيَ كَذَلِكَ إِذَا هِيَ بِالْقَوْمِ تَخْدِيهِمْ رَوَاحِلُهُمْ كَأَنَّهُمُ الرَّخَمُ، فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ حَتَّى وَقَفُوا عَلَيْهَا، فَقَالُوا: مَا لَكِ؟ قَالَتْ: امْرُؤٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ تُكَفِّنُونَهُ وَتُؤْجَرُونَ فِيهِ، قَالُوا: وَمَنْ هُوَ؟ قَالَتْ: أَبُو ذَرٍّ، فَفَدَوْهُ بِآبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ وَوَضَعُوا سِيَاطَهُمْ فِي نُحُورِهَا يَبْتَدِرُونَهُ، فَقَالَ: أَبْشِرُوا أَنْتُمُ النَّفَرُ الَّذِينَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ مَا قَالَ، أَبْشِرُوا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”مَا مِنِ امْرَأَيْنِ مُسْلِمَيْنِ هَلَكَ بَيْنَهُمَا وَلَدَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ فَاحْتَسَبَا وَصَبَرَا فَيَرَيَانِ النَّارَ أَبَدًا.“ ثُمَّ قَدْ أَصْبَحْتُ الْيَوْمَ حَيْثُ تَرَوْنَ، وَلَوْ أَنَّ ثَوْبًا مِنْ ثِيَابِي يَسَعُنِي لَمْ أُكَفَّنْ إِلَّا فِيهِ، فَأَنْشُدُكُمُ اللَّهَ أَنْ لَا يُكَفِّنَنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ كَانَ أَمِيرًا أَوْ عَرِيفًا أَوْ بَرِيدًا، فَكُلُّ الْقَوْمِ كَانَ قَدْ نَالَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا إِلَّا فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ مَعَ الْقَوْمِ، قَالَ: أَنَا صَاحِبُكَ ثَوْبَانِ فِي عَيْبَتِي مِنْ غَزْلِ أُمِّي وَأَجِدُ ثَوْبَيَّ هَذَيْنِ الَّذَيْنِ عَلَيَّ، قَالَ: أَنْتَ صَاحِبِي فَكَفِّنِّي.
ابراہیم بن الاشتر سے روایت کیا ہے کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ ربذہ میں تھے، ان کی وفات کا وقت آیا تو ان کی اہلیہ رونے لگیں۔ انہوں نے دریافت کیا کہ آپ کیوں روتی ہیں؟ وہ بولیں: میں اس لیے رو رہی ہوں کہ میں اکیلی آپ کی تدفین کیسے کروں گی؟ اور میرے پاس تو آپ کے کفن کے لیے کافی کپڑا تک بھی نہیں ہے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم مت روؤ۔ میں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا تھا، اس وقت میں صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ ان کی خدمت میں حاضر تھا، آپ نے فرمایا تھا کہ تم میں سے ایک آدمی کو جنگل میں موت آئے گی، اس کے پاس اہل ایمان کی ایک جماعت پہنچ جائے گی، اس وقت میرے ساتھ جتنے بھی لوگ وہاں موجود تھے، وہ سب اس حال میں فوت ہوئے کہ ان کے اردگرد لوگوں کی جماعتیں موجود تھیں یا ان کی وفات کسی آبادی میں ہوئی، ان لوگوں میں سے صرف میں ہی باقی بچا ہوں اور اب میں جنگل (ویرانے) میں مر رہا ہوں، تم راستے پر نظر رکھو، میں تم سے جو کچھ کہہ رہا ہوں، تم عنقریب یہ سب کچھ دیکھ لو گی، اللہ کی قسم نہ تو میں غلط بیانی کر رہا ہوں اور نہ بیان کرنے والے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غلط بیانی کی ہے۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے حیران ہو کر کہا: ایسا کیونکر ہوگا۔ حجاج کرام حج سے فراغت کے بعد اپنے اپنے علاقوں کو واپس روانہ ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہرحال تم راستے پر نظر رکھنا، وہ اسی کیفیت میں تھی کہ اس نے دور سے لوگوں کو آتے دیکھا، جن کی سواریاں ان کو تیزی سے لا رہی تھیں، دور سے یوں لگتا تھا گویا کہ وہ پرندوں کا جھنڈ ہے، لوگ آتے آتے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ کے پاس پہنچ گئے۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا معاملہ ہے؟ وہ بولیں کہ ایک مسلمان آدمی ہے۔ آپ لوگ رک کر اس کی تکفین کریں، اللہ تمہیں اجر دے گا۔ انہوں نے دریافت کیا: وہ کون ہے؟ اس خاتون نے بتلایا کہ وہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ ہیں۔ تو ان سب لوگوں نے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اور انہوں نے اپنی لاٹھیاں سواریوں کی گردنوں میں لٹکا دیں اور بڑی پھرتی سے ان کی خدمت میں مصروف ہوگئے۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگوں کو بشارت ہو، تم ہی وہ لوگ ہو جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا، تمہیں مبارک ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا تھا کہ دو مسلمان (خاوند بیوی) جن کے دو یا تین (نابالغ) بچے وفات پا جائیں اور وہ دونوں ان بچوں کی وفات پر صبر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کے امید وار ہوں تو وہ کبھی بھی جہنم کو نہیں دیکھیں گے اور آج تم میرا حال دیکھ رہے ہو، اگر میرے کپڑوں میں سے کوئی کپڑا کافی ہو تو مجھے اسی میں کفن دیا جائے، میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ تم میں سے جو آدمی کسی قوم یاعلاقے کا امیر ہو یا اپنی قوم کا سردار ہو یا قوم کاقاصد ہو وہ مجھے کفن نہ پہنائے، وہ سب لوگ ان ذمہ داریوں کو ادا کر چکے تھے، البتہ ان میں صرف ایک انصاری لڑکا تھا۔ اس نے کہا: میں اس بارے میں آپ کی خدمت بجا لاؤں گا، میرے سامان میں دو کپڑے زائد ہیں،یہ دو کپڑے میری والدہ نے اپنے ہاتھوں سے کاتے ہیں اور میرے پاس اپنے استعمال کے لیےیہ دو کپڑے جو میرے زیب تن ہیں وہ کافی ہیں۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ٹھیک ہے، تم ہی مجھے کفن دینا۔ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہ سے بھی یہ حدیث مختصراً مروی ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11916]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21467 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21799»
الحكم على الحديث: صحیح
کتاب میں حدیث موجود نہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11917]
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11918
عَنْ قَنْبَرٍ حَاجِبِ مُعَاوِيَةَ قَالَ كَانَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُغَلِّظُ لِمُعَاوِيَةَ قَالَ فَشَكَاهُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَإِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ وَإِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَإِلَى أُمِّ حَرَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَقَالَ إِنَّكُمْ قَدْ صَحِبْتُمْ كَمَا صَحِبَ وَرَأَيْتُمْ كَمَا رَأَى فَإِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُكَلِّمُوهُ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ فَجَاءَ فَكَلَّمُوهُ فَقَالَ أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا الْوَلِيدِ فَقَدْ أَسْلَمْتَ قَبْلِي وَلَكَ السِّنُّ وَالْفَضْلُ عَلَيَّ وَقَدْ كُنْتُ أَرْغَبُ بِكَ عَنْ مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ وَأَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ فَإِنْ كَادَتْ وَفَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَفُوتَكَ ثُمَّ أَسْلَمْتَ فَكُنْتَ مِنْ صَالِحِي الْمُسْلِمِينَ وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَمْرُو بْنَ الْعَاصِ فَقَدْ جَاهَدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّا أَنْتِ يَا أُمَّ حَرَامٍ فَإِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَةٌ وَعَقْلُكِ عَقْلُ امْرَأَةٍ وَأَمَّا أَنْتَ وَذَاكَ قَالَ فَقَالَ عُبَادَةُ لَا جَرَمَ لَا جَلَسْتُ مِثْلَ هَذَا الْمَجْلِسِ أَبَدًا
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دربان قنبر سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سختی سے پیش آیا کرتے تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبادہ بن صامت، سیدنا ابوالدرداء، سیدنا عمرو بن عاص اور سیدہ ام حرام سے ان کی شکایت کی اور کہا: تم بھی اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہو، جیسے وہ ہیں، جیسے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، آپ لوگوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح دیکھا ہے، اگر مناسب سمجھو تو ان سے بات کرکے دیکھ لو کہ وہ ایسا سخت رویہ کیوں رکھتے ہیں؟ پھر انہوں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا، پس وہ آ گئے اور ان حضرات نے ان سے گفتگو کی۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابو الولید! (یعنی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ) آپ مجھ سے قبل دائرہ ٔ اسلام میں داخل ہوئے، آپ کو مجھ پر عمر اور فضیلت میں سبقت حاصل ہے، میں اس قسم کی محفل کی بجائے آپ کے ساتھ بیٹھنے کی رغبت رکھتا تھا، اے ابودرداء رضی اللہ عنہ اگر ایسا ہوتا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پہلے ہو جاتی اور تم ان کے بعد اسلام میں آتے تو تب بھی تم صالح مسلمانوں میں سے ہوتے، اے عمرو بن عاص! آپ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد اور غزووں میں شریک رہے ہیں اور اے ام حرام! (یہ عبادہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں) آپ تو ایک خاتون ہیں۔ اور آپ کی عقل بہر حال ایک عورت کی سی ہی ہے، آپ کو ایسے امور میں دخل انداز ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ سن کر سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یقینا میں اس قسم کی مجلس میں کبھی نہیں بیٹھ سکوں گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11918]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، وفي بعض حروفه نكارة، قنبر مولي معاوية مجھول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21309 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21634»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ انتہائی زاہدانہ زندگی کے قائل تھے اور جو آدمی دنیوی مال و دولت جمع کرتا اور ٹھاٹھ باٹھ کی زندگی گزارتا وہ اِن کی گرفت سے نہیں بچ سکتا تھا اور سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بلا جھجک اعتراض کرنے کی جرأت بھی رکھتے تھے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي زَيْدِ الْأَنْصَارِيِّ وَاسْمُهُ عَمْرُو بْنُ أَخْطَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدناابوزیدانصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ، ان کا نام عمرو بن اخطب ہے
حدیث نمبر: 11919
عَنْ عِلْبَاءِ بْنِ أَحْمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”ادْنُ مِنِّي“ قَالَ فَمَسَحَ بِيَدِهِ عَلَى رَأْسِي وَلِحْيَتِي قَالَ ثُمَّ قَالَ ”اللَّهُمَّ جَمِّلْهُ وَأَدِمْ جَمَالَهُ“ قَالَ فَلَقَدْ بَلَغَ بِضْعًا وَمِائَةَ سَنَةٍ وَمَا فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ بَيَاضٌ إِلَّا نَبْذٌ يَسِيرٌ وَلَقَدْ كَانَ مُنْبَسِطَ الْوَجْهِ وَلَمْ يَنْقَبِضْ وَجْهُهُ حَتَّى مَاتَ
سیدنا ابوزید انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میرے قریب ہو جاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سر اور داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور یہ دعا دی: ٍٔیا اللہ! اسے خوبصورت بنا دے اور اس کا جمال دائمی ہو۔ علبا کہتے ہیں: سیدنا ابو زید رضی اللہ عنہ کی عمر ایک سو چھ سات برس ہو گئی تھے، لیکن ان کے سر اور داڑھی کے بال بہت کم سفید ہوئے تھے، ان کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا اور ان کی وفات تک اس پر جھریاں نہیں پڑی تھیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11919]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21013»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں، ان کا نام عمرو بن اخطب ہے، درج ذیل بعض روایات میں ان کو نام کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے اور بعض میںکنیت کے ساتھ۔
الحكم على الحديث: صحیح