صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. ذكر الأمر لمن أراد أن يطلق امرأته أن يطلقها في طهرها لا في حيضها-
- اس حکم کا ذکر کہ جو اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے وہ اسے اس کے طہر میں طلاق دے، نہ کہ حیض میں
حدیث نمبر: 4263
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِيَ حَائِضٌ، فَاسْتَفْتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِِنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ؟ فَقَالَ: " مُرْ عَبْدَ اللَّهِ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا هَذِهِ، فَإِِذَا حَاضَتْ حَيْضَةً أُخْرَى فَطَهُرَتْ، فَإِِنْ شَاءَ فَلْيُطَلِّقْهَا قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا، وَإِِنْ شَاءَ فَلْيُمْسِكْهَا" .
نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کے دوران ایک طلاق دے دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا اور عرض کی کہ عبداللہ نے اپنی بیوی کو حیض کے دوران طلاق دے دی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عبداللہ سے کہو وہ اس عورت سے رجوع کر لے پھر وہ اسے اپنے ساتھ رکھے، یہاں تک کہ وہ اس حیض سے پاک ہو جائے پھر جب اس عورت کو دوسری مرتبہ حیض آ جائے اور پھر وہ پاک ہو جائے پھر اگر وہ چاہے تو اسے اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے طلاق دے دے اور اگر چاہے تو اپنے ساتھ رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4263]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4908، 5251، 5252، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1471، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4263، 4264، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3008، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3389، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2179، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1175، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2019، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1066، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15014، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3893، وأحمد فى (مسنده) برقم: 310» «رقم طبعة با وزير 4249»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1892): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
2. ذكر الزجر عن أن يطلق المرء امرأته في حيضها دون طهرها-
- اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی اپنی بیوی کو حیض میں طلاق دے، نہ کہ طہر میں
حدیث نمبر: 4264
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ، فَرَدَّ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ حَتَّى طَلَّقْتُهَا وَهِيَ طَاهِرٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران طلاق دے دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے میری طرف لوٹا دیا، یہاں تک کہ میں نے اسے اس وقت طلاق دی جب وہ طہر کی حالت میں تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4264]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4908، 5251، 5252، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1471، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4263، 4264، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3008، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3389، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2179، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1175، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2019، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1066، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15014، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3893، وأحمد فى (مسنده) برقم: 310» «رقم طبعة با وزير 4250»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (7/ 127): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
3. ذكر الزجر عن أن يطلق المرء النساء ويرتجعهن حتى يكثر ذلك منه-
- اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی عورتوں کو طلاق دے اور رجعت کرے حتیٰ کہ یہ اس سے زیادہ ہو جائے
حدیث نمبر: 4265
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَلْعَبُ بِحُدُودِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَدْ طَلَّقْتُ، قَدْ رَاجَعْتُ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کیا وجہ ہے کہ تم میں سے کوئی ایک شخص اللہ کی حدود سے کھیلتا ہے اور یہ کہتا ہے: میں نے طلاق دی، میں نے رجوع کر لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4265]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4265، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2017، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15009، 15010، 15011، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 529، والبزار فى (مسنده) برقم: 3117، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،» «رقم طبعة با وزير 4251»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (4431).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
4. ذكر الخبر الدال على أن الكنايات في الطلاق إن أريد بها الطلاق كان طلاقا على حسب نية المرء فيه-
- اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ طلاق میں کنایات اگر طلاق کا ارادہ کیا جائے تو آدمی کی نیت کے مطابق طلاق ہوتی ہے
حدیث نمبر: 4266
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ : أَيُّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ بِنْتَ الْجَوْنِ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَنَا مِنْهَا، قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُذْتِ بِعَظِيمٍ، الْحَقِي بِأَهْلِكِ" . قَالَ الزُّهْرِيُّ: الْحَقِي بِأَهْلِكِ: تَطْلِيقَةٌ.
امام اوزاعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ کون سی زوجہ محترمہ تھیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پناہ مانگی تھی؟ تو امام زہری رحمہ اللہ نے بتایا کہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ جب جَوْن کی صاحبزادی کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب ہوئے (تو وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتی نہیں تھی) اس نے کہا: «أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْكَ» ”میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں“، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِيمٍ، الْحَقِي بِأَهْلِكِ“ ”تم نے ایک عظیم ذات کی پناہ مانگی ہے، تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جاؤ۔“ امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ”تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جاؤ“ سے مراد ایک طلاق تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4266]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5254، وابن الجارود فى "المنتقى"، 798، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4266، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6899، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2037، 2050، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 832، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13395، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3971، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4903» «رقم طبعة با وزير 4252»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2064): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
5. ذكر البيان بأن تخيير المرء امرأته بين فراقه أو الكون معه إذا اختارت نفسه لم يكن ذلك طلاقا-
- اس بات کا بیان کہ آدمی کا اپنی بیوی کو جدائی یا ساتھ رہنے کا اختیار دینا، اگر وہ خود کو چن لے تو یہ طلاق نہیں
حدیث نمبر: 4267
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَعَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَرْنَاهُ، فَهَلْ كَانَ ذَلِكَ طَلاقًا؟" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا، تو ہم نے آپ کو اختیار کر لیا، تو کیا یہ چیز طلاق شمار ہوئی تھی؟ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4267]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4785، 5262، 5263، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1083، وابن الجارود فى "المنتقى"، 799، 800، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4267، 4268، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7926، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2130، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2203، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1179، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2052، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1644، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13390، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4960» «رقم طبعة با وزير 4253»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1913)، «تخريج فقه السيرة» (449): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
6. ذكر البيان بأن عائشة لما خيرها المصطفى صلى الله عليه وسلم اختارت الله جل وعلا وصفيه صلى الله عليه وسلم-
- اس بات کا بیان کہ جب عائشہ رضی اللہ عنہا کو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا تو انہوں نے اللہ جل وعلا اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چنا
حدیث نمبر: 4268
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ اللَّهُ: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4، حَتَّى حَجَّ عُمَرُ فَحَجَجْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ عَدَلَ لِيَتَوَضَّأُ وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِالإِِدَاوَةِ، فَتَبَرَّزَ ثُمَّ أَتَانِي، فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ فَتَوَضَّأَ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُ: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4؟ فَقَالَ عُمَرُ: وَاعَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، ثُمَّ قَالَ: هِيَ عَائِشَةُ، وَحَفْصَةُ. ثُمَّ أَنْشَأَ يَسُوقُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: كُنَّا مَعْشَرُ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَاهُمْ قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ، وَكَانَ مَنْزِلِي فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ فِي الْعَوَالِي، قَالَ: فَتَغَضَّبْتُ يَوْمًا عَلَى امْرَأَتِي فَإِِذَا هِيَ تُرَاجِعْنِي، فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي، فَقَالَتْ: مَا تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ، فَوَاللَّهِ إِِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتُرَاجِعْنَهُ، وَتَهْجُرُهُ إِِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِِلَى اللَّيْلِ. قَالَ: فَانْطَلَقْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: أَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، وَتَهْجُرُهُ إِِحْدَانَا الْيَوْمَ إِِلَى اللَّيْلِ. قَالَ: قَدْ قُلْتِ، قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْكُنَّ وَخَسِرَ، أَفَتَأْمَنُ إِِحْدَاكُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِِذَا هِيَ قَدْ هَلَكَتْ، لا تُرَاجِعِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا تَسْأَلِيهِ شَيْئًا، وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكِ، وَلا يَغُرَّنَّكِ إِِنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْسَمُ وَأَحَبُّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكِ، يُرِيدُ عَائِشَةَ، قَالَ: وَكَانَ لِي جَارٌ مِنَ الأَنْصَارِ، وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْزِلُ يَوْمًا وأَنْزِلُ يَوْمًا، فَيَأْتِينِي بِخَبَرِ الْوَحْيِ وَغَيْرِهِ، وَأَنْزِلُ فَآتِيهِ بِمِثْلِ ذَلِكَ، وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الْخَيْلَ لِتَغْزُوَنَا، قَالَ: فَنَزَلَ صَاحِبِي يَوْمًا ثُمَّ أَتَانِي، فَضَرَبَ عَلَى بَابِي، ثُمَّ نَادَانِي، فَخَرَجْتُ إِِلَيْهِ، فَقَالَ: حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ. فَقُلْتُ: مَاذَا؟ أَجَاءَتْ غَسَّانُ؟ قَالَ: بَلْ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَأَطْوَلُ، طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ نِسَاءَهُ. فَقُلْتُ: خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ، قَدْ كُنْتُ أَظُنُّ هَذَا كَائِنًا، فَلَمَّا صَلَّيْتُ الصُّبْحَ شَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، ثُمَّ نَزَلْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَإِِذَا هِيَ تَبْكِي، فَقُلْتُ: أَطَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: لا أَدْرِي، هُوَ ذَا هُوَ مُعْتَزِلٌ فِي هَذِهِ الْمَشْرُبَةِ. قَالَ: فَأَتَيْتُ غُلامًا لَهُ أَسْوَدَ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذَنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ الْغُلامُ، ثُمَّ خَرَجَ إِِلَيَّ، وَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِِذَا قَوْمٌ حَوْلَ الْمِنْبَرِ جُلُوسٌ يَبْكِي بَعْضُهُمْ إِِلَى بَعْضٍ، قَالَ: فَجَلَسْتُ قَلِيلا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَأَتَيْتُ الْغُلامَ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذَنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ إِِلَيَّ، فَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ، فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ إِِلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَأَتَيْتُ الْغُلامَ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذَنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِِلَيَّ، فَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَسَكَتَ، فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا، فَإِِذَا الْغُلامُ يَدْعُونِي، وَيَقُولُ: ادْخُلْ فَقَدْ أَذِنَ لَكَ، فَدَخَلْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِِذَا هُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى رَمْلِ حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ بِجَنْبِهِ، فَقُلْتُ: أَطَلَّقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نِسَاءَكَ؟ قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِِلَيَّ، وَقَالَ:" لا". فَقُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، لَوْ رَأَيْتَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكُنَّا مَعْشَرُ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ، فَتَغَضَّبْتُ عَلَى امْرَأَتِي يَوْمًا، فَإِِذَا هِيَ تُرَاجِعَنِي فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَتُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ، فَوَاللَّهِ إِِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ، وَتَهْجُرُهُ إِِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِِلَى اللَّيْلِ. قَالَ: فَقُلْتُ: قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُنَّ وَخَسِرَتْ، أَتَأْمَنُ إِِحْدَاهُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِِذَا هِيَ قَدْ هَلَكَتْ. قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقُلْتُ لَهَا: لا تُرَاجِعِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا تَسْأَلِيهِ شَيْئًا، وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكَ، وَلا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْسَمُ وَأَحَبُّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكِ. قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْرَى، فَقُلْتُ: أَسْتَأْنِسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ". فَجَلَسْتُ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فِي الْبَيْتِ، فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِيهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ إِِلا أُهُبًا ثَلاثَةً، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُوَسِّعَ عَلَى أُمَّتِكَ، فَقَدْ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَى فَارِسَ وَالرُّومِ وَهُمْ لا يَعْبُدُونَهُ. قَالَ: فَاسْتَوَى جَالِسًا، وَقَالَ:" أَفِي شَكٍّ أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا". فَقُلْتُ: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَانَ أَقْسَمَ لا يَدْخُلُ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ حَتَّى عَاتَبَهُ اللَّهُ" . قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ ، فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: فَلَمَّا مَضَى تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، وَإِِنَّكَ دَخَلْتَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ. فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ"، ثُمَّ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ، إِِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، فَلا أُرِيدُ أَنْ تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ"، قَالَتْ: ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ الآيَةَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلا وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 28 - 29، قَالَتْ عَائِشَةُ: قَدْ عَلِمَ وَاللَّهِ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، فَقُلْتُ: أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ؟ فَإِِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں ایک طویل عرصے سے اس بات کا خواہشمند تھا کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ان دو خواتین کے بارے میں دریافت کروں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے تعلق رکھتی ہیں، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾ [سورة التحريم: 4] ”اگر تم دونوں اللہ کی بارگاہ میں، توبہ کر لو (تو یہ مناسب ہو گا) کیونکہ تم دونوں کے دل مائل ہو گئے تھے۔“ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حج کے لیے گئے ان کے ہمراہ میں بھی حج کے لیے گیا راستے میں کسی جگہ پر وہ ایک طرف ہٹ گئے (انہوں نے قضائے حاجت کی) پھر وہ وضو کرنے لگے میں بھی ان کے ہمراہ ایک برتن لے کر ہٹ گیا تھا انہوں نے قضائے حاجت کی پھر وہ میرے پاس آئے میں نے ان کے دونوں ہاتھوں پر پانی انڈیلا انہوں نے وضو کیا میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے تعلق رکھنے والی وہ دو خواتین کون سی تھیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾ [سورة التحريم: 4] ”اگر تم دونوں اللہ کی بارگاہ میں، توبہ کر لو (تو یہ مناسب ہو گا) کیونکہ تم دونوں کے دل مائل ہو گئے تھے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن عباس تم پر حیرت ہے (کہ تم نے پہلے اس بارے میں سوال کیوں نہیں کیا) پھر انہوں نے بتایا: وہ عائشہ اور حفصہ تھیں اس کے بعد انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا۔ انہوں نے بتایا: ہم قریش کے لوگ اپنی بیویوں پر غالب تھے جب ہم مدینہ آئے تو ہمیں ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا جن کی عورتیں ان پر غالب تھیں ہماری خواتین نے ان سے طریقہ سیکھنا شروع کر دیا میری رہائش نواحی علاقے میں بنو امیہ بن زید کے محلے میں تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن میں نے اپنی بیوی پر غصے کا اظہار کیا، تو اس نے مجھے پلٹ کر جواب دیا: میں اس کے پلٹ کر جواب دینے پر بہت حیران ہوا تو اس نے کہا: آپ اس بات پر اعتراض کر رہے ہیں کہ میں آپ کو جواب دے رہی ہوں حالانکہ اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دے دیتی ہیں اور ان میں سے ایک تو صبح سے لے کر شام تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لا تعلق (یا ناراض) رہتی ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں وہاں سے روانہ ہوا اور حفصہ کے پاس آیا میں نے کہا: کیا تم پلٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں اور ہم میں سے ایک تو صبح سے لے کر شام تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لا تعلق رہتی ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم یہ بات کہہ رہی ہو تم میں سے جو بھی ایسا کرتی ہے وہ رسوا ہو جائے گی اور خسارے کا شکار ہو جائے گی؟ کیا تمہیں اس بات سے ڈر نہیں لگتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے اس پر ناراض ہو جائے گا اور اس صورت میں وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گی تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پلٹ کر جواب نہ دیا کرو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کا مطالبہ نہ کیا کرو تمہاری جو ضرورت ہو مجھے کہہ دیا کرو اور یہ چیز تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے کہ تمہاری پڑوسن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک زیادہ خوب صورت اور زیادہ محبوب ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرا ایک انصاری پڑوسی تھا ہم لوگ باری باری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے ایک دن وہ چلا جاتا تھا ایک دن میں آ جایا کرتا تھا ایک مرتبہ وہ وحی یا اس سے متعلق دیگر کسی چیز کی اطلاع لے آتا تھا جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آتا تھا تو اس طرح اطلاع میں بھی لے آتا تھا (اور اسے بتا دیتا تھا) ان دنوں ہم یہ بات چیت کر رہے تھے کہ غسان قبیلے کے لوگ ہمارے ساتھ لڑائی کی تیاریاں کر رہے ہیں ایک دن میرا ساتھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا پھر وہ میرے پاس آیا اس نے میرے دروازے کو کھٹکھٹایا اور مجھے آواز دی میں نکل کر اس کے پاس آیا تو اس نے کہا: ایک عظیم واقعہ رونما ہو گیا ہے میں نے دریافت کیا: کیا ہوا ہے کیا غسان قبیلے کے لوگ آ گئے ہیں اس نے کہا: نہیں اس سے زیادہ بڑا اور زیادہ لمبا واقعہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے تو میں نے کہا: حفصہ رسوا ہو گئی اور خسارے کا شکار ہو گئی مجھے اندازہ تھا کہ یہ ہو کے رہے گا۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) جب میں نے صبح کی نماز ادا کی تو میں نے چادر لپیٹی اور (مدینہ منورہ کی طرف آ گیا) میں حفصہ کے پاس آیا وہ رو رہی تھی میں نے دریافت کیا: اللہ کے رسول نے تم لوگوں کو طلاق دے دی ہے؟ اس نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم وہ وہاں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بالا خانے میں علیحدہ رہ رہے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیاہ فام غلام کے پاس آیا میں نے کہا: تم عمر کے لیے اندر آنے کی اجازت مانگو وہ لڑکا اندر گیا پھر وہ نکل کر باہر آیا اور بولا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا تذکرہ کیا ہے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ ارشاد نہیں فرمایا۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں وہاں سے چلا اور مسجد میں آ گیا اور وہاں منبر کے قریب کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور رو رہے تھے میں ان کے پاس تھوڑی دیر بیٹھا رہا پھر میری پریشانی مجھ پر غالب آ گئی میں اس لڑکے کے پاس آیا میں نے کہا: تم عمر کے لیے اجازت مانگو وہ اندر گیا پھر نکل کر باہر آیا اور بولا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا ذکر کیا تھا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں وہاں سے واپس آیا اور منبر کے پاس بیٹھ گیا پھر میری پریشانی مجھ پر غالب آ گئی میں اس لڑکے کے پاس آیا اور میں نے کہا: تم عمر کے لیے اندر آنے کی اجازت مانگو وہ اندر گیا پھر وہ نکل کر باہر آیا اور بولا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا ذکر کیا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں مڑ کر واپس آیا اسی دوران اس لڑکے نے مجھے بلایا اور بولا: آپ اندر تشریف لے جائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں اندر داخل ہوا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چٹائی پر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے جس کا نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر موجود تھا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”جی نہیں“ تو میں نے «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا: (میں نے عرض کی) یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے یہ بات ملاحظہ فرمائی ہے ہم قریش کے لوگ ایسے لوگ تھے جو اپنی بیویوں پر غالب تھے جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے وہاں ایسے لوگوں کو پایا جن کی عورتیں ان پر غالب تھیں ہماری خواتین نے ان کی خواتین سے طریقہ سیکھنا شروع کر دیا ایک دن میں اپنی بیوی پر غضب ناک ہوا تو اس نے مجھے پلٹ کر جواب دیا: میں نے اس کی اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا تو اس نے کہا: آپ اس بات پر حیرانگی کا اظہار کر رہے ہیں کہ میں نے آپ کو پلٹ کر جواب دیا ہے: اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دے دیتی ہیں اور ان میں سے کوئی ایک صبح سے لے کر شام تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لا تعلق (یا ناراض) رہتی ہے تو میں نے کہا: ان میں سے جو ایسا کرتی ہے وہ رسوا ہو جائے گی اور خسارے کا شکار ہو جائے گی کیا اسے اس بات کا ڈر نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے جو اس سے ناراض ہو جائے گا اس صورت میں وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حفصہ کے پاس گیا میں نے اس سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے سے جواب نہ دیا کرو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کا مطالبہ نہ کیا کرو۔ تمہیں جو چاہیے ہو مجھ سے کہہ دیا کرو، اور یہ چیز تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کر دے کہ تمہاری پڑوسن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تمہارے مقابلے میں زیادہ خوب صورت اور محبوب ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسری مرتبہ مسکرا دیے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں ٹھہر جاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں“ تو میں بیٹھ گیا میں نے اپنا سر اٹھا کر گھر کا جائزہ لیا اللہ کی قسم! میری نگاہ صرف تین کھالوں پر پڑی میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو کشادگی عطا کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل فارسی اور اہل روم کو کشادگی عطا کی ہے حالانکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی نہیں کرتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے خطاب کے صاحبزادے! کیا تمہیں شک ہے یہ وہ لوگ ہیں، جنہیں ان کی نعمتیں دنیاوی زندگی میں پہلے دے دی گئی ہیں“ میں نے عرض کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم آپ میرے لیے دعائے مغفرت کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قسم اٹھائی تھی کہ آپ اپنی ازواج کے پاس ایک ماہ تک تشریف نہیں لے جائیں گے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شدید ناراضگی کی وجہ سے فرمایا تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس حوالے سے آپ کو تنبیہ کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب انتیس دن گزر گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے مجھے شرف بخشا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو یہ قسم اٹھائی تھی کہ آپ ایک ماہ تک ہمارے پاس تشریف نہیں لائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتیس دن کے بعد تشریف لے آئے ہیں میں نے ان کی گنتی کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک معاملے کا ذکر کرنے لگا ہوں میں یہ نہیں چاہتا کہ تم اس بارے میں جلد بازی کا مظاہرہ کرو جب تک تم اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ نہیں کر لیتی۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے یہ آیت تلاوت کی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا * وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [سورة الأحزاب: 28-29] ”اے نبی! تم اپنی ازواج سے کہہ دو کہ اگر تم لوگ دنیاوی زندگی اور اس کی زینت حاصل کرنا چاہتی ہو، تو آگے آؤ میں تمہیں مال و دولت دیتا ہوں اور مناسب طریقے سے رخصت کر دیتا ہوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہو، تو بے شک اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیکی کرنے والوں کے لیے عظیم اجر تیار کیا ہوا ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات جانتے تھے کہ اللہ کی قسم! میرے والدین مجھے کبھی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی کی ہدایت نہیں کریں گے میں نے عرض کی: کیا میں اس معاملے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ بے شک میں اللہ تعالیٰ اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو اختیار کرتی ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4268]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4785، 5262، 5263، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1083، وابن الجارود فى "المنتقى"، 799، 800، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4267، 4268، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7926، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2130، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2203، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1179، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2052، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1644، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13390، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4960» «رقم طبعة با وزير 4254»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (449): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
7. ذكر البيان بأن الأمة المزوجة إذا أعتقت كان لها الخيار في الكون تحت زوجها العبد أو فراقه-
- اس بات کا بیان کہ اگر زوجہ باندی آزاد ہو جائے تو اسے اختیار ہے کہ وہ اپنے غلام شوہر کے ساتھ رہے یا اس سے جدا ہو
حدیث نمبر: 4269
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَيَحْيَى بْنُ طَلْحَةَ الْيَرْبُوعِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاثُ قَضِيَّاتٍ أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا الْوَلاءَ، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال: " اشتريها وأعتقيها، فَإِِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ". وَعَتَقَتْ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَكَانَتْ يُتَصَدَّقُ عَلَيْهَا فَتُهْدِي لَنَا مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" كُلُوا فَإِِنَّهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَكُمْ هَدِيَّةٌ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں تین فیصلے سامنے آئے؛ ان کے مالکان نے انہیں فروخت کرنے کا ارادہ کیا اور ان کی ولاء کی شرط عائد کی، میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے خرید کر آزاد کر دو، کیونکہ ولاء کا حق اسے حاصل ہوتا ہے جو آزاد کرتا ہے۔“ پھر بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد ہو گئیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ اختیار دیا (کہ وہ اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہیں) تو انہوں نے اپنی ذات کو اختیار کیا (تیسری بات یہ ہے کہ) بریرہ رضی اللہ عنہا کو کوئی چیز صدقہ دی جاتی تھی، تو وہ اس میں سے کوئی چیز ہمیں تحفے کے طور پر دے دیتی تھیں، میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اسے کھا لو کیونکہ یہ چیز اس کے لیے صدقہ ہے اور یہ تمہارے لیے تحفہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4269]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 456، 1493، 2155، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1075، وابن الجارود فى "المنتقى"، 802، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2449، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4269، 4271، 4272، 4325، 4326، 5115، 5116، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2613،وأبو داود فى (سننه) برقم: 2233، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2074، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 279، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10954، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2871، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24687» «رقم طبعة با وزير 4255»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
8. ذكر ما يجب للجارية إذا أعتقت وهي تحت عبد أن تختار فراقه أو الكون معه-
- اس بات کا ذکر جو باندی کے لیے واجب ہے کہ اگر وہ آزاد ہو جائے اور غلام کے نکاح میں ہو تو وہ جدائی یا ساتھ رہنے کا انتخاب کرے
حدیث نمبر: 4270
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِيرَةَ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بریرہ کو اختیار دیا، تو اس نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا (یعنی اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4270]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5280، 5281، 5282، 5283، وابن الجارود فى "المنتقى"، 801، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4270، 4273، 5120، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2231، 2232، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1156، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2075، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1257، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14378، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2140، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1869» «رقم طبعة با وزير 4256»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
9. ذكر البيان بأن الجارية إذا أعتقت وهي تحت عبد لها الخيار في فراقه أو الكون معه-
- اس بات کا بیان کہ اگر باندی آزاد ہو جائے اور غلام کے نکاح میں ہو تو اسے جدائی یا ساتھ رہنے کا اختیار ہے
حدیث نمبر: 4271
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النِّيلِيُّ إِِمْلاءً مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلاءَهَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْتِقِيهَا، فَإِِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ، وَوَلِيَ النِّعْمَةَ". قَالَتْ: فَأَعْتَقْتُهَا، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: لَوْ أُعْطِيتُ كَذَا وَكَذَا مَا كُنْتُ مَعَهُ . قَالَ الأَسْوَدُ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے بریرہ کو خرید لیا، اس کے مالکان نے یہ شرط عائد کی کہ اس کی ولاء کا حق انہیں حاصل ہوگا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا: ”تم اسے آزاد کر دو، کیونکہ ولاء کا حق اسے ملتا ہے جو قیمت ادا کرتا ہے اور نعمت کا ولی بنتا ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ تو میں نے اسے آزاد کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا تو اس نے کہا: اگر مجھے اتنا اتنا مال بھی دیا جائے تو میں (اپنے شوہر) کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ اسود نامی راوی کہتے ہیں: اس کا شوہر ایک آزاد شخص تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4271]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 456، 1493، 2155، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1075، وابن الجارود فى "المنتقى"، 802، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2449، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4269، 4271، 4272، 4325، 4326، 5115، 5116، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2613،وأبو داود فى (سننه) برقم: 2233، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2074، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 279، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10954، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2871، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24687» «رقم طبعة با وزير 4257»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح دون قوله: وكان زوجها حرًّا، والصواب: أنه كان عبداً؛ كما في الحديث الثاني.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
10. ذكر البيان بأن زوج بريرة كان عبدا لا حرا وأن الأسود واهم في قوله كان حرا-
- اس بات کا بیان کہ بریرہ کا شوہر غلام تھا، آزاد نہیں، اور اسود کا یہ کہنا کہ وہ آزاد تھا، وهم ہے
حدیث نمبر: 4272
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَاتَبَتْ بَرِيرَةَ عَلَى نَفْسِهَا بِتِسْعَةِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ سَنَةٍ أُوقِيَّةً، فَأَتَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا، فَقَالَتْ: لا، إِِلا أَنْ يَشَاءُوا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً، وَيَكُونَ الْوَلاءُ لِي. فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ، فَكَلَّمَتْ بِذَلِكَ أَهْلَهَا فَأَبَوْا عَلَيْهَا إِِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَهُمْ، فَجَاءَتْ إِِلَى عَائِشَةَ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ لَهَا مَا قَالَ أَهْلُهَا، فَقَالَتْ: لا هَاللَّهِ إِِذًا إِِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هَذَا؟" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْنِي تَسْتَعِينُنِي عَلَى كِتَابَتِهَا، فَقُلْتُ: لا، إِِلا أَنْ يَشَاءُوا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً، وَيَكُونَ الْوَلاءُ لِي، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لأَهْلِهَا فَأَبَوْا عَلَيْهَا، إِِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْتَاعِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاءَ وَأَعْتِقِيهَا، فَإِِنَّ الْوَلاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ. ثُمَّ قَامَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، يَقُولُونَ: أَعْتِقْ يَا فُلانُ وَالْوَلاءُ لِي، كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ"." فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوْجَهَا، وَكَانَ عَبْدًا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا" . قَالَ عُرْوَةُ: فَلَوْ كَانَ حُرًّا مَا خَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ذات کے بارے میں نو اوقیہ کے عوض میں کتابت کا معاہدہ کر لیا، جس میں ہر سال ایک اوقیہ کی ادائیگی کرنی تھی، وہ مدد حاصل کرنے کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جی نہیں، اگر وہ لوگ چاہیں تو میں انہیں ایک ساتھ ساری ادائیگی کر دیتی ہوں اور ولاء کا حق مجھے حاصل ہو گا۔ بریرہ رضی اللہ عنہا گئیں، انہوں نے اس بارے میں اپنے مالکان سے بات چیت کی تو انہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا، وہ اس بات کے خواہشمند تھے کہ ولاء کا حق انہیں حاصل رہے۔ بریرہ رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں تشریف لے آئے۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا جو اس کے مالکان نے کہا تھا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے فرمایا: جی نہیں، اللہ کی قسم! یہ اسی صورت میں ہو گا جب ولاء کا حق مجھے حاصل ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا معاملہ ہے؟“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بریرہ میرے پاس مدد حاصل کرنے کے لیے آئی، جو اس کی کتابت کے معاوضے کی ادائیگی کے سلسلے میں تھی، تو میں نے کہا: جی نہیں، اگر وہ لوگ چاہیں تو ان کو ایک ساتھ ادائیگی کر دیتی ہوں اور ولاء کا حق مجھے حاصل ہو گا، اس نے اس بات کا تذکرہ اپنے مالکان سے کیا تو انہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا، وہ مصر تھے کہ ولاء کا حق ان کے پاس رہے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے خرید لو اور ولاء کی شرط ان کے لیے رہنے دو اور پھر تم اسے آزاد کر دو، ولاء کا حق اسے حاصل ہوتا ہے جو آزاد کرتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ وہ ایسی شرائط عائد کرتے ہیں، جن کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے، لوگ یہ کہتے ہیں کہ تم فلاں کو آزاد کر دو اور ولاء کا حق مجھے حاصل ہو گا، حالانکہ اللہ کی کتاب اس کی زیادہ حقدار ہے اور اللہ تعالیٰ کی شرط زیادہ مضبوط ہوتی ہے، ہر وہ شرط جس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہ ہو وہ باطل شمار ہو گی، اگرچہ وہ ایک سو شرطیں ہوں۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو اس کے شوہر کے حوالے سے اختیار دیا، وہ شوہر ایک غلام شخص تھے، اس عورت نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا۔ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر ان کا شوہر آزاد شخص ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اس کے شوہر کے حوالے سے اختیار نہ دیتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4272]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 456، 1493، 2155، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1075، وابن الجارود فى "المنتقى"، 802، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2449، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4269، 4271، 4272، 4325، 4326، 5115، 5116، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2613،وأبو داود فى (سننه) برقم: 2233، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2074، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 279، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10954، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2871، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24687» «رقم طبعة با وزير 4258»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما