صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
-
حدیث نمبر: 4213
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ وَرَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْلَةَ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ حَتَّى تَذْهَبَ غَيْرَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ، فَأَرْضَعَتْهُ وَهُوَ رَجُلٌ" . قَالَ رَبِيعَةُ: فَكَانَتْ رُخْصَةً لِسَالِمٍ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہا کو یہ حکم دیا تھا کہ ”وہ سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سالم کو دودھ پلا دیں تاکہ سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے مزاج کی تیزی (یعنی ناراضگی) ختم ہو جائے“ تو اس خاتون نے اس لڑکے کو دودھ پلا دیا جو پورا مرد تھا۔ ربیعہ نامی راوی کہتے ہیں: یہ سالم کے لیے رخصت تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4213]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4000، 5088، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1453، وابن الجارود فى "المنتقى"، 747، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4213، 4214، 4215، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2707، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2061، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2303، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1943، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12656، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24742» «رقم طبعة با وزير 4200»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (6/ 264): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
2. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه-
- دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 4214
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ سَالِمًا يُدْعَى لأَبِي حُذَيْفَةَ وَيَأْوِي مَعَهُ وَيَدْخُلُ عَلَيَّ فَيَرَانِي فُضُلا، وَنَحْنُ فِي مَنْزِلٍ ضَيِّقٍ، وَقَالَ اللَّهُ: ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5. فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سالم کو سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے منہ بولے بیٹے کے طور پر بلایا جاتا ہے، وہ ان کے ساتھ رہتا ہے، وہ میرے پاس بھی آ جاتا ہے اور مجھے (سر پر چادر وغیرہ کی موجودگی کے بغیر) دیکھ لیتا ہے، ہمارا گھر بھی چھوٹا سا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ﴾ [سورة الأحزاب: 5] ”تم ان کو ان کے حقیقی باپ کے حوالے سے بلاؤ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ انصاف کے زیادہ مطابق ہے“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے دودھ پلا دو، تم اس کے لیے حرمت والی ہو جاؤ گی“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4214]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4000، 5088، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1453، وابن الجارود فى "المنتقى"، 747، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4213، 4214، 4215، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2707، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2061، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2303، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1943، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12656، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24742» «رقم طبعة با وزير 4201»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1799): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
3. ذكر العلة التي من أجلها أرضعت سهلة سالما-
- اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر سہلہ نے سالم کو دودھ پلایا
حدیث نمبر: 4215
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ الطَّائِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَكَانَ قَدْ تَبَنَّى سَالِمًا الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَالِمُ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، وَأَنْكَحَ أَبُو حُذَيْفَةَ سَالِمًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ ابْنُهُ ابْنَةَ أَخِيهِ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ أَفْضَلُ أَيَامَى قُرَيْشٍ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ مَا أَنْزَلَ، فَقَالَ: ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ سورة الأحزاب آية 5، رَدَّ كُلُّ وَاحِدٍ مِمَّنْ تَبَنَّى أُولَئِكَ إِِلَى أَبِيهِ، فَإِِنْ لَمْ يُعْلَمْ أَبُوهُ رُدَّ إِِلَى مَوْلاهُ، فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ، وَهِيَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ، وَلَيْسَ لَنَا إِِلا بَيْتٌ وَاحِدٌ، فَمَاذَا تَرَى فِي شَأْنِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْضِعِيهِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَيَحْرُمُ بِلَبَنِكِ". فَفَعَلَتْ، وَكَانَتْ تَرَاهُ ابْنًا مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَأَخَذَتْ بِذَلِكَ عَائِشَةُ فِيمَنْ كَانَتْ تُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنَ الرِّجَالِ، فَكَانَتْ تَأْمُرُ أُخْتَهَا أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وَبَنَاتِ أَخِيهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنَ الرِّجَالِ، وَأَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، وَقُلْنَ: مَا نَرَى الَّذِي أَمْرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ، إِِلا رُخْصَةً فِي سَالِمٍ وَحْدَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لا يَدْخُلُ عَلَيْنَا بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ فَعَلَى هَذَا مِنَ الْخَبَرِ كَانَ رَأْيُ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ.
امام مالک رحمہ اللہ، ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ ان سے بڑی عمر کے فرد کی رضاعت کا مسئلہ دریافت کیا گیا، تو انہوں نے بتایا کہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے، انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے، انہوں نے سالم رضی اللہ عنہ کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا، یہ وہی سالم رضی اللہ عنہ ہیں جنہیں سالم مولیٰ ابوحذیفہ کہا جاتا ہے، یہ بالکل اسی طرح تھا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا۔ سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے سالم رضی اللہ عنہ کی شادی اپنی بھتیجی سیدہ فاطمہ بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہا سے کی تھی، اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ انہیں اپنا بیٹا سمجھتے تھے اور وہ لڑکی اس وقت ابتدائی طور پر ہجرت کرنے والی خواتین میں شامل تھیں اور قریش کی بیوہ عورتوں میں سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والی خاتون تھیں، جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم نازل کر دیا اور ارشاد فرمایا: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ ۚ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 5] تم انہیں ان کے حقیقی باپوں کے حوالے سے بلاؤ یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انصاف کے زیادہ مطابق ہے اور اگر تمہیں ان کے حقیقی باپ کے بارے میں علم نہ ہو تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور آزاد کردہ غلام ہیں۔ تو ہر وہ شخص جس نے کسی کو منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا، اس نے اس بچے کی نسبت اس کے حقیقی باپ کی طرف کر دی اور اگر کسی کے باپ کے بارے میں پتہ نہیں تھا تو اسے اس کے آزاد کرنے والے مولیٰ کی طرف منسوب کیا گیا۔ سیدہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا جو سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں اور ان کا تعلق بنو عامر بن لؤی سے تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سالم کو اپنا بیٹا ہی سمجھتے تھے، وہ میرے پاس آیا کرتا تھا، ہمارا صرف ایک ہی گھر ہے تو اس کے معاملے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے پانچ مرتبہ دودھ پلا دو، تمہارے دودھ کی وجہ سے وہ حرمت والا ہو جائے گا۔“ اس خاتون نے ایسا ہی کیا اور وہ اس لڑکے کو اپنا رضاعی بیٹا سمجھتی تھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حکم حاصل کیا کہ جس مرد کے بارے میں وہ یہ بات پسند کرتی تھیں کہ وہ ان کے ہاں آ جایا کرے، تو وہ اپنی بہن سیدہ ام کلثوم بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کو یا اپنی کسی بھتیجی کو یہ ہدایت کرتی تھیں کہ وہ اس لڑکے کو دودھ پلا دے جس کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو پسند کرتی تھیں کہ وہ ان کے ہاں آ جایا کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ اس نوعیت کی رضاعت کی وجہ سے کوئی بھی شخص ان کے ہاں داخل ہو، وہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن یہ کہتی تھیں کہ ہم یہ سمجھتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کو یہ حکم اس حوالے سے دیا تھا کہ یہ صرف سالم کے لیے رخصت تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تھی، اس طرح کی رضاعت کی وجہ سے کوئی بھی شخص ہمارے ہاں نہیں آ سکتا۔ تو بڑی عمر کے شخص کی رضاعت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی یہی رائے تھی جو اس روایت میں منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4215]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4000، 5088، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1453، وابن الجارود فى "المنتقى"، 747، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4213، 4214، 4215، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2707، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2061، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2303، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1943، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12656، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24742» «رقم طبعة با وزير 4202»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح رجاله ثقات رجال الشيخين
4. ذكر الأمر للمرء مفارقة أهله إذا شهدت عنده امرأة عدلة أنها أرضعتهما-
- اس حکم کا ذکر کہ آدمی اپنی بیوی سے اس وقت جدا ہو جائے جب ایک عادل عورت اس کے سامنے گواہی دے کہ اس نے دونوں کو دودھ پلایا
حدیث نمبر: 4216
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ:" تَزَوَّجْتُ أُمَّ يَحْيَى بِنْتَ أَبِي إِِهَابٍ، فَدَخَلَتْ عَلَيْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَذَكَرَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْنَا جَمِيعًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" كَيْفَ بِهَا وَقَدْ قَالَتْ مَا قَالَتْ؟ دَعْهَا عَنْكَ" .
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ام یحییٰ بنت ابی اہاب سے شادی کر لی، ایک سیاہ فام عورت ہمارے ہاں آئی، اس نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ اس نے ہم دونوں (میاں بیوی) کو دودھ پلایا ہوا ہے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اب کیا ہو سکتا ہے جب کہ اس عورت نے یہ بات بیان کر دی ہے؟ تو تم اس عورت (یعنی اپنی بیوی) کو چھوڑ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4216]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 88، 2052، 2640، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1086، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4216، 4217، 4218، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5885، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3330، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3603، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1151، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 990، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15771، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4369، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16399» «رقم طبعة با وزير 4203»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما بعده.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
5. ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم دعها عنك إنما هو نهي نهاه عن الكون معها-
- اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "دعها عنك" سے مراد یہ ہے کہ اس نے اس سے ہجر کرنے کا حکم دیا
حدیث نمبر: 4217
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ بِنْتَ أَبِي إِِهَابٍ، فَزَعَمَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا. فَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذكرتُ ذَلِكَ لَهُ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، قَالَ: فَجِئْتُهُ مِنَ الْجَانِبِ الآخَرِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّهَا كَاذِبَةٌ. قَالَ:" فَكَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْكُمَا؟" فَنَهَاهُ عَنْهَا . أَخْبَرَنَاهُ هَذَا الشَّيْخُ فِي وَسَطِ أَحَادِيثِ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ مَشَايخِهِ.
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابواہاب کی صاحبزادی کے ساتھ شادی کر لی تو ایک سیاہ فام عورت نے یہ بات بیان کی کہ اس نے ان دونوں (میاں بیوی) کو دودھ پلایا ہوا ہے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا، میں دوسری طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ عورت جھوٹ کہتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب کیا ہو سکتا ہے جبکہ اس نے یہ بات بیان کر دی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے؟“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو اس خاتون سے منع کر دیا (یعنی انہیں اس خاتون سے علیحدگی اختیار کرنے کا حکم دیا)۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس شیخ (یعنی امام ابن حبان رحمہ اللہ کے استاد محمد بن عمر) نے نصر بن علی کی یزید بن زریع کے حوالے سے ان کے مشائخ کے حوالے سے منقول روایات کے درمیان ہمیں اس روایت کے بارے میں بتایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4217]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 88، 2052، 2640، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1086، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4216، 4217، 4218، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5885، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3330، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3603، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1151، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 990، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15771، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4369، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16399» «رقم طبعة با وزير 4204»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2154): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
6. ذكر البيان بأن عقبة فارقها وتزوجت آخر غيره حين قال له النبي صلى الله عليه وسلم دعها عنك-
- اس بات کا بیان کہ عقبہ نے اس سے جدائی اختیار کی اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "دعها عنك" پر کسی اور سے شادی کی
حدیث نمبر: 4218
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لأَبِي إِِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ لَهُ: قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي تَزَوَّجَ. فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ: مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ أَرْضَعْتِينِي وَلا أَخْبَرْتِينِي، فَأَرْسَلَ إِِلَى آلِ أَبِي إِِهَابٍ، فَسَأَلَهُمْ، فَقَالُوا: مَا عَلِمْنَاهَا أَرْضَعَتْ صَاحِبَتَنَا. فَرَكِبَ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ؟" فَفَارَقَهَا عُقْبَةُ، وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ .
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے ابواہاب بن عزیز کی صاحبزادی کے ساتھ شادی کر لی، ایک خاتون ان کے پاس آئی اور ان سے کہا: میں نے عقبہ کو دودھ پلایا ہے اور جس عورت کے ساتھ اس نے شادی کی ہے اسے بھی دودھ پلایا ہے، تو عقبہ نے اس عورت سے کہا: مجھے تو اس بات کا علم نہیں ہے کہ تم نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ ہی تم نے مجھے پہلے اس بارے میں بتایا ہے، پھر عقبہ نے ابواہاب کے خاندان والوں کی طرف پیغام بھجوایا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا: تو ان لوگوں نے بھی یہی بتایا کہ ہمیں یہ علم نہیں ہے کہ اس عورت نے اس لڑکی کو دودھ پلایا ہے، پھر سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سوار ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوئے، انہوں نے اس بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اب کیا ہو سکتا ہے جب کہ یہ بات بیان کی جا چکی ہے؟“ تو سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے اس خاتون سے علیحدگی اختیار کی اور اس عورت نے دوسری شادی کر لی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4218]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 88، 2052، 2640، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1086، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4216، 4217، 4218، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5885، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3330، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3603، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1151، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 990، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15771، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4369، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16399» «رقم طبعة با وزير 4205»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
7. ذكر الإخبار بأن الرضاع للمرضعة يكون من الزوج كما هو من المرأة سواء في الإباحة والحظر معا-
- اس بات کی اطلاع کہ رضاعت مرضعہ کے لیے شوہر سے ہوتی ہے جیسا کہ عورت سے ہوتی ہے، اجازت اور حظر دونوں میں برابر
حدیث نمبر: 4219
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَخُو أَبِي قُعَيْسٍ بَعْدَمَا ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ، فَقُلْتُ: لا آذَنُ لَكَ حَتَّى يَأْتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَكَ، وَإِِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي قُعَيْسٍ وَلَمْ يُرْضِعْنِي أَبُو قُعَيْسٍ. فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْذَنِي لَهُ فَإِِنَّهُ عَمُّكِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوقعیس رضی اللہ عنہ کے بھائی نے میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، یہ حجاب کا حکم نازل ہو جانے کے بعد کی بات ہے، تو میں نے کہا: میں آپ کو اس وقت تک اجازت نہیں دوں گی جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لے آتے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں اجازت مانگی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابوقعیس کے بھائی نے میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی تو میں نے آپ سے اجازت لینے سے پہلے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا کیونکہ مجھے ابوقعیس کی بیوی نے دودھ پلایا تھا، ابوقعیس نے مجھے دودھ نہیں پلایا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اسے اجازت دے دینی تھی، وہ تمہارا چچا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4219]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2644، 2646، 3105، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1444، وابن الجارود فى "المنتقى"، 744، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4109، 4219، 4220، 4223، 5799، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3300، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2055، 2057، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1147، 1148، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 950، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12732، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4374، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24688» «رقم طبعة با وزير 4206»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1796): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيح
8. ذكر الأمر للمرأة أن تأذن لعمها من الرضاعة أن يدخل عليها-
- اس حکم کا ذکر کہ عورت اپنے رضاعی چچا کو اپنے پاس آنے کی اجازت دے
حدیث نمبر: 4220
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَخُو أَبِي قُعَيْسٍ بَعْدَمَا ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ، فَقُلْتُ: لا آذَنُ لَكَ حَتَّى يَأْتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَكَ، وَإِِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي قُعَيْسٍ وَلَمْ يُرْضِعْنِي أَبُو قُعَيْسٍ، فَقَالَ:" ائْذَنِي لَهُ فَإِِنَّهُ عَمُّكِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ابو قعیس کے بھائی نے پردے کا حکم نازل ہو جانے کے بعد میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی تو میں نے کہا: میں آپ کو اس وقت تک اجازت نہیں دوں گی جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لے آتے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابو قعیس کے بھائی نے میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی تو میں نے انہیں اس وقت تک اجازت دینے سے انکار کر دیا جب تک میں آپ سے اجازت نہ لے لوں کیونکہ ابو قعیس کی بیوی نے مجھے دودھ پلایا ہے، ابو قعیس نے مجھے دودھ نہیں پلایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اسے اجازت دے دینی تھی، وہ تمہارا چچا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4220]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2644، 2646، 3105، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1444، وابن الجارود فى "المنتقى"، 744، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4109، 4219، 4220، 4223، 5799، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3300، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2055، 2057، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1147، 1148، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 950، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12732، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4374، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24688» «رقم طبعة با وزير 4206/*»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - وهو مكرر الذي قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
9. ذكر قدر الرضاع الذي يحرم من أرضع في السنتين الرضاع المعلوم-
- اس رضاعت کی مقدار کا ذکر جو دو سال کی معلوم رضاعت میں حرام کرتی ہے
حدیث نمبر: 4221
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " نَزَلَ الْقُرْآنُ بِعَشْرِ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسِ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ مِمَّا نَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: قرآن میں یہ حکم نازل ہوا تھا کہ دس متعین مرتبہ میں دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے، پھر یہ حکم منسوخ ہو کر پانچ متعین مرتبہ میں تبدیل ہو گیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو یہ حکم قرآن کی ان آیات میں شامل تھا جن کی ہم تلاوت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4221]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1452، وابن الجارود فى "المنتقى"، 745، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4221، 4222، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3307، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2062، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1150 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1942، 1944، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 976، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15720، وأحمد فى (مسنده) برقم: 26957، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4376» «رقم طبعة با وزير 4207»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1800): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
حدیث نمبر: 4222
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ مِمَّا نَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: قرآن میں یہ حکم نازل ہوا کہ دس متعین مرتبہ دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے، پھر یہ حکم منسوخ ہو کر پانچ متعین مرتبہ میں تبدیل ہو گیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو یہ آیات ان چیزوں میں شامل تھیں جنہیں ہم قرآن میں پڑھا کرتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4222]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1452، وابن الجارود فى "المنتقى"، 745، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4221، 4222، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3307، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2062، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1150 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1942، 1944، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 976، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15720، وأحمد فى (مسنده) برقم: 26957، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4376» «رقم طبعة با وزير 4208»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - وهو مكرر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح