🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. ذكر الخبر المصرح بأن زوج بريرة كان عبدا لا حرا-
- اس خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ بریرہ کا شوہر غلام تھا، آزاد نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4273
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا، يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ:" يَا عَبَّاسُ، أَلا تَعْجَبُ مِنْ شِدَّةِ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ، وَمِنْ شِدَّةِ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا"، فَقَالَ لَهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ رَاجَعْتِيهِ فَإِِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ". قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَأْمُرُنِي بِهِ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ". قَالَتْ: فَلا حَاجَةَ لِي فِيهِ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر ایک غلام تھا، اس کا نام مغیث تھا، یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے کہ وہ ان کے پیچھے روتا ہوا جا رہا تھا اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے عباس! کیا آپ کو حیرانگی نہیں ہو رہی کہ مغیث بریرہ سے کتنی محبت کرتا ہے اور بریرہ مغیث کو کتنا ناپسند کرتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: اگر تم اس سے رجوع کر لو (تو یہ مناسب ہو گا) کیونکہ یہ تمہاری اولاد کا باپ ہے۔ اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مجھے اس بارے میں حکم دے رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔ تو اس خاتون نے کہا: مجھے اس کے ساتھ رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4273]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5280، 5281، 5282، 5283، وابن الجارود فى "المنتقى"، 801، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4270، 4273، 5120، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2231، 2232، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1156، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2075، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1257، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14378، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2140، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1869» «رقم طبعة با وزير 4259»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1933): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب الرجعة - ذكر الخبر الدال على أن طلاق المرء امرأته ما لم يصرح بالثلاث في نيته يحكم له بها-
رجوع کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی کی اپنی بیوی کو طلاق دینا جب تک وہ تین طلاق کی صراحت نہ کرے، اس کی نیت کے مطابق حکم ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4274
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا أَرَدْتَ بِهَا؟" قَالَ: وَاحِدَةً. قَالَ: آللَّهِ، قَالَ: آللَّهِ، قَالَ:" هِيَ عَلَى مَا أَرَدْتَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ هَذَا: هُوَ الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أُمُّهُ: حَمَادَةُ بِنْتُ يَعْقُوبَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، مَاتَ فِي وِلايَةِ أَبِي جَعْفَرٍ.
عبداللہ بن علی اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے اپنی اہلیہ کو طلاقِ بتہ دے دی، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم نے اس کے ذریعے کیا مراد لی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: ایک (طلاق)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا اللہ کی قسم! (ایسا ہی ہے)؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! (ایسا ہی ہے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کے مطابق شمار ہو گی جو تم نے ارادہ کیا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) زبیر بن سعید نامی راوی زبیر بن سعید بن سلیمان بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب ہیں، ان کی والدہ حمادہ بنت یعقوب بن سعید بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب ہیں، ان کا انتقال خلیفہ ابوجعفر کے عہدِ خلافت میں ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4274]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4274، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2823، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2206، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1177، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2318، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2051، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1671، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15105، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3978، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24471» «رقم طبعة با وزير 4260»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الإرواء» (2063)، «ضعيف أبي داود» (382).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. باب الرجعة - ذكر الإباحة للمرء طلاق امرأته ورجعتها متى ما أحب-
رجوع کا بیان - اس بات کی اجازت کہ آدمی اپنی بیوی کو جب چاہے طلاق دے اور رجعت کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4275
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ بِعُكْبَرَا، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " طَلَّقَ حَفْصَةُ، ثُمَّ رَاجَعَهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے رجوع کر لیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4275]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4275، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2813، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3562، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2283، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2016، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15004» «رقم طبعة با وزير 4261»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2077)، «صحيح أبي داود» (1975).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. باب الرجعة - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم راجع حفصة من أجل أبيها عمر بن الخطاب-
رجوع کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ کو اس کے باپ عمر بن خطاب کی وجہ سے رجعت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4276
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: دَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَكِ، إِِنَّهُ قَدْ كَانَ طَلَّقَكِ، ثُمَّ رَاجَعَكِ مِنْ أَجْلِي، فَايْمُ اللَّهِ لَئِنْ كَانَ طَلَّقَكِ لا كَلَّمْتُكِ كَلِمَةً أَبَدًا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، وہ رو رہی تھیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہی ہو؟ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے، اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے بھی دی ہے تو میری وجہ سے وہ تم سے رجوع کر لیں گے۔ اللہ کی قسم! اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیں (یعنی ایسی طلاق جس میں رجوع کی گنجائش نہ ہو) تو میں تمہارے ساتھ کبھی بات نہ کرتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4276]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 89، 2468، 4913، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1479، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1921، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3453، 4187، 4188، 4268، 4276، 6290، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7164، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2461، 2691، 3318، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4153، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13391، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4013، 4014، وأحمد فى (مسنده) برقم: 227» «رقم طبعة با وزير 4262»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (7/ 158).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. باب الإيلاء - ذكر الإباحة للمرء أن يولي من امرأته أياما معلومة-
رجوع کا بیان - اس بات کی اجازت کہ آدمی اپنی بیوی سے مخصوص ایام کے لیے ایلاء کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4277
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ، وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ، فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، ثُمَّ نَزَلَ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آلَيْتَ شَهْرًا. قَالَ: " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کے ساتھ ایلاء کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹانگ پر بھی چوٹ آئی ہوئی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انتیس دن تک بالاخانے میں مقیم رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نیچے اترے، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ایک ماہ کے لیے ایلاء کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ (کبھی) انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4277]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 378، 689، 732، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 411، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 977، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1908، 2102، 2103، 2108، 2111، 2113، 4277، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 793،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 601، والترمذي فى (جامعه) برقم: 361، 690، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 876، 1238،وأحمد فى (مسنده) برقم: 12257» «رقم طبعة با وزير 4263»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. باب الإيلاء - ذكر ما يعمل المرء إذا آلى من امرأته باليمين-
ایلاء کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی اگر اپنی بیوی سے یمین کے ساتھ ایلاء کرے تو کیا کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4278
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ، فَجَعَلَ الْحَرَامَ حَلالا، وَجَعَلَ فِي الْيَمِينِ كَفَّارَةً" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کے ساتھ ایلاء کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کو حلال کیا (یعنی اس سے رجوع کر لیا) اور قسم کا کفارہ ادا کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4278]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4278، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1201، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2072، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15175» «رقم طبعة با وزير 4264»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «التعليق على ابن ماجه» (1/ 639).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. باب الظهار - ذكر وصف الحكم للمظاهر من امرأته وما يلزمه عند ذلك من الكفارة-
ظہار کا بیان - ظہار کرنے والے کے لیے حکم کی صفت اور اس پر اس وقت کفارہ کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4279
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ 4279اللَّهِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ خُوَيْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ ، قَالَتْ: فِي وَاللَّهِ وَفِي أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا صَدْرَ سُورَةِ الْمُجَادِلَةِ، قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَهُ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ سَاءَ خُلُقُهُ وَضَجِرَ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا فَرَاجَعْتُهُ فِي شَيْءٍ، فَغَضِبَ، وَقَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي. ثُمَّ خَرَجَ، فَجَلَسَ فِي نَادِي قَوْمِهِ سَاعَةً ثُمَّ دَخَلَ عَلَيَّ، فَإِِذَا هُوَ يُرِيدُنِي عَلَى نَفْسِي، قَالَتْ: قُلْتُ: كَلا وَالَّذِي نَفْسُ خُوَيْلَةَ بِيَدِهِ، لا تَخْلُصُ إِِلَيَّ وَقَدْ قُلْتَ مَا قُلْتَ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فِينَا بِحُكْمِهِ. قَالَتْ: فَوَاثَبَنِي، فَامْتَنَعْتُ مِنْهُ، فَغَلَبَتْهُ بِمَا تَغْلِبُ بِهِ الْمَرْأَةُ الشَّيْخَ الضَّعِيفَ، فَأَلْقَيْتُهُ تَحْتِي، ثُمَّ خَرَجْتُ إِِلَى بَعْضِ جَارَاتِي فَاسْتَعَرْتُ مِنْهَا ثِيَابًا، ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَذَكَرْتُ لَهُ مَا لَقِيتُ مِنْهُ، فَجَعَلْتُ أَشْكُو إِِلَيْهِ مَا أَلْقَى مِنْ سُوءِ خُلُقِهِ، قَالَتْ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَا خُوَيْلَةُ، ابْنُ عَمِّكِ شَيْخٌ كَبِيرٌ، فَاتَّقِي اللَّهَ فِيهِ". قَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا بَرِحْتُ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ، فَتَغَشَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَغْشَاهُ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ:" يَا خُوَيْلَةُ، قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا فِيكِ وَفِي صَاحِبِكِ"، قَالَتْ: ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ: قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ إِِلَى قَوْلِهِ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة المجادلة آية 1 - 4، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُرِيهِ فَلْيُعْتِقْ رَقَبَةً". قَالَتْ: وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عِنْدَهُ مَا يَعْتِقُ. قَالَ:" فَلْيَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ". قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّهُ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَا بِهِ مِنْ صِيَامٍ. قَالَ:" فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ". فَقُلْتُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا ذَلِكَ عِنْدَهُ. قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِِنَّا سَنُعِينُهُ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ". قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ سَأُعِينُهُ بِعَرَقٍ آخَرَ. فَقَالَ:" أَصَبْتِ وَأَحْسَنْتِ، فَاذْهَبِي فَتَصَدَّقِي بِهِ عَنْهُ، ثُمَّ اسْتَوْصِي بِابْنِ عَمِّكِ خَيْرًا". قَالَتْ: فَفَعَلْتُ .
سیدہ خویلہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے میرے اور (میرے شوہر) اوس بن صامت رضی اللہ عنہما کے بارے میں سورہ مجادلہ کی ابتدائی آیات نازل کی تھیں۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں ان کی بیوی تھی، وہ ایک بڑی عمر کے بزرگ آدمی تھے جن کے اخلاق اچھے نہیں تھے، وہ ڈانٹ ڈپٹ کیا کرتے تھے۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: ایک دن وہ میرے ہاں تشریف لائے، میں نے (لڑائی کے دوران) کسی بات کا جواب دیا تو وہ غصے میں آ گئے اور بولے: تم میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح (قابل احترام) ہو۔ پھر وہ گھر سے باہر چلے گئے، وہ اپنی قوم کی چوپال میں کچھ دیر بیٹھے رہے، پھر میرے ہاں تشریف لائے، وہ میری قربت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے کہا: ہرگز نہیں! اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں خویلہ کی جان ہے، آپ جو بات کہہ چکے ہیں اس کی وجہ سے اب آپ میرے پاس اس وقت تک نہیں آ سکتے جب تک اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دے دیتے۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: انہوں نے مجھ پر حملہ کر دیا، میں نے ان سے بچنے کی کوشش کی، وہ خاتون ان پر اتنا غالب آ گئی جتنی کوئی عورت ایک بوڑھے عمر رسیدہ شخص پر غالب آ سکتی ہے، میں نے انہیں اپنے نیچے کر لیا، پھر میں اپنی پڑوسن کے گھر آ گئی، میں نے اس سے چادر عارضی استعمال کے لیے لی، پھر میں وہاں سے نکلی، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ساری صورتِ حال کا ذکر کیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کی بھی شکایت کی کہ مجھے ان کی طرف سے برے اخلاق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے خویلہ! تمہارے چچازاد بوڑھے عمر رسیدہ شخص ہیں، تم ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ وہ خاتون عرض کرتی ہیں: اللہ کی قسم! میں ابھی وہیں تھی، یہاں تک کہ قرآن کا حکم نازل ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر وہ خاص کیفیت طاری ہوئی (جو وحی کے نزول کے وقت ہوتی تھی)، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے خویلہ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہارے شوہر کے بارے میں حکم نازل کر دیا ہے۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ﴾ [سورة المجادلة: 1] اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات کو سن لیا ہے جو اپنے شوہر کے بارے میں تمہارے ساتھ بحث کر رہی تھی اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کر رہی تھی۔ یہ آیت یہاں تک ہے ﴿وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة المجادلة: 4] کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے (یعنی اپنے شوہر کو) کہو کہ وہ کوئی گردن آزاد کرے۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے وہ آزاد کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ بوڑھے عمر رسیدہ شخص ہیں، ان میں روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر وہ ساٹھ مسکینوں کو کھجوروں کا ایک «وَسْق» کھلائے۔ میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کے پاس یہ بھی نہیں ہے۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم کھجوروں کے ایک «عَرَق» کے ذریعے اس کی مدد کریں گے۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک اور «عَرَق» کے ذریعے ان کی مدد کر دوں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ہے اور تم نے اچھا کیا ہے، تم جاؤ اور ان کی طرف سے صدقہ کر دو اور اپنے چچازاد کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو۔ تو وہ خاتون کہتی ہیں، تو میں نے ایسا ہی کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4279]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 806، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4279، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2214، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15373، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27960» «رقم طبعة با وزير 4265»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (1918)، «الإرواء» (2087).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح رجاله كلهم ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. باب الخلع - ذكر الأمر للمرأة بإعطاء ما طابت نفسها به على الخلع-
خلع کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ عورت اپنی رضا مندی سے خلع کے لیے جو کچھ دے سکے دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4280
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الأَنْصَارِيَّةِ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَأَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِِلَى صَلاةِ الصُّبْحِ، فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عَلَى بَابِهِ فِي الْغَلَسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا شَأْنُكِ؟" فَقَالَتْ: لا أَنَا وَلا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ لِزَوْجِهَا. فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ، قَدْ ذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ". قَالَتْ حَبِيبَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ:" خُذْ مِنْهَا". فَأَخَذَ مِنْهَا، وَجَلَسَتْ فِي أَهْلِهَا" .
سیدہ حبیبہ بنت سہل انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے گھر سے نکلے تو انہوں نے اندھیرے میں حبیبہ بنت سہل کو اپنے دروازے پر موجود پایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ اس خاتون نے جواب دیا: میرا اور ثابت بن قیس کا گزارا نہیں ہو سکتا، یعنی اس نے اپنے شوہر کے بارے میں یہ بات کہی۔ جب ثابت رضی اللہ عنہ آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حبیبہ بنت سہل ہے، اس نے جو اللہ کو منظور تھا وہ ذکر کیا ہے۔ تو سیدہ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! انہوں نے جو بھی (مہر کے طور پر) دیا تھا وہ میرے پاس ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: وہ تم اس سے لے لو۔ تو وہ انہوں نے اس سے لے لیا اور وہ خاتون اپنے میکے واپس چلی گئیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4280]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 2082، وابن الجارود فى "المنتقى"، 809، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4280، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3462، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2227، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1430، 1431، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14953، 14954، وأحمد فى (مسنده) برقم: 28087» «رقم طبعة با وزير 4266»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1929).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. باب اللعان - ذكر السبب الذي من أجله أنزل الله آية اللعان-
لعان کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر اللہ نے لعان کی آیت نازل کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4281
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ بن عبد الحميد ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَجَدَ رَجُلٌ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا، فَإِِنْ قَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ، وَإِِنْ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ، فَوَاللَّهِ لأَسْأَلَنَّ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَيْهِ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " لَوْ وَجَدَ رَجُلٌ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا، فَإِِنْ قَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ، وَإِِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ، وَإِِنْ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ افْتَحْ"، فَنَزَلَتْ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ، سورة النور آية 6 هَؤُلاءِ الآيَاتُ فِي اللِّعَانِ، فَجَاءَ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَامْرَأَتُهُ فَتَلاعَنَا، فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ بِاللَّهِ إِِنَّهُ لِمَنِ الصَّادِقِينَ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ. فَلَمَّا أَخَذَتِ امْرَأَتُهُ لِتَلْتَعِنَ، قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَهْ". فَالْتَعَنَتْ، فَلَمَّا أَدْبَرَتْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلَعَلَّهَا أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا"، فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا . قَالَ إِِسْحَاقُ: قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: قُلْتُ لِجَرِيرٍ: لَمْ يَرْوِ هَذَا عَنِ الأَعْمَشِ أَحَدٌ غَيْرُكَ. قَالَ: لَكِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ کی مسجد میں موجود تھے، ایک صاحب نے عرض کی: آپ لوگوں کی کیا رائے ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے تو اگر وہ اس دوسرے شخص کو قتل کر دیتا ہے تو آپ لوگ اسے قتل کر دیں گے اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو وہ ناراضگی کے عالم میں خاموش رہے گا (یا ایسی بات پر خاموش رہے گا جس پر غصہ کیا جانا چاہیے)، اللہ کی قسم! میں اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور دریافت کروں گا۔ اگلے دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، انہوں نے کہا: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے اور اسے مار دیتا ہے تو آپ لوگ قتل کر دیں گے، اگر وہ یہ الزام عائد کرتا ہے تو آپ لوگ اسے کوڑے لگائیں گے اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو ایسی بات پر خاموش رہتا ہے جس پر غصہ کرنا چاہیے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یا اس شخص نے) دعا کی «اللَّهُمَّ انْزِلْ فَرَجًا» اے اللہ! تو کشادگی عطا کر تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ﴾ [سورة النور: 6] اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر الزام عائد کرتے ہیں۔ یہ آیات لعان کے بارے میں ہیں۔ پھر وہ شخص اور اس کی بیوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں نے لعان کیا، اس مرد نے چار مرتبہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ گواہی دی کہ وہ سچا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہا: اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہو۔ پھر اس عورت نے لعان کرنا چاہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ٹھہر جاؤ لیکن اس عورت نے لعان کیا۔ جب وہ چلی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہو سکتا ہے یہ عورت سیاہ رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے بچے کو جنم دے۔ (راوی کہتے ہیں) تو اس عورت کے ہاں سیاہ رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے بچے کی پیدائش ہوئی۔ اسحاق نامی راوی کہتے ہیں: یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے یہ بات بیان کی ہے، میں نے جریر رحمہ اللہ سے کہا: آپ کے علاوہ اور کسی نے یہ روایت اعمش رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل نہیں کی ہے، تو جریر رحمہ اللہ نے کہا: میں نے تو ان سے یہ روایت سنی ہوئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4281]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1495، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4281، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2253، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2068، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15441،وأحمد فى (مسنده) برقم: 4082» «رقم طبعة با وزير 4267»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1950): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4282
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ " إِِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلا، أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی کیا رائے ہے، اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہوں تو کیا میں اس شخص کو مہلت دوں گا تاکہ پہلے چار گواہ لے آؤں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4282]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1498، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2730، وابن الجارود فى "المنتقى"، 850، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4282، 4409، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7293، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4532، 4533، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2605، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17109، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8437» «رقم طبعة با وزير 4268»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں