Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِي
سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11940
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ يُكْثِرُ الصَّوْمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُفْطِرُ إِلَّا فِي سَفَرٍ أَوْ مَرَضٍ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بھی کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہو گئی تو پھر تو وہ صرف سفر یا بیماری کی وجہ سے ہی روزے کا ناغہ کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11940]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2828، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12016 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12039»
وضاحت: فوائد: … قابل توجہ بات ہے کہ صحیح بخاری کی روایت میں اس روایت کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں: کَانَ أَبُوْطَلْحَۃَ لَا یَصُوْمُ عَلٰی عَہْدِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنْ اَجْلِ الْغَزْوَ۔ (سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ جہاد کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں روزہ نہیں رکھا کرتے تھے)۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسند احمد کی اس حدیث کے الفاظ یُکْثِرُ دراصل لَایُکْثِرُ تھے، لَا ساقط ہو گیا،یعنی سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ عہدِ نبوی میں جہادی مصروفیات کی وجہ سے زیادہ روزے نہیں رکھا کرتے تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي عَامِرِ الْأَشْعَرِى وَاسْمُهُ عبید رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو عامر عبید اشعری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11941
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُعَيْمٍ الْقَيْسِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ الْأَشْعَرِيُّ أَنَّ أَبَا مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ قَالَ لَمَّا هَزَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَوَازِنَ بِحُنَيْنٍ عَقَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ عَلَى خَيْلِ الطَّلَبِ فَطَلَبَ فَكُنْتُ فِيمَنْ طَلَبَهُمْ فَأَسْرَعَ بِهِ فَرَسُهُ فَأَدْرَكَ ابْنَ دُرَيْدِ بْنِ الصِّمَّةِ فَقَتَلَ أَبَا عَامِرٍ وَأَخَذَ اللِّوَاءَ وَشَدَدْتُ عَلَى ابْنِ دُرَيْدٍ فَقَتَلْتُهُ وَأَخَذْتُ اللِّوَاءَ وَانْصَرَفْتُ بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْمِلُ اللِّوَاءَ قَالَ ”يَا أَبَا مُوسَى قُتِلَ أَبُو عَامِرٍ“ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو يَقُولُ ”اللَّهُمَّ عُبَيْدَكَ عُبَيْدًا أَبَا عَامِرٍ اجْعَلْهُ مِنَ الْأَكْثَرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حنین میں بنو ہوازن کو ہزیمت سے دو چار کیا، تو رسول اللہ نے بھاگ جانے والے مشرکوں کا پیچھا کرنے کے لیے سیدنا ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ کو گھڑ سواروں کے ایک دستہ پر مامور فرمایا،یہ ان کے پیچھے روانہ ہوئے، میں بھی ان کے ساتھ تھا، سیدنا ابو عامر رضی اللہ عنہ کا گھوڑا تیزی سے ان کو لے کر آگے نکل گیا، انہوں نے ابن درید کو جا لیا، لیکن ابن درید نے سیدنا ابو عامر رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا اور ان کا جھنڈا قبضے میں لے لیا، پھر میں نے ابن درید کا پیچھا کر کے اسے قتل کر دیا اور جھنڈا دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیا اور میں لوگوں کے ساتھ واپس ہوا، رسول اللہ نے جھنڈا اُٹھائے دیکھا تو فرمایا: اے ابو موسیٰ! کیا ابو عامر قتل ہو گئے ہیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہ دعا کر رہے تھے: اے اللہ اپنے پیارے بندے عبید ابو عامر کو قیامت کے روز ان لوگوں میں بنانا جن کے صالح اعمال بہت اور بے شمار بلند درجات ہوں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11941]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بغير ھذه السياقة، وھذا اسناد ضعيف لضعف عبد الله بن نُعيم، ولانقطاعه، الضحاك بن عبد الرحمن روايته عن ابي موسي مرسلة أخرجه ابويعلي: 7222، وابن حبان: 7191، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19796»
وضاحت: فوائد: … اس روایت کا صحیح سیاق درج ذیل ہے، جو کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے:
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لَمَّا فَرَغَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنْ حُنَیْنٍ بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلٰی جَیْشٍ إِلٰی أَوْطَاسٍ فَلَقِیَ دُرَیْدَ بْنَ الصِّمَّۃِ فَقُتِلَ دُرَیْدٌ وَہَزَمَ اللّٰہُ أَصْحَابَہُ قَالَ أَبُو مُوسٰی وَبَعَثَنِی مَعَ أَبِی عَامِرٍ فَرُمِیَ أَبُو عَامِرٍ فِی رُکْبَتِہِ رَمَاہُ جُشَمِیٌّ بِسَہْمٍ فَأَثْبَتَہُ فِی رُکْبَتِہِ فَانْتَہَیْتُ إِلَیْہِ فَقُلْتُ: یَا عَمِّ مَنْ رَمَاکَ فَأَشَارَ إِلٰی أَبِی مُوسٰی فَقَالَ ذَاکَ قَاتِلِی الَّذِی رَمَانِی فَقَصَدْتُ لَہُ فَلَحِقْتُہُ فَلَمَّا رَآنِی وَلّٰی فَاتَّبَعْتُہُ وَجَعَلْتُ أَقُولُ لَہُ أَلَا تَسْتَحْیِی أَلَا تَثْبُتُ فَکَفَّ فَاخْتَلَفْنَا ضَرْبَتَیْنِ بِالسَّیْفِ فَقَتَلْتُہُ ثُمَّ قُلْتُ لِأَبِی عَامِرٍ قَتَلَ اللّٰہُ صَاحِبَکَ قَالَ فَانْزِعْ ہٰذَا السَّہْمَ فَنَزَعْتُہُ فَنَزَا مِنْہُ الْمَاء ُ قَالَ: یَا ابْنَ أَخِی أَقْرِئِ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم السَّلَامَ وَقُلْ لَہُ اسْتَغْفِرْ لِی وَاسْتَخْلَفَنِی أَبُو عَامِرٍ عَلَی النَّاسِ فَمَکُثَ یَسِیرًا ثُمَّ مَاتَ فَرَجَعْتُ فَدَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِی بَیْتِہِ عَلٰیسَرِیرٍ مُرْمَلٍ وَعَلَیْہِ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ رِمَالُ السَّرِیرِ بِظَہْرِہِ وَجَنْبَیْہِ فَأَخْبَرْتُہُ بِخَبَرِنَا وَخَبَرِ أَبِی عَامِرٍ وَقَالَ قُلْ لَہُ اسْتَغْفِرْ لِی فَدَعَا بِمَاء ٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ فَقَالَ: ((اَللَّہُمَّ اغْفِرْ لِعُبَیْدٍ أَبِی عَامِرٍ۔)) وَرَأَیْتُ بَیَاضَ إِبْطَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((اَللَّہُمَّ اجْعَلْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَوْقَ کَثِیرٍ مِنْ خَلْقِکَ مِنِ النَّاسِ۔)) فَقُلْتُ وَلِی فَاسْتَغْفِرْ فَقَالَ: ((اَللَّہُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ ذَنْبَہُ وَأَدْخِلْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُدْخَلًا کَرِیمًا۔))
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ حنین سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوعامر کو ایک لشکر کا سردار بنا کر قوم اوطاس کی جانب بھیجا، ان کا مقابلہ درید سے ہوا، درید مارا گیا اور اس کے ساتھیوں کو اللہ نے شکست دی، سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھی ابوعامر کے ساتھ بھیجا تو ابوعامر کے گھٹنا میں ایک تیر آکر لگا جو ایک جشمی آدمی نے پھینکا تھا، وہ تیر ان کے زانو میں اتر گیا، میں ان کے پاس گیا اور پوچھا، چچا جان! آپ کو کس نے تیر مارا ہے؟ انہوں نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو اشارہ سے بتایا کہ میرا قاتل وہ ہے، جس نے میرے تیر مارا ہے، پس میں اس کی تاک میں چلا، جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ بھاگا۔ میں نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے کہتا جارہا تھا: اوبے غیرت، اوبے غیرت، اب ٹھہرتا کیوں نہیں؟ وہ ٹھہر گیا میں اور وہ ایک دوسرے پر تلواروں سے حملہ آور ہوئے اور میں نے اسے قتل کردیا، پھر میں نے ابوعامر سے کہا: اللہ نے آپ کے قاتل کو ہلاک کر دیا ہے، انہوں نے کہا: میرایہ پیوست شدہ تیر تو نکالو میں نے وہ تیر نکالا تو اس (زخم) سے پانی نکلا، انہوں نے کہا: برادر زادہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میرا سلام کہنا اور آپ سے عرض کرنا کہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں، ابوعامر نے مجھے اپنی جگہ امیر لشکر نامزد کیا تھوڑی دیر زندہ رہ کر وہ شہید ہوگئے، میں واپس لوٹا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مکان میں بان والی چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے اور اس پر (برائے نام ایسا) بستر تھا کہ چارپائی کے بان کے نشانات آپ کی پشت اور پہلوؤں میں پڑگئے، چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے اور ابوعامر کے حالات کی اطلاع دی اور (میں نے کہا کہ) انہوں نے آپ سے یہ عرض کرنے کو کہا ہے کہ میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا، پھر اپنے ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اے اللہ! ابوعامر عبید کی مغفرت فرما اور (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ اتنے اونچے تھے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی میں دیکھ رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اسے قیامت کے دن اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت عطا فرما۔ میں نے عرض کیا: میرے لئے بھی دعائے مغفرت فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! عبداللہ بن قیس کے گناہوں کو بخش دے اور قیامت کے دن اسے معزز جگہ داخل فرما۔ ابوبردہ کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک دعا سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ کے لئے تھی اور دوسری سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے لئے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ أَمِيْنِ هَذِهِ الأمة رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
امین الامہ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11942
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ وَرَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ وَغَيْرِهِمَا قَالُوا لَمَّا بَلَغَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَرَغَ حُدِّثَ أَنَّ بِالشَّامِ وَبَاءً شَدِيدًا قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ شِدَّةَ الْوَبَاءِ فِي الشَّامِ فَقُلْتُ إِنْ أَدْرَكَنِي أَجَلِي وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ حَيٌّ اسْتَخْلَفْتُهُ فَإِنْ سَأَلَنِي اللَّهُ لِمَ اسْتَخْلَفْتَهُ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ أَمِينًا وَأَمِينِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ“ فَأَنْكَرَ الْقَوْمُ ذَلِكَ وَقَالُوا مَا بَالُ عُلْيَا قُرَيْشٍ يَعْنُونَ بَنِي فِهْرٍ ثُمَّ قَالَ فَإِنْ أَدْرَكَنِي أَجَلِي وَقَدْ تُوُفِّيَ أَبُو عُبَيْدَةَ اسْتَخْلَفْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَإِنْ سَأَلَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لِمَ اسْتَخْلَفْتَهُ قُلْتُ سَمِعْتُ رَسُولَكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّهُ يُحْشَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْنَ يَدَيِ الْعُلَمَاءِ نَبْذَةً“
شریح بن عبید اور راشد بن سعد وغیرہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سرغ کے مقام تک پہنچے تو ان کو اطلاع ملی کہ سر زمین شام میں شدید قسم کی وباء پھوٹ پڑی ہے،انہوں نے لوگوں سے کہا: مجھے اطلاع ملی ہے کہ شام میں شدید وبا پھیل گئی ہے، میں نے سوچا ہے کہ اگر مجھے موت نے آلیا اور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ زندہ رہ گئے تو میں ان کو اپناخلیفہ نامزد کر کے جاؤں گا، اگر اللہ نے مجھ سے پوچھا کہ تو نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر ان کو خلیفہ نام زد کیوں کیا تو میں جواب دوں گا کہ میں نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا تھا کہ ہر نبی کا ایک قابل اعتماد آدمی ہوتا ہے اور میرا قابل اعتماد آدمی ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہے۔ لوگوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اس بات کا انکار کرتے ہوئے کہا: قریش کے اشراف کا کیا بنے گا، ان کی مراد بنو فہر کے لوگ تھے، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر مجھے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے بعد موت آئی تو میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کروں گا، اگر میرے رب عزوجل نے مجھ سے دریافت کیا کہ تو نے ان کو خلیفہ نامزد کیوں کیا تو میں کہوں گاکہ میں نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا تھا کہ معاذ قیامت کے دن اہل علم کے آگے آگے جائیں گے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11942]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، اخرجه بنحوه الحاكم: 3/ 268، واحمد في الفضائل: 1285، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 108 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 108»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں، ان کا نام عامر بن عبداللہ بن جراح ہے، ساتویں پشت میں فہر بن مالک پر جا کر ان کا نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب سے جا ملتا ہے، یہ عشر مبشرہ میں سے ہیں، قدیم الاسلام ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بدر اور اس کے بعد کے غزوات میں شریک رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو امین الامہ کے لقب سے نوازا ہے،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد ِ خلافت میں ان کی طرف سے سر زمین شام کے عامل تھے اور وہیں (۱۸) سن ہجری میں (۵۸)سال کی عمر میںطاعون عمواس کے دوران وفات پائی۔
امین سے مراد وہ قابل اعتماد آدمی ہے، جس پر اعتبار کیا جائے، سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا امانت کے ساتھ خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ وصف ان میں بدرجۂ اتم پایا جاتا تھا، جیسا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سب سے بڑھ کر شرم و حیا سے متصف تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11943
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَيُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ قَالَتْ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَتْ ثُمَّ عُمَرُ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَتْ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ فَسَكَتَتْ
عبداللہ بن شقیق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کس صحابی سے سب سے زیادہ محبت تھی؟ انہوں نے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے۔ میں نے پوچھا: ان کے بعدکون محبوب تھا؟ انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ۔ میں نے کہا: ان کے بعد؟ انھوں نے کہا: سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ، میں نے دریافت کیا کہ ان کے بعد کون؟ لیکن اس بار وہ خاموش رہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11943]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 717، 732، 1156، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25829 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26353»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11944
عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ قَالَ عُمَرُ لِأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ابْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُبَايِعَكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”أَنْتَ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ“ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ مَا كُنْتُ لِأَتَقَدَّمَ بَيْنَ يَدَيْ رَجُلٍ أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَؤُمَّنَا فَأَمَّنَا حَتَّى مَاتَ
ابو بختری سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کروں، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ آپ اس امت کے امین یعنی انتہائی قابل اعتماد آدمی ہیں۔ تو سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس آدمی سے آگے کیسے بڑھ سکتا ہوں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ وہ ہماری امامت کرائیں، پھر انھوں نے اپنی وفات تک ہماری امامت کرائی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11944]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو البختري سعيد بن فيروز لم يدرك عمر، اخرجه الحاكم: 3/ 267، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 233 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 233»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی مراد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے، جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں یہ حکم دیا تھا کہ وہ لوگوںکو امامت کروائیں۔
یہ روایت تو ضعیف ہے، سقیفہ بنو ساعدہ میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ رائے پیش کی تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ میں سے کسی ایک کی بیعت کی جائے، لیکن ان کے جواب میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خود سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے حق میں رائے دی اور ان کی بیعت کر لی، ان کے بعد لوگوں نے ان کی بیعت کرنا شروع کر دی۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11945
عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ اسْتَعْمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى الشَّامِ وَعَزَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ قَالَ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بُعِثَ عَلَيْكُمْ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ“ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”خَالِدٌ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَنِعْمَ فَتَى الْعَشِيرَةِ“
عبدالملک بن عمیر سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کرکے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو شام کا عامل مقرر کیا تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا: اس امت کے امین اور انتہائی قابل اعتماد آدمی کو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اس امت کے امین ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہیں۔ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ خالد بن ولید اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے اور اپنے خاندان کا بہترین فرد ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11945]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، اخرجه الطبراني في الكبير: 3825، وفي الاوسط: 5811، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16823 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16947»
وضاحت: فوائد: … ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور فتح کو لازم ملزوم قرار دیا ہے اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی ان فتوحات کے سلسلے کی وجہ سے بعض لوگ اس فتنے میں مبتلا ہو گئے کہ اگر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی قیادت موجود ہے تو فتح یقینی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی راسخ توحید نے یہ تقاضا کیا کہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو معزول کر کے لوگوں کو یہ سبق دیا جائے کہ فتح اور مدد صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب کے سیدنا خالد بن ولید کو معزمل کرنے کی وجہ کیا تھی، اس بارے ایک رائے ہمارے فاضل
محققn نے ذکر کی ہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے شاندار بحث دیکھیں تاریخ اسلام جلد اوّل (ص ۳۸۳ تا ۲۸۶) از اکبر شاہ نجیب آبادی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11946
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ الْعَاقِبُ وَالسَّيِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ قَالَ وَأَرَادَا أَنْ يُلَاعِنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ لَا تُلَاعِنْهُ فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَعَنَّا قَالَ خَلَفٌ فَلَاعَنَّا لَا نُفْلِحُ نَحْنُ وَلَا عَقِبُنَا أَبَدًا قَالَ فَأَتَيَاهُ فَقَالَا لَا نُلَاعِنُكَ وَلَكِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَ فَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِينًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ حَقَّ أَمِينٍ“ قَالَ فَاسْتَشْرَفَ لَهَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ قَالَ فَقَالَ ”قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ“ قَالَ فَلَمَّا قَفَا قَالَ ”هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ“
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نجران کے حاکم کے دونمائندے عاقب اور سید آئے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ملاعنت یعنی مباہلہ کرنا چاہتے تھے، لیکن ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا:اس محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مباہلہ نہ کرو۔ اللہ کی قسم! اگر یہ سچا نبی ہوا اور ہم نے ان سے مباہلہ کر لیا تو نہ ہم فلاح پائیں گے اور نہ ہمارے بعد ہماری نسل فلاح پاسکے گی۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ہم آپ سے مباہلہ نہیں کرتے،البتہ ہم آپ کا مطالبہ پورا کر دیتے ہیں، آپ کسی امین آدمی کو ہمارے ساتھ روانہ کریں تاکہ ہم صلح نامہ کے مطابق طے شدہ مال اسے ادا کر دیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے ساتھ ایک ایسے آدمی کو بھیجوں گا جو صحیح معنوں میں امین اور دیانت دار ہے۔ یہ سن کر سب صحابہ نے نظریں اٹھا اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیطرف دیکھا (کہ یہ منصب کس خوش نصیب کو ملتا ہے) پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو عبیدہ! اٹھو۔ جب سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ روانہ ہوگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اس امت کا امین اور قابل اعتماد آدمی ہے۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزشتہ حدیث کی مانند روایت بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11946]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه ابن ماجه: 136، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3930 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3930»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11947
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزشتہ حدیث کی مانند روایت بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11947]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4380،ومسلم: 2420، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23272 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23661»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11948
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَهْلَ الْيَمَنِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالُوا ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمُنَا السُّنَّةَ وَالْإِسْلَامَ قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ ”هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اہل یمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے درخواست کی:آپ ہمارے ساتھ کوئی آدمی بھیجیں جو ہمیں سنت اور اسلام کی تعلیم دے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: یہ اس امت کا امین اوردیانت دار آدمی ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11948]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2419، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14048 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14094»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. فَصْلٌ فِي سَبَبٍ مَوْتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی موت کابیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11949
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ رَابِّهِ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ كَانَ خَلَفَ عَلَى أُمِّهِ بَعْدَ أَبِيهِ كَانَ شَهِدَ طَاعُونَ عَمَوَاسَ قَالَ لَمَّا اشْتَعَلَ الْوَجَعُ قَامَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي النَّاسِ خَطِيبًا فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ وَإِنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ يَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَقْسِمَ لَهُ مِنْهُ حَظَّهُ قَالَ فَطُعِنَ فَمَاتَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَاسْتُخْلِفَ عَلَى النَّاسِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَامَ خَطِيبًا بَعْدَهُ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ وَإِنَّ مُعَاذًا يَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَقْسِمَ لِآلِ مُعَاذٍ مِنْهُ حَظَّهُ قَالَ فَطُعِنَ ابْنُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاذٍ فَمَاتَ ثُمَّ قَامَ فَدَعَا رَبَّهُ لِنَفْسِهِ فَطُعِنَ فِي رَاحَتِهِ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ يُقَبِّلُ ظَهْرَ كَفِّهِ ثُمَّ يَقُولُ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِمَا فِيكِ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا فَلَمَّا مَاتَ اسْتُخْلِفَ عَلَى النَّاسِ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَامَ فِينَا خَطِيبًا فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ إِذَا وَقَعَ فَإِنَّمَا يَشْتَعِلُ اشْتِعَالَ النَّارِ فَتَجَبَّلُوا مِنْهُ فِي الْجِبَالِ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبُو وَاثِلَةَ الْهُذَلِيُّ كَذَبْتَ وَاللَّهِ لَقَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتَ شَرٌّ مِنْ حِمَارِي هَذَا قَالَ وَاللَّهِ مَا أَرُدُّ عَلَيْكَ مَا تَقُولُ وَأَيْمُ اللَّهِ لَا نُقِيمُ عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ وَخَرَجَ النَّاسُ فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ وَدَفَعَهُ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْ رَأْيِ عَمْرٍو فَوَاللَّهِ مَا كَرِهَهُ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ جَدُّ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُشْكُدَانَةَ
شہر بن حوشب اشعری سے روایت ہے وہ اپنے سوتیلے باپ جو اس کی قوم کے ایک آدمی ہیں، سے روایت کرتے ہیں، جس نے اس کے والد کی وفات کے بعد اس کی والدہ سے نکاح کیا تھا اور وہ طاعون عمواس کے موقع پر حاضر تھا، اس سے مروی ہے کہ جب وہاں طاعون کی وبا پھیلی تو سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کیا اور کہا: لوگو! یہ بیماری تمہارے اللہ کی طرف سے رحمت اور تمہارے نبی کی دعاء کا نتیجہ اور تم سے پہلے صالحین کی موت کا ذریعہ ہے اور ابو عبیدہ اللہ سے دعا کرتا ہے کہ وہ اسے بھی اس میں سے حصہ عطا کرے، رابہ سے مروی ہے کہ اس دعا کے بعد سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ طاعون میں مبتلا ہو کر فوت ہو گئے اور انہوں نے لوگوں پر سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو امیر نامزد کیا۔ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور خطاب کرتے ہوئے لوگوں سے کہا: لوگو! یہ بیماری تمہارے رب کی رحمت، تمہارے نبی کی دعا اور تم سے پہلے صالحین کی موت کا سبب رہی ہے اورمعاذ اللہ سے دعا کرتا ہے کہ وہ آل معاذ رضی اللہ عنہ کو اس بیماری میں سے حصہ عطا کرے۔ رابہ سے مروی ہے کہ اس کے بعد سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے فرزند عبدالرحمن بن معاذ طاعون میں مبتلا ہو کر فوت ہوگئے، اس کے بعد سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنے رب سے اپنے حق میں دعا کی، چنانچہ ان کی ہتھیلی پر طاعون کا پھوڑا ظاہر ہوا، میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اس پھوڑے کو دیکھتے اور اپنی ہتھیلی کی پشت کو بوسہ دے کر کہتے تھے کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ تیری وجہ سے مجھے جو مقام ملنے والا ہے، اس کی بجائے مجھے دنیا بھر کی دولت مل جائے، پھر جب ان کا انتقال ہوا تو انہوں نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو لوگوں پر اپنا نائب نامزد کر دیا۔ وہ بھی خطبہ دیتے ہوئے ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، انہوں نے کہا: لوگو! جب یہ بیماری شروع ہوتی ہے تو آگ کے شعلوں کی مانند پھیلتی چلی جاتی ہے، تم اس سے بچنے کے لیے پہاڑوں کی طرف نکل جاؤ۔ ان کی یہ بات سن کر ابو واثلہ ہذلی رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کی یہ بات درست نہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہ چکا ہوں، تم تو میرے اس گدھے سے بھی بد تر ہو۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کی بات کا جواب نہیں دیتا، تاہم اللہ کی قسم! ان حالات میں ہم یہاں نہیں رہ سکتے اور پھر وہ وہاں سے دور چلے گئے اور لوگ بھی ان کے ساتھ وہاں سے دور چلے گئے،وہ اس طاعون کے علاقے سے چلے گئے تو اللہ نے بھی اسے ان سے دور کر دیا، جب یہ بات امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے اس بات کو نا پسند نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11949]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، شھر بن حوشب ضعيف، وشيخه فيه مجھول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1697 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1697»
وضاحت: فوائد: … عمواس رملہ اور بیت المقدس کے ما بین ایک مقام ہے۔ وہاں (۱۸)سن ہجری میں طاعون کی وبا پھوٹی تھی، جس میں پچیسیا تیس ہزار مسلمان لقمۂ اجل بنے تھے، اس میں وفات پانے والوں میں سیدناابو عبیدہ بن جراح، سیدنایزید بن ابی سفیان، سیدنا معاذ بن جبل، سیدنا شرجیل بن حسنہ اور سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں