🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب الزنى وحده - ذكر البيان بأن الإقرار بالزنى يوجب الرجم على من أقر به وكان محصنا-
زنا اور اس کی حد کا بیان - اس بات کا بیان کہ زنا کا اقرار کرنے والے پر جب وہ محصن ہو رجم واجب ہو جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4437
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُمَا قَالا: أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُنْشِدُكَ اللَّهَ إِِلا قَضَيْتَ لِي بِكِتَابِ اللَّهِ. فَقَالَ الْخَصْمُ الآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ: نَعَمْ، اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَأَذَنْ لِي. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُلْ". قَالَ: إِِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، وَإِِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمُ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِئَةِ شَاةٍ وَوَلِيدَةٍ، فَسَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَتِهِ الرَّجْمُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ مَرْدُودٌ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، اغْدُ يَا أُنَيْسُ إِِلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا". قَالَ: فَغَدَا عَلَيْهَا، فَاعْتَرَفَتْ، فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَتْ .
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ میرے بارے میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ دیں۔ اس کے مخالف فریق نے، جو اس سے زیادہ سمجھدار تھا، کہا: جی ہاں، آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کیجیے، لیکن مجھے آپ اجازت دیجیے (تاکہ میں مسئلہ بیان کر دوں)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو۔ اس نے عرض کی: میرا بیٹا اس شخص کے ہاں ملازم تھا، اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا، مجھے یہ بات بتائی گئی کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا، تو میں نے اس کے عوض ایک سو بکریاں اور ایک کنیز فدیے کے طور پر دے دی، پھر میں نے اہل علم سے دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا، اور اس کی بیوی کو سنگسار کیا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ کنیز اور بکریاں تمہیں واپس مل جائیں گی، تمہارے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔ اے انیس! تم اس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ اعتراف کرتی ہے تو اسے سنگسار کر دو۔ راوی کہتے ہیں: اگلے دن وہ صاحب اس خاتون کے پاس گئے، اس نے اعتراف کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عورت سے متعلق حکم کے مطابق اس عورت کو سنگسار کر دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4437]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2314، 2695، 2724، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1698، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4437، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5425، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4445، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1433، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2549، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11567، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17312، والحميدي فى (مسنده) برقم: 830» «رقم طبعة با وزير 4420»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2322): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. باب الزنى وحده - ذكر الخبر الدال على أن المصطفى صلى الله عليه وسلم توهم في ماعز بن مالك قلة عقل وعلم مما يقول فلذلك رده أربع مرات-
زنا اور اس کی حد کا بیان - اس خبر کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک کے بارے میں کم عقلی اور لاعلمی کا گمان کیا اسی لیے آپ نے اُسے چار بار واپس کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4438
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِِنِّي أَصَبْتُ فَاحِشَةً. فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا، قَالَ: فَسَأَلَ قَوْمَهُ:" أَبِهِ بَأْسٌ؟" فَقِيلَ: مَا بِهِ بَأْسٌ، غَيْرَ أَنَّهُ أَتَى أَمْرًا يَرَى أَنَّهُ لا يُخْرِجُهُ مِنْهُ إِِلا أَنْ يُقَامَ الْحَدُّ عَلَيْهِ. قَالَ: فَأَمَرَنَا، فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، قَالَ: فَلَمْ نَحْفُرْ لَهُ وَلَمْ نُوثِقْهُ، فَرَمَيْنَاهُ بِخَزَفٍ وَعِظَامٍ وَجَنْدَلٍ، قَالَ: فَاشْتَكَى فَسَعَى، فَاشْتَدَدْنَا خَلْفَهُ، فَأَتَى الْحَرَّةَ فَانْتَصَبَ لَنَا، فَرَمَيْنَاهُ بِجَلامِيدِهَا حَتَّى سَكَنَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَشِيِّ خَطِيبًا، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا بَعْدُ " مَا بَالَ أَقْوَامٍ إِِذَا غَزَوْنَا تَخَلَّفَ أَحَدُهُمْ فِي عِيَالِنَا لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ، أَمَا إِِنَّ عَلَيَّ أَنْ لا أُوتِيَ بِأَحَدٍ فَعَلَ ذَلِكَ إِِلا نَكَّلْتُ بِهِ". قَالَ: وَلَمْ يَسُبَّهُ، وَلَمْ يَسْتَغْفِرْ لَهُ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند مرتبہ انہیں واپس کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قوم کے افراد سے دریافت کیا: کیا اسے کوئی بیماری ہے؟ عرض کی گئی کہ اسے کوئی بیماری نہیں ہے، البتہ اس کی یہ کیفیت ہے، یہ سمجھتا ہے کہ اس نے جو جرم کیا ہے اس کا کفارہ یہی ہو سکتا ہے کہ اس پر حد قائم کی جائے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا، تو ہم اسے لے کر بقیعِ غرقد کی طرف آ گئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے اس کے لیے کوئی گڑھا نہیں کھودا اور نہ ہی اسے باندھا، ہم نے اسے پتھروں، ہڈیوں اور جندل کے ذریعے مارنا شروع کیا۔ راوی کہتے ہیں: جب انہیں تکلیف ہوئی تو وہ بھاگے، ہم بھی ان کے پیچھے بھاگے، یہاں تک کہ پتھریلی زمین کے پاس پہنچ کر وہ رک گئے۔ ہم انہیں پتھر مارتے رہے یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ شام کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جب ہم کسی غزوے میں شرکت کے لیے جاتے ہیں، تو ان میں سے کوئی ایک شخص ہمارے گھر والوں کے پیچھے رہ جاتا ہے جو نر جانور کی طرح آواز نکال کر (عورت کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتا ہے)، یہ بات میرے ذمے لازم ہے کہ اس طرح کا کوئی بھی شخص میرے پاس لایا گیا، تو میں اسے عبرت ناک سزا دوں گا۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو اس شخص کو برا کہا اور نہ ہی اس کے لیے دعائے مغفرت کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4438]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1694، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4438، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8172، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7160، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4431، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2365، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17055، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11144» «رقم طبعة با وزير 4421»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (7/ 255 - 256): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. باب الزنى وحده - ذكر الخبر الدال على المقر بالزنى على نفسه إذا رجع بعد إقراره يجب أن يترك ولا يرجم-
زنا اور اس کی حد کا بیان - اس خبر کا بیان کہ جو شخص زنا کا اقرار کرے اور پھر رجوع کرلے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا اور رجم نہیں کیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4439
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزٌ الأَسْلَمِيُّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِِنِّي قَدْ زَنَيْتُ. فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ شِقِّهِ الآخَرِ، فَقَالَ: إِِنِّي قَدْ زَنَيْتُ. فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَجَاءَهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، " فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ، فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ فَرَّ يَشْتَدُّ، فَذَكَرُوا فِرَارَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَهَلا تَرَكْتُمُوهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ماعز اسلمی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا۔ وہ چار مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا کہ انہیں سنگسار کر دیا جائے۔ جب انہیں پتھر لگے تو وہ بھاگے۔ لوگوں نے ان کے بھاگنے کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا کہ جب انہیں پتھر لگے تھے (تو وہ بھاگ پڑے تھے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4439]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5271، 6815، 6825، 7167، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1691، وابن الجارود فى "المنتقى"، 878، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4399، 4400، 4439، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8174، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7126، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4428، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1428، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2554، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17027، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3442، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7965» «رقم طبعة با وزير 4422»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الإرواء» (2322): ق نحوه، ومضى برقم (4420). تنبيه!! رقم (4420) = (4437) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. باب الزنى وحده - ذكر البيان بأن ماعز بن مالك كان محصنا حين زنى-
زنا اور اس کی حد کا بیان - اس بات کا بیان کہ ماعز بن مالک محصن (شادی شدہ) تھا جب اس نے زنا کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4440
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَسْلَمَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَهُ أَنَّهُ قَدْ زَنَى، وَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ، وَكَانَ قَدْ أَحْصَنَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، اس نے اپنی ذات کے بارے میں چار مرتبہ یہ گواہی دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق اس شخص کو سنگسار کر دیا گیا اور وہ شخص شادی شدہ تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4440]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5270، 5272، 6814، 6820، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1691، وابن الجارود فى "المنتقى"، 877، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3094، 4440، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1955، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4420، 4430، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1429، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3240، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14686» «رقم طبعة با وزير 4423»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (7/ 353): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. باب الزنى وحده - ذكر البيان بأن المرأة الحامل إذا أقرت على نفسها بالزنى يجب أن يتربص برجمها إلى أن تضع حملها-
زنا اور اس کی حد کا بیان - اس بات کا بیان کہ حاملہ عورت جب خود اپنے اوپر زنا کا اقرار کرے تو اس کے رجم میں اس وقت تک تاخیر کی جائے گی جب تک وہ بچہ پیدا نہ کرلے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4441
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، قَالا: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ. قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَلِيِّهَا، فَقَالَ:" أَحْسِنْ إِِلَيْهَا حَتَّى تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا، فَإِِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا". فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا، فَشُدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ عَلَى سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے قابلِ حد جرم کا ارتکاب کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر حد جاری کریں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلوایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو یہاں تک کہ یہ اپنے پیٹ میں موجود بچے کو جنم دے دے، جب یہ اسے جنم دے دے تو تم اسے میرے پاس لے آنا۔ پھر وہ شخص اس عورت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا کہ اس کے کپڑوں کو (اس پر) باندھ دیا جائے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے سنگسار کر دیا گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کی نمازِ جنازہ ادا کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ اس کی نمازِ جنازہ ادا کرنے لگے ہیں حالانکہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اسے اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والے ستر افراد پر تقسیم کیا جائے تو ان سب کے لیے کافی ہو جائے، کیا تمہیں اس سے زیادہ افضل کوئی شخص ملتا ہے کہ جس نے اپنی جان اللہ تعالیٰ کے لیے قربان کر دی ہے؟ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4441]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1696، وابن الجارود فى "المنتقى"، 879، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4403، 4441، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1956، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4440، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1435، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2370، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2555، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6930، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3160، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20177» «رقم طبعة با وزير 4424»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2333): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. باب الزنى وحده - ذكر البيان بأن المرأة الحامل المقرة بالزنى على نفسها ثم ولدت يجب على الإمام التربص برجمها إلى أن تفطم ولدها-
زنا اور اس کی حد کا بیان - اس بات کا بیان کہ حاملہ عورت جو اپنے اوپر زنا کا اقرار کرے، جب بچہ جن دے تو امام پر واجب ہے کہ رجم میں اس وقت تک تاخیر کرے جب تک وہ اپنے بچے کو دودھ نہ چھڑا دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4442
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: قَدْ أَحْدَثْتُ وَهِيَ حُبْلَى، فَأَمَرَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَذْهَبَ حَتَّى تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا، فَلَمَّا وَضَعَتْ جَاءَتْ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَذْهَبَ فَتُرْضِعَهُ حَتَّى تَفْطِمَهُ، فَفَعَلَتْ، ثُمَّ جَاءَتْ فَأَمَرَهَا أَنْ تَدْفَعَ وَلَدَهَا إِِلَى أُنَاسٍ، فَفَعَلَتْ، ثُمَّ جَاءَتْ، فَسَأَلَهَا:" إِِلَى مَنْ دَفَعَتْ"، فَأَخْبَرَتْ أَنَّهَا دَفَعْتُهُ إِِلَى فُلانٍ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَأْخُذَهُ وَتَدْفَعَهُ إِِلَى آلِ فُلانٍ نَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ، ثُمَّ إِِنَّهَا جَاءَتْ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَشُدَّ عَلَيْهَا ثِيَابَهَا، ثُمَّ إِِنَّهُ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ إِِنَّهُ كَفَّنَهَا وَصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ دَفَنَهَا، فَقَالَ النَّاسُ: رَجَمَهَا، ثُمَّ كَفَّنَهَا وَصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ دَفَنَهَا، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَقُولُ النَّاسُ، فَقَالَ:" لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ تَوْبَتُهَا بَيْنَ سَبْعِينَ رَجُلا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے بتایا کہ میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اور وہ حاملہ بھی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا: وہ جائے اور جا کر پہلے اپنے پیٹ میں موجود بچے کو جنم دے۔ جب اس نے جنم دے دیا تو وہ پھر آ گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جائے اور اس بچے کو دودھ پلائے جب تک بچہ دودھ چھوڑ نہیں دیتا۔ اس عورت نے ایسا ہی کیا، وہ پھر آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اپنے بچے کو کسی کے سپرد کر کے آئے، تو اس عورت نے ایسا ہی کیا۔ وہ پھر آ گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: اس نے بچے کو کس کے سپرد کیا ہے؟ اس عورت نے بتایا کہ میں نے اسے فلاں کے سپرد کر دیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ حکم دیا کہ وہ ان سے بچے کو لے اور آلِ فلاں کے حوالے کرے۔ یہ انصار کے کچھ لوگوں کے بارے میں حکم دیا، پھر وہ عورت آئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اپنے کپڑے کو مضبوطی سے باندھ لے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے سنگسار کر دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کفن دیا اور اس کی نمازِ جنازہ ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دفن کیا۔ لوگوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اسے سنگسار کروایا، پھر اسے کفن دیا، پھر اس کی نمازِ جنازہ بھی ادا کی، پھر اسے دفن بھی کروایا۔ جب اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی کہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے، اگر اسے اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والے ستر آدمیوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے تو ان سب کے لیے کافی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4442]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: انفرد به المصنف من هذا الطريق «رقم طبعة با وزير 4425»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الإرواء» (7/ 366)، «الروض» (97).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. باب الزنى وحده - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة الحديث أنه مضاد للأخبار التي تقدم ذكرنا لها-
زنا اور اس کی حد کا بیان - ایک ایسی خبر کا بیان جو غیر ماہرِ فنِ حدیث کو پہلی بیان کردہ خبروں کے خلاف محسوس ہو سکتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4443
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرِ بْنِ مُعَاذٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخِي بَنِي رَقَاشٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ كَرْبٌ لِذَلِكَ، وَتَرَبَّدَ لَهُ وَجْهُهُ، فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذُوا عَنِّي، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلا الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ، وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ، الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ رَجْمٌ بِالْحِجَارَةِ، وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ نَفْيُ سَنَةٍ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا الْخَبَرُ دَالٌ عَلَى أَنَّ هَذَا الْحُكْمَ كَانَ مِنَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا عَلَى لِسَانِ صَفِيَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ مَا أَنْزَلَ حُكْمَ الزَّانِيَيْنِ، فَلَمَّا رُفِعَ إِِلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الزِّنَى وَأَقَرَّ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ وَغَيْرُهُ بِهَا، أَمَرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِهِمْ وَلَمْ يَجْلِدْهُمْ، فَذَلِكَ مَا وَصَفْتُ عَلَى أَنَّ هَذَا آخِرُ الأَمْرَيْنِ مِنَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِيهِ نَسْخُ الأَمْرِ بِالْجَلْدِ لِلثَّيِّبَيْنِ، وَالاقْتِصَارُ عَلَى رَجْمِهِمَا.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشکل درپیش ہوتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو جاتا تھا، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھ سے (حکم) حاصل کر لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حکم بیان کر دیا ہے۔ شادی شدہ شخص کا شادی شدہ کے ساتھ زنا کرنا اور کنوارے کا کنواری کے ساتھ زنا کرنا۔ شادی شدہ شخص کے شادی شدہ کے ساتھ زنا کرنے کے نتیجے میں ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور پھر پتھروں کے ذریعے سنگسار کر دیا جائے گا۔ اور کنوارے کے کنواری کے ساتھ زنا کرنے کی صورت میں ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا جائے گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ہے اور زنا کرنے والوں کے بارے میں یہ سب سے پہلا حکم ہے۔ یہی وجہ ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زنا کا معاملہ پیش ہوا اور سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زنا کا اقرار کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوڑے نہیں لگوائے۔ اس لیے میں نے جو چیز بیان کی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو طرح کے حکم منقول ہیں ان میں سے آخری چیز وہ ہے اور اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے شادی شدہ کو کوڑے مارنے کا حکم منسوخ ہے اور انہیں سنگسار کرنے پر اکتفاء کیا جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4443]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1690، وابن الجارود فى "المنتقى"، 874، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4425، 4426، 4427، 4443، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4415، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1434، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2550، 2606، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 594، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13472، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16155» «رقم طبعة با وزير 4426»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - مضى (4408). تنبيه!! رقم (4408) = (4425) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. باب الزنى وحده - ذكر إيجاب الجلد على الأمة الزانية لمولاها وإن عادت فيه مرارا-
زنا اور اس کی حد کا بیان - لونڈی پر زنا کی صورت میں کوڑے مارنے کا وجوب، خواہ وہ بار بار ایسا کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4444
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الأَمَةِ إِِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصَنْ، فَقَالَ: " إِِذَا زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ" .
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی کنیز کے بارے میں دریافت کیا گیا جو زنا کا ارتکاب کرتی ہے اور شادی شدہ نہیں ہوتی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ زنا کا ارتکاب کرے تو تم اسے کوڑے مارو، پھر اگر وہ زنا کا ارتکاب کرے تو اسے کوڑے مارو، پھر اگر وہ زنا کا ارتکاب کرے تو اسے کوڑے مارو، پھر اسے فروخت کر دو خواہ ایک رسی کے عوض میں کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4444]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2152، 2153، 2232، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1703، وابن الجارود فى "المنتقى"، 886، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4444، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7202، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4469، 4470، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1440، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2371، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2565، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17181، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3329، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7513» «رقم طبعة با وزير 4427»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (2565): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. باب حد الشرب-
شراب نوشی کی حد کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4445
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، وَمَنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِِنْ عَادَ فَاقْتُلُوهُ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْعِلَّةُ الْمَعْلُومَةُ فِي هَذَا الْخَبَرِ يُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ: فَإِِنْ عَادَ عَلَى أَنْ لا يَقْبَلَ تَحْرِيمَ اللَّهِ، فَاقْتُلُوهُ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص شراب پیے اسے کوڑے مارو، جو دوبارہ پیے اسے پھر کوڑے مارو، اگر وہ پھر پیے تو پھر کوڑے مارو، اگر وہ پھر ایسا کرے تو اسے قتل کر دو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں مذکور متعین علت ہو سکتا ہے یہ ہو کہ اگر وہ پھر شراب پیے تو اس کا مطلب یہ ہو گا: اس نے اللہ تعالیٰ کے حرام قرار دینے کے حکم کو قبول نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4445]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: انفرد به المصنف من هذا الطريق «رقم طبعة با وزير 4428»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - (1360).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47. باب حد الشرب - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به أبو بكر بن عياش-
شراب نوشی کی حد کا بیان - اس خبر کے بارے میں ان لوگوں کے قول کا ابطال جنہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ روایت صرف ابو بکر بن عیاش سے منقول ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4446
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِِذَا شَرِبُوهَا فَاجْلِدُوهُمْ، ثُمَّ إِِذَا شَرِبُوهَا فَاجْلِدُوهُمْ، ثُمَّ إِِذَا شَرِبُوهَا فَاجْلِدُوهُمْ، ثُمَّ إِِذَا شَرِبُوهَا فَاقْتُلُوهُمْ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ أَبُو صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، جَمِيعًا.
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب لوگ اسے (یعنی شراب کو) پئیں، تو انہیں کوڑے مارو، پھر جب اسے پئیں، تو انہیں مارو، پھر جب وہ اسے پئیں تو انہیں کوڑے مارو، پھر اگر وہ اسے پئیں تو انہیں قتل کر دو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوصالح نے یہ روایت سیدنا معاویہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما دونوں سے سنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4446]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4446، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8210، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5278، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4482، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1444، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2573، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17582، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17122» «رقم طبعة با وزير 4429»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «ابن ماجه» (2573).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں