صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. باب فضل الصوم - ذكر الإخبار عن إعطاء الله جل وعلا ثواب الصائمين في القيامة بغير حساب
روزے کی فضیلت کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ اللہ جل وعلا قیامت کے دن صائموں کو بغیر حساب کے ثواب دیتا ہے
حدیث نمبر: 3416
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: كُلُّ حَسَنَةٍ عَمِلَهَا ابْنُ آدَمَ جَزَيْتُهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلا الصِّيَامَ، فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، الصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَمَنْ كَانَ صَائِمًا، فَلا يَرْفُثْ، وَلا يَجْهَلْ، فَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمُهُ أَوْ آذَاهُ، فَلِيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ إِنِّي صَائِمٌ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابنِ آدم جو بھی عمل کرتا ہے میں اس کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک دیتا ہوں، صرف روزے کا معاملہ مختلف ہے، کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کی جزا دوں گا۔ روزہ ڈھال ہے، جو شخص روزہ دار ہو وہ بدزبانی اور جہالت کا مظاہرہ نہ کرے، اگر کوئی شخص اسے برا کہے یا اسے تکلیف پہنچائے، تو وہ یہ کہہ دے: «إِنِّي صَائِمٌ، إِنِّي صَائِمٌ» ”میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3416]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1894، 1904، 5927، 7492، 7538، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1151، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1890، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3416، 3422، 3423، 3424، 3427، 3479، 3482، 3483، 3484، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1575، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2363، والترمذي فى (جامعه) برقم: 764، 766، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1638، 1691، 3823، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8206، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7295» «رقم طبعة با وزير 3407»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
2. باب فضل الصوم - ذكر تباعد المرء عن النار سبعين خريفا بصومه يوما واحدا في سبيل الله
روزے کی فضیلت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی ایک دن اللہ کی راہ میں روزہ رکھ کر ستر برس تک آگ سے دور ہوتا ہے
حدیث نمبر: 3417
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يَزِيدَ الْمُحًمَّدَابَاذِيُّ ، حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَصُومُ عَبْدٌ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلا بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الِيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بھی شخص اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے عوض میں اسے جہنم سے ستر برس کے فاصلے جتنا دور کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3417]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2840، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1153، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2112، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3417، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2243، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1623، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1717، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2423، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8543، 18648، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8105» «رقم طبعة با وزير 3408»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 162)، «التعليق على ابن خزيمة» (2113): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
3. باب فضل الصوم - ذكر إفراد الله جل وعلا للصائمين باب الريان من الجنة
روزے کی فضیلت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا نے صائموں کے لیے جنت کا باب الریان مختص کیا
حدیث نمبر: 3418
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ الرَّاهِبُ، بِحِمْصَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَيْءٍ مِنَ الأَشِيَاءِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، دُعِيَ مِنْ أَبُوَابِ الْجَنَّةِ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا خَيْرٌ، وَلِلْجَنَّةِ أَبُوَابٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاةِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ"، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عَلَى أَحَدٍ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الأَبُوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، هَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلُّ أَحَدٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص کسی بھی چیز کا جوڑا اللہ کی راہ میں دیتا ہے تو جنت کے دروازوں سے یہ اعلان کیا جاتا ہے: اے اللہ کے بندے! یہ بھلائی ہے۔ جنت کے کئی دروازے ہیں؛ جو لوگ نمازی ہیں انہیں نماز والے دروازے سے بلایا جائے گا، جو جہاد کرنے والے ہیں انہیں جہاد والے دروازے سے بلایا جائے گا، جو صدقہ کرنے والے ہیں انہیں صدقہ والے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو روزہ دار ہوں گے انہیں بابِ «الرَّيَّانِ» ”ریان“ سے بلایا جائے گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسے شخص کو کوئی نقصان نہیں ہوگا کہ جس شخص کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا کسی شخص کو ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں! اور مجھے امید ہے تم ان میں سے ایک ہو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3418]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1897، 2841، 3216، 3666، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1027، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1700، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2480، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 308، 3418، 3419، 4641، 4642، 6866، 7445، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2237، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3674، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7748، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1212» «رقم طبعة با وزير 3409»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (308).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
4. باب فضل الصوم - ذكر البيان بأن كل طاعة لها من الجنة أبواب يدعى أهلها منها إلا الصيام فإن له بابا واحدا
روزے کی فضیلت کا بیان - اس بات کا بیان کہ ہر طاعت کے لیے جنت کے دروازے ہیں جن سے اس کے اہل بلائے جاتے ہیں، سوائے روزہ کے جس کے لیے ایک ہی دروازہ ہے
حدیث نمبر: 3419
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، دُعِيَ مِنْ أَبُوَابِ الْجَنَّةِ، وَلِلْجَنَّةِ أَبُوَابٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاةِ، دُعِيَ مِنْ أَبُوَابِ الصَّلاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ، دُعِيَ مِنْ أَبُوَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ، دُعِيَ مِنْ أَبُوَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عَلَى أَحَدٍ مِنْ ضَرُورَةٍ مِنْ أَيِّهَا دُعِيَ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْهَا كُلِّهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ:" عَسَى" مِنَ اللَّهِ وَاجِبٌ، وَ" أَرْجُو" مِنَ النَّبِيِّ حَقٌّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اللہ کی راہ میں کسی چیز کا جوڑا خرچ کرتا ہے، تو اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جاتا ہے؛ جنت کے کئی دروازے ہیں، جو لوگ نمازی ہیں انہیں نماز والے دروازے سے بلایا جائے گا، جو صدقہ کرنے والے ہیں انہیں صدقے والے دروازے سے بلایا جائے گا، جو جہاد کرنے والے ہیں انہیں جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو روزہ دار ہیں انہیں «بَابُ الرَّيَّانِ» ”بابِ ریان“ سے بلایا جائے گا۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسے بھی تو ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا کسی شخص کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں! اور مجھے یہ امید ہے کہ تم ان میں سے ایک ہو گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): لفظ «عَسَىٰ» جب اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تو اس سے مراد کسی چیز کا لازم ہونا ہو گا، اور لفظ «أَرْجُو» ”مجھے اُمید ہے“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا ضرور ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3419]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1897، 2841، 3216، 3666، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1027، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1700، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2480، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 308، 3418، 3419، 4641، 4642، 6866، 7445، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2237، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3674، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7748، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1212» «رقم طبعة با وزير 3410»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
5. باب فضل الصوم - ذكر البيان بأن الصائمين إذا دخلوا من باب الريان أغلق بابهم ولم يدخل منه أحد غيرهم
روزے کی فضیلت کا بیان - اس بات کا بیان کہ صائمین جب باب الریان سے داخل ہوں گے تو ان کا دروازہ بند کر دیا جائے گا اور کوئی دوسرا اس سے داخل نہ ہو گا
حدیث نمبر: 3420
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ: الرَّيَّانُ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، يُقَالُ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ؟ فَيَقُومُونَ، فَيَدْخُلُونَ مِنْهُ، فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ أُغْلِقَ، فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ" .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جنت میں ایک دروازہ ہے، جس کا نام «الرَّيَّانُ» ”الریان“ ہے، قیامت کے دن روزہ دار لوگ اس سے داخل ہوں گے، ان کے علاوہ اور کوئی شخص اس میں سے داخل نہیں ہوگا، یہ کہا جائے گا: روزہ دار لوگ کہاں ہیں؟ وہ لوگ اٹھیں گے اور اس دروازے سے جنت میں داخل ہو جائیں گے اور جب ان کا آخری فرد اندر داخل ہو جائے گا، تو اس دروازے کو بند کر دیا جائے گا، کوئی اور اس دروازے سے داخل نہیں ہو سکے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3420]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1896، 3257، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1152، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1902، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3420، 3421، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2235، والترمذي فى (جامعه) برقم: 765، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1640، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8603، 8604، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23281» «رقم طبعة با وزير 3411»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 95 - 60).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده على شرط البخاري
6. باب فضل الصوم - ذكر البيان بأن باب الريان يغلق عند آخر دخول الصوام منه حتى لا يدخل منه أحد غيرهم
روزے کی فضیلت کا بیان - اس بات کا بیان کہ باب الریان آخری صائم کے داخل ہونے پر بند ہو جاتا ہے تاکہ کوئی دوسرا اس سے داخل نہ ہو
حدیث نمبر: 3421
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، بِالرَّافِقَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفِيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي الْجَنَّةِ بَابٌ يُقَالُ لَهُ: الرَّيَّانُ، أُعِدَّ لِلصَّائِمِينَ، فَإِذَا دَخَلَ أُخْرَاهُمْ، أُغْلِقَ" .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جنت میں ایک دروازہ ہے، جس کا نام «الرَّيَّانُ» ”ریان“ ہے، اسے روزہ داروں کے لیے تیار کیا گیا ہے، جب ان کا آخری فرد اس میں سے داخل ہو جائے گا، تو اسے بند کر دیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3421]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1896، 3257، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1152، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1902، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3420، 3421، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2235، والترمذي فى (جامعه) برقم: 765، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1640، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8603، 8604، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23281» «رقم طبعة با وزير 3412»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
7. باب فضل الصوم - ذكر البيان بأن خلوف الصائم يكون أطيب عند الله من ريح المسك
روزے کی فضیلت کا بیان - اس بات کا بیان کہ صائم کا خلوف اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہوتا ہے
حدیث نمبر: 3422
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلا الصِّيَامَ، وَالصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطِيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہوتا ہے، صرف روزے کا معاملہ مختلف ہے، وہ میرے لیے ہے اور میں اس کی جزاء دوں گا۔ روزہ دار شخص کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3422]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1894، 1904، 5927، 7492، 7538، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1151، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1890، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3416، 3422، 3423، 3424، 3427، 3479، 3482، 3483، 3484، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1575، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2363، والترمذي فى (جامعه) برقم: 764، 766، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1638، 1691، 3823، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8206، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7295» «رقم طبعة با وزير 3413»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
8. باب فضل الصوم - ذكر البيان بأن فم الصائم يكون أطيب عند الله من ريح المسك يوم القيامة
روزے کی فضیلت کا بیان - اس بات کا بیان کہ صائم کا منہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہوتا ہے
حدیث نمبر: 3423
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ كُوفِيٌّ ثَبْتٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلا الصِّيَامَ، فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطِيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: إِذَا أَفْطَرَ، فَرِحَ بِفِطْرِهِ، وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ، فَرِحَ بِصَوْمِهِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: شِعَارُ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْقِيَامَةِ التَّحْجِيلُ بِوُضُوئِهِمْ فِي الدُّنِيَا فَرَقًا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ سَائِرِ الأُمَمِ، وَشِعَارُهُمْ فِي الْقِيَامَةِ بِصَوْمِهِمْ طِيبُ خُلُوفِهِمْ أَطِيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ لِيُعْرَفُوا بَيْنَ ذَلِكَ الْجَمْعِ بِذَلِكَ الْعَمَلِ، نَسْأَلُ اللَّهَ بَرَكَةَ ذَلِكَ الِيَوْمِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہوتا ہے، صرف روزے کا معاملہ مختلف ہے، وہ میرے لیے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، روزہ دار شخص کے منہ کی بو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہو گی۔ روزہ دار شخص کو دو خوشیاں نصیب ہوں گی: ایک جب وہ افطاری کرے گا، تو افطاری کرنے کی وجہ سے اسے خوشی ہو گی اور ایک جب وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا، تو اپنے روزہ رکھنے کی وجہ سے خوش ہو گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): قیامت کے دن اہل ایمان کا مخصوص علامتی نشان دنیا میں ان کے کیے گئے وضو کی چمک ہو گی جس کی وجہ سے ان کے اور دیگر تمام امتوں کے درمیان امتیاز کیا جا سکے گا اور قیامت کے دن ان کا مخصوص نشان ان کے روزے کی وجہ سے ان کے منہ سے آنے والی بو ہو گی جو مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہو گی تاکہ وہ اپنے عمل کے نتیجے میں میدانِ محشر میں سب لوگوں کے درمیان پہچانے جائیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس دن کی برکت کا سوال کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3423]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1894، 1904، 5927، 7492، 7538، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1151، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1890، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3416، 3422، 3423، 3424، 3427، 3479، 3482، 3483، 3484، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1575، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2363، والترمذي فى (جامعه) برقم: 764، 766، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1638، 1691، 3823، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8206، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7295» «رقم طبعة با وزير 3414»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح الإسناد.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
9. باب فضل الصوم - ذكر البيان بأن خلوف فم الصائم قد يكون أيضا أطيب من ريح المسك في الدنيا
روزے کی فضیلت کا بیان - اس بات کا بیان کہ صائم کے منہ کا خلوف دنیا میں بھی مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہو سکتا ہے
حدیث نمبر: 3424
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكُوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا ابْنُ آدَمَ بِعَشْرِ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، يَقُولُ اللَّهُ: إِلا الصَّوْمَ، فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ الطَّعَامَ مِنْ أَجْلِي، وَالشَّرَابَ مِنْ أَجْلِي، وَشَهُوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ، وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ، وَلَخُلُوفِ فَمِ الصَّائِمِ حِينَ يَخْلُفُ مِنَ الطَّعَامِ أَطِيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ابنِ آدم جو بھی نیکی کرتا ہے اس کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: صرف روزے کا معاملہ مختلف ہے وہ میرے لیے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا، وہ میری وجہ سے کھانا چھوڑتا ہے، میری وجہ سے اپنا پینا چھوڑتا ہے اور میری وجہ سے اپنی خواہش کو چھوڑتا ہے، تو میں اس کی جزا دوں گا۔ روزہ دار کو دو خوشیاں نصیب ہوں گی: ایک خوشی اس وقت جب وہ افطاری کرے گا اور ایک خوشی اس وقت جب وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔ روزہ دار شخص کے منہ کی بو، جو کھانا چھوڑنے کی وجہ سے آتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3424]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1894، 1904، 5927، 7492، 7538، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1151، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1890، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3416، 3422، 3423، 3424، 3427، 3479، 3482، 3483، 3484، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1575، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2363، والترمذي فى (جامعه) برقم: 764، 766، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1638، 1691، 3823، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8206، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7295» «رقم طبعة با وزير 3415»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح الترغيب» (969).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
10. باب فضل الصوم - ذكر البيان بأن الصوم لا يعدله شيء من الطاعات
روزے کی فضیلت کا بیان - اس بات کا بیان کہ روزہ دیگر طاعتوں سے بے مثل ہے
حدیث نمبر: 3425
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيُوَةَ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ"، فَغَزَوْنَا، فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا، حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَتَيْتُكَ تَتْرَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ، أَسْأَلُكَ أَنْ تَدْعُوَ لِي بِالشَّهَادَةِ، فَقُلْتَ:" اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ"، فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمُرْنِي بِعَمَلٍ أَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، فَقَالَ:" عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لا مِثْلَ لَهُ" ، قَالَ: فَكَانَ أَبُو أُمَامَةَ لا يُرَى فِي بَيْتِهِ الدُّخَانُ نَهَارًا إِلا إِذَا نَزَلَ بِهِمْ ضَيْفٌ، فَإِذَا رَأَوَا الدُّخَانَ نَهَارًا، عَرَفُوا أَنَّهُ قَدِ اعْتَرَاهُمْ ضَيْفٌ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: رَوَى هَذَا الْخَبَرَ مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيُوَةَ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيُوَةَ .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر تیار کیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے شہادت کی دعا کیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ» ”اے اللہ! ان لوگوں کو سلامت رکھنا اور انہیں مال غنیمت عطا کرنا۔“ ہم لوگوں نے جنگ میں حصہ لیا، ہم سلامت بھی رہے اور ہمیں مال غنیمت بھی مل گیا، یہاں تک کہ راوی نے تین مرتبہ یہ بات ذکر کی۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے شہادت کی دعا کیجیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ» ”اے اللہ! ان لوگوں کو سلامت رکھنا اور انہیں مال غنیمت بھی عطا کرنا۔“ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سلامت بھی رہے ہیں اور ہمیں مال غنیمت بھی مل گیا ہے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں حکم دیجیے جس کی وجہ سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ» ”تم پر روزہ رکھنا لازم ہے، کیونکہ اس کی مانند اور کوئی چیز نہیں ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے گھر سے دن کے وقت کبھی بھی دھواں نظر نہیں آتا تھا، ماسوائے ایک دن کے جب ان کے ہاں کوئی مہمان آیا ہوا ہوتا تھا، جب ان کے گھر دن کے وقت دھواں نظر آتا، تو لوگوں کو پتا چل جاتا تھا کہ ان کے ہاں کوئی مہمان آیا ہوا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): مہدی بن میمون نے یہ روایت محمد بن ابویعقوب کے حوالے سے رجاء سے نقل کی ہے، جبکہ شعبہ نے یہ روایت محمد بن ابویعقوب کے حوالے سے حمید بن ہلال کے حوالے سے رجاء سے نقل کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3425]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1893، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3425، 3426، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1538، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2219، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8572، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22569» «رقم طبعة با وزير 3416»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق على «المختارة»» تحت الحديث (21).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم