🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب الأَرْبَعُ قَبْلَ الظُّهْرِ وَبَعْدَهَا
باب: ظہر سے پہلے اور اس کے بعد کی چار رکعت سنت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1270
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ مِنْجَابَ، عَنْ قَرْثَعٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَرْبَعٌ قَبْلَ الظُّهْرِ لَيْسَ فِيهِنَّ تَسْلِيمٌ تُفْتَحُ لَهُنَّ أَبْوَابُ السَّمَاءِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: بَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، قَالَ: لَوْ حَدَّثْتُ عَنْ عُبَيْدَةَ بِشَيْءٍ لَحَدَّثْتُ عَنْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: عُبَيْدَةُ ضَعِيفٌ. قَالَ أَبُو دَاوُد: ابْنُ مِنْجَابٍ هُوَ سَهْمٌ.
ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر کے پہلے کی چار رکعتیں، جن کے درمیان سلام نہیں ہے، ایسی ہیں کہ ان کے واسطے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن سعید قطان کی یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے کہا: اگر میں عبیدہ سے کچھ روایت کرتا تو ان سے یہی حدیث روایت کرتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لیکن عبیدہ ضعیف ہیں، اور ابن منجاب کا نام سہم ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1270]
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر سے پہلے کی چار رکعات کہ ان میں سلام نہ ہو، ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید قطان سے مجھے یہ بات پہنچی ہے، انہوں نے کہا کہ اگر میں عبیدہ سے کچھ بیان کرتا تو یہ حدیث روایت کرتا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبیدہ ضعیف ہے اور ابن منجاب کا نام سہم ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1270]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 105 (1157)، سنن الترمذی/ الشمائل (293، 2494)، (تحفة الأشراف: 3485)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/416، 417، 420) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عبیدہ بن متعب ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: تراجع الألباني 125).
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1157) مختصرًا بإختلاف في السند
عبيدة بن معتب ضعيف كما قال أبو داود وقال ابن حجر في التقريب (4416):’’ ضعيف واختلط بأخرة ‘‘ إلخ
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 53

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب الصَّلاَةِ قَبْلَ الْعَصْرِ
باب: عصر کے پہلے نفل پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1271
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو الْمُثَنَّى، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً صَلَّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1271]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1271]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 2 20 (430)، (تحفة الأشراف: 7454)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/117) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ عام نفل نماز میں سے ہے، اس کا شمار سنن رواتب میں نہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1170)
أخرجه الترمذي (430 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (1193 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1272
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1272]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1272]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10140) (حسن) (لكن بلفظ: ’’أربع ركعات‘‘ كما عند الترمذي في الصلاة 202)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ترمذی کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے چار رکعتیں نفل پڑھتے تھے، لیکن تشہد کے ذریعہ فصل کرتے تھے اور سلام ایک ہی ہوتا تھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن لكن بلفظ أربع ركعات
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1172)
صححه النووي في رياض الصالحين (1121 بتحقيقي) ولم أر لمضعفه حجةً قويةً

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب الصَّلاَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ
باب: عصر کے بعد نفل پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1273
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَقُلْ: إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْهُمَا"، فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ، فَقَالَتْ: سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُمَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا، أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَصَلَّاهُمَا، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ، فَقُلْتُ: قُومِي بِجَنْبِهِ، فَقُولِي لَهُ: تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَسْمَعُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا، فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ، قَالَتْ: فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ، فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ، سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس، عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ تینوں نے انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا: ان سے ہم سب کا سلام کہنا اور عصر کے بعد دو رکعت نفل کے بارے میں پوچھنا اور کہنا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ یہ دو رکعتیں پڑھتی ہیں، حالانکہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے، چنانچہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور انہیں ان لوگوں کا پیغام پہنچا دیا، آپ نے کہا: ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھو! میں ان لوگوں کے پاس آیا اور ان کی بات انہیں بتا دی، تو ان سب نے مجھے ام المؤمنین ام سلمہ کے پاس اسی پیغام کے ساتھ بھیجا، جس کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تھا، تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا، پھر دیکھا کہ آپ انہیں پڑھ رہے ہیں، ایک روز آپ نے عصر پڑھی پھر میرے پاس آئے، اس وقت میرے پاس انصار کے قبیلہ بنی حرام کی کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے یہ دونوں رکعتیں پڑھنا شروع کیں تو میں نے ایک لڑکی کو آپ کے پاس بھیجا اور اس سے کہا کہ تو جا کر آپ کے بغل میں کھڑی ہو جا اور آپ سے کہہ: اللہ کے رسول! ام سلمہ کہہ رہی ہیں: میں نے تو آپ کو ان دونوں رکعتوں کو پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور اب آپ ہی انہیں پڑھ رہے ہیں، اگر آپ ہاتھ سے اشارہ کریں تو پیچھے ہٹ جانا، اس لڑکی نے ایسا ہی کیا، آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا، تو وہ پیچھے ہٹ گئی، جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: اے ابوامیہ کی بیٹی! تم نے مجھ سے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے بارے میں پوچھا ہے، دراصل میرے پاس عبدالقیس کے چند لوگ اپنی قوم کے اسلام کی خبر لے کر آئے تو ان لوگوں نے مجھے باتوں میں مشغول کر لیا اور میں ظہر کے بعد یہ دونوں رکعتیں نہیں پڑھ سکا، یہ وہی دونوں رکعتیں ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1273]
جناب کریب مولیٰ ابن عباس سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہما اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا اور کہا: انہیں ہم سب کی طرف سے سلام کہنا اور ان سے عصر کے بعد دو رکعتوں کا مسئلہ پوچھنا اور کہنا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ یہ رکعتیں پڑھتی ہیں جب کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ میں (یعنی کریب) ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ سب بات پہنچائی جو انہوں نے مجھ سے کہی تھی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جاؤ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے معلوم کرو۔ میں ان حضرات کے پاس واپس آیا اور ان کا جواب بتایا تو انہوں نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیج دیا، اسی بات کے ساتھ جو انہوں نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق کہی تھی۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا تھا کہ آپ ان سے (عصر کے بعد نماز سے) منع فرماتے تھے لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے پایا۔ (ایک دن) آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھا کر تشریف لائے اور میرے ہاں انصار کے قبیلہ بنی حرام کی کچھ عورتیں بیٹھی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رکعتیں پڑھیں تو میں نے خادمہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، میں نے اس سے کہا: جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑی ہو جانا اور کہنا کہ ام سلمہ پوچھتی ہیں کہ اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو سنا ہے کہ آپ ان سے منع فرماتے ہیں اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پڑھ رہے ہیں؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اشارہ فرما دیں تو ان سے ذرا دور ہو جانا۔ چنانچہ خادمہ نے ایسے ہی کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ پیچھے ہٹ گئی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: اے دختر ابی امیہ! تو نے عصر کے بعد کی ان دو رکعتوں کے متعلق پوچھا ہے تو بات یہ ہے کہ میرے پاس قبیلہ عبدالقیس کے کچھ لوگ اپنی قوم کا اسلام لے کر آئے اور انہوں نے مجھے ظہر کے بعد کی رکعتوں سے مشغول کر دیا، تو یہ وہی دو رکعتیں ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/السھو 8 (1233)، المغازي 69 (4370)، صحیح مسلم/المسافرین 54 (834)، (تحفة الأشراف: 17571، 18207)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/المواقیت 35 (580)، مسند احمد (6/309)، سنن الدارمی/الصلاة 143 (1476) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1233) صحيح مسلم (834)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب مَنْ رَخَّصَ فِيهِمَا إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مُرْتَفِعَةً
باب: ان لوگوں کی دلیل جنہوں نے سورج بلند ہو تو عصر کے بعد دو رکعت سنت پڑھنے کی اجازت دی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1274
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنْ علِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا، سوائے اس کے کہ سورج بلند ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1274]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز سے منع فرمایا ہے الا یہ کہ سورج اونچا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/المواقیت 36 (574)، (تحفة الأشراف: 10310)، وقد أخرجہ: (1/80، 81) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (574 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1284 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1275
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي إِثْرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے سوائے فجر اور عصر کے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1275]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر اور عصر کے علاوہ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1275]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10138)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/124) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ابو اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
وضاحت: ۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر اور عصر کے بعد مسجد میں کوئی نماز سد باب کے لئے نہیں پڑھی، البتہ ظہر کے بعد کی سنت کی قضا آپ نے گھر میں کی ہے جیسا کہ حدیث گزر چکی ہے، علی رضی اللہ عنہ سے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنا ثابت ہے، حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز سے منع کیا ہے، الا یہ کہ سورج اونچا ہو (یعنی زرد نہ ہوا ہو)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق عنعن و ھو مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 53

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1276
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے پاس کئی پسندیدہ لوگوں نے گواہی دی ہے، جن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے اور میرے نزدیک عمر رضی اللہ عنہ ان میں سب سے پسندیدہ شخص تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے کوئی نماز نہیں، اور نہ عصر کے بعد سورج ڈوبنے سے پہلے کوئی نماز ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1276]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، مجھے کئی پسندیدہ لوگوں نے بتایا، ان میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی ہیں بلکہ ان سب میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سب سے بڑھ کر پسندیدہ ہیں، انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح کی نماز کے بعد کوئی نماز نہیں حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جائے اور نماز عصر کے بعد کوئی نماز نہیں حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1276]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المواقیت30 (581)، صحیح مسلم/المسافرین 51 (826)، سنن الترمذی/الصلاة 20 (183)، سنن النسائی/المواقیت 32 (563)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 147 (1250)، (تحفة الأشراف: 10492)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 18، 20، 21، 39)، سنن الدارمی/الصلاة 142 (1473) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (581) صحيح مسلم (826)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1277
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ؟ قَالَ:" جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ فَصَلِّ مَا شِئْتَ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَكْتُوبَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الصُّبْحَ، ثُمَّ أَقْصِرْ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَتَرْتَفِعَ قِيسَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَتُصَلِّي لَهَا الْكُفَّارُ، ثُمَّ صَلِّ مَا شِئْتَ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَكْتُوبَةٌ حَتَّى يَعْدِلَ الرُّمْحُ ظِلَّهُ، ثُمَّ أَقْصِرْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ تُسْجَرُ وَتُفْتَحُ أَبْوَابُهَا، فَإِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلِّ مَا شِئْتَ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ أَقْصِرْ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَيُصَلِّي لَهَا الْكُفَّارُ". وَقَصَّ حَدِيثًا طَوِيلًا، قَالَ الْعَبَّاسُ: هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، إِلَّا أَنْ أُخْطِئَ شَيْئًا لَا أُرِيدُهُ، فَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ.
عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! رات کے کس حصے میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری حصے میں، اس وقت جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ ان میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور فجر پڑھنے تک (ثواب) لکھے جاتے ہیں، اس کے بعد سورج نکلنے تک رک جاؤ یہاں تک کہ وہ ایک یا دو نیزے کے برابر بلند ہو جائے، اس لیے کہ سورج شیطان کی دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے اور کافر (سورج کے پجاری) اس وقت اس کی پوجا کرتے ہیں، پھر تم جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور (ثواب) لکھے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب نیزے کا سایہ اس کے برابر ہو جائے تو ٹھہر جاؤ، اس لیے کہ اس وقت جہنم دہکائی جاتی ہے اور اس کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، پھر جب سورج ڈھل جائے تو تم جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ اس وقت بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر پڑھ لو تو سورج ڈوبنے تک ٹھہر جاؤ، اس لیے کہ وہ شیطان کی دو سینگوں کے بیچ ڈوبتا ہے، اور کافر اس کی پوجا کرتے ہیں، انہوں نے ایک لمبی حدیث بیان کی۔ عباس کہتے ہیں: ابوسلام نے اسی طرح مجھ سے ابوامامہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے، البتہ نادانستہ مجھ سے جو بھول ہو گئی ہو تو اس کے لیے میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع ہوتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1277]
سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! رات کا کون سا حصہ زیادہ مقبول ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخرِ رات کا درمیانی حصہ، سو جس قدر جی چاہے نماز پڑھو۔ بیشک نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور اس کا اجر لکھا جاتا ہے حتیٰ کہ فجر پڑھ لو۔ پھر رک جاؤ حتیٰ کہ سورج نکل آئے اور ایک یا دو نیزوں کے برابر اونچا آ جائے۔ بیشک یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کفار اس کی عبادت کرتے ہیں۔ پھر نماز پڑھتے رہو، بیشک نماز میں فرشتے حاضر ہوتے اور اس کا اجر لکھا جاتا ہے حتیٰ کہ نیزے کا سایہ اس (نیزے) کے برابر ہو جائے (یعنی دوپہر ہو جائے اور کوئی زائد سایہ باقی نہ رہے) تو رک جاؤ۔ بیشک (اس وقت) جہنم بھڑکائی جاتی ہے اور اس کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ جب سورج ڈھل جائے تو جس قدر جی چاہے نماز پڑھو، بیشک نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، حتیٰ کہ عصر پڑھ لو، پھر رک جاؤ حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے۔ بیشک یہ شیطان کے دو سینگوں کے مابین غروب ہوتا ہے اور (اس وقت) کفار اس کی عبادت کرتے ہیں۔ اور لمبی حدیث بیان کی۔ عباس بن سالم نے کہا کہ ابو سلام رحمہ اللہ نے مجھے ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے ایسے ہی بیان کیا ہے: الا یہ کہ مجھ سے کوئی نادانستہ بھول ہو گئی ہو تو اللہ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1277]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 119 (3579)، (تحفة الأشراف: 10758)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 52 (832)، سنن النسائی/المواقیت 39 (585)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 182 (1364)، مسند احمد (4/111، 114) (صحیح) دون قوله: ’’جوف الليل‘‘» ‏‏‏‏ ( «جوف اللیل» کا لفظ ثابت نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون جملة جوف الليل
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه الترمذي (3579 وسنده صحيح ) وأصله في صحيح مسلم (832)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1278
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ يَسَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَآنِي ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أُصَلِّي بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، فَقَالَ: يَا يَسَارُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ، فَقَالَ:"لِيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْفَجْرِ إِلَّا سَجْدَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام یسار کہتے ہیں کہ مجھے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فجر طلوع ہونے کے بعد نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: یسار! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل کر آئے، اور ہم یہ نماز پڑھ رہے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے موجود لوگ غیر حاضر لوگوں کو بتا دیں کہ فجر (طلوع) ہونے کے بعد فجر کی دو سنتوں کے علاوہ اور کوئی نماز نہ پڑھو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1278]
جناب یسار مولیٰ ابن عمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے دیکھا کہ میں طلوع فجر کے بعد نماز پڑھ رہا تھا تو انہوں نے فرمایا: اے یسار! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم یہ نماز پڑھا کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا حاضر (موجود) شخص اپنے غائب کو بتا دے کہ سوائے دو رکعتوں کے طلوع فجر کے بعد نماز نہ پڑھا کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1278]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 194 (419)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 18(235)، (تحفة الأشراف: 8570)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/23، 57، 104) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (419) ابن ماجه (235)
ابن الحصين مجهول (تق: 5823)
وللحديث شواهد ضعيفة،ويغني عنه حديث مسلم (723)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 53

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1279
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، وَمَسْرُوقٍ، قَالَا: نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ:" مَا مِنْ يَوْمٍ يَأْتِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ".
اسود اور مسروق کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کوئی دن ایسا نہیں ہوتا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعت نہ پڑھتے رہے ہوں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1279]
اسود اور مسروق (دونوں) نے کہا کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بابت گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ کوئی دن ایسا نہ گزرتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعتیں نہ پڑھتے ہوں۔ یعنی (ہر روز بلا ناغہ پڑھا کرتے تھے۔) [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1279]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المواقیت 33 (593)، والحج 74 (1633)، صحیح مسلم/المسافرین 54 (835)، سنن النسائی/المواقیت 35 (577)، (تحفة الأشراف: 1756، 16028)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/134، 176)، سنن الدارمی/الصلاة 143 (1474) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ وہی دو رکعتیں ہیں جن کا بیان حدیث نمبر (۱۲۷۳) میں گزرا، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا پڑھنا اپنا معمول بنا لیا تھا، یہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (593) صحيح مسلم (835)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں