🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب التَّطَوُّعِ وَرَكَعَاتِ السُّنَّةِ
باب: نفل نماز کے ابواب اور سنت کی رکعات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1250
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا بُنِيَ لَهُ بِهِنَّ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ".
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایک دن میں بارہ رکعتیں نفل پڑھے گا تو اس کے بدلے اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1250]
ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایک دن میں بارہ رکعتیں بطور نفل نماز پڑھتا ہے اس کے لیے ان کے بدلے جنت میں ایک گھر بنا دیا جاتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1250]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 15 (728)، سنن النسائی/قیام اللیل 57 (1802)، (تحفة الأشراف: 15860)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 193 (415)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 100 (1141)، مسند احمد (6/426، 327)، سنن الدارمی/الصلاة 144 (1478) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (728)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1251
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ. ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، الْمَعْنَي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ التَّطَوُّعِ، فَقَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا فِي بَيْتِي، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِهِمُ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ، وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا جَالِسًا، فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْفَجْرِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، اور مغرب لوگوں کے ساتھ ادا کرتے اور واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، پھر آپ انہیں عشاء پڑھاتے پھر میرے گھر میں آتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور رات میں آپ نو رکعتیں پڑھتے، ان میں وتر بھی ہوتی، اور رات میں آپ کبھی تو دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر اور جب کھڑے ہو کر قرآت فرماتے تو رکوع و سجود بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر قرآت کرتے تو رکوع و سجود بھی بیٹھ کر کرتے اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو فجر پڑھاتے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1251]
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کے متعلق معلوم کیا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے تھے، پھر تشریف لے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر میرے گھر میں لوٹ آتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور آپ لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھاتے، پھر میرے گھر میں لوٹ آتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور آپ انہیں عشاء کی نماز پڑھاتے، پھر میرے گھر تشریف لاتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نو رکعات پڑھتے ان میں وتر (بھی) ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک لمبی رات کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور ایک لمبی رات بیٹھ کر نماز پڑھتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور سجدہ کرتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر ہی کرتے اور سجدہ کرتے اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد) میں تشریف لے جاتے اور لوگوں کو فجر کی نماز پڑھاتے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1251]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 16 (730)، سنن الترمذی/الصلاة 163 (375)، 410 (436)، سنن النسائی/قیام اللیل 18 (1647، 1648)، (تحفة الأشراف: 16207)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 140 (1228)، مسند احمد (6/30، 216) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (730)
مشكوة المصابيح (1162)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1252
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، وَبَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور اس کے بعد دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور جمعہ کے بعد کچھ نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ فارغ ہو کر گھر واپس آ جاتے پھر دو رکعتیں پڑھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1252]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعتیں اور اس (ظہر) کے بعد دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں اور نماز عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ اور جمعہ کے بعد نہیں پڑھتے تھے حتیٰ کہ لوٹ آتے اور دو رکعتیں پڑھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1252]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجمعة 39 (937)، صحیح مسلم/الجمعة 18 (882)، سنن النسائی/الجمعة 42 (1428)، (تحفة الأشراف: 8343)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 23 (69)، مسند احمد (2/34) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح خ م الركعتين بعد الجمعة فقط
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (937) صحيح مسلم (882)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1253
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ لَا يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرَ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر (کی فرض نماز) سے پہلے چار رکعتیں اور صبح کی (فرض نماز) سے پہلے دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1253]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتیں نہ چھوڑا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1253]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التھجد 34 (1182)، سنن النسائی/قیام اللیل 47 (1759)، (تحفة الأشراف: 17599)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/43، 63، 148) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1182)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ
باب: فجر کی دو رکعت سنت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1254
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يَكُنْ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور نفل کا اتنا خیال نہیں رکھتے تھے جتنا صبح سے پہلے کی دونوں کی رکعتوں کا رکھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1254]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی نفل پر اتنی پابندی نہ فرماتے تھے جتنی فجر کی سنتوں کی کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1254]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/صلاة اللیل 27 (1169)، صحیح مسلم/السافرین 14(724)، (تحفة الأشراف: 16321)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/43، 54، 170) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1169) صحيح مسلم (724)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب فِي تَخْفِيفِهِمَا
باب: فجر کی سنتوں کو ہلکی پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1255
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّفُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ: هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ؟".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی دونوں رکعتیں ہلکی پڑھتے تھے، یہاں تک کہ میں کہتی: کیا آپ نے ان میں سورۃ فاتحہ پڑھی ہے؟ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1255]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی سنتیں اس قدر ہلکی پڑھتے تھے کہ میں کہتی: بھلا آپ نے ان میں فاتحہ بھی پڑھی ہے؟ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1255]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التھجد 28 (1171)، صحیح مسلم/المسافرین 14 (724)، سنن النسائی/الافتتاح 40 (945)، (تحفة الأشراف: 17913)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/40، 49، 100، 165، 183، 186، 235) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1171) صحيح مسلم (724)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1256
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1256]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی سنتوں میں ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] کی قراءت فرمائی۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 14 (726)، سنن النسائی/الافتتاح 39 (946)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 102 (1148)، (تحفة الأشراف: 13438) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (726)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1257
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنِي أَبُو زِيَادَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادَةَ الْكِنْدِيُّ، عَنْ بِلَالٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُؤْذِنَهُ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَشَغَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِلَالًا بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى فَضَحَهُ الصُّبْحُ فَأَصْبَحَ جِدًّا، قَالَ: فَقَامَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ وَتَابَعَ أَذَانَهُ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَ صَلَّى بِالنَّاسِ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ شَغَلَتْهُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى أَصْبَحَ جِدًّا، وَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ، فَقَالَ:" إِنِّي كُنْتُ رَكَعْتُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ أَصْبَحْتَ جِدًّا، قَالَ:" لَوْ أَصْبَحْتُ أَكْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ لَرَكَعْتُهُمَا وَأَحْسَنْتُهُمَا وَأَجْمَلْتُهُمَا".
عبیداللہ بن زیاد الکندی کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو نماز فجر کی خبر دیں، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں کسی بات میں مشغول کر لیا، وہ ان سے اس کے بارے میں پوچھ رہی تھیں، یہاں تک کہ صبح خوب نمودار اور پوری طرح روشن ہو گئی، پھر بلال اٹھے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی اور مسلسل دیتے رہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں نکلے، پھر جب نکلے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور بلال نے آپ کو بتایا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک معاملے میں کچھ پوچھ کر کے مجھے باتوں میں لگا لیا یہاں تک کہ صبح خوب نمودار ہو گئی، اور آپ نے نکلنے میں دیر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس وقت فجر کی دو رکعتیں پڑھ رہا تھا، بلال نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو کافی صبح کر دی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنی دیر میں نے کی، اگر اس سے بھی زیادہ دیر ہو جاتی تو بھی میں ان دونوں رکعتوں کو ادا کرتا اور انہیں اچھی طرح اور خوبصورتی سے ادا کرتا۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1257]
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر کی (جماعت کا وقت ہو جانے کی) اطلاع دینے کے لیے آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو کسی بات میں مشغول کر لیا، حتیٰ کہ صبح خوب سفید ہو گئی۔ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی اور کئی بار خبر دی، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہ لائے، بالآخر جب نکلے تو لوگوں کو نماز پڑھائی۔ تو بلال رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو باتوں میں لگا لیا تھا اور وہ ان سے کچھ پوچھ رہی تھیں، حتیٰ کہ خوب صبح ہو گئی اور آپ نے بھی تشریف لانے میں تاخیر کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں فجر کی رکعتیں پڑھ رہا تھا۔ کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے بہت صبح کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اس سے بھی زیادہ صبح کرتا تو میں ان سنتوں کو پڑھتا اور عمدگی اور خوبصورتی سے پڑھتا۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2045)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/14) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1258
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ الْمَدَنِيَّ، عَنْ ابْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ سَيْلَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَدَعُوهُمَا وَإِنْ طَرَدَتْكُمُ الْخَيْلُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان دونوں رکعتوں کو مت چھوڑا کرو اگرچہ تمہیں گھوڑے روند ڈالیں۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1258]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر کی دو سنتیں مت چھوڑو اگرچہ دشمن کے گھوڑے تم کو کھدیڑ رہے ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1258]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15483)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/405) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ابن سیلان لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
(عبد ربه) ابن سيلان لم يوثقه غير ابن حبان وقال ابن القطان الفاسي : ’’ فحاله مجهولة لاتعرف‘‘ (بيان الوھم والإيھام 3/ 386 ح 1127)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 53

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1259
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ كَثِيرًا مِمَّا كَانَ يَقْرَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ بِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا سورة البقرة آية 136 هَذِهِ الْآيَةُ، قَالَ: هَذِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، وَفِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ بِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 52".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فجر کی دونوں رکعتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر جس آیت کی تلاوت کرتے تھے وہ «آمنا بالله وما أنزل إلينا» ۱؎ والی آیت ہوتی، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اسے پہلی رکعت میں پڑھتے اور دوسری رکعت میں «آمنا بالله واشهد بأنا مسلمون» ۲؎ پڑھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1259]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں میں اکثر یہ آیات تلاوت کیا کرتے تھے، پہلی رکعت میں ﴿آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا﴾ [سورة البقرة: 136] اور دوسری رکعت میں ﴿آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 52] ۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 14(727)، سنن النسائی/الافتتاح 38 (945)، (تحفة الأشراف: 5669)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/230، 231) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: وضاحت: سورة البقرة: (۱۳۶) وضاحت: سورة آل عمران: (۵۲)
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون إن كثيرا مما
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (727)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں