صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. ذكر الإخبار عن فضل إقامة الحدود من الأئمة العدول-
- ذکر اس خبر کا کہ عادل ائمہ کی طرف سے حدود قائم کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 4397
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِِقَامَةُ حَدٍّ بِأَرْضٍ، خَيْرٌ لأَهْلِهَا مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی سرزمین پر حد کا قائم ہونا وہاں کے رہنے والوں کے لیے چالیس دن تک مسلسل بارش ہونے سے زیادہ بہتر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4397]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 865، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4397، 4398، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4919، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2538، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8859» «رقم طبعة با وزير 4381»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن لغيره - «الصحيحة» (231)، «المشكاة» (3588 و 3589).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات
2. ذكر الأمر بإقامة الحدود في البلاد إذ إقامة الحد في بلد يكون أعم نفعا من أضعافه القطر إذا عمته-
- ذکر اس حکم کا کہ ملک میں حدود قائم کی جائیں کیونکہ ایک شہر میں حد قائم کرنا بارش کے کئی گنا فائدہ دیتا ہے اگر وہ پورے ملک میں پھیل جائے
حدیث نمبر: 4398
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ جرير بن يزيد عن أبي زرعة عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَدٌّ يُقَامُ فِي الأَرْضِ خَيْرٌ مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زمین پر حد کا قائم ہو جانا چالیس دن تک بارش ہونے سے زیادہ بہتر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4398]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 865، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4397، 4398، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4919، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2538، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8859» «رقم طبعة با وزير 4382»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن لغيره - المصدر نفسه. * [عَنْ جَرِير بْنِ يَزِيد، عَنْ أَبِي زُرعَة بن عَمْرو] قال الناشر: ساقط من «طبعة المؤسسة»! وسقط من «الأصل»: جرير بن يزيد! والتصحيح من مصادر التخريج. تنبيه!! الزيادة التي بين المعقوفتين من «طبعة باوزير» وغير موجوده في «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
3. ذكر إباحة التوقف في إمضاء الحدود واستئناف أسبابها بما فيه الاحتياط للرعية-
- ذکر اس اجازت کا کہ حدود کے نفاذ میں توقف اور اس کے اسباب کی احتیاط سے جانچ پڑتال کی جائے جو رعایا کے لیے احتیاط میں ہو
حدیث نمبر: 4399
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الصَّامِتِ ابْنِ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: جَاءَ الأَسْلَمِيُّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ بِالزِّنَى، يَقُولُ: أَتَيْتُ امْرَأَةً حَرَامًا، وَفِي ذَلِكَ يَعْرِضُ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ فِي الْخَامِسَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ:" أَنِكْتَهَا؟" فَقَالَ: نَعَمْ. فَقَالَ:" هَلْ غَابَ ذَلِكَ مِنْكَ فِيهَا، كَمَا يَغِيبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ؟" فَقَالَ: نَعَمْ. فَقَالَ:" فَهَلْ تَدْرِي مَا الزِّنَا؟" قَالَ: نَعَمْ، أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مِثْلَ مَا يَأْتِي الرَّجُلَ مِنِ امْرَأَتِهِ حَلالا. قَالَ:" فَمَا تُرِيدُ بِهَذَا الْقَوْلِ؟" قَالَ: أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي. فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرْجَمَ فَرُجِمَ. فَسَمِعَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: انْظُرُوا إِِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكَلْبِ. قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا، فَمَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ بِرِجْلِهِ، فَقَالَ:" أَيْنَ فُلانٌ وَفُلانٌ؟" فَقَالا: نَحْنُ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ لَهُمَا: " كُلا مِنْ جِيفَةِ هَذَا الْحِمَارِ". فَقَالا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَنْ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ هَذَا الرَّجُلِ آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكَلِ هَذِهِ الْجِيفَةِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِِنَّهُ الآنَ فِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اسلمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے اپنی ذات کے بارے میں چار مرتبہ زنا کرنے کی گواہی دی، اس نے یہ کہا: ”میں نے ایک عورت کے ساتھ حرام طور پر (صحبت کی ہے)“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اعراض کرتے رہے یہاں تک کہ جب وہ پانچویں مرتبہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”کیا تم نے اس عورت کے ساتھ صحبت کی ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہاری شرم گاہ اس کی شرم گاہ میں یوں غائب ہو گئی تھی جس طرح سرمہ دانی میں سلائی گم ہو جاتی ہے یا کنویں میں رسی چلی جاتی ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم جانتے ہو زنا کیا ہے۔“ اس نے جواب دیا: ”جی ہاں میں نے اس عورت کے ساتھ حرام طور پر وہ عمل کیا جو کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ حلال طور پر کرتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم یہ کہہ کر کیا چاہتے ہو؟“ اس نے عرض کی: ”میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پاک کر دیں“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے سنگسار کر دیا جائے تو اسے سنگسار کر دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے دو آدمیوں کو سنا، ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے یہ کہہ رہا تھا: ”ذرا اس شخص کی طرف دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا پردہ رکھا تھا، لیکن اس نے اپنے آپ کو ایسی حالت میں کر دیا کہ اسے کتے کی طرح سنگسار کر دیا گیا۔“ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی بات پر خاموش رہے پھر آپ کا گزر ایک مردار گدھے کے پاس سے ہوا جس کا پاؤں اوپر کی طرف اٹھا ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”فلاں اور فلاں شخص کہاں ہیں؟“ ان دونوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم یہاں ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ”تم دونوں اس گدھے کا مردار کھا لو۔“ ان دونوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت کرے، اسے کون کھا سکتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ابھی تھوڑی دیر پہلے اس شخص کی عزت پر جو حملہ کیا ہے وہ اس مردار کو کھانے سے زیادہ برا ہے، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، وہ شخص اس وقت جنت کی نہروں میں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4399]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5271، 6815، 6825، 7167، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1691، وابن الجارود فى "المنتقى"، 878، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4399، 4400، 4439، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8174، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7126، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4428، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1428، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2554، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17027، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3442، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7965» «رقم طبعة با وزير 4383»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الإرواء» (2354)، «الضعيفة» (2957 و 6318).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
4. ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم رد ماعز بن مالك في المرار الأربع وأمر به فطرد-
- ذکر اس بیان کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک کو چار بار واپس کیا اور اسے بھگانے کا حکم دیا
حدیث نمبر: 4400
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَزَّازُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْهِضْهَاضِ الدَّوْسِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِِنَّ الأَبْعَدَ قَدْ زَنَى. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْلَكَ، وَمَا يُدْرِيكَ مَا الزِّنَى؟" ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَطُرِدَ وَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ الأَبْعَدَ قَدْ زَنَى. فَقَالَ:" وَيْلَكَ، وَمَا يُدْرِيكَ مَا الزِّنَى؟" فَطُرِدَ وَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ الأَبْعَدَ قَدْ زَنَى. قَالَ:" وَيْلَكَ، وَمَا يُدْرِيكَ مَا الزِّنَى؟" قَالَ: أَتَيْتُ امْرَأَةً حَرَامًا مِثْلَ مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ. فَأَمَرَ بِهِ فَطُرِدَ وَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَتَاهُ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ الأَبْعَدَ قَدْ زَنَى. قَالَ:" وَيْلَكَ، وَمَا يُدْرِيكَ مَا الزِّنَى؟" قَالَ:" أَدْخَلْتَ وَأَخْرَجْتَ؟" قَالَ: نَعَمْ. فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ، فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ تَحَمَّلَ إِِلَى شَجَرَةٍ، فَرُجِمَ عِنْدَهَا حَتَّى مَاتَ، فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ مَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ لِصَاحِبِهِ: وَأَبِيكَ إِِنَّ هَذَا لَهُوَ الْخَائِبُ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يَرُدَّهُ حَتَّى قُتِلَ كَمَا يَقْتُلُ الْكَلْبُ. فَسَكَتَ عَنْهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلَةٌ رِجْلُهَا، فَقَالَ: " كُلا مِنْ هَذَا". قَالا: مِنْ جِيفَةِ حِمَارٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" فَالَّذِي نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ أَخِيكُمَا أَكْثَرُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، إِِنَّهُ لَفِي نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَتَقَمَّصُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ماعز رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”دور والے نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ” «وَيْحَكَ» (تمہارا ستیاناس ہو)، کیا تم جانتے ہو کہ زنا کیا ہے؟“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انہیں وہاں سے نکال دیا گیا، پھر وہ دوسری مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دور کے شخص نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَيْحَكَ» (تمہارا ستیاناس ہو)، تمہیں کیا پتا زنا کیا ہے؟“ انہیں پھر وہاں سے نکال دیا گیا، پھر وہ تیسری مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دور کے شخص نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَيْحَكَ» (تمہارا ستیاناس ہو)، تمہیں کیا پتا کہ زنا کیا چیز ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”میں نے ایک عورت کے ساتھ حرام طور پر وہی کام کیا ہے جو کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کرتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انہیں وہاں سے نکال دیا گیا، وہ چوتھی مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دور کے شخص نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَيْحَكَ» (تمہارا ستیاناس ہو)، تمہیں کیا پتا ہے کہ زنا کیا ہوتا ہے؟ کیا تم نے اندر داخل کیا اور باہر نکالا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا کہ انہیں سنگسار کر دیا جائے، جب انہیں پتھر لگنے لگے تو انہوں نے درخت کی آڑ لی، پھر انہیں اس درخت کے پاس سنگسار کر دیا گیا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گزر رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب رضی اللہ عنہم بھی تھے، ان میں سے ایک صاحب نے اپنے ساتھی سے کہا: ”تمہارے باپ کی قسم! یہ شخص خسارے کا شکار ہونے والا ہے، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کئی مرتبہ حاضر ہوا، ہر مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس کرتے رہے یہاں تک کہ اسے یوں قتل کر دیا گیا جس طرح کتے کو مارا جاتا ہے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے حوالے سے خاموش رہے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک گدھے کے مردار جسم کے پاس سے ہوا جس کا پاؤں اوپر کی طرف اٹھا ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ”تم دونوں اسے کھاؤ۔“ ان دونوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا گدھے کے مردار کو کھائیں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اپنے بھائی کی عزت پر جو حملہ کیا ہے وہ اس سے زیادہ (بڑا گناہ ہے)، اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! وہ شخص اب جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4400]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5271، 6815، 6825، 7167، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1691، وابن الجارود فى "المنتقى"، 878، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4399، 4400، 4439، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8174، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7126، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4428، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1428، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2554، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17027، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3442، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7965» «رقم طبعة با وزير 4384»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف كسابقه
5. ذكر وصف تقمص ماعز بن مالك الذي ذكرناه في الجنة-
- ذکر اس کیفیت کا کہ ماعز بن مالک کی جنت میں قمص کی کیفیت جو ہم نے ذکر کی
حدیث نمبر: 4401
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَتَخَضْخَضُ فِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو سنگسار کروایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اسے دیکھا ہے وہ جنت کی نہروں میں تیر رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4401]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4401، 4404» «رقم طبعة با وزير 4385»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (6318).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الشيخين
6. ذكر الخبر الدال على أن الحدود يجب أن تقام على من وجبت شريفا كان أو وضيعا-
- ذکر اس خبر کا جو اس بات کی دلیل ہے کہ حدود اس پر قائم کی جائیں جن پر لازم ہو، خواہ وہ شریف ہو یا ادنیٰ
حدیث نمبر: 4402
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّتْهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِِلا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، حُبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ؟" ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ، فَقَالَ:" إِِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَأَيْمُ اللَّهِ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قریش ایک مخزومی خاتون کے معاملے میں بہت پریشان تھے جس نے چوری کی تھی، لوگوں نے کہا: اس خاتون کے بارے میں کون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات کرے گا؟ تو کسی نے کہا: یہ جرأت صرف اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کر سکتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں، جب سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کی ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”تم سے پہلے کے لوگ اس لیے ہلاکت کا شکار ہو گئے کہ جب ان میں سے بڑے خاندان کا کوئی شخص چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کسی کمزور خاندان کا شخص چوری کرتا تھا تو وہ اس پر حد جاری کر دیا کرتے تھے، اللہ کی قسم! اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی صاحبزادی فاطمہ (رضی اللہ عنہا) نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ بھی ضرور کٹوا دیتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4402]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2648، 3475، 3732، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1688، وابن الجارود فى "المنتقى"، 868، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4402، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4909 /، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4373، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1430، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2547، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17252، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24772» «رقم طبعة با وزير 4386»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (2547): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
7. ذكر الإخبار بأن الحدود تكون كفارات لأهلها-
- ذکر اس خبر کا کہ حدود اس کے اہل کے لیے کفارہ ہوتی ہیں
حدیث نمبر: 4403
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ:" أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ. فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيِّهَا، فَقَالَ: أَحْسِنْ إِِلَيْهَا حَتَّى تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا، فَإِِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا. فَلَمَّا وَضَعَتْ أَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا، فَشُدَّ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا. فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ عَلَى سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ جَلَّ وَعَلا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَهِمَ الأَوْزَاعِيُّ فِي كُنْيَةِ عَمِّ أَبِي قِلابَةَ، إِِذِ الْجَوَادُ يَعْثُرُ، فَقَالَ: عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، وَإِِنَّمَا هُوَ أَبُو الْمُهَلَّبِ اسْمُهُ: عَمْرُو بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ زَيْدٍ الْجَرْمِيُّ مِنْ ثِقَاتِ التَّابِعِينَ وَسَادَاتِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے قابلِ حد جرم کا ارتکاب کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر حد قائم کریں“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلوایا اور فرمایا: ”اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو، جب یہ بچے کو جنم دے دے تو تم اسے میرے پاس لے آنا“، جب اس عورت نے بچے کو جنم دے دیا تو وہ شخص اس عورت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کے کپڑے کو مضبوطی سے باندھا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے سنگسار کر دیا گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کی نمازِ جنازہ ادا کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی عورت کی نمازِ جنازہ ادا کریں گے جس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے ایک ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اسے اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والے ستر افراد پر تقسیم کیا جائے تو ان سب کے لیے کافی ہو، کیا تمہیں اس سے زیادہ افضل اور کوئی شخص ملتا ہے جس نے اپنی ذات کو اللہ کے لیے قربان کر دیا؟“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) امام اوزاعی کو ابوقلابہ کے چچا کی کنیت ذکر کرنے میں وہم ہوا ہے کیونکہ گھوڑا ٹھوکر کھا جاتا ہے، انہوں نے یہ کہا ہے کہ یہ روایت ابوقلابہ کے حوالے سے ان کے چچا ابومہاجر کے حوالے سے منقول ہے، حالانکہ ان کے چچا کی کنیت ابومہلب ہے اور ان کا نام عمرو بن معاویہ بن زید جرمی ہے، یہ ثقہ تابعین میں سے ہیں اور اہل بصرہ کے سرداروں میں سے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4403]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1696، وابن الجارود فى "المنتقى"، 879، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4403، 4441، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1956، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4440، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1435، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2370، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2555، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6930، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3160، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20177» «رقم طبعة با وزير 4387»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2333): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح رجاله ثقات رجال الصحيح
8. ذكر الخبر الدال على أن إقامة الحدود تكفر الجنايات عن مرتكبها-
- ذکر اس خبر کا جو اس بات کی دلیل ہے کہ حدود قائم کرنا مرتکب کے جرائم کا کفارہ بنتا ہے
حدیث نمبر: 4404
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَتَخَضْخَضُ فِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو سنگسار کروایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اسے جنت کی نہروں میں تیرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4404]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4401، 4404» «رقم طبعة با وزير 4387/*»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (6318)، وقد مضى قريباً.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الشيخين إلا أن أبا الزبير مدلس وقد عنعن
9. ذكر البيان بأن من عجل له العقوبة بالحدود تكون إقامتها كفارة لها-
- ذکر اس بیان کا کہ جسے حدود کے ذریعے جلد سزا دی جائے اس کا نفاذ اس کے لیے کفارہ بنتا ہے
حدیث نمبر: 4405
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ مِنَّا، وَقَالَ: " مَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ مِنْهُنَّ حَدًّا فَعُجِّلَتْ لَهُ عُقُوبَتُهُ، فَهُوَ كَفَّارَتُهُ، وَمَنْ أُخِّرَ عَنْهُ، فَأَمْرُهُ إِِلَى اللَّهِ إِِنْ شَاءَ رَحِمَهُ، وَإِِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ" .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بھی اسی طرح بیعت لی جس طرح ہماری خواتین سے لی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جو شخص ان میں سے کسی ایک قابلِ حد چیز کا مرتکب ہو جائے اور اسے دنیا میں سزا دے دی جائے تو یہ چیز اس کے لیے کفارہ ہو گی اور جس شخص سے یہ بات مؤخر ہو جائے (یعنی اسے دنیا میں سزا نہ ملے) تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہو گا، اگر وہ چاہے گا تو اس پر رحم کر دے گا اور اگر چاہے گا تو اسے عذاب دے دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4405]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 18، 3892، 3893، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1709، ابن الجارود فى "المنتقى"، 867، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4405، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3259، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1439، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2603، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15942، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3506، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23108» «رقم طبعة با وزير 4388»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2999): م، ق نحوه. * [أَبِي أَسْمَاءَ] قال الشيخ: كذا في رِوَايَة المُؤلِّف، وكذا في «الموارد» (1506). وأَخشى أَنْ يكون خَطأ أو مُحرَّفاً من: (أبي الأشعث)؛ فَإِنَّهُ هكذا في رواية مسلم (5/ 127) وغيره مِمَّن أَخرجَ الحديث مِنْ طريق أبِي قلابة. وأيضاً؛ فَإِنَّ أَبَا أَسْمَاء - وَاسمُه: عمرو بن مَرْثَدٍ - لم يذكروا له رواية عن عُبادةَ، والله أعلم.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الصحيح
10. ذكر الأمر بالقتل لمن أراد أن يفرق أمر أمة محمد صلى الله عليه وسلم بفراقه الجماعة وهم جميع-
- ذکر اس حکم کا کہ اسے قتل کیا جائے جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کو جماعت سے الگ کر کے تقسیم کرنا چاہے
حدیث نمبر: 4406
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَرْفَجَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِِنَّهَا سَتَكُونُ هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هَذِهِ الأُمَّةِ وَهُمْ جَمِيعٌ فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ" .
سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عنقریب فساد ہی فساد ہوں گے، جو شخص اس امت میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کرے، جبکہ وہ لوگ اکٹھے ہوں تو اسے تلوار کے ذریعے قتل کر دو، خواہ وہ جو کوئی بھی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4406]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1852، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4406، 4577، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2680، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4032، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4762، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16787، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18584، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 38528» «رقم طبعة با وزير 4389»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1452): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين