🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر وصف عقوبة الكنازين في نار جهنم نعوذ بالله منها
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس بات کی کیفیت کا ذکر کہ خزانہ جمع کرنے والوں کی جہنم کی آگ میں سزا کیا ہو گی، ہم اللہ سے اس سے پناہ مانگتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3259
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الأَسَدِيُّ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَبَيْنَا أَنَا فِي حَلْقَةٍ وَفِيهَا مَلأٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، أَخْشَنُ الثِّيَابِ، أَخْشَنُ الْجَسَدِ، أَخْشَنُ الُوَجْهِ، فَقَامَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: بَشِّرِ الْكَنَّازِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَى عَلَيْهِمْ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُوضَعُ عَلَى حَلَمَةِ ثَدِيِ أَحَدِهِمْ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ نُغْضِ كَتِفِهِ، وَيُوضَعَ عَلَى نُغْضِ كَتِفِهِ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةَ ثَدِيهِ، فَوَضَعُوا رُؤُوسَهُمْ، فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ، رَجَعَ إِلَيْهِ شَيْئًا، قَالَ: وَأَدْبَرَ، فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى سَارِيَةٍ، فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ هَؤُلاءِ إِلا كَرِهُوا مَا قُلْتَ لَهُمْ، قَالَ: إِنَّ هَؤُلاءِ لا يَعْقِلُونَ، إِنَّ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ " فَأَجَبْتُهُ، قَالَ:" أَتَرَى أُحُدًا"، قَالَ: فَنَظَرْتُ مَا عَلَيَّ مِنَ الشَّمْسِ، وَأَنَا أَظُنُّهُ يَبْعَثُنِي لِحَاجَةٍ لَهُ، فقلتُ: أَرَاهُ، فَقَالَ: " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي مِثْلَهُ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ كُلَّهُ غَيْرَ ثَلاثَةِ دَنَانِيرَ" ، ثُمَّ هَؤُلاءِ يَجْمَعُونَ الدُّنِيَا لا يَعْقِلُونَ شَيْئًا، قَالَ: قُلْتُ: مَا لَكَ وَلإِخُوَانِكَ قُرَيْشٍ؟ قَالَ: لا وَرَبِّكَ لا أَسْأَلُهُمْ دُنِيَا وَلا أَسْتَفْتِيهِمْ فِي دِينِي حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
احنف بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا، میں ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا جس میں قریش کے کچھ افراد بھی تھے، اسی دوران ایک صاحب وہاں آئے جنہوں نے کھردرے کپڑے پہنے ہوئے تھے، ان کا جسم بھی کھردرا تھا اور چہرہ بھی کھردرا تھا، وہ ان لوگوں کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور بولے: خزانے جمع کرنے والوں کو انگاروں کی اطلاع دے دو جنہیں ان کے لیے جہنم کی آگ میں بھڑکایا جا رہا ہے اور پھر اسے ان میں سے کسی ایک شخص کے سینے پر رکھا جائے گا، یہاں تک کہ وہ انگارہ اس کے کندھے کی طرف سے نکل جائے گا اور اسے اس شخص کے کندھے پر رکھا جائے گا، تو وہ اس کے سینے سے نکل جائے گا، تو لوگوں نے اپنے سر جھکا لیے اور میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا جس نے انہیں کوئی جواب دیا ہو، پھر وہ صاحب چلے گئے اور میں ان صاحب کے پیچھے گیا، وہ ایک ستون کے پاس جا کر بیٹھ گئے، میں نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ ان سب لوگوں نے آپ کی اس بات کو ناپسند کیا ہے جو آپ نے ان سے کہی ہے، تو اس شخص نے کہا: یہ لوگ عقل نہیں رکھتے ہیں، میرے خلیل سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا اور فرمایا: اے ابوذر! میں نے کہا: میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے احد کو دیکھا ہے؟ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ دھوپ کتنی تیز ہے، میرا یہ خیال تھا کہ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام سے مجھے بھیجنا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے پاس اس (احد پہاڑ) جتنا سونا ہو اور میں اس سب کو خرچ نہ کر دوں، لیکن تین دینار خرچ نہ کروں (یعنی میں اسے بھی خرچ کر دوں گا)۔ (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا) یہ لوگ ہیں کہ یہ دنیا جمع کیے جا رہے ہیں، انہیں کسی چیز کی عقل نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے دریافت کیا: آپ کا اور آپ کے قریشی بھائیوں کا کیا واسطہ ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی نہیں، تمہارے پروردگار کی قسم! میں ان لوگوں سے دنیا نہیں مانگوں گا اور نہ ہی اپنے دین کے بارے میں ان سے کوئی مسئلہ دریافت کروں گا، یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3259]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1407، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 992، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3259، 3260، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13163، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21824» «رقم طبعة با وزير 3248»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1028).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر البيان بأن قول أبي ذر هذا سمعه من رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يقله من تلقاء نفسه
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس بات کا بیان کہ ابو ذر کا یہ قول انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نہ کہ خود سے کہا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3260
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خُلَيْدٌ الْعَصَرِيُّ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: كُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ: " بَشِّرِ الْكَنَّازِينَ فِي ظُهُورِهِمْ بِكَيٍّ يَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِهِمْ، وَبِكَيٍّ مِنْ قِبَلِ قَفَاهُمْ يَخْرُجُ مِنْ جِبَاهِهِمْ، ثُمَّ تَنَحَّى، فَقَعَدَ" ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: أَبُو ذَرٍّ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: مَا شَيْءٌ سَمِعْتُكَ تَقُولُهُ قُبَيْلُ؟ قَالَ: مَا قُلْتُ إِلا شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: فَمَا تَقُولُ فِي هَذَا الْعَطَاءِ؟ قَالَ: خُذْهُ، فَإِنَّ فِيهِ الِيَوْمَ مَعُونَةً، فَإِذَا كَانَ ثَمَنًا لِدِينِكَ فَدَعْهُ.
احنف بن قیس کہتے ہیں: میں قریش کے کچھ افراد کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے، انہوں نے فرمایا: خزانے جمع کرنے والوں کو یہ اطلاع دے دو کہ ان کی پشتوں کو اس چیز کے ذریعے داغا جائے گا جو ان کے پہلو سے نکل جائے گی اور اس چیز کے ذریعے داغا جائے گا جو ان کی گدی کی طرف ڈالی جائے گی، تو سامنے کی طرف سے نکل جائے گی۔ پھر وہ ایک طرف ہٹ کر بیٹھ گئے۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں اٹھ کر ان کے پاس گیا، میں نے کہا: ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے آپ کو جو بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کیا چیز ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے صرف وہی بات بیان کی ہے، جو میں نے ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔ میں نے دریافت کیا: پھر آپ اس تنخواہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: تم اسے حاصل کر لو، کیونکہ اب اس کے ذریعے ضروریات پوری کی جاتی ہیں، لیکن جب یہ تمہارے دین کی قیمت بنے، تو تم اسے چھوڑ دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3260]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1407، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 992، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3259، 3260، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13163، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21824» «رقم طبعة با وزير 3249»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (992/ 35).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر الخبر الدال على أن العقوبات التي تقدم ذكرنا لها هي على من لم يؤد زكاته من ماله دون من زكاها
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے ذکر کردہ عقوبات اس کے لیے ہیں جو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہ کرے، نہ کہ اس کے لیے جو زکوٰۃ ادا کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3261
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قال: حدَّثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي الْمَالُ الَّذِي لا يُعْطَى فِيهِ الْحَقُّ تَطَأُ الإِبِلُ سَيِّدَهَا بِأَخْفَافِهَا، وَيَأْتِي الْبَقَرُ وَالْغَنَمُ فَتَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَظْلافِهَا، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، وَيَأْتِي الْكَنْزُ شُجَاعًا أَقْرَعَ، فَيَلْقَى صَاحِبَهُ، فَيَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُهُ وَيَفِرُّ مِنْهُ، وَيَقُولُ: مَا لِي وَلَكَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ، فَيَلْقَمُ يَدَهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: وہ مال آئے گا جس کا حق (یعنی زکوٰۃ) نہیں ادا کیا گیا ہو گا، اونٹ اپنے مالک کو اپنے پاؤں کے ذریعے روندے گا۔ گائے اور بکریاں آئیں گی، اپنے مالک کو اپنے پاؤں کے ذریعے روندیں گی اور سینگوں کے ذریعے ماریں گی۔ خزانہ گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا اور اپنے مالک کے پیچھے جائے گا، اس کا مالک اس سے بھاگے گا، وہ پھر اس کے سامنے آ جائے گا، پھر اس سے بھاگے گا اور یہ کہے گا: میرا تمہارے ساتھ کیا واسطہ ہے؟ تو وہ کہے گا: میں تمہارا خزانہ ہوں، پھر وہ اس کے ہاتھ کو چبا لے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3261]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1402، 1403، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 987، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2252، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3253، 3254، 3258، 3261، 3313، 3332، 4671، 4672، 4675، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1439، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1658، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1636، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1786، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7323، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5873» «رقم طبعة با وزير 3250»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (3243). تنبيه!! رقم (3243) = (3254) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر الخبر المصرح بأن الكنز الذي يستوجب صاحبه المكتنز العقوبة من الله جل وعلا في أخراه هو المال الذي لم يؤد زكاته وإن كان ظاهرا دون ما أدى زكاته وإن كان مدفونا
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس خبر کا ذکر جو واضح کرتا ہے کہ وہ خزانہ جو اس کے مالک کو آخرت میں اللہ جل وعلا کی سزا کا مستوجب بناتا ہے وہ مال ہے جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی گئی، چاہے وہ ظاہر ہو، نہ کہ وہ جس کی زکوٰۃ ادا کی گئی، چاہے وہ دفن ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3262
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ وَلا يُفْقَهُ مَا يَقُولُ، حَتَّى دَنَا، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الإِسْلامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الِيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ"، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ:" لا إِلا أَنْ تَطَوَّعَ"، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ"، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ:" لا إِلا أَنْ تَطَوَّعَ"، قَالَ: وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ:" لا إِلا أَنْ تَطَوَّعَ"، قَالَ: فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلا أَنْقُصُ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ" .
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نجد سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنائی دیتی تھی، لیکن وہ کیا کہہ رہا ہے یہ سمجھ نہیں آتا تھا، جب وہ قریب ہوا، تو پتہ چلا کہ وہ اسلام کے بارے میں دریافت کر رہا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دن اور رات میں پانچ نمازیں (فرض ہیں)۔ اس نے دریافت کیا: کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر (کوئی نماز ادا کرنا) فرض ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، البتہ اگر تم نوافل ادا کرو (تو یہ بہتر ہیں)۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا (فرض ہے)۔ اس نے دریافت کیا: کیا ان کے علاوہ (کوئی اور روزے بھی) مجھ پر لازم ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، البتہ اگر تم نفل (روزے رکھو، تو یہ بہتر ہیں)۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے زکوٰۃ کا تذکرہ کیا، تو اس نے دریافت کیا: اس کے علاوہ (کوئی ادائیگی) بھی مجھ پر لازم ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، البتہ اگر تم نفلی طور پر (صدقہ و خیرات کرو، تو یہ بہتر ہیں)۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ شخص چلا گیا، وہ یہ کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! میں اس میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا اور اس میں کوئی کمی بھی نہیں کروں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر اس نے سچ کہا، تو یہ کامیاب ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3262]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 46، 1891، 2678، 6956، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 11، وابن الجارود فى "المنتقى"، 161، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 306، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1724، 3262، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 391، 3252، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1619، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1720، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1407» «رقم طبعة با وزير 3251»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة الحديث أن النار تجب لمن مات وقد خلف الصفراء من هذه الدنيا الفانية الزائلة
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ اس کے لیے آگ لازم ہے جو اس فانی دنیا سے زرد چیز (سونے) کو چھوڑ کر مرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3263
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ ، بِالْمَوْصِلِ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ، فَوَجَدُوا فِي شَمْلَتِهِ دِينَارَيْنِ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" كَيَّتَانِ" .
سیدنا عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں: اہل صفہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا، تو لوگوں کو ان کی چادر میں دو دینار ملے، لوگوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ دونوں داغ لگانے والے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3263]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3263، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3920، 3991» «رقم طبعة با وزير 3252»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 43).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر خبر ثان يوهم مستمعيه أن لا يجب على المسلم أن يموت ويخلف شيئا من هذه الدنيا لمن بعده
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو سننے والوں کو یہ وہم دلاتا ہے کہ مسلمان کے لیے لازم نہیں کہ وہ اس دنیا سے کچھ چھوڑ کر مرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3264
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحِيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنَ الأَكُوَعِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَقَالُوا: صَلِّ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا؟"، قَالُوا: لا، قَالَ:" فَهَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالُوا: ثَلاثَةُ دَنَانِيرَ، قَالَ:" ثَلاثُ كَيَّاتٍ"، ثُمَّ أُتِيَ بِالثَّانِيَةِ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلِّ عَلَيْهَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَهَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالُوا: لا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيَّ دَيْنُهُ، قَالَ:" فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، ایک جنازہ لایا گیا، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: تین دینار۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین ایسی چیزیں جن سے داغ لگایا جائے گا۔ ایک اور جنازہ آیا، لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ انصار میں سے ایک صاحب جن کا نام سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ تھا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے قرض کی ادائیگی میرے ذمے ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3264]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2289، 2295، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3264، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1960، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2099، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11513، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16774» «رقم طبعة با وزير 3253»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 44).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر الخبر الدال على أن قوله صلى الله عليه وسلم كيتان و " ثلاث كيات " أراد به أن المتوفى كان يسأل الناس إلحافا وتكثرا
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "دو کیات" اور "تین کیات" سے مراد یہ ہے کہ متوفٰی لوگوں سے اصرار اور کثرت سے مانگتا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3265
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمَقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحِيَى الأَسْلَمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَسِّمُ ذَهَبًا، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِنِي، فَأَعْطَاهُ، ثُمَّ قَالَ: زِدْنِي، فَزَادَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ وَلَّى مُدْبِرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيَسْأَلُنِي فَأُعْطِيهِ، ثُمَّ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيهِ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ وَلَّى مُدْبِرًا وَقَدْ جَعَلَ فِي ثَوْبِهِ نَارًا إِذَا انْقَلَبَ إِلَى أَهْلِهِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سونا تقسیم کر رہے تھے، اسی دوران ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی دیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عطا کر دیا، پھر اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مزید دیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مزید عطا کیا، ایسا تین مرتبہ ہوا، پھر وہ منہ پھیر کر چلا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے مانگتا ہے، میں اسے عطا کر دیتا ہوں، وہ پھر مجھ سے مانگتا ہے، تو میں اسے عطا کر دیتا ہوں، ایسا تین مرتبہ ہوتا ہے، پھر وہ شخص مڑ کر چلا جاتا ہے، حالانکہ اس نے اپنے کپڑے میں آگ ڈالی ہوئی ہوتی ہے، اس وقت جب وہ اپنے گھر واپس جا رہا ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3265]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3265، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11253» «رقم طبعة با وزير 3254»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 8).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
فضيل بن سليمان كثير الخطأ وباقي السند رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
56. باب فرض الزكاة - ذكر تفصيل الصدقة التي تجب في ذوات الأربع
زکاۃ کے فرض ہونے کا بیان - چوپایوں میں واجب صدقہ کی تفصیل کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3266
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْبُجَيْرِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، بِبُسْتَ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ لَمَا اسْتُخْلِفَ كَتَبَ لَهُ حِينَ وَجَّهَهُ إِلَى الِيَمَنِ هَذَا الْكِتَابَ" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ، فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلِيُعْطِهَا، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا، فَلا يُعْطِهَا، فِي أَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ فَمَا دُونَهَا: الْغَنَمُ، فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ، فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ، فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلاثِينَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ إِلَى سِتِّينَ، فَفِيهَا حِقَّةٌ طَروقَةُ الْجَمَلِ، فَإِذَا بَلَغَتْ وَاحِدَةً وَسِتِّينَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَفِيهَا جَذَعَةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ إِلَى تِسْعِينَ، فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِئَةٍ، فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَإِنَّ مَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ، وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ، وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ، أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ حِقَّةٌ وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ الْحِقَّةُ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلا ابْنَةُ لَبُونٍ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، وَيُعْطِي شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلا حِقَّةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ، وَيُعْطِي مَعَهَا عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ، وَعِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ، وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ، فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ إِلا أَرْبَعَةٌ مِنَ الإِبِلِ، فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ، فَفِيهَا شَاةٌ، وَصَدَقَةُ الْغَنَمِ فِي كُلِّ سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، شَاةٌ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِئَةٍ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ، فَفِيهَا شَاتَانِ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى الْمِئَتَيْنِ إِلَى ثَلاثِ مِائَةٍ، فَفِيهَا ثَلاثُ شِياه، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلاثِ مِئَةٍ، فَفِي كُلِّ مِئَةٍ شَاةٌ، وَلا يَخْرُجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ، وَلا ذَاتُ عُوَارٍ، وَلا تَيْسٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَّدِّقُ، وَلا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشِيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ، فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بينهما بِالسَّوِيَّةِ، وَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةً وَاحِدَةً، فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشْرِ، فَإِذَ لَمْ يَكُنْ مَالٌ إِلا تِسْعِينَ وَمِئَةً، فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا گیا، تو انہوں نے جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا، تو انہیں یہ خط لکھ کر دیا: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ یہ زکوٰۃ کی فرضیت کا وہ حکم نامہ ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض قرار دیا تھا اور جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا تھا۔ مسلمانوں میں سے جس کسی سے اس کے مطابق مطالبہ کیا جائے، تو وہ ادائیگی کرے اور جس سے اس سے زیادہ کا مطالبہ کیا جائے، تو وہ ادائیگی نہ کرے۔ چوبیس (24) یا اس سے کم اونٹوں میں سے ہر پانچ اونٹوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہے۔ جب ان کی تعداد پچیس (25) ہو جائے، تو پینتیس (35) تک میں ایک بنتِ مخاض کی ادائیگی لازم ہے، اگر بنتِ مخاض نہ ہو، تو ایک ابنِ لبون مذکر کی ادائیگی لازم ہے۔ جب ان کی تعداد چھتیس (36) سے لے کر پینتالیس (45) تک ہو، تو ان میں ایک بنتِ لبون کی ادائیگی لازم ہے۔ جب ان کی تعداد چھیالیس (46) سے لے کر ساٹھ (60) تک ہو، تو اس میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہے، جسے جفتی کے لیے دیا جا سکے۔ جب اس کی تعداد اکسٹھ (61) سے لے کر پچھتر (75) تک ہو، تو اس میں جزعہ کی ادائیگی لازم ہے۔ جب ان کی تعداد چھہتر (76) سے لے کر نوے (90) تک ہو، تو اس میں دو بنتِ لبون کی ادائیگی لازم ہے۔ جب ان کی تعداد اکیانوے (91) سے لے کر ایک سو بیس (120) تک ہو، تو اس میں دو حقہ کی ادائیگی لازم ہے جنہیں جفتی کے لیے دیا جا سکے۔ جب ان کی تعداد ایک سو بیس (120) سے زیادہ ہو جائے، تو ہر چالیس (40) میں ایک بنتِ لبون کی اور ہر پچاس (50) میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی۔ جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اس پر زکوٰۃ کے طور پر جزعہ کی ادائیگی لازم ہو اور اس کے پاس جزعہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس حقہ ہو، تو اس سے حقہ وصول کر لیا جائے گا اور وہ شخص اس کے ہمراہ دو بکریاں یا بیس (20) درہم دے گا۔ اور جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اس پر حقہ کی ادائیگی لازم ہو اور اس کے پاس حقہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس جزعہ ہو، تو اس سے جزعہ وصول کر لیا جائے گا اور زکوٰۃ وصول کرنے والا شخص اسے یا تو بیس (20) درہم دے گا یا دو بکریاں دے گا۔ اور جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اس پر حقہ کی ادائیگی لازم ہو، لیکن اس کے پاس حقہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس بنتِ لبون ہو، تو اس سے بنتِ لبون کو وصول کیا جائے گا اور وہ شخص دو بکریاں یا بیس (20) درہم دے گا۔ اور جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ زکوٰۃ کے طور پر بنتِ لبون کی ادائیگی لازم ہو اور وہ اس کے پاس نہ ہو بلکہ اس کے پاس حقہ ہو، تو اس سے حقہ کو وصول کر لیا جائے گا اور زکوٰۃ وصول کرنے والا اسے بیس (20) درہم یا دو بکریاں دے گا۔ جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ ان کی زکوٰۃ بنتِ لبون بنتی ہو اور اس کے پاس بنتِ لبون نہ ہو، تو اس سے بنتِ مخاض کو قبول کیا جائے گا اور وہ شخص اس کے ہمراہ بیس (20) درہم یا دو بکریاں دے گا۔ جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اس کی زکوٰۃ ایک بنتِ مخاض بنتی ہو اور وہ اس کے پاس نہ ہو بلکہ اس کے پاس بنتِ لبون ہو، تو اس سے بنتِ لبون کو قبول کیا جائے گا اور زکوٰۃ لینے والا شخص اسے بیس (20) درہم یا دو بکریاں ادا کرے گا۔ جس شخص کے پاس بنتِ مخاض نہ ہو بلکہ اس کے پاس ابنِ لبون ہو، تو اس سے وہی وصول کیا جائے گا اور اس کے ہمراہ کوئی چیز نہیں لی جائے گی۔ اور جس شخص کے پاس صرف چار اونٹ ہوں، تو ان میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی، البتہ اگر ان کا مالک چاہے (تو کوئی ادائیگی کر سکتا ہے)۔ اونٹوں کی تعداد پانچ ہو، تو ان میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی۔ اور سائمہ بکریوں میں چالیس (40) سے لے کر ایک سو بیس (120) تک میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی۔ جب ایک سو بیس (120) سے زیادہ ہوں، تو دو سو (200) تک میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی۔ اگر دو سو سے زیادہ ہوں، تو تین سو (300) تک میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی۔ اگر تین سو سے زیادہ بکریاں ہوں، تو ہر ایک سو میں سے ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی۔ زکوٰۃ میں بوڑھے، کانے اور کمزور جانور کو وصول نہیں کیا جائے گا، البتہ اگر زکوٰۃ وصول کرنے والا چاہے، تو ایسا کر سکتا ہے۔ اور (زکوٰۃ سے بچنے کے لیے) متفرق مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور اکٹھے مال کو متفرق نہیں کیا جائے گا۔ اور جو مال دو آدمیوں کی مشترکہ ملکیت ہو، تو ان دونوں سے برابری کی بنیاد پر وصولی کی جائے گی۔ اور جب کسی شخص کی سائمہ بکریاں چالیس سے کم ہوں خواہ ایک بھی کم ہو، تو اس میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی، البتہ اگر ان کا مالک چاہے تو (کوئی ادائیگی کر سکتا ہے)۔ چاندی میں عشر کے چوتھائی حصے (یعنی اڑھائی فیصد) کی ادائیگی بھی لازم ہو گی۔ اگر مال صرف ایک سو نوے (190) درہم ہو، تو اس میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی، البتہ اگر اس کا مالک چاہے، تو ادائیگی کر سکتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3266]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1448، 1450، وابن الجارود فى "المنتقى"، 377، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2261، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3266، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1445، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1567، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1800، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7346، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1984، 1985، وأحمد فى (مسنده) برقم: 73» «رقم طبعة با وزير 3255»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (3/ 265 - 266).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
57. باب فرض الزكاة - ذكر الزجر عن أن يجلب المصدق ماشية أهلها عن مياههم إلى الموضع الذي يريد عنده أخذ الصدقة فيها منهم
زکاۃ کے فرض ہونے کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ زکوٰۃ لینے والا مالکان کی مویشیوں کو ان کے پانی سے ہٹا کر اس جگہ لے جائے جہاں وہ ان سے صدقہ لینا چاہتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3267
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا جَلَبَ، وَلا جَنَبَ، وَلا شِغَارَ، وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً، فَلَيْسَ مِنَّا" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: «جَلَبَ»، «جَنَبَ»، «شِغَارَ» کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور جو شخص اچک کر کوئی چیز لیتا ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3267]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3267، 5170، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3335، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1561، 2581، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1123، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3937، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19838، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4831، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20171» «رقم طبعة با وزير 3256»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2324).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
58. باب فرض الزكاة - ذكر الأخبار المفسرة لقوله جل وعلا خذ من أموالهم صدقة تطهرهم وتزكيهم بها
زکاۃ کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کی تشریح کرنے والی خبروں کا ذکر کہ اللہ جل وعلا نے فرمایا: "ان کے اموال سے صدقہ لو جو انہیں پاک کرے اور ان کی تزکیہ کرے"
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3268
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَأَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحِيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا الْخَبَرُ يُبَيِّنُ بِأَنَّ الْمُرَادَ مِنْ قَوْلِهِ: خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ سورة التوبة آية 103 أَرَادَ بِهِ بَعْضَ الْمَالِ، إِذِ اسْمُ الْمَالِ وَاقِعٌ عَلَى مَا دُونَ الْخَمْسِ مِنَ الذَّوْدِ، وَالْخَمْسِ مِنَ الأَوَاقِ، وَالْخَمْسِ مِنَ الأَوْسُقِ، وَقَدْ نَفِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيجَابَ الصَّدَقَةِ عَنْ مَا دُونَ الَّذِي حَدَّ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی، پانچ اوقیہ (سے کم چاندی) میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی، اور پانچ وسق سے کم (اناج میں) زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): اس روایت میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا﴾ [سورة التوبة: 103] تم ان کے اموال میں سے زکوٰۃ کو وصول کر کے انہیں پاک و صاف کر دو کے ذریعے بعض مال مراد ہے، کیونکہ لفظ مال کا اطلاق اس چیز پر بھی ہوتا ہے جو پانچ اونٹوں، پانچ اوقیہ چاندی یا پانچ وسق اناج سے کم ہو، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مخصوص حد سے کم میں زکوٰۃ لازم ہونے کی نفی کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3268]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1405، 1447، 1459، 1484، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 979، وابن الجارود فى "المنتقى"، 375، 384، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2263، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3268، 3275، 3276، 3277، 3281، 3282، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2444، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1558، 1559، والترمذي فى (جامعه) برقم: 626، 627، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1673، 1674، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1793، 1799، 1832، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7343، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1899، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11187» «رقم طبعة با وزير 3257»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1394): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں