🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ما جاء في الابتداء بحمد الله تعالى - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من ابتداء الحمد لله جل وعلا في أوائل كلامه عند بغية مقاصده-
اللہ تعالیٰ کی حمد سے آغاز کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جس میں بتایا گیا ہے کہ انسان پر لازم ہے کہ اپنے مقاصد کے آغاز میں اللہ جل و علا کی حمد کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ قُرَّةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لا يُبْدَأُ فِيهِ بِحَمْدِ اللَّهِ، فَهُوَ أَقْطَعُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ہر وہ کام جس کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ نہ کیا جائے، وہ نامکمل ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/المقدمة/حدیث: 1]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «...مرسل صحیح، أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1، 2، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10255، 10256، 10257، 10258، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4840، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1894، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5849، والدارقطني فى (سننه) برقم: 883، 884، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8833، والبزار فى (مسنده) برقم: 7898، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 27219، والطبراني فى(الكبير) برقم: 141»
«قال الدارقطني: والصحيح عن الزهري المرسل، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (8 / 29)»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الإرواء» (1/ 30/ 2).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف لضعف قرة - وهو ابن عبد الرحمن بن حيوئيل المعافري المصري - ضعفه ابن معين، وأحمد، وأبو زرعة، وأبو حاتم، والنسائي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب ما جاء في الابتداء بحمد الله تعالى - ذكر الأمر للمرء أن تكون فواتح أسبابه بحمد الله جل وعلا لئلا تكون أسبابه بترا-
اللہ تعالیٰ کی حمد سے آغاز کرنے کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ انسان کو چاہیے کہ اپنے تمام امور کا آغاز اللہ جل و علا کی حمد سے کرے تاکہ اس کے اسباب بے برکت نہ رہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ أَبُو عَلِيٍّ بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ قُرَّةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لا يُبْدَأُ فِيهِ بِحَمْدِ اللَّهِ، أَقْطَعُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر وہ کام جس کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ نہ کیا جائے، وہ نامکمل ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/المقدمة/حدیث: 2]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «مرسل صحیح، أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1، 2، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10255، 10256، 10257، 10258، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4840، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1894، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5849، والدارقطني فى (سننه) برقم: 883، 884، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8833، والبزار فى (مسنده) برقم: 7898، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 27219، والطبراني فى(الكبير) برقم: 141»
«قال الدارقطني: والصحيح عن الزهري المرسل، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (8 / 29)»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - مكرر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف، وهو مكرر ما قبله.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ مَا بَعَثَنِي الِلَّهِ بِهِ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى قَوْمَهُ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ، إِنِّي رَأَيْتُ الْجَيْشَ، وَإِنِّي أَنَا النَّذِيرُ، فَأَطَاعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَانْطَلَقُوا عَلَى مَهْلِهِمْ فَنَجَوْا، وَكَذَّبَهُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ، فَأَصْبَحُوا مَكَانَهُمْ، فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ وَأَهْلَكَهُمْ وَاجْتاحَهُمْ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي، وَاتَّبَعَ مَا جِئْتُ بِهِ، وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِي وَكَذَّبَ مَا جِئْتُ بِهِ مِنَ الْحَقِّ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بے شک میری مثال اور جس چیز کے ہمراہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے، اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جو اپنی قوم کے پاس آتا ہے، اور یہ کہتا ہے: اے میری قوم! میں نے ایک لشکر دیکھا ہے، اور میں ڈرانے والا ہوں (یعنی تم لوگوں کو خبردار کر رہا ہوں)، تو اس کی قوم کا ایک گروہ اس کی اطاعت کر لیتا ہے، اور وہ لوگ اس دوران چپکے سے چلے جاتے ہیں اور نجات پا لیتے ہیں، جبکہ ایک گروہ اس کی تکذیب کرتا ہے۔ وہ لوگ اپنی جگہ رہتے ہیں اور صبح کے وقت دشمن ان پر حملہ کر کے انہیں ہلاک کر دیتا ہے، اور انہیں تباہ و برباد کر دیتا ہے، تو یہ اس شخص کی مثال ہے، جو میری اطاعت کرتا ہے، اور جو میں لے کر آیا ہوں اس کی پیروی کرتا ہے، اور اس شخص کی مثال ہے، جو میری نافرمانی کرتا ہے، اور میں جس حق کو لے کر آیا ہوں، وہ اسے جھٹلاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/المقدمة/حدیث: 3]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: 0

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين. أبو يعلى: هو أحمد بن علي بن المثنى صاحب "المسند"، وأبو كريب: هو محمد بن العلاء، وأبو أسامة: هو حماد بن أسامة.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4
وَقَالَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ":" إِنَّ مَثَلَ مَا آتَانِي الِلَّهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ قَبْلُتْ ذَلِكَ، فَأَنْبَتَتِ الْكَلأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ، وَأَمْسَكَتِ الْمَاءَ، فَنَفَعَ الِلَّهِ بِهَا النَّاسَ، فَشَرِبُوا مَنَهَا وَسَقَوْا وَزَرَعُوا، وَأَصَابَ مِنْهَا طَائِفَةٌ أُخْرَى، إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لا تُمْسِكُ مَاءً، وَلا تُنْبِتُ كَلأً، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللَّهِ، وَنَفَعَهُ مَا بَعَثَنِي الِلَّهِ بِهِ، فَعَلِمَ وَعَمِلَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا، وَلَمْ يَقَبْلُ هُدَى اللَّهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ" .
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: اللہ تعالیٰ نے مجھے جو ہدایت اور علم عطا کیا ہے، اس کی مثال بارش کی طرح ہے، جو کسی سرزمین پر ہوتی ہے، تو اس زمین کا کچھ حصہ پاکیزہ ہوتا ہے، وہ اسے قبول کر لیتا ہے اور بہت زیادہ گھاس پھوس اور چارہ اگا دیتا ہے، یا وہ پانی کو روک لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے لوگوں کو نفع دیتا ہے، وہ لوگ اس میں سے خود بھی پیتے ہیں، (جانوروں وغیرہ) کو بھی پلاتے ہیں اور کھیتی باڑی بھی کرتے ہیں۔ یہ بارش زمین کے ایک اور حصے پر بھی ہوتی ہے، جو چٹیل میدان ہوتا ہے، وہ پانی کو روک نہیں سکتا اور گھاس اگا نہیں سکتا، تو یہ اس شخص کی مثال ہے، جو اللہ کے دین کا فہم حاصل کر لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے جس چیز کے ساتھ مبعوث کیا ہے، اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس چیز کے ذریعے نفع دے دیتا ہے، وہ شخص علم حاصل کرتا ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے، اور یہ اس شخص کی مثال ہے، جو اس کے لیے سر نہیں اٹھاتا (یعنی اس کی طرف توجہ نہیں کرتا) اور اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کو قبول نہیں کرتا، جس کے ہمراہ مجھے بھیجا گیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/المقدمة/حدیث: 4]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 79، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2282، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5812، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19882، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7311، والبزار فى (مسنده) برقم: 3169»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده هو إسناد سابقه.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر وصف الفرقة الناجية من بين الفرق التي تفترق عليها أمة المصطفى صلى الله عليه وسلم-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس بیان کا ذکر جس میں امت مصطفیٰ ﷺ کے فرقوں میں سے نجات پانے والے گروہ کی صفت بیان کی گئی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو السُّلَمِيُّ ، وَحُجْرُ بْنُ حُجْرٍ الْكَلاعِيُّ ، قَالا: أَتَيْنَا الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ، وَهُوَ مِمَّنْ نَزَلَ فِيهِ: وَلا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْنَا وَقُلْنَا: أَتَيْنَاكَ زَائِرَيْنَ وَمُقْتَبِسَيْنِ، فَقَالَ الْعِرْبَاضُ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ذَاتَ يَوْمٍ، ثُمَّ أَقَبْلُ عَلَيْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً، ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةَ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا؟ قَالَ: " أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا مُجَدَّعًا، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، فَتَمَسَّكُوا بِهَا، وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ فِي قَوْلِهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي" عِنْدَ ذِكْرِهِ الاخْتِلافَ الَّذِي يَكُونُ فِي أُمَّتِهِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ مَنْ وَاظَبَ عَلَى السُّنَنِ، قَالَ بِهَا، وَلَمْ يُعَرِّجْ عَلَى غَيْرِهَا مِنَ الآرَاءِ مِنَ الْفِرَقِ النَّاجِيَةِ فِي الْقِيَامَةِ، جَعَلَنَا الِلَّهِ مِنْهُمْ بِمَنِّهِ.
عبدالرحمن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کلاعی بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ وہ صاحب ہیں، جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی: ﴿وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ﴾ [سورة التوبة: 92] اور نہ ہی ان لوگوں پر کہ جب وہ تمہارے پاس آئے تاکہ تم ان کو سواری کے لیے جانور دو، تو تم نے کہا: مجھے وہ چیز نہیں ملتی جو میں تمہیں سواری کے لیے دوں۔ ہم نے انہیں سلام کیا اور ہم نے یہ کہا: ہم آپ کی زیارت کرنے کے لیے اور آپ سے فیض یاب ہونے کے لیے آئے ہیں، تو سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلیغ وعظ کیا جس کے نتیجے میں آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور دل لرز گئے۔ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ الوداعی وعظ محسوس ہوتا ہے، تو آپ ہمیں کسی چیز کی تلقین کرتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے، (حاکمِ وقت کی) اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی تلقین کرتا ہوں، اگرچہ وہ (حاکم) کوئی ایسا حبشی غلام ہو، جس کے اطراف (یعنی کان یا ناک) کٹے ہوئے ہوں۔ تم میں سے جو شخص (زیادہ عرصے تک) زندہ رہے گا، وہ عنقریب بہت زیادہ اختلاف دیکھ لے گا۔ (تو ایسی صورتحال میں) تم لوگوں پر میری سنت اور ہدایت یافتہ اور ہدایت کا مرکز خلفاء کی سنت کی پیروی کرنا لازم ہے، تم لوگ اسے مضبوطی سے تھام لینا اور اچھی طرح پکڑ لینا اور تم نئے پیدا ہونے والے امور سے بچنا، کیونکہ ہر نئی پیدا ہونے والی چیز بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ تو تم پر میری سنت کو اختیار کرنا لازم ہے یہ اس صورتحال کے بارے میں ہیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اختلاف کا ذکر کیا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا ہو گا، تو یہ اس بات کا واضح بیان ہے، جو شخص سنت پر مواظبت (یعنی باقاعدگی سے اس پر عمل) اختیار کرے گا، اس (سنت) کے مطابق رائے دے گا، اس (سنت) کی بجائے دوسری آراء کو آگے نہیں کرے گا، تو ایسا شخص قیامت کے دن نجات پانے والے گروہ میں سے ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے تحت ہمیں بھی ان میں شامل رکھے۔ [صحیح ابن حبان/المقدمة/حدیث: 5]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «صحيح، أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 328، 329، 330، 331، 332، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4607، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2676، 2676 م، والدارمي فى (مسنده) برقم: 96، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 42، 43، 44، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20397، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17416، 17418، 17419، 17420، 17421، والبزار فى (مسنده) برقم: 4201، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 500، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 1185، 1186، والطبراني فى(الكبير) برقم: 617، 618، 619، 620، 621، 622، 623، 624، 642، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 66»
«قال ابن الملقن: هذا الحديث صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (9 / 582)»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (937 و3007)، «ظلال الجنة» (26 - 34).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح. عبد الرحمن بن عمرو السلمي، روى عن جمع، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وصحح حديثه هذا: الترمذي، والحاكم، والذهبي، وقد تابعه حُجر بن حجر، وهو في "ثقات ابن حبان"، وباقي رجاله رجال الصحيح، وقد صرح الوليد بن مسلم بالتحديث، فانتفت شبهة تدليسه.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من لزوم سنن المصطفى صلى الله عليه وسلم-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس خبر کا ذکر جس میں بتایا گیا ہے کہ انسان پر لازم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کو لازم پکڑے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ بِالْمَوْصِلِ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا، فَقَالَ:" هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ"، ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ:" وَهَذِهِ سُبُلٌ عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ"، ثُمَّ تَلا: وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا سورة الأنعام آية 153 إِلَى آخِرِ الآيَةِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (ایک مرتبہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لکیر کے دائیں طرف اور بائیں طرف کچھ اور لکیریں کھینچیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: یہ مختلف راستے ہیں، جن میں سے ہر ایک راستے پر ایک شیطان بیٹھا ہوا ہے، جو اس راستے کی طرف دعوت دیتا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ﴾ [سورة الأنعام: 153] بے شک یہ میرا راستہ ہے، جو مستقیم ہے، یہ آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر تک تلاوت کی۔ [صحیح ابن حبان/المقدمة/حدیث: 6]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6، 7، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2956، 3260، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11109، 11110، والدارمي فى (مسنده) برقم: 208، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 935، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4225، 4523، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 241، والبزار فى (مسنده) برقم: 1676، 1693، 1717، 1865»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الظلال» (16 و17).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن. معلى بن مهدي هو الموصلي، قال فيه أبو حاتم في "الجرح والتعديل"8/ 335 شيخ، يحدث أحياناً بالحديث المنكر، وقال الذهبي في "الميزان": هو من العباد الخيرة، صدوق في نفسه، وقد تابعه عليه ابن وهب كما في الحديث الآتي بعده. وعاصم: هو ابن أبي النجود، حسن الحديث، وأبو وائل: شقيق بن سلمة.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر ما يجب على المرء من ترك تتبع السبل دون لزوم الطريق الذي هو الصراط المستقيم-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ انسان پر لازم ہے کہ صراطِ مستقیم کو لازم پکڑے اور دوسری راہوں کے پیچھے نہ چلے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُعَدِّلُ بِالْفُسْطَاطِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَقَالَ:" هَذِهِ سُبُلٌ، عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو لَهُ"، ثُمَّ قَرَأَ: وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ، فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ سورة الأنعام آية 153 الآيَةَ كُلَّهَا.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی، جس کے دائیں طرف اور بائیں طرف کچھ اور لکیریں بھی کھینچی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ مختلف راستے ہیں، ان میں سے ہر ایک راستے پر شیطان بیٹھا ہوا ہے، جو اس راستے کی طرف دعوت دیتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ﴾ [سورة الأنعام: 153] بے شک یہ میرا راستہ ہے، جو مستقیم ہے، تو تم اس کی پیروی کرو اور تم مختلف راستوں کی پیروی نہ کرو، ورنہ وہ تم لوگوں کو اس کے راستے سے بھٹکا دے گا۔ یہ مکمل آیت ہے۔ [صحیح ابن حبان/المقدمة/حدیث: 7]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6، 7، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2956، 3260، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11109، 11110، والدارمي فى (مسنده) برقم: 208، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 935، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4225، 4523، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 241، والبزار فى (مسنده) برقم: 1676، 1693، 1717، 1865»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - مكرر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن كسابقه.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر البيان بأن من أحب الله جل وعلا وصفيه صلى الله عليه وسلم بإيثار أمرهما-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ جو اللہ جل و علا اور اس کے برگزیدہ ﷺ سے محبت کرتا ہے، وہ ان کے حکم کو ترجیح دیتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذْ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانُوا هُمْ أَجْدَرَ أَنْ يَسْأَلُوهُ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ:" وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟" قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا إِلا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ:" فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ" ، قَالَ أَنَسٌ: فَمَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ بَعْدَ الإِسْلامِ أَشَدَّ مِنْ فَرَحِهِمْ بِقَوْلِهِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، حالانکہ صحابہ کرام کے لیے یہ زیادہ مناسب تھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کرتے، اس دیہاتی نے عرض کی: یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے عرض کی: میں نے اس کے لیے تیاری تو نہیں کی ہے، البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ یہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر لوگ جتنے خوش ہوئے، میں نے انہیں اسلام قبول کرنے کے بعد اور کسی بات پر اتنا خوش ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [صحیح ابن حبان/المقدمة/حدیث: 8]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3688، 6167، 6171، 7153، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2639، 2953، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1796، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 8، 105، 563، 564، 565، 2988، 2991، 7348، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5842، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5127، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2385، 2386، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5918، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12195، 12258، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2245، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1224، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 2758، والبزار فى (مسنده) برقم: 6189، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 20317، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 38716، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 475، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 410، 1527، والطبراني فى (الصغير) برقم: 154، 1133، 1190»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الروض النضير» (104 - 106 و360 - 361 و370 و1028): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من لزوم هدي المصطفى بترك الانزعاج عما أبيح من هذه الدنيا له بإغضائه-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ انسان پر لازم ہے کہ دنیا کی مباح چیزوں میں حد سے زیادہ دل لگانے کے بجائے نبی ﷺ کے طریقہ ہدایت کو لازم پکڑے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، وَاسْمُهَا خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ بَذَّةُ الْهَيْئَةِ، فَسَأَلَتْهَا عَائِشَةُ: مَا شَأْنُكِ؟ فقَالَتْ: زَوْجِي يَقُومُ اللَّيْلَ، وَيَصُومُ النَّهَارَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ لَهُ ذَلِكَ فَلَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ، فَقَالَ: يَا عُثْمَانُ،" إِنَّ الرَّهْبَانِيَّةَ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْنَا، أَمَا لَكَ فِيَّ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ! فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَحْفَظُكُمْ لِحُدُودِهِ" صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تشریف لائیں، ان کا نام خولہ بنت حکیم تھا، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئیں تو ان کی حالت بری تھی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ انہوں نے بتایا: میرے شوہر رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہیں اور دن کے وقت نفلی روزہ رکھ لیتے ہیں۔ (اسی دوران) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے آئے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا تذکرہ آپ کے سامنے کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عثمان! ہم پر رہبانیت لازم قرار نہیں دی گئی ہے، کیا تمہارے لیے میرے طریقے میں بہترین نمونہ نہیں ہے؟ اللہ کی قسم! میں تم سب لوگوں سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور اس کی حدود کا تم سب سے زیادہ خیال رکھتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/المقدمة/حدیث: 9]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 9، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1369، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25392، 25393، 26533، 26949، والبزار فى (مسنده) برقم:، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 10375، والطبراني فى(الكبير) برقم: 8319»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1239).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
ابن أبي السري- وهو محمد بن المتوكل بن عبد الرحمن بن حسان الهاشمي مولاهم أبو عبد الله العسقلاني قال الحافظ في "التقريب": صدوق له أوهام كثيرة، وباقي رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من تحري استعمال السنن في أفعاله ومجانبة كل بدعة تباينها-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ انسان پر لازم ہے کہ اپنے اعمال میں سنت کو اختیار کرے اور ہر بدعت سے بچے جو سنت کے خلاف ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ الْمَوْصِلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ، وَعَلا صَوْتُهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، حَتَّى كَأَنَّهُ نَذِيرُ جَيْشٍ، يَقُولُ: صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ، وَيَقُولُ: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةِ كَهَاتَيْنِ" يُفَرِّقُ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى، وَيَقُولُ:" أَمَّا بَعْدَ، فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَإِنَّ شَرَّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ"، ثُمَّ يَقُولُ:" أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، مَنْ تَرَكَ مَالا، فَلأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سرخ ہو جاتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بلند ہو جاتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوش زیادہ ہو جاتا تھا، یہاں تک کہ یوں لگتا تھا جیسے آپ کسی لشکر (کے حملے) سے ڈرا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: وہ صبح یا شام کے وقت (تم پر حملہ کر دے گا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: مجھے اور قیامت کو ان دو کی طرح مبعوث کیا گیا ہے۔ آپ اپنی شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی کے درمیان فرق کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے: «أَمَّا بَعْدُ» امابعد! سب سے بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے اور سب سے بہترین ہدایت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم (کی لائی ہوئی) ہدایت ہے، بے شک سب سے برا کام نیا پیدا شدہ کام ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے: میں ہر مومن کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ قریب ہوں، جو شخص مال چھوڑ کر جائے گا وہ اس کے اہل خانہ کو ملے گا اور جو شخص قرض یا بال بچے چھوڑ کر جائے گا تو وہ میری طرف آئیں گے اور ان کی ادائیگی میرے ذمہ ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/المقدمة/حدیث: 10]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 867، وابن الجارود فى "المنتقى"، 326، 327، 1190، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1785، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 10، 3062، 3064، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2359، 8690، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1577، 1961، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1799، 2100، 5861، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2954، 2956، 3343، والدارمي فى (مسنده) برقم: 212، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 45، 2416، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5834، 5835، 5836، 5848، 5879، 5880، 5881، 11515، 11519، 11523، 13123، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3084، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14375، 14376، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1778، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 2111، 2119، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 15257، 15262، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 12143، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 4145، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 9418»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (608 و611)، «أحكام الجنائز» (ص29 - 30)، «خطبة الحاجة» (ص34 - 35).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، أحمد بن إبراهيم الموصلي: صدوق، وباقي السند على شرط مسلم، وعبد الوهاب الثقفي: هو عبد الوهاب بن عبد المجيد بن الصلت الثقفي، وهو وإن تغير قبل موته بثلاث سنين إلا أن أهله حجبوه في الاختلاط، فلم يرو عنه شيء.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں