صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
39. فصل في إحداد المعتدة - ذكر الزجر عن أن تحد المرأة فوق الثلاث على أحد من الناس خلا الزوج-
عدت گزارنے والی عورت کے سوگ کا بیان - عورت کو کسی بھی شخص پر تین دن سے زیادہ سوگ منانے سے روکا گیا ہے سوائے شوہر کے
حدیث نمبر: 4303
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تَحُدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثٍ، إِِلا عَلَى زَوْجٍ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، البتہ شوہر کا معاملہ مختلف ہے، اس کا سوگ چار ماہ دس دن تک ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4303]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1491، وابن الجارود فى "المنتقى"، 825، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4301، 4303، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3525، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2085، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15621، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24726، والحميدي فى (مسنده) برقم: 229» «رقم طبعة با وزير 4289»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (7/ 194): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
40. فصل في إحداد المعتدة - ذكر وصف الإحداد الذي تستعمل المرأة على زوجها-
عدت گزارنے والی عورت کے سوگ کا بیان - بیوی کے سوگ منانے کا طریقہ اور کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 4304
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ بِهَذِهِ الأَحَادِيثِ الثَّلاثِ، قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبِ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ أَوْ غَيْرُهُ، فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً، ثُمَّ مَسَّتْ بِهِ بَطْنَهَا، ثُمّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَالِي بِالطِّيبِ مِنْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تَحُدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثِ لَيَالٍ، إِِلا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" . وَقَالَتْ وَقَالَتْ زَيْنَبُ : دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ، فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَالِي بِالطِّيبِ مِنْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: " لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تَحُدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثَ لَيَالٍ، إِِلا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" . قَالَتْ قَالَتْ زَيْنَبُ : وَسَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ ، تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَاهَا فَنُكَحِّلُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا"، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ:" لا، إِِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، وَقَدْ كَانَتْ إِِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ" .
سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا نے تین روایات نقل کی ہیں۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی جب ان کے والد سیدنا ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا، تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے زرد رنگ کی کوئی خوشبو منگوائی جس میں خلوق یا شاید کوئی دوسری خوشبو ملی ہوئی تھی، انہوں نے اس کا کچھ حصہ کسی لڑکی کو لگایا اور پھر تھوڑا سا اپنے چہرے (یا پیٹ) پر لگا لیا، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، البتہ اپنے شوہر کا سوگ چار ماہ دس دن تک کرے۔“ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ میں سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی جب ان کے بھائی سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا، انہوں نے خوشبو منگوائی اور تھوڑی سی خوشبو لگا لی، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی ضرورت نہیں تھی، لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ کا سوگ کرے، البتہ اپنے شوہر کا سوگ وہ چار ماہ دس دن تک کرے۔“ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اپنی والدہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بیٹی بیوہ ہے اور اس کی آنکھیں دکھتی ہیں، تو کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ ایسا شاید دو یا تین مرتبہ ہوا، ہر مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے: ”نہیں۔“ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”یہ (یعنی اس کی عدت کی مدت) چار ماہ دس دن ہے، جبکہ پہلے زمانہ جاہلیت میں کوئی عورت ایک سال گزرنے کے بعد مینگنی پھینکا کرتی تھی (تب اس کی عدت پوری ہوتی تھی)۔“ حمید نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ ایک سال کے بعد مینگنی پھینکنے سے کیا مراد ہے؟ تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بتایا: (بیوہ عورت کی عدت گزرنے کے بعد) عورت کے پاس کوئی جانور جیسے گدھا، بکری یا پرندہ لایا جاتا تھا تو وہ اس پر ہاتھ پھیرتی تھی، عام طور پر وہ جانور مر جایا کرتا تھا، پھر وہ عورت (اپنی کوٹھڑی سے) باہر نکلتی تھی، اسے ایک مینگنی دی جاتی تھی جسے وہ پھینک دیتی تھی، اس کے بعد وہ خوشبو وغیرہ استعمال کرنا شروع کرتی تھی۔ امام مالک رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ روایت کے الفاظ «تَفُضُّ بِهِ» سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ کہ وہ عورت اپنا ہاتھ اس جانور کی کھال پر پھیرتی (رگڑتی) تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4304]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1280، 1281، 5334، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1486، وابن الجارود فى "المنتقى"، 826، 830، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4304، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2299، 2299، 2299، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1195، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2084، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2133، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15559، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27144» «رقم طبعة با وزير 4290»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1990): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
الحديث إسناده صحيح على شرطهما
41. فصل في إحداد المعتدة - ذكر الإباحة للمرأة في الإحداد أن تمس الطيب في بعض الأوقات دون بعض-
عدت گزارنے والی عورت کے سوگ کا بیان - عورت کے لیے بعض اوقات میں خوشبو لگانے کی اجازت اور بعض میں ممانعت کا ذکر
حدیث نمبر: 4305
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تَحُدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثٍ، إِِلا عَلَى زَوْجٍ، فَإِِنَّهَا تَحُدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، لا تَكْتَحِلُ، وَلا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِِلا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَلا تَمَسُّ طِيبًا إِِلا عِنْدَ أَدْنَى طُهْرِهَا إِِذَا اغْتَسَلَتْ مِنْ مَحِيضِهَا، نُبْذَةَ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ" .
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ کا سوگ کرے، البتہ شوہر کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ وہ اس پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی؛ (اپنی عدت کے دوران) وہ سرمہ نہیں لگائے گی، رنگین کپڑے نہیں پہنے گی، البتہ پٹی باندھنے والے کپڑے کا حکم مختلف ہے اور وہ خوشبو نہیں لگائے گی، البتہ جب حیض سے پاک ہونے کے بعد غسل کر رہی ہو گی، اس وقت وہ تھوڑی سی «قُسْطٍ» یا «أَظْفَارٍ» (یعنی مخصوص قسم کی خوشبو) لگا لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4305]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 313، 1279، 5340، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 938، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4305، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3536، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2302، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2087، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2135، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 883، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21126» «رقم طبعة با وزير 4290/م»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2114): ق. * قال الناشر: هذا الحديث - مع بابه - ساقط من «الأصل»، واستدركناه من «طبعة المؤسسة».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
42. فصل في إحداد المعتدة - ذكر الزجر عن أن تلبس المعتدة الحلي أو تختضب-
عدت گزارنے والی عورت کے سوگ کا بیان - عدت گزارنے والی عورت کے لیے زیور پہننے اور مہندی لگانے سے روکا گیا ہے
حدیث نمبر: 4306
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُدَيْلٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنَ الثِّيَابِ، وَلا الْمُمَشَّقَةَ، وَلا الْحُلِيَّ، وَلا تَخْتَضِبُ وَلا تَكْتَحِلُ" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جس عورت کا شوہر انتقال کر جائے وہ (عدت کے دوران) رنگین کپڑا نہیں پہنے گی، آراستہ کپڑا نہیں پہنے گی، زیور نہیں پہنے گی، خضاب نہیں لگائے گی اور سرمہ نہیں لگائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4306]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1490، وابن الجارود فى "المنتقى"، 828، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4302، 4306، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3503، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2304، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2086، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15619، وأحمد فى (مسنده) برقم: 26153» «رقم طبعة با وزير 4291»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1995).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم