سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب مَنْ رَخَّصَ فِيهِمَا إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مُرْتَفِعَةً
باب: ان لوگوں کی دلیل جنہوں نے سورج بلند ہو تو عصر کے بعد دو رکعت سنت پڑھنے کی اجازت دی ہے۔
حدیث نمبر: 1280
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ، وَيَنْهَى عَنْهَا، وَيُوَاصِلُ وَيَنْهَى عَنِ الْوِصَالِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ذکوان سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خود تو) عصر کے بعد نماز پڑھتے تھے اور (دوسروں کو) اس سے منع فرماتے، اور پے در پے روزے بھی رکھتے تھے اور (دوسروں کو) مسلسل روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1280]
جناب ذکوان مولیٰ سیدہ عائشہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد نماز پڑھا کرتے تھے جبکہ لوگوں کو اس سے منع کرتے تھے۔ خود وصال کرتے (یعنی دو دو دن کے اکٹھے روزے رکھتے یا اس سے زیادہ کے بھی اور درمیان میں افطار نہ کرتے) اور لوگوں کو وصال سے منع فرماتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1280]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 16079) (ضعیف)» (ابن اسحاق مدلس ہیں اور یہاں عنعنہ سے روایت ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 53
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 53
11. باب الصَّلاَةِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب سے پہلے سنت پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1281
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ الْحُسَيْنِ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ:" صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ لِمَنْ شَاءَ" خَشْيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً.
عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو“، پھر فرمایا: ”مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو جس کا جی چاہے“، یہ اس اندیشے سے فرمایا کہ لوگ اس کو (راتب) سنت نہ بنا لیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1281]
سیدنا عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرو۔“ پھر فرمایا: ”نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرو، جو چاہے۔“ یہ اس ڈر سے کہ کہیں لوگ اسے سنت نہ بنا لیں۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1281]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التہجد 35 (1183)، والاعتصام 27 (7368)، (تحفة الأشراف: 9660)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/55) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مغرب سے پہلے دو رکعت نفل پڑھنا مسنون ہے، یہی راجح اور قوی قول ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (563)
حدیث نمبر: 1282
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: أَرَآكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" نَعَمْ رَآنَا" فَلَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں۔ مختار بن فلفل کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ نماز پڑھتے دیکھا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے ہم کو دیکھا تو نہ اس کا حکم دیا اور نہ اس سے منع کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1282]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھی ہیں۔“ (مختار کہتے ہیں) میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہ حکم دیا، نہ منع فرمایا۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1282]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 55 (836)، (تحفة الأشراف: 1576) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (836)
حدیث نمبر: 1283
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ لِمَنْ شَاءَ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں ۱؎ کے درمیان نماز ہے، اس شخص کے لیے جو چاہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1283]
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، جو چاہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1283]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 14 (624)، 16 (627)، صحیح مسلم/المسافرین 56 (838)، سنن الترمذی/الصلاة 22 (185)، سنن النسائی/الأذان 39 (682)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 110 (1162)، (تحفة الأشراف: 9658)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/86، 5/54، 56، 57)، سنن الدارمی/الصلاة 145(1480) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دونوں اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (624) صحيح مسلم (838)
حدیث نمبر: 1284
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا، وَرَخَّصَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ هُوَ شُعَيْبٌ يَعْنِي وَهِمَ شُعْبَةُ فِي اسْمِهِ.
طاؤس کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مغرب کے پہلے دو رکعت سنت پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ نماز پڑھتے کسی کو نہیں دیکھا، البتہ آپ نے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کی رخصت دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن معین کو کہتے سنا ہے کہ (ابوشعیب کے بجائے) وہ شعیب ہے یعنی شعبہ کو ان کے نام میں وہم ہو گیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1284]
جناب طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مغرب سے پہلے کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ”میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسے پڑھتا ہو۔“ اور عصر کے بعد دو رکعتوں کی رخصت دی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین کو سنا، وہ کہتے تھے کہ ”راویِ حدیث ابوشعیب دراصل شعیب ہے، شعبہ کو اس کے نام میں وہم ہوا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1284]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7104) (ضعیف)» (صحیحین میں وارد پچھلی حدیث کا معارضہ شعیب یا ابو شعیب جیسے مختلف فیہ راوی کی حدیث سے نہیں کیا جا سکتا)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
12. باب صَلاَةِ الضُّحَى
باب: نماز الضحیٰ (چاشت کی نماز) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1285
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ. ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ الْمَعْنَى، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنَ ابْنِ آدَمَ صَدَقَةٌ تَسْلِيمُهُ عَلَى مَنْ لَقِيَ صَدَقَةٌ، وَأَمْرُهُ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيُهُ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَتُهُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَبُضْعَةُ أَهْلِهِ صَدَقَةٌ، وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ رَكْعَتَانِ مِنَ الضُّحَى". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ عَبَّادٍ أَتَمُّ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ الْأَمْرَ وَالنَّهْيَ، زَادَ فِي حَدِيثِهِ، وَقَالَ: كَذَا وَكَذَا، وَزَادَ ابْنُ مَنِيعٍ فِي حَدِيثِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدُنَا يَقْضِي شَهْوَتَهُ وَتَكُونُ لَهُ صَدَقَةٌ؟ قَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ وَضَعَهَا فِي غَيْرِ حِلِّهَا أَلَمْ يَكُنْ يَأْثَمُ؟".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کے ہر جوڑ پر صبح ہوتے ہی (بطور شکرانے کے) ایک صدقہ ہوتا ہے، اب اگر وہ کسی ملنے والے کو سلام کرے تو یہ ایک صدقہ ہے، کسی کو بھلائی کا حکم دے تو یہ بھی صدقہ ہے، برائی سے روکے یہ بھی صدقہ ہے، راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے تو یہ بھی صدقہ ہے، اپنی بیوی سے صحبت کرے تو یہ بھی صدقہ ہے البتہ ان سب کے بجائے اگر دو رکعت نماز چاشت کے وقت پڑھ لے تو یہ ان سب کی طرف سے کافی ہے ۱؎۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: عباد کی روایت زیادہ کامل ہے اور مسدد نے امر و نہی کا ذکر نہیں کیا ہے، ان کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ فلاں اور فلاں چیز بھی صدقہ ہے اور ابن منیع کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم میں سے ایک شخص اپنی (بیوی سے) شہوت پوری کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”(کیوں نہیں) اگر وہ کسی حرام جگہ میں شہوت پوری کرتا تو کیا وہ گنہگار نہ ہوتا ۲؎؟۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1285]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح ہوتی ہے تو ابن آدم کے انگ انگ پر صدقہ لازم ہو چکا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کا اپنے ملنے والوں کو سلام کہنا صدقہ ہے۔ نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے۔ برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ راستے سے اذیت والی چیز دور کرنا صدقہ ہے۔ اور اہلیہ سے ہمبستر ہونا صدقہ ہے۔ اور ان سب سے چاشت کی دو رکعتیں کفایت کرتی ہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”عباد کی روایت زیادہ کامل ہے۔“ اور مسدد نے اپنی روایت میں امر و نہی کا بیان نہیں کیا بلکہ کہا: ”یہ اور یہ۔“ اور ابن منیع نے اپنی روایت میں اضافہ کیا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! انسان اپنی نفسانی خواہش پوری کرے اور یہ اس کے لیے صدقہ بنے؟ (کیوں کر؟)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بتاؤ اگر وہ یہ کام حلال جگہ میں نہ کرتا (یعنی زنا کرتا) تو کیا گناہ نہ ہوتا؟“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1285]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 13 (720)، (تحفة الأشراف: 11928)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/167، 168) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نماز الضحیٰ کی رکعتوں کی تعدادکے سلسلہ میں روایتوں میں اختلاف ہے، دو، چار، آٹھ اور بارہ تک کا ذکر ہے اس سلسلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ روایتوں کے اختلاف کو گنجائش پر محمول کیا جائے، اور جتنی جس کو توفیق ملے پڑھے، اس فرق کے ساتھ کہ آٹھ رکعت تک کا ذکر فعلی حدیثوں میں ہے اور بارہ کا ذکر قولی حدیث میں ہے، بعض نے اسے بدعت کہا ہے، لیکن بدعت کہنا غلط ہے، متعدد احادیث سے اس کا مسنون ہونا ثابت ہے، تفصیل کے لئے دیکھئے (مصنف ابن ابی شیبہ۲/۴۰۵) اکثر علما کے نزدیک چاشت اور اشراق کی نماز ایک ہی ہے، جو سورج کے ایک یا دو نیزے کے برابر اوپر چڑھ آنے پر پڑھی جاتی ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ چاشت کی نماز اشراق کے بعد پڑھی جاتی ہے۔
۲؎: یعنی جب حرام جگہ سے شہوت پوری کرنے پر گنہگار ہو گا تو حلال جگہ سے پوری کرنے پر اجر و ثواب کا مستحق کیوں نہ ہو گا۔
۲؎: یعنی جب حرام جگہ سے شہوت پوری کرنے پر گنہگار ہو گا تو حلال جگہ سے پوری کرنے پر اجر و ثواب کا مستحق کیوں نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث الآتي (1286، 5243)
انظر الحديث الآتي (1286، 5243)
حدیث نمبر: 1286
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ أَحَدِكُمْ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ، فَلَهُ بِكُلِّ صَلَاةٍ صَدَقَةٌ، وَصِيَامٍ صَدَقَةٌ، وَحَجٍّ صَدَقَةٌ، وَتَسْبِيحٍ صَدَقَةٌ، وَتَكْبِيرٍ صَدَقَةٌ، وَتَحْمِيدٍ صَدَقَةٌ، فَعَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذِهِ الْأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ، ثُمَّ قَالَ:" يُجْزِئُ أَحَدَكُمْ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَا الضُّحَى".
ابوالاسود الدولی کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ اسی دوران آپ نے کہا: ہر روز صبح ہوتے ہی تم میں سے ہر شخص کے جوڑ پر ایک صدقہ ہے، تو اس کے لیے ہر نماز کے بدلہ ایک صدقہ (کا ثواب) ہے، ہر روزہ کے بدلہ ایک صدقہ (کا ثواب) ہے، ہر حج ایک صدقہ ہے، اور ہر تسبیح ایک صدقہ ہے، ہر تکبیر ایک صدقہ ہے، اور ہر تحمید ایک صدقہ ہے، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نیک اعمال کا شمار کیا پھر فرمایا: ”ان سب سے تمہیں بس چاشت کی دو رکعتیں کافی ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1286]
جناب ابوالاسود دِیْلی کہتے ہیں کہ ہم سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ انہوں نے کہا: ”صبح ہوتی ہے تو تمہارے ایک ایک کے انگ انگ پر صدقہ لازم ہو چکا ہوتا ہے اور ہر روز ایسے ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کی ہر نماز، روزہ، حج، تسبیح، تکبیر اور تحمید صدقہ ہوتی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعمالِ صالحہ شمار فرمائے، پھر فرمایا: ”تمہیں ان سب سے چاشت کی دو رکعتیں کفایت کرتی ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11928) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (720)
حدیث نمبر: 1287
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى يُسَبِّحَ رَكْعَتَيِ الضُّحَى لَا يَقُولُ إِلَّا خَيْرًا، غُفِرَ لَهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ".
معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص فجر کے بعد چاشت کے وقت تک اسی جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے پھر چاشت کی دو رکعتیں پڑھے اس دوران سوائے خیر کے کوئی اور بات زبان سے نہ نکالے تو اس کی تمام خطائیں معاف کر دی جائیں گی وہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1287]
جناب سہل بن معاذ بن انس جہنی رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص فجر کی نماز سے فارغ ہو کر اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہے اور ضحیٰ (چاشت) کی دو رکعتیں پڑھ کر اٹھے اور اس دوران میں خیر ہی کی بات کرے تو اس کی خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11293)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/439) (ضعیف)» (اس کے راوی زبَّان ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
زبان : شيخ صالح زاهد،ضعيف من جهة حفظه وتكلموا في حديثه عن سهل بن معاذ أيضًا وقال ابن حجر في التقريب (1985) : ’’ زبان ضعيف الحديث مع صلاحه وعبادته ‘‘ و قال الھيثمي : ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 105/10)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54
إسناده ضعيف
زبان : شيخ صالح زاهد،ضعيف من جهة حفظه وتكلموا في حديثه عن سهل بن معاذ أيضًا وقال ابن حجر في التقريب (1985) : ’’ زبان ضعيف الحديث مع صلاحه وعبادته ‘‘ و قال الھيثمي : ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 105/10)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54
حدیث نمبر: 1288
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" صَلَاةٌ فِي إِثْرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک نماز کے بعد دوسری نماز کی ادائیگی اور ان دونوں کے درمیان میں کوئی بیہودہ اور فضول کام نہ کرنا ایسا عمل ہے جو علیین میں لکھا جاتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1288]
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک نماز کے بعد دوسری نماز، اس طرح کہ ان کے مابین کوئی لغو نہ ہو، (اس عمل سے) علیین میں نام درج ہو جاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1288]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4900)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/263) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
انظر الحديث السابق (558)
انظر الحديث السابق (558)
حدیث نمبر: 1289
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ أَبِي شَجَرَةَ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ، لَا تُعْجِزْنِي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ فِي أَوَّلِ نَهَارِكَ أَكْفِكَ آخِرَهُ".
نعیم بن ہمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اے ابن آدم! اپنے دن کے شروع کی چار رکعتیں ۱؎ ترک نہ کر کہ میں دن کے آخر تک تجھ کو کافی ہوں گا یعنی تیرا محافظ رہوں گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1289]
سیدنا نعیم بن ہمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اللہ عز وجل فرماتا ہے: ”اے ابن آدم! تو میرے لیے شروع دن میں چار رکعات پڑھنے سے عاجز نہ رہ، میں آخر دن تک تیری کفایت کروں گا۔“” [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابوداود، سنن النسائی/ الکبری الصلاة 60 (466، 467)، (تحفة الأشراف: 11653)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/286، 287)، سنن الدارمی/الصلاة 150 (1492) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: علماء نے ان رکعتوں کو نماز الضحیٰ پر محمول کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1314)
وللحديث شاھد عند أحمد (4/201، 153 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (1314)
وللحديث شاھد عند أحمد (4/201، 153 وسنده صحيح)