صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
19. باب اللعان - ذكر السبب الذي من أجله أنزل الله آية اللعان-
لعان کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر اللہ نے لعان کی آیت نازل کی
حدیث نمبر: 4283
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا يَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا مَا ذِكْرُ فِي الْقُرْآنِ مِنَ الْمُتَلاعِنِينَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ قُضِيَ فِيكَ، وَفِي امْرَأَتِكَ". قَالَ: فَتَلاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنْ أَمْسِكُهَا فَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا فَفَارَقَهَا، فَكَانَتْ سُنَّةٌ بَعْدُ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلاعِنِينَ، فَكَانَتْ حَامِلا فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا، وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِِلَيْهَا، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمِيرَاثِ أَنْ يَرِثَهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهَا .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسے شخص کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے اور اسے مار دیتا ہے، تو کیا آپ لوگ (بدلے میں) اسے قتل کر دیں گے؟ ایسے شخص کو کیا کرنا چاہیے؟“ (راوی کہتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں وہ چیز ذکر فرمائی جو «لِعَان» کرنے والوں کے حوالے سے ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: ”تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں فیصلہ دے دیا گیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر ان دونوں نے «لِعَان» کیا، میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، اس شخص نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر اب بھی میں اس عورت کو اپنے ساتھ رکھتا ہوں، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے“، چنانچہ اس شخص نے اس عورت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ (راوی کہتے ہیں) اس کے بعد یہ طریقہ (سنت) جاری ہو گیا کہ «لِعَان» کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جاتی ہے؛ وہ خاتون حاملہ تھیں اور اس شخص نے اس عورت کے حمل کا انکار کیا تھا، تو اس خاتون کے بچے کو اس کی ماں کی نسبت سے پکارا جاتا تھا، اس کے بعد میراث میں بھی یہ طریقہ جاری ہوا کہ وہ بچہ اس عورت کا وارث بنتا تھا اور وہ عورت اس بچے کی وارث بنتی تھی جو اللہ تعالیٰ نے اس کا حصہ مقرر کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4283]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 423، 4745، 4746، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1492، وابن الجارود فى "المنتقى"، 797، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4283، 4284، 4285، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2245، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2066، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1555، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12616، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23266» «رقم طبعة با وزير 4269»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1949): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده على شرطهما
20. باب اللعان - ذكر اسم هذا الملاعن امرأته اللذين ذكرناهما-
لعان کا بیان - اس ملاعن اور اس کی بیوی کے نام کا ذکر جن کا ہم نے ذکر کیا
حدیث نمبر: 4284
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُوَيْمِرَ الْعَجْلانِيَّ جَاءَ إِِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَاصِمُ: " أَرَأَيْتَ لَوَ أَنَّ رَجُلا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟". سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَسَأَلَ عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِِلَى أَهْلِهِ، جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ: لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا. فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلُهُ عَنْهَا. فَجَاءَ عُوَيْمِرٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ النَّاسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا. فَقَالَ سَهْلٌ: فَتَلاعَنَا". وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلاعُنِهِمَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عویمر عجلانی، سیدنا عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان سے کہا: ”اے عاصم! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے، تو کیا اگر وہ اسے قتل کر دے، تو آپ لوگ اسے (بدلے میں) قتل کر دیں گے؟ اس شخص کو کیا کرنا چاہیے۔ اے عاصم! آپ میرے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کریں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوعیت کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور انہیں معیوب قرار دیا۔ یہ بات سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ کے لیے بڑی تکلیف دہ تھی جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی۔ جب عاصم رضی اللہ عنہ اپنے گھر واپس آئے تو عویمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور پوچھا: ”اے عاصم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا؟“ تو عاصم رضی اللہ عنہ نے عویمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تم میرے پاس بھلائی لے کر نہیں آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو ناپسند فرمایا جس کے بارے میں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا۔“ اس پر عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں باز نہیں آؤں گا جب تک میں خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت نہ کر لوں۔“ پھر سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں حکم نازل ہو گیا ہے، تم جاؤ اور اسے لے آؤ۔“ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان دونوں نے لعان کیا، میں لوگوں کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ جب وہ دونوں لعان کر کے فارغ ہو گئے تو سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں اب بھی اس عورت کو اپنے ساتھ رکھتا ہوں، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انہیں کچھ ہدایت کرنے سے پہلے ہی انہوں نے اس خاتون کو تین طلاقیں دے دیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4284]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 423، 4745، 4746، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1492، وابن الجارود فى "المنتقى"، 797، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4283، 4284، 4285، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2245، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2066، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1555، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12616، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23266» «رقم طبعة با وزير 4270»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1942): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
21. باب اللعان - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه-
لعان کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 4285
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلانِيَّ أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ وَكَانَ سَيِّدُ بَنِي الْعَجْلانِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَقُولُونَ فِي رَجُلٍ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَقَالَ: سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ. قَالَ: فَأَتَى عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ" رَجُلٌ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟". فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، فَأَتَى عُوَيْمِرًا، فَقَالَ لَهُ: إِِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لا انْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَتَى عُوَيْمِرٌ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلاعَنَا بِمَا سَمَّى اللَّهُ فِي كِتَابِهِ". قَالَ: فَلاعَنَهَا، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِِنْ حَبَسْتُهَا فَقَدْ ظَلَمْتُهَا. قَالَ: فَطَلَّقَهَا، وَكَانَتْ سُنَّةٌ لِمَنْ بَعْدَهُمَا مِنَ الْمُتَلاعِنِينَ. قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرُوا فَإِِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ، أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ، عَظِيمَ الأَلْيَتَيْنِ، خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ، فَلا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِِلا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا، وَإِِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحْرَةٌ فَلا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِِلا وَقَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا". قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَصْدِيقِ عُوَيْمِرٍ، قَالَ: فَكَانَ يُنْسَبُ بَعْدُ إِِلَى أُمِّهِ .
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ، سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو بنو عجلان کے سردار تھے، انہوں نے کہا: ”ایسے شخص کے بارے میں آپ لوگ کیا کہتے ہیں جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور مرد کو پاتا ہے، تو اگر وہ اسے قتل کر دیتا ہے تو کیا آپ لوگ اس شخص کو قتل کر دیں گے؟ تو پھر اس شخص کو کیا کرنا چاہیے۔“ انہوں نے کہا: ”آپ میرے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کریں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ ایک اور شخص کو پاتا ہے تو کیا وہ اسے قتل کر دے؟ اس طرح تو آپ اسے قتل کر دیں گے، تو پھر اس شخص کو کیا کرنا چاہیے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو ناپسندیدہ قرار دیا اور اسے معیوب قرار دیا۔ سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ، سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے ان سے کہا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو ناپسندیدہ اور معیوب قرار دیا ہے۔“ تو سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں اس وقت تک باز نہیں آؤں گا جب تک اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت نہیں کر لیتا۔“ تو سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں (حکم) نازل کر دیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں (میاں بیوی) کو ہدایت کی تو ان دونوں نے لعان کیا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اس شخص نے اس عورت کے ساتھ لعان کر لیا، پھر اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں اب بھی اس عورت کو اپنے ساتھ رکھتا ہوں، تو میں اس کے ساتھ زیادتی کا مرتکب ہو جاؤں گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ تو انہوں نے اس عورت کو طلاق دے دی۔ اس کے بعد لعان کرنے والوں میں یہ طریقہ رائج ہو گیا (کہ مرد آخر میں عورت کو طلاق دے دیتا ہے)۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اس بات کا دھیان رکھنا، اگر اس عورت نے کالے رنگ کے، کالی آنکھوں والے، بڑے سرین والے اور موٹی ایڑیوں والے بچے کو جنم دیا تو میرا اندازہ ہے عویمر نے اس عورت کے بارے میں سچ کہا ہوگا، اور اگر اس نے سرخ رنگ کے بچے کو جنم دیا، یوں جیسے وہ چھپکلی ہوتی ہے، تو پھر مجھے یہ اندازہ ہو جائے گا کہ عویمر نے اس عورت کے بارے میں غلط بیانی کی ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ تو اس عورت نے اس شکل و صورت کے بچے کو جنم دیا جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان کیا تھا کہ اس صورت میں عویمر کا سچ ہونا ثابت ہو گا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد اس بچے کو اس کی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4285]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 423، 4745، 4746، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1492، وابن الجارود فى "المنتقى"، 797، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4283، 4284، 4285، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2245، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2066، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1555، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12616، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23266» «رقم طبعة با وزير 4271»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1944 و 1946): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
22. باب اللعان - ذكر وصف اللعان الذي يجب أن يكون بين من وصفنا نعتهما من الزوج والمرأة-
لعان کا بیان - لعان کی صفت کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ نعت والے شوہر اور بیوی کے درمیان ہونا چاہیے
حدیث نمبر: 4286
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ: سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلاعِنِينَ فِي إِِمْرَةِ مُصْعَبٍ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ فِيهِ، فَقُمْتُ مَكَانِي إِِلَى مَنْزِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَهُوَ قَائِلٌ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ، فَقَالَ الْغُلامُ: إِِنَّهُ قَائِلٌ. فَقُلْتُ: مَا بُدَّ مِنْ أَنْ أَدْخُلَ عَلَيْهِ، فَسَمِعَ صَوْتِي فَعَرَفَهُ، وَقَالَ: أَسَعِيدٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: ادْخُلْ، مَا جِئْتَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِِلا لِحَاجَةٍ. فَدَخَلْتُ وَهُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةَ رَحْلِهِ مُتَوَسِّدٌ وِسَادَةً حَشْوهَا لِيفٌ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، الْمُتَلاعِنَانِ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، نَعَمْ، إِِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلانُ بْنُ فُلانٍ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا رَأَى امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ، كَيْفَ يَصْنَعُ؟ إِِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، وَإِِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ، فَلَمْ يُجِبْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ ذَلِكَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ،" فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا هَؤُلاءِ الآيَاتِ، فَدَعَا الرَّجُلَ، فَتَلاهُنَّ عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ"، فَقَالَ: لا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا. ثُمَّ دَعَا بِالْمَرْأَةِ فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا، وَأَخْبَرَهَا أَنَّ" عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ"، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِِنَّهُ لَكَاذِبٌ. فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِِنَّهُ لِمَنِ الصَّادِقِينَ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ، فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِِنَّهُ لِمَنِ الْكَاذِبِينَ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ غَضِبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا" .
سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مجھ سے مصعب کی حکومت کے دور میں لعان کرنے والوں کے بارے میں یہ سوال کیا گیا کہ کیا ان کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی؟ تو مجھے یہ علم نہیں تھا کہ میں اس بارے میں کیا جواب دوں۔ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر آیا، وہ اس وقت دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے۔ میں نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو غلام نے یہ کہا: وہ آرام کر رہے ہیں۔ میں نے کہا: میرا اس وقت ان کی خدمت میں حاضر ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے میری آواز سن کر مجھے پہچان لیا اور دریافت کیا: ”کیا سعید ہے؟“ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا: ”تم اندر آ جاؤ، تم اس وقت کسی ضروری کام کے سلسلے میں ہی آئے ہو گے۔“ میں اندر چلا گیا، وہ اس وقت اپنے پالان کی چادر کو بچھائے ہوئے تھے اور انہوں نے تکیے کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی جو کھجور کے پتوں سے بنا ہوا تھا۔ میں نے کہا: اے ابوعبد الرحمن! کیا لعان کرنے والے دو فریقوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی؟ انہوں نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، جی ہاں، سب سے پہلے اس بارے میں فلاں بن فلاں نے دریافت کیا تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کو زنا کرتے ہوئے دیکھتا ہے، تو اسے کیا کرنا چاہئے؟ اگر وہ اس بارے میں بات کرتا ہے تو وہ ایک بڑے معاملے کے بارے میں بات کرے گا اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو وہ بھی اس کی مانند (یعنی بڑے معاملے کے بارے میں) خاموش رہے گا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو کوئی جواب نہیں دیا، اس کے بعد وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کے بارے میں دریافت کیا تھا، میں خود اس آزمائش میں مبتلا ہو گیا ہوں۔ (راوی کہتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کر دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلوایا اور ان آیات کو اس کے سامنے تلاوت کیا، اسے وعظ و نصیحت کی، اسے ترغیب دی اور اسے یہ بتایا کہ ”دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے“۔ اس شخص نے کہا: جی نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے! میں نے اس عورت پر جھوٹا الزام نہیں لگایا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وعظ و نصیحت کی اور اسے یہ بتایا کہ ”دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے“۔ اس عورت نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! وہ شخص جھوٹ بول رہا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد سے آغاز کیا، اس نے چار مرتبہ اللہ کے نام کی (قسم اٹھا کر) اس بات کی گواہی دی کہ وہ سچ بول رہا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہا: اگر وہ جھوٹ بول رہا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو، پھر دوسری مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے لعان کروایا، اس نے چار مرتبہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ گواہی دی کہ وہ مرد جھوٹ بول رہا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہا: اگر وہ مرد سچا ہے، تو اس عورت پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو۔ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4286]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4748، 5306، 5311، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1493، وابن الجارود فى "المنتقى"، 813، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4286، 4287، 4288، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3473، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2257، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1202، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2069، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1554، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3706، وأحمد فى (مسنده) برقم: 405» «رقم طبعة با وزير 4272»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1955): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
23. باب اللعان - ذكر البيان بأن الزوجين إذا تلاعنا على حسب ما وصفناه لم يكن له السبيل عليها فيما بعد من أيامه-
لعان کا بیان - اس بات کا بیان کہ اگر شوہر اور بیوی ہمارے بیان کردہ طریقے سے لعان کریں تو اس کے بعد اسے اس پر کوئی راستہ نہیں
حدیث نمبر: 4287
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلاعِنَيْنِ:" حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ لا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي؟ قَالَ: " لا مَالَ لَكَ، إِِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ مَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی سے یہ فرمایا: ”تم دونوں کا حساب اللہ کے ذمے ہے، تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے۔“ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد سے فرمایا) ”تمہارا اس عورت کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے مال (کا کیا بنے گا، جو میں نے اسے مہر کے طور پر دیا تھا)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں مال نہیں ملے گا، اگر تم نے اس پر سچا الزام لگایا ہے تو تم نے اس مال کے عوض میں اس عورت کی شرم گاہ کو اپنے لیے حلال کر لیا اور اگر تم نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے تو پھر تو یہ اور زیادہ دور ہو جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4287]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4748، 5306، 5311، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1493، وابن الجارود فى "المنتقى"، 813، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4286، 4287، 4288، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3473، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2257، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1202، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2069، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1554، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3706، وأحمد فى (مسنده) برقم: 405» «رقم طبعة با وزير 4273»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1953): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
24. باب اللعان - ذكر البيان بأن ولد المتلاعنة يلحق بها بعد اللعان الواقع بينها وبين زوجها دون أن يلحق بزوجها-
لعان کا بیان - اس بات کا بیان کہ متلاعنہ کا بچہ لعان کے بعد اس سے ملحق ہوتا ہے، نہ کہ اس کے شوہر سے
حدیث نمبر: 4288
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ الطَّائِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ " رَجُلا لاعَنَ امْرَأَتَهُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ لعان کیا اور اس عورت کے بچے (کے نسب کی) نفی کر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں (میاں بیوی) کے درمیان علیحدگی کروا دی اور بچے کو اس کی ماں کی طرف منسوب کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4288]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4748، 5306، 5311، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1493، وابن الجارود فى "المنتقى"، 813، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4286، 4287، 4288، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3473، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2257، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1202، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2069، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1554، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3706، وأحمد فى (مسنده) برقم: 405» «رقم طبعة با وزير 4274»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1955): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
25. باب العدة-
عدت کا بیان -
حدیث نمبر: 4289
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ" فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلاثِ تَطْلِيقَاتٍ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا، فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى" .
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: وہ سیدنا ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں انہوں نے اس خاتون کو تین طلاقیں دے دیں وہ خاتون بیان کرتی ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے گھر سے باہر نکلنے کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ ہدایت کی کہ ”وہ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ جو نابینا ہیں ان کے ہاں منتقل ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4289]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1480، وابن الجارود فى "المنتقى"، 821، 822، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4049، 4250، 4251، 4252، 4253، 4254، 4289، 4290، 4291، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6973، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3222، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 589، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3920، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27742» «رقم طبعة با وزير 4275»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - وهو مختصر الذي بعده.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
26. باب العدة - ذكر العلة التي من أجلها أمرت فاطمة بنت قيس بالانتقال إلى بيت ابن أم مكتوم-
عدت کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر فاطمہ بنت قیس کو ابن ام مکتوم کے گھر منتقل ہونے کا حکم دیا گیا
حدیث نمبر: 4290
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ بِالشَّامِ، فَأَرْسَلَ إِِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكَ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهَا:" لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ". وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ: " تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، فَاعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ حَيْثُ شِئْتِ، فَإِِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي". قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لا مَالَ لَهُ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ". قَالَتْ: فَكَرِهْتُ، ثُمَّ قَالَ:" انْكِحِي أُسَامَةَ". فَنَكَحْتُهُ، فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ .
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاقِ بتہ دے دی، وہ اس وقت (مدینہ منورہ) میں موجود نہیں تھے بلکہ شام میں تھے، انہوں نے اس خاتون کی طرف اپنے وکیل کو کچھ ”جو“ دے کر بھیجا، اس خاتون نے اس وکیل پر ناراضگی کا اظہار کیا تو اس وکیل نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارے لیے ہمارے ذمہ اور کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تمہیں خرچ دینا اس پر لازم نہیں ہے“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو یہ ہدایت کی کہ وہ سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے ہاں عدت بسر کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ تو ایک ایسی خاتون ہیں جس کے ہاں میرے اصحاب آتے جاتے رہتے ہیں، تم ابن ام مکتوم کے ہاں عدت بسر کرو کیونکہ وہ نابینا شخص ہے، تم جہاں چاہو اپنی چادر وغیرہ اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت ختم ہو جائے تو تم مجھے اطلاع دے دینا“۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: جب میری عدت پوری ہو گئی تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا کہ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان اور سیدنا ابوجہم رضی اللہ عنہما نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جہاں تک ابوجہم کا تعلق ہے تو وہ اپنی گردن سے عصا کو رکھتا نہیں ہے اور جہاں تک معاویہ کا تعلق ہے تو وہ کنگال شخص ہے، اس کے پاس مال نہیں ہے، تم اسامہ بن زید کے ساتھ شادی کر لو“۔ وہ خاتون کہتی ہیں: مجھے یہ بات پسند نہیں آئی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسامہ کے ساتھ شادی کر لو“۔ تو میں نے ان کے ساتھ شادی کر لی، اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی بھلائی رکھی کہ مجھ پر رشک کیا جاتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4290]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1480، وابن الجارود فى "المنتقى"، 821، 822، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4049، 4250، 4251، 4252، 4253، 4254، 4289، 4290، 4291، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6973، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3222، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 589، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3920، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27742» «رقم طبعة با وزير 4276»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1976): م
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
27. باب العدة - ذكر الإخبار عن نفي إثبات السكن للمبتوتة-
عدت کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ مبتوتہ کے لیے رہائش کا اثبات نہیں
حدیث نمبر: 4291
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْعَبَّاسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمُطَلَّقَةُ ثَلاثًا لَيْسَ لَهَا سُكْنَى، وَلا نَفَقَةٌ" .
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جس عورت کو تین طلاقیں دے دی گئی ہوں اسے رہائش اور خرچ نہیں ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4291]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1480، وابن الجارود فى "المنتقى"، 821، 822، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4049، 4250، 4251، 4252، 4253، 4254، 4289، 4290، 4291، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6973، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3222، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 589، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3920، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27742» «رقم طبعة با وزير 4277»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - مضى (4237). تنبيه!! رقم (4237) = (4251) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
28. باب العدة - ذكر وصف عدة المتوفى عنها زوجها-
عدت کا بیان - بیوہ عورت کی عدت کی تفصیل کا بیان
حدیث نمبر: 4292
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ بن أنس بن مالك ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانَ وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَخْبَرَتْهَا، أَنَّهَا جَاءَتْ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ، فَإِِنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا، حَتَّى إِِذَا كَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْجِعَ إِِلَى أَهْلِي، فَإِِنَّ زَوْجِي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَنْزِلٍ يَمْلِكُهُ، وَلا نَفَقَةَ، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ". فَانْصَرَفْتُ حَتَّى إِِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ، دَعَانِي أَوْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدُعِيتُ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ قُلْتِ؟" قَالَتْ: فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَكَرْتُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي، فَقَالَ:" امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ". قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَرْسَلَ إِِلَيَّ، فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَاتَّبَعَهُ، وَقَضَى بِهِ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: رَوَى هَذَا الْخَبَرُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَالِكٍ. وَالْقَدُومُ: مَوْضِعٌ بِالْحِجَازِ، وَهُوَ الْمَوْضِعُ الَّذِي رُوِيَ فِي بَعْضُ الأَخْبَارِ: أَنَّ إِِبْرَاهِيمَ اخْتَتَنَ بِالْقَدُومِ.
سیدہ زینب بنت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا جو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں انہوں نے ان کو بتایا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی کہ وہ اپنے میکے بنو خدرہ میں منتقل ہو جائیں کیونکہ ان کا شوہر اپنے کچھ مفرور غلاموں کی تلاش میں نکلا تھا اور «طَرَفِ قَدُومٍ» ”طرفِ قدوم“ کے مقام پر اس نے ان غلاموں کو پکڑ لیا تھا اور ان غلاموں نے اسے قتل کر دیا تھا، وہ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ ”میں اپنے میکے واپس چلی جاتی ہوں کیونکہ میرے شوہر نے میرے لیے کوئی ایسا گھر نہیں چھوڑا جس کا وہ مالک ہو اور نہ ہی خرچ کرنے کے لیے کچھ چھوڑا ہے“، وہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ٹھیک ہے“، میں وہاں سے روانہ ہوئی ابھی میں حجرے میں ہی تھی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: مسجد میں تھی) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے میں حکم دیا) تو مجھے بلا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم نے کیا بیان کیا تھا؟“ وہ کہتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا واقعہ بیان کیا جو میں نے اپنے شوہر کی صورت حال کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے گھر میں ٹھہری رہو جب تک تمہاری عدت پوری نہیں ہو جاتی“، وہ بیان کرتی ہیں، تو میں نے اس گھر میں چار ماہ دس دن تک عدت گزاری، وہ بیان کرتی ہیں: جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (کا عہد خلافت آیا) انہوں نے مجھے پیغام بھیجا اور مجھ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے اس کی پیروی کی اور اس کے مطابق فیصلہ لیا، (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت زہری کے حوالے سے امام مالک رحمہ اللہ نے نقل کی ہے اور «القَدُومُ» ”قدوم“ حجاز میں ایک جگہ کا نام ہے یہ وہ جگہ ہے، جس کے بارے میں بعض روایات میں یہ بات منقول ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے «القَدُومُ» ”قدوم“ کے مقام پر ختنہ کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4292]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم:، وابن الجارود فى "المنتقى"، 820، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4292، 4293، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2849، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2300، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1204، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2031، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1365، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15593، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27729» «رقم طبعة با وزير 4278»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1992/ 2)، «الإرواء» (7/ 206 - 207).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح