Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي زَيْدِ الْأَنْصَارِيِّ وَاسْمُهُ عَمْرُو بْنُ أَخْطَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدناابوزیدانصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ، ان کا نام عمرو بن اخطب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11920
وَعَنْ أَبِي زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”جَمَلَكَ اللَّهُ“ قَالَ أَنَسٌ وَكَانَ رَجُلًا جَمِيلًا حَسَنَ السَّمْتِ
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں جمال سے نوازے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ خوبصورت اور بہترین نقش و نگار رکھتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11920]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابن حبان: 7170، والطبراني: 17/ 43، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22885 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23273»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11921
عَنْ عَمْرِو بْنِ أَخْطَبَ يَعْنِي أَبَا زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ قَالَ اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَفِيهِ شَعْرَةٌ فَرَفَعْتُهَا ثُمَّ نَاوَلْتُهُ فَقَالَ ”اللَّهُمَّ جَمِّلْهُ“ قَالَ فَرَأَيْتُهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ وَتِسْعِينَ سَنَةً وَفِي رِوَايَةٍ فَرَأَيْتُهُ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ وَمَا فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ شَعْرَةٌ بَيْضَاءُ
۔ (تیسری سند)سیدنا ابو زید عمرو بن اخطب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی طلب فرمایا، میں آپ کی خدمت میں پانی کا برتن لے کر حاضر ہوا، اس میں پانی اور ایک بال تھا، میں نے بال نکال دیا اور پانی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یوں دعا دی: یا اللہ! اسے خوبصورت بنا دے۔ راوی کہتا ہے: میں نے ابو زید رضی اللہ عنہ کو (۹۳) سال کی عمر میں اور دوسری روایت کے مطابق (۹۴)سال کی عمر میں دیکھا کہ ان کے سر اور داڑھی میں ایک بھی سفید بال نہ تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11921]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابن حبان: 7172، والحاكم: 4/ 139، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22883 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23271»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11922
حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا أَبَا زَيْدٍ ادْنُ مِنِّي وَامْسَحْ ظَهْرِي“ وَكَشَفَ ظَهْرَهُ فَمَسَحْتُ ظَهْرَهُ وَجَعَلْتُ الْخَاتَمَ بَيْنَ أَصَابِعِي قَالَ فَغَمَزْتُهَا قَالَ فَقِيلَ وَمَا الْخَاتَمُ قَالَ شَعَرٌ مُجْتَمِعٌ عَلَى كَتِفِهِ
سیدنا ابو زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو زید! تم میرے قریب ہو جاؤ اور میری پشت پر ہاتھ پھیرو۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پشت سے کپڑا ہٹایا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک پر ہاتھ پھیرا اور مہر نبوت کو میں نے اپنی انگلیوں میں لے لیا اور اسے دبا کر دیکھا۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ وہ مہر کیسی تھی؟ انھوں نے کہا: وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے پر تھی اور اس پر بال اُگے ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11922]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابويعلي: 6846، والترمذي في الشمائل: 19، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22889 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23277»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11923
وَعَنْ أَبِي زَيْدٍ عَمْرِو بْنِ أَخْطَبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ رَأَيْتُ الْخَاتَمَ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَرَجُلٍ قَالَ بِإِصْبَعِهِ الثَّلَاثَةِ هَكَذَا فَمَسَحْتُهُ بِيَدِي
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو زید عمرو بن اخطب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کاندھوں کے درمیان جو مہر تھی، وہ دیکھی۔ ابو زیدنے تین انگلیوں کو جمع کر کے اشارہ کرکے بتلایا کہ وہ اس طرح تھی، میں نے اسے ہاتھ لگا کر چھوا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11923]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الطبراني: 17/ 48، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22882 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23270»
وضاحت: فوائد: … مہرِ نبوت کی وضاحت کے لیے حدیث نمبر (۱۱۱۵۱)والا باب دیکھیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11924
وَعَنْ تَمِيمِ بْنِ حُوَيْصٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَاتَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ مَرَّةً قَالَ شُعْبَةُ أَحَدُ الرُّوَاةِ وَهُوَ جَدُّ عَزْرَةَ هَذَا
سیدنا ابوزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں تیرہ غزوات لڑے ہیں۔ شعبہ راوی نے کہا: سیدنا ابو زید رضی اللہ عنہ اس عزرہ کے دادا تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11924]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، اخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 50، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22884 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23272»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَاب مَا جَاءَ فِي أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11925
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأَى رُؤْيَا أَنَّهُ يَكْتُبُ ص فَلَمَّا بَلَغَ إِلَى سَجْدَتِهَا قَالَ رَأَى الدَّوَاةَ وَالْقَلَمَ وَكُلَّ شَيْءٍ بِحَضْرَتِهِ انْقَلَبَ سَاجِدًا قَالَ فَقَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَزَلْ يَسْجُدُ بِهَا بَعْدُ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہ خواب دیکھا کہ وہ سورۂ ص لکھ رہے ہیں، جب اس کی سجدہ والی آیت کے پاس پہنچے تو انہوں نے دوات،قلم اور اپنے پاس والی ہر چیز کودیکھا کہ وہ سجدے کی حالت میں ہو گئی، پھر جب انہوں نے یہ خواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سجدہ کرنا شروع کر دیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11925]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، بكر بن عبد الله المزني لم يسمع من ابي سعيد الخدري، أخرجه الحاكم: 2/ 432، والبيھقي في السنن: 2/ 320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11741 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11763»
وضاحت: فوائد: … سورۂ ص میں سجدے والی آیت سے یہ آیت مراد ہے:{وَظَنَّ دَاودُ اَنَّمَا فَتَنَّاہُ فَاسْتَغْفَر رَبَّہٗوَخَرَّرَاِکِعاًوَاَنَابَ} (سورۂص: ۶۴)
یہ روایت تو منقطع ہے، لیکن اس موضوع سے متعلقہ درج ذیل دو روایات صحیح ہیں:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رَاَیْتُ فِیْمَایُرٰی النَّائِمُ کَاَنِّي تَحْتَ شَجَرَۃٍ، وَکَأَنَّ الشَّجَرَۃَ تَقْرَأُ
ص۔ فَلَمَّا اَتَتْ عَلَی السَّجْدَۃِ سَجَدَتْ،فَقَالَتْ فِي سُجُوْدِھَا: اَللّٰھُمَّ اکْتُبْ لِي بِھَا اَجْرًا، وَحُطَّ عَنِّي بِھَا وِزْرًا، وَاَحْدِثْ لِي بِھَا شُکْرًا، وَتَقَبَّلْھَا مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِکَ دَاوٗدَسَجْدَتَہُ۔فَلَمَّااَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَی النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَاَخْبَرْتُہُ بِذٰلِکَ،فَقَالَ: ((سَجَدَتَّ اَنْتَ یَا اَبَاسَعِیْدٍ؟)) فَقُلْتُ: لَا۔ قَالَ: ((اَنْتَ کُنْتَ اَحَقَّ بِالسُّجُوْدِ مِنَ الشَّجَرَۃِ۔)) فَقَرَاَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سُوْرَۃَ ص حَتّٰی اَتٰی عَلَی السَّجْدَۃِ،فَقَالَ فِي سُجُوْدِہِ مَاقَالَتِ الشَّجَرَۃُفيِ سُجُوْدِھَا۔ میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک درخت کے نیچے ہوں اور درخت سورۂ ص کی تلاوت کر رہا ہے، جب اس نے سجدہ والی آیت پڑھی تو اس نے سجدۂ تلاوت کیا اور اس میں یہ دعا پڑھی: اے اللہ! میرے لیے اس سجدے کی وجہ سے اجر لکھ، اس کے ذریعے مجھ سے گناہ دور کر دے، اس کے ذریعے مجھے شکر کرنے کی از سرِ نو توفیق دے اور یہ سجدہ مجھ سے اس طرح قبول کر، جس طرح کہ تو نے اپنے بندے داود (علیہ السلام) سے اس کا سجدہ قبول کیا تھا۔ جب صبح ہوئی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور ساری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو سعید! کیا تو نے بھی سجدہ کیا تھا؟ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تو درخت کی بہ نسبت سجدہ کرنے کا زیادہ حقدار تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ ص کی تلاوت کی،یہاں تک کہ سجدہ والی آیت تک پہنچے، (پھر سجدہ کیا اور) اس میں وہی دعا پڑھی جو درخت نے پڑھی تھی۔ (مسند ابو یعلی: ۱/۲۹۸، معجم اوسط: رقم ۴۹۰۴، صحیحہ: ۲۷۱۰)
عَنْ اَبِيْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کُتِبَتْ عِنْدَہٗسُوْرَۃُ النَّجْمِ، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَۃَ سَجَدَ، وَسَجَدْنَا مَعَہُ، وَسَجَدتِ الدَّوَاۃُ وَالْقَلَمُ۔ … سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سورۂ نجم لکھی گئی، جب سجدہ والی آیت تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور ہم نے سجدہ کیا اور دوات اور قلم نے بھی سجدہ کیا۔
(مسند بزار:۱/۳۶۰/۷۵۳، صحیحہ:۳۰۳۵)
دراصل کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہے اور اس کی تسبیح و تعریف بیان کرتی ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ} (سورۂ نحل: ۴۹) … آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے۔
مزید ارشاد فرمایا: {وَاِنْ مِنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖوَلٰکِنْلَا تَفْقَہُوْنَ تَسْبِیْحَھُمْ} (سورۂ اسرائ: ۴۴) … ہر چیز اس کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے، لیکن تم لوگ ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ پاتے۔
انسان کے سامنے جتنی مخلوقات ہیں، وہ ان کی بندگی کا یہ انداز نہیں سمجھ سکتا، بسا اوقات اللہ تعالیٰ معجزانہ طور پر دکھا دیتے ہیں، جیساکہ ان احادیث سے پتہ چل رہا ہے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا نام سعد بن مالک بن سنان انصاری خزرجی ہے، غزوۂ احد کے موقع پر ان کی عمر تیرہ سال تھی، ان کو کم عمر قرار دے کر غزوہ میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی، ان کے والد مالک بن سنان غزوۂ احد میں شہادت کی سعادت سے ہم کنار ہوئے تھے، سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے غزوۂ خندق اور اس کے بعد والے غزوات میں شرکت کی سعادت حاصل کی،یہ بہت ساری احادیث کے راوی ہیں، ان کی وفات مدینہ منورہ میں (۶۳یا۶۴یا۶۵) سن ہجری میں ہوئی اور ایک قول کے مطابق (۷۴)سن ہجری میں ہوئی۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11926
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ ثَلَاثِينَ رَاكِبًا قَالَ فَنَزَلْنَا بِقَوْمٍ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ فَسَأَلْنَاهُمْ أَنْ يُضَيِّفُونَا فَأَبَوْا قَالَ فَلُدِغَ سَيِّدُهُمْ قَالَ فَأَتَوْنَا فَقَالُوا فِيكُمْ أَحَدٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ أَنَا وَلَكِنْ لَا أَفْعَلُ حَتَّى تُعْطُونَا شَيْئًا قَالُوا فَإِنَّا نُعْطِيكُمْ ثَلَاثِينَ شَاةً قَالَ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ الْحَمْدُ لِلَّهِ سَبْعَ مَرَّاتٍ قَالَ فَبَرَأَ وَفِي لَفْظٍ قَالَ فَجَعَلَ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفُلُ فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأَتَوْهُمْ بِالشَّاءِ قَالَ فَلَمَّا قَبَضْنَا الْغَنَمَ قَالَ عَرَضَ فِي أَنْفُسِنَا مِنْهَا قَالَ فَكَفَفْنَا حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي لَفْظٍ فَقَالَ أَصْحَابِي لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا بِشَيْءٍ لَا نَأْخُذُ مِنْهُ شَيْئًا حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ”أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ اقْسِمُوهَا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ“ وَفِي لَفْظٍ فَقَالَ ”كُلْ وَأَطْعِمْنَا مَعَكَ وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ“ قَالَ قُلْتُ أُلْقِيَ فِي رَوْعِي
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم تیس سوار مجاہدین کو ایک سریّے میں بھیجا، ہم عرب کی ایک قوم کے پاس سے اترے اوران سے میزبانی کا اپنا حق طلب کیا، لیکن انہوں نے انکار کردیا، ہوا یوں کہ ان کے ایک سردار کو کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، وہ ہمارے پاس آئے اورکہنے لگے کہ کیا تم میں سے کوئی آدمی ڈسنے کا دم کر لیتا ہے، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ہاں میں کرلیتا ہوں، لیکن میں اس وقت تک دم نہیں کروں گا، جب تک تم ہمیں کچھ عطا نہیں کروگے، انہوں نے کہا: ہم تمہیں تیس بکریاں دیں گے، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس پر سورۂ فاتحہ پرھنی شروع کی اور سات مرتبہ پڑھی،اپنی تھوک جمع کرتا اور پھر اس پر تھوک دیتا، پس وہ تندرست ہوگیا اور انہوں نے تیس بکریاں دے دیں، جب ہم نے وہ بکریاں اپنے قبضے میں لے لیں، تو ہمیں شک ہو نے لگا (کہ پتہ نہیں یہ ہمارے لئے حلال بھی ہیں یا کہ نہیں)۔سو ہم ان پر کوئی کاروائی کرنے سے رک گئے، یہاں تک کہ ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت نہ کر لیں۔ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تونے کیسے جانا کہ یہ دم ہے! ان کو تقسیم کر لو اور میرا بھی حصہ مقرر کرو۔ ایک روایت میں ہے: تو خود بھی کھا اور ہمیں بھی اپنے ساتھ کھلا، بھلا تجھے کیسے پتہ چلا تھا کہ یہ دم ہے؟ میں نے کہا: جی بس میرے دل میں یہ بات ڈال دی گئی تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11926]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2276، 5749، ومسلم: 2201، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11070 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11086»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11927
عَنْ هِلَالِ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ نَزَلْتُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَضَمَّنِي وَإِيَّاهُ الْمَجْلِسُ قَالَ فَحَدَّثَ أَنَّهُ أَصْبَحَ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ عَصَبَ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًا مِنَ الْجُوعِ فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ أَوْ أُمُّهُ ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلْهُ فَقَدْ أَتَاهُ فُلَانٌ فَسَأَلَهُ فَأَعْطَاهُ وَأَتَاهُ فُلَانٌ فَسَأَلَهُ فَأَعْطَاهُ قَالَ فَقُلْتُ حَتَّى أَلْتَمِسَ شَيْئًا قَالَ فَالْتَمَسْتُ فَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَخْطُبُ فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ وَهُوَ يَقُولُ ”مَنِ اسْتَعَفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنِ اسْتَغْنَى يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ سَأَلَنَا إِمَّا أَنْ نَبْذُلَ لَهُ وَإِمَّا أَنْ نُوَاسِيَهُ وَمَنْ يَسْتَعِفَّ عَنَّا أَوْ يَسْتَغْنِي أَحَبُّ إِلَيْنَا مِمَّنْ يَسْأَلُنَا“ قَالَ فَرَجَعْتُ فَمَا سَأَلْتُهُ شَيْئًا فَمَا زَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَرْزُقُنَا حَتَّى مَا أَعْلَمُ فِي الْأَنْصَارِ أَهْلَ بَيْتٍ أَكْثَرَ أَمْوَالًا مِنَّا
ہلال بن حصین کہتے ہیں: میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے ہاں جا کر ٹھہرا، ہم ایک مجلس میں جمع ہوئے، سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دفعہ انہوں نے اس حال میں صبح کی کہ بھوک کی شدت کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھا ہوا تھا، ان کی اہلیہ یا والدہ نے ان سے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ مانگ کر لاؤ، جب فلاں آدمی نے جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیا تھا، اسی طرح فلاں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر مانگا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بھی عطا کیا تھا۔ میں (ابو سعید)نے جواباً کہا: میں پہلے (کسی اور ذریعہ سے) کوئی چیز حاصل کرنے کی کوشش کروں گا، پھر میں نے ایسے ہی کیا، مگر مجھے (کہیں سے) کچھ بھی نہ ملا۔ بالآخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلا گیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت یہ بات ارشاد فرما رہے تھے: جو آدمی مانگنے سے بچے گا، اللہ تعالیٰ اسے بچا لے گا اور جس نے غِنٰی اختیار کیا، اللہ تعالیٰ اسے غنی کر دے گا اور جو آدمی ہم سے کوئی چیز مانگے گا تو ہم اسے کچھ نہ کچھ دے دیں گے، بہرحال جو شخص ہم سے مانگنے سے بچے گا اور غِنٰی اختیار کرے گا تو وہ ہمیں سوال کرنے والے آدمی کی بہ نسبت زیادہ محبوب ہو گا۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ حدیث سن کر میں واپس چلا آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی سوال نہیں کیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس قدر رزق دیا کہ میں نہیں جانتا کہ انصار کے کسی گھر والے ہم سے زیادہ مال دار ہوں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11927]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، اخرجه الطيالسي: 2211، وابن ابي شيبة: 3/ 211، والبيھقي في شعب الايمان: 3504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11401 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11421»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ نے جس غیرت کے ساتھ حدیث ِ مبارکہ کے تقاضے پورے کیے، اس کی برکتوں کا سلسلہ لامتناہی ہے، لیکن اس کی ابتداء بندے کے صبر سے ہوتی ہے۔ حقیقی رزّاق اللہ تعالیٰ ہے، ساری مخلوق اسی کی محتاج ہے اور وہ سب سے غنی ہے، اس نے ہر ایک کو رزق دینا ہے، ہمیں چاہیے کہ اچھے انداز میں اس سے اپنا رزق وصول کریں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11928
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَرَّحَتْنِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فَأَتَيْتُهُ فَقَعَدْتُ قَالَ فَاسْتَقْبَلَنِي فَقَالَ ”مَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ وَمَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ وَمَنِ اسْتَكْفَى كَفَاهُ اللَّهُ وَمَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ“ قَالَ فَقُلْتُ نَاقَتِي الْيَاقُوتَةُ مَعِيَ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری والدہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی چیز مانگ کر لے آؤں، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ کر وہاں بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: جس شخص نے غنی ہونا چاہا، اللہ تعالیٰ اسے غنی کر دے گا، جس نے (لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلانے) سے پاکدامنی اختیار کی، اللہ تعالیٰ اسے پاکدامن بنا دے گا، جس نے اللہ تعالیٰ سے کفایت چاہی، اللہ تعالیٰ اسے کفایت کرے گا اور اگر ایک اوقیہ کی قیمت کا مالک سوال کرے گا تو وہ اصرار کے ساتھ سوال کرے گا (جو اس کا حق نہیں ہے)۔ یہ سن کر سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سوچا کہ میری یاقوتہ اونٹنی ایک اوقیہ سے بہتر ہے، اس لیے میں لوٹ گیا اور سوال نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11928]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، اخرجه النسائي: 5/ 98، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11060 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11075»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11929
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرَّ بِهِ فَقَالَ لَهُ أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَرَدْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ وَعَنْ أَشْيَاءَ مِنَ الْأَشْرِبَةِ وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ مُحَدِّثٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعَتْ أُذُنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ ”إِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ مِنَ الْأَشْرِبَةِ أَوِ الْأَنْبِذَةِ فَاشْرَبُوا وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَإِنْ زُرْتُمُوهَا فَلَا تَقُولُوا هُجْرًا“
محمد بن عمرو بن ثابت سے مروی ہے کہ میرے والد نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے اور ان سے کہا:ابو عبدالرحمن! آپ کدھر جا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے ہاں جانا چاہتا ہوں، میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ابو سعید! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا ہے کہ آپ قربانی کے گوشت سے،بعض مخصوص مشروبات سے اور زیارت قبور سے منع فرما رہے تھے اور مجھے اطلاع ملی ہے کہ آپ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ بیان کرتے ہیں۔سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے تمہیں تین دنوں کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، اب تم جب تک چاہو کھا سکتے اور ذخیرہ کر سکتے ہو، اب اللہ نے خوش حالی کر دی ہے اور میں نے تمہیں بعض برتنوں کے مشروبات (یعنی نبیذ) سے منع کیا تھا۔ اب تم ان برتنوں میں بھی تیار کرکے پی سکتے ہو، (بس اتنا یاد رکھو کہ) ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب اگر تم قبرستان جاؤ تو خلاف شرع باتیں نہ کیا کرو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11929]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه مالك في المؤطا: 2/ 485، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11627 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11650»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں