🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب فضل الزكاة - ذكر استيفاء المرء الثواب الجزيل في العقبى بإعطائه صدقة ماشيته في الدنيا
زکاۃ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی دنیا میں اپنے مویشیوں کی صدقہ دینے سے آخرت میں عظیم ثواب حاصل کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3249
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ:" وَيْحَكَ، إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو! ہجرت کا معاملہ بہت سخت ہے، کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم ان کی زکوٰۃ دیتے ہو؟ اس نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سمندروں کے پرے بھی عمل کر لو، تو اللہ تعالیٰ تمہارے عمل میں سے کوئی بھی چیز چھوڑے گا نہیں (یعنی ہر چیز کا تمہیں بدلہ دے گا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3249]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1452، 2633، 3923، 6165، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1865، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1105، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3249، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4175، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2477، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17838، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11274» «رقم طبعة با وزير 3238»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2139): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر الزجر عن استعمال الشح في فرائض الله والجبن في قتال أعداء الله جل وعلا
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ اللہ کے فرائض میں بخل اور اللہ کے دشمنوں سے لڑنے میں بزدلی کی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3250
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرُوَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَرُّ مَا فِي الرَّجُلِ شُحٌّ هَالِعٌ، وَجُبْنٌ خَالِعٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آدمی میں سب سے بری چیز وہ کنجوسی ہے، جو غمگین کر دے اور وہ بزدلی ہے، جو حواس رخصت کر دے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3250]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3250، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2511، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18633، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8125، 8379، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 1428، والبزار فى (مسنده) برقم: 8816، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 27141» «رقم طبعة با وزير 3239»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2268).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر نفي اجتماع الإيمان والشح عن قلب المسلم
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس بات کی نفی کہ ایمان اور بخل مسلمان کے دل میں جمع ہو سکتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3251
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانَ الْقَطَّانُ ، بِوَاسِطَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانَ السُّكَّرِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ صَفُوَانِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ، وَلا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أَبَدًا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ کی راہ میں اڑنے والا غبار اور جہنم کا دھواں ایک بندے کے اندر اکٹھے نہیں ہو سکتے اور کنجوسی اور ایمان ایک بندے کے دل میں کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3251]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1891، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3251، 4606، 4607، 4665، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2407، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2495، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1633، 2311، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2774، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2401، 2402، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18579، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7598» «رقم طبعة با وزير 3240»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (3828 / التحقيق الثاني).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر لعن المصطفى صلى الله عليه وسلم الممتنع عن إعطاء الصدقة والمرتد أعرابيا بعد الهجرة
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ دینے سے انکار کرنے والے اور ہجرت کے بعد اعرابی بن کر مرتد ہونے والے پر لعنت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3252
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفِيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " آكُلُ الرِّبَا وَمُوكِلُهُ وَكَاتِبُهُ وَشَاهِدَاهُ إِذَا عَلِمُوا بِهِ، وَالُوَاشِمَةُ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ لِلْحُسْنِ، وَلاوِي الصَّدَقَةِ، وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ هِجْرَتِهِ مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سود کھانے والا، اسے کھلانے والا، اسے لکھنے والا، اس کے دونوں گواہ جب یہ عمل کریں، اور جسم گودنے والی عورت اور خوبصورتی کے لیے گودوانے والی عورت، اور زکوٰۃ میں خیانت کرنے والا، اور ہجرت کرنے کے بعد مرتد ہونے والا دیہاتی، یہ سب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی، قیامت کے دن ملعون ہوں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3252]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1597، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2250، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3252، 4410، 5025، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3416، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3333، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1120، 1206، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2277، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7326، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3802» «رقم طبعة با وزير 3241»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (3/ 49)، «البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر وصف عقوبة من لم يؤد زكاة ماله في القيامة
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس بات کی کیفیت کا ذکر کہ قیامت کے دن اس کی سزا کیا ہو گی جو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3253
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحِيَى الْحَسَّانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ لَهُ مَالٌ لا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ إِلا جَمَعَ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُحْمَى عَلَيْهِ صَفَائِحُ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ، يُكُوَى بِهَا جَبِينُهُ وَظَهْرُهُ، حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى جُنَّةٍ وَإِمَّا إِلَى نَارٍ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ تَسِيرُ عَلَيْهِ، كُلَمَا مَضَى عَلَيْهِ أُخْرَاهَا، رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولاهَا، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى جُنَّةٍ وَإِمَّا إِلَى نَارٍ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ، فَتَطَؤُهُ بِأَظْلافِهَا، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلا جَلْحَاءُ، كُلَمَا مَضَتْ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا، رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولاهَا، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى جُنَّةٍ وَإِمَّا إِلَى نَارٍ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جس بھی بندے کے پاس مال موجود ہو، جس کی وہ زکاۃ ادا نہ کرتا ہو، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے لیے (مال کو جمع کرے گا اور اسے تختیوں کی شکل میں جہنم کی آگ سے گرم کیا جائے گا، جس کے ذریعے اس کی پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا اور ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا، جس وقت تک اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ نہیں کر دیتا جو ایک ایسے دن میں ہو گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال جتنی ہو گی جو تمہاری گنتی کے حساب سے ہیں، پھر اس کے بعد وہ شخص اپنا راستہ دیکھ لے گا جو جنت کی طرف جاتا ہو گا یا جہنم کی طرف جاتا ہو گا اور جو شخص اونٹوں کی زکاۃ ادا نہیں کرے گا اسے اونٹوں کے سامنے کھلے میدان میں ڈال دیا جائے گا، وہ اونٹ پہلے سے زیادہ موٹے تازے ہوں گے، وہ اونٹ اس پر سے گزریں گے، جب آخری اس پر سے گزر جائے گا، تو پہلا دوبارہ اس پر آئے گا اور ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا، جب تک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ نہیں کر دے گا جو ایسے دن میں ہو گا، جس کی مقدار پچاس (50) ہزار سال کے برابر ہو گی، پھر وہ شخص اپنا راستہ دیکھے گا جو یا تو جنت کی طرف جاتا ہو گا یا جہنم کی طرف جاتا ہو گا؛ بکریوں کا جو بھی مالک ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا ہو گا اسے ان بکریوں کے سامنے ایک کھلے میدان میں ڈال دیا جائے گا، وہ بکریاں پہلے سے زیادہ موٹی تازی ہوں گی، وہ اپنے پاؤں کے ذریعے اسے روندیں گی اور اپنے سینگوں کے ذریعے اسے ماریں گی، ان میں کوئی بکری ٹیڑھے سینگ والی یا بغیر سینگ کے نہیں ہو گی، جب ان میں سے آخری اس پر سے گزر جائے گی، تو پہلے والی واپس اس پر آئے گی اور ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا، جب تک اللہ تعالیٰ اس دن میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ نہیں کرتا جس دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہے، پھر وہ شخص اپنا راستہ دیکھ لے گا جو یا جنت کی طرف جاتا ہو گا یا جہنم کی طرف جاتا ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3253]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1402، 1403، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 987، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2252، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3253، 3254، 3258، 3261، 3313، 3332، 4671، 4672، 4675، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1439، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1658، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1636، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1786، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7323، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5873» «رقم طبعة با وزير 3242»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1462): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر الإخبار عن وصف ما يعذب به في القيامة من لم يخرج حق الله من ماله
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ قیامت کے دن اسے کیا عذاب دیا جائے گا جو اپنے مال سے اللہ کا حق نہ نکالے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3254
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي الْمَالُ الَّذِي لَمْ يُعْطَ الْحَقُّ مِنْهَا، فَتَطَأُ الإِبِلُ سَيِّدَهَا بِأَخْفَافِهَا، وَيَأْتِي الْبَقَرُ وَالْغَنَمُ فَتَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَظْلافِهَا، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، وَيَأْتِي الْكَنْزُ شُجَاعًا أَقْرَعَ، فَيَلْقَى صَاحِبَهُ، فَيَفِرُّ مِنْهُ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُهُ وَيَفِرُّ مِنْهُ، فَيَقُولُ: مَا لِي وَمَا لَكَ؟! فَيَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ أَنَا كَنْزُكَ، فَيتَلَقَّاهُ صَاحِبُهُ بِيَدِهِ فَيَلْقَمُ يَدَهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ مال (قیامت کے دن) آئے گا جس کی زکاۃ ادا نہیں کی گئی ہوگی، تو (اس میں سے) اونٹ اپنے آقا کو اپنے پاؤں کے ذریعے روندے گا، گائے اور بکریاں آئیں گی، اپنے مالک کو اپنے پاؤں کے ذریعے روندیں گی اور اپنے سینگوں کے ذریعے ماریں گی۔ خزانہ ایک گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا اور اپنے مالک کے پیچھے جائے گا، وہ مالک اس سے بھاگے گا، پھر وہ اس کے سامنے آ جائے گا، پھر وہ اس سے بھاگے گا، تو وہ کہے گا: میرا تمہارا کیا واسطہ ہے؟ تو وہ خزانہ کہے گا: میں تمہارا خزانہ ہوں، میں تمہارا خزانہ ہوں، پھر اس کا مالک اپنا ہاتھ اس کی طرف کرے گا تو وہ اس کے ہاتھ کو چبا جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3254]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1402، 1403، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 987، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2252، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3253، 3254، 3258، 3261، 3313، 3332، 4671، 4672، 4675، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1439، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1658، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1636، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1786، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7323، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5873» «رقم طبعة با وزير 3243»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (1462): ق نحوه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر الإخبار عن وصف الذي تطأ به ذوات الأرواح أربابها في القيامة إذا لم يخرج حق الله منها
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ قیامت کے دن جانوروں والے اپنے مالکان کو روندتے ہیں اگر انہوں نے ان سے اللہ کا حق نہ نکالا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3255
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لا يَفْعَلُ فِيهَا خَيْرًا إِلا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ، وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا، وَلا صَاحِبِ بَقَرٍ إِلا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ، وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، وَتَطَؤُهُ بِأَظْلافِهَا، لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلا مُكَسَّرٌ قَرْنُهَا، وَلا صَاحِبِ كَنْزٍ لا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ إِلا جَاءَ كَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ فَاغِرًا فَاهُ، فَإِذَا أَتَاهُ فَرَّ مِنْهُ، فَيُنَادِيهِ رَبُّهُ: كَنْزُكَ الَّذِي خَبَّأْتَهُ، فَإِذَا رَأَى أَنْ لا بُدُّ لَهُ مِنْهُ، سَلَكَ يَدَهُ فِي فِيهِ، فَيَقْضَمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اونٹوں کا جو بھی مالک ان کے بارے میں بھلائی نہیں کرے گا (یعنی ان کی زکاۃ ادا نہیں کرے گا)، تو وہ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ (صحت مند ہو کر) آئیں گے، اس شخص کو ان کے سامنے ایک کھلے میدان میں بٹھا دیا جائے گا، وہ اپنی ٹانگوں اور پاؤں کے ذریعے اسے ماریں گے۔ گائے کا مالک (جو ان کی زکاۃ ادا نہیں کرے گا)، تو وہ گائے قیامت کے دن پہلے سے زیادہ (صحت مند ہو کر) آئیں گی، اس شخص کو ان کے سامنے ایک کھلے میدان میں بٹھا دیا جائے گا، وہ اپنے سینگوں کے ذریعے اسے ماریں گی اور پاؤں کے ذریعے اسے روندیں گی، ان میں کوئی ایسی گائے نہیں ہو گی جو بغیر سینگ کے ہو یا جس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو۔ خزانے کا جو بھی مالک (اس کی زکاۃ ادا نہیں کرے گا)، تو وہ خزانہ قیامت کے دن گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا اور اپنا منہ کھول کر اس کے پیچھے جائے گا، جب وہ اس کے قریب آئے گا، تو یہ اس سے بھاگے گا، تو اس کا پروردگار اسے پکارے گا: یہ وہ تمہارا خزانہ ہے جسے تم نے سنبھال کر رکھا ہوا تھا، جب وہ شخص یہ دیکھے گا کہ اب وہ اس سے نہیں بچ سکتا تو وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ کی طرف بڑھائے گا، تو وہ سانپ اس کے ہاتھ کو یوں چبا لے گا جس طرح اونٹ کوئی چیز چباتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3255]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 988، وابن الجارود فى "المنتقى"، 369، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3255، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2453، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1657، 1658، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7879، 7880، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14666» «رقم طبعة با وزير 3244»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (558): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر البيان بأن الخير والحق اللذين ذكرناهما في خبر أريد بهما الزكاة الفرضية دون التطوع
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس بات کا بیان کہ ہمارے ذکر کردہ خیر اور حق سے مراد فرضی زکوٰۃ ہے، نہ کہ نفلی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3256
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ الطَّائِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لا يَمُوتُ رَجُلٌ فَيَدَعُ إِبِلا أَوْ بَقَرًا أَوْ غَنَمًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا إِلا مُثِّلَتْ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا تَكُونُ وَأَسْمَنَهُ، تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، وَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، كُلَمَا ذَهَبَ أُخْرَاهَا رَجَعَ أُولاهَا كَذَلِكَ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ بَيْنَ النَّاسِ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، جو شخص مرتے ہوئے اونٹ یا گائے یا بکریاں چھوڑ جائے جس کی اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی ہو، تو قیامت کے دن انہیں پہلے سے بڑے اور پہلے سے بھاری بھرکم وجود میں اٹھایا جائے گا، وہ اپنے سینگوں کے ذریعے اسے ماریں گے اور پاؤں کے ذریعے اسے روندیں گے، جب ان میں سے آخری چلا جائے گا، تو پہلے والا پھر آ جائے گا اور ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا، جب تک اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں کر دے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3256]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1460، 6638، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 990، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2251، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3256، 3331، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2439، والترمذي فى (جامعه) برقم: 617 م، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1659، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1785، 4130، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2432، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7379، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21747» «رقم طبعة با وزير 3245»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 267): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر وصف عقوبة من خلف كنزا في القيامة
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس بات کی کیفیت کا ذکر کہ قیامت کے دن اس کی سزا کیا ہو گی جو خزانہ چھوڑ جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3257
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالْمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَرَكَ بَعْدَهُ كَنْزًا مُثِّلَ لَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ زَبِيبَتَانِ يَتْبَعُهُ، فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ الَّذِي خَلَّفْتَ بَعْدَكَ، فَلا يَزَالُ يَتْبَعُهُ حَتَّى يُلْقِمَهُ يَدَهُ فَيَقْضِمُهَا، ثُمَّ يَتْبَعُهُ سَائِرَ جَسَدِهِ" .
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص اپنے بعد خزانہ چھوڑ کر جائے گا، تو قیامت کے دن اس خزانے کو ایک گنجے سانپ کی شکل دے دی جائے گی، جس کے «ذُو زَبِيبَتَيْنِ» (اس سے مراد اطراف سے نکلے ہوئے دانت ہیں یا آنکھ کے اوپر موجود دو سیاہ نقطے ہیں) ہوں گے، وہ اس شخص کے پیچھے جائے گا، وہ شخص دریافت کرے گا: تم کون ہو؟ وہ کہے گا: میں تمہارا وہ خزانہ ہوں جسے تم اپنے پیچھے چھوڑ آئے تھے، پھر وہ خزانہ مسلسل اس کے پیچھے رہے گا، یہاں تک کہ وہ شخص اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھائے گا، وہ خزانہ اس کے ہاتھ کو چبا لے گا اور پھر اس کے بعد اس کے پورے وجود کو نگل لے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3257]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1433، 1434، 2590، 2591، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1029، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3209، 3357، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2549، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1699، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1960، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7907، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27554» «رقم طبعة با وزير 3246»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 269).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر البيان بأن من خلف كنزا يتعوذ منه يوم القيامة
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص خزانہ چھوڑ جائے وہ قیامت کے دن اس سے پناہ مانگتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3258
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ، يَتْبَعُ صَاحِبَهُ وَهُوَ يَتَعَوَّذُ مِنْهُ، فَلا يَزَالُ يَتْبَعُهُ حَتَّى يُلْقِمَهُ أُصْبُعَهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: تم میں سے کسی ایک شخص کا خزانہ قیامت کے دن گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا، وہ اپنے مالک کے پیچھے جائے گا، وہ مالک اس سے بچنے کی کوشش کرے گا، لیکن وہ اس کے پیچھے رہے گا، یہاں تک کہ وہ اپنی انگلیاں اس (سانپ) کے منہ میں دے دے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3258]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1402، 1403، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 987، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2252، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3253، 3254، 3258، 3261، 3313، 3332، 4671، 4672، 4675، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1439، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1658، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1636، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1786، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7323، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5873» «رقم طبعة با وزير 3247»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (558): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں