🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
66. باب قطع الطريق - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم بعث في طلب العرنيين قافة يقفو آثارهم-
چوری کی حد کا بیان - اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عُرَنیّین کے تعاقب میں قافہ (نشانوں کے ماہر) بھیجے تھے تاکہ ان کے نشاناتِ قدم کا پیچھا کریں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4467
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَدِمَ ثَمَانِيَةُ نَفَرٍ مِنْ عُكْلٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوَا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتُوا إِِبِلَ الصَّدَقَةِ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَفَعَلُوا" فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ، وَاسْتَاقُوا الإِِبِلَ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ قَافَةً، فَأُتِيَ بِهِمْ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ، وَتَرَكَهُمْ وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عکل قبیلے سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ: وہ صدقے کے اونٹوں کے پاس چلے جائیں اور ان کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر انہوں نے (صدقے کے اونٹوں کے) چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں مہم روانہ کی، ان لوگوں کو پکڑ کر لایا گیا، ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں اور انہیں اسی حالت میں چھوڑ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں داغ لگوا کر (ان کے خون کا بہاؤ روکنے کی کوشش نہیں کی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4467]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 233، 1501، 3018، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1671، وابن الجارود فى "المنتقى"، 913، 914، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 115، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1386، 1387، 1388، 4467، 4468، 4469، 4470، 4471، 4472، 4474، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8189، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4364، والترمذي فى (جامعه) برقم: 72، 73، 1845، 2042، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2578، 3503، والدارقطني فى (سننه) برقم: 476، 3263، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12224» «رقم طبعة با وزير 4450»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «النسائي» (4025): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67. باب قطع الطريق - ذكر المدة التي رد القوم الذي ذكرناهم فيها إلى المدينة-
راہزنی کی حد کا بیان - اس مدت کا بیان جس میں عرنیوں کو پکڑ کر مدینہ واپس لایا گیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4468
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُكْلٍ، أَوْ قَالَ عُرَيْنَةَ، وَلا أَعْلَمُهُ إِِلا قَالَ: عُكْلٍ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَشَرِبُوا حَتَّى إِِذَا بَرِءُوا، قَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي أَثَرِهِمْ، فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى جِيءَ بِهِمْ،" فَأَمَرَ بِهِمْ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ، فَأُلْقُوا بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ، فَلا يَسْقُونَ" . قَالَ أَبُو قِلابَةَ: هَؤُلاءِ قَوْمٌ سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَكَفَرُوا بَعْدَ إِِيمَانِهِمْ وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عکل (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یا عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ مدینہ منورہ آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اونٹوں (کے باڑے) کی طرف جانے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ: وہ جائیں اور ان کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ ان لوگوں نے اسے پیا یہاں تک کہ وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے (ان اونٹوں کے چرواہے) کو قتل کیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ صبح کے وقت اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے مہم روانہ کی، دن چڑھ جانے کے بعد ان لوگوں کو پکڑ کر لایا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے گئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں اور انہیں گرم پتھروں پر ڈال دیا گیا۔ وہ لوگ پانی مانگتے تھے تو انہیں پانی نہیں دیا گیا۔ ابوقلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے چوری بھی کی، قتل بھی کیا اور ایمان لانے کے بعد کفر بھی کیا اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ بھی کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4468]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 233، 1501، 3018، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1671، وابن الجارود فى "المنتقى"، 913، 914، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 115، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1386، 1387، 1388، 4467، 4468، 4469، 4470، 4471، 4472، 4474، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8189، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4364، والترمذي فى (جامعه) برقم: 72، 73، 1845، 2042، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2578، 3503، والدارقطني فى (سننه) برقم: 476، 3263، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12224» «رقم طبعة با وزير 4451»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (2578): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
68. باب قطع الطريق - ذكر المدة التي جيء فيها بالعرنيين إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم-
راہزنی کی حد کا بیان - اس مدت کا بیان جس میں عرنیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4469
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَهْطًا مِنْ بَنِي عُكْلٍ، أَوْ قَالَ: مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا، فَأَمَرَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا حَتَّى بَرِءُوا وَذَهَبَ سَقَمُهُمْ، فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطَرَدُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ إِِلَيْهِمْ غُدْوَةً، فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى جِيءَ بِهِمْ، فَقُطِعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَّلَ أَعْيُنَهُمْ، وَأُلْقُوا بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلا يَسْقُونَ" . قَالَ: فَقَالَ أَبُو قِلابَةَ: هَؤُلاءِ قَوْمٌ قَتَلُوا، وَسَرَقُوا، وَكَفَرُوا بَعْدَ إِِيمَانِهِمْ، وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو عکل سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ مدینہ منورہ آئے۔ وہاں کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اونٹوں کی طرف جانے کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اونٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ جب انہوں نے ان کا دودھ اور پیشاب پیا اور ان کی بیماری ختم ہو گئی تو انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ یہ اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت ان کے پیچھے مہم روانہ کر دی۔ دن چڑھ جانے کے بعد ان کو پکڑ کر لایا گیا، ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیے گئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دیں اور انہیں تپتے ہوئے پتھروں پر ڈال دیا، وہ لوگ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا گیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ابوقلابہ رحمہ اللہ نے یہ بات بیان کی ہے: یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے قتل بھی کیا، چوری بھی کی، ایمان لانے کے بعد کفر بھی اختیار کیا اور اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ بھی کی (اس لیے انہیں اتنی سخت سزا دی گئی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4469]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 233، 1501، 3018، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1671، وابن الجارود فى "المنتقى"، 913، 914، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 115، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1386، 1387، 1388، 4467، 4468، 4469، 4470، 4471، 4472، 4474، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8189، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4364، والترمذي فى (جامعه) برقم: 72، 73، 1845، 2042، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2578، 3503، والدارقطني فى (سننه) برقم: 476، 3263، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12224» «رقم طبعة با وزير 4452»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
69. باب قطع الطريق - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم طرح العرنيين في الشمس بعد تعذيبه إياهم بما عذب حتى ماتوا-
راہزنی کی حد کا بیان - اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرنیوں کو ان پر کیے گئے عذاب کے بعد دھوپ میں ڈال دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4470
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ مَوْلَى أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، قَالَ: إِِيَّايَ حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعُوهُ عَلَى الإِِسْلامِ، فَاسْتَوْخَمُوا الأَرْضَ، وَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِِبِلِهِ فَتُصِيبُونَ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا؟" فَقَالُوا: بَلَى، فَخَرَجُوا، فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَصَحُّوا فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطَرَدُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَجَلَبَهُمْ، فَأَمَرَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ، وَنَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عکل قبیلے سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر اسلام قبول کیا، اس علاقے کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی اور ان کے جسم بیمار ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اونٹوں کی طرف کیوں نہیں چلے جاتے؟ وہاں تم ان کا دودھ اور پیشاب پی لینا۔ ان لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، پھر وہ لوگ نکلے (اور وہاں چلے گئے) وہاں انہوں نے اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا، جب وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ساتھ لے گئے، اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے کچھ لوگوں کو روانہ کیا، انہوں نے انہیں پکڑ لیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے گئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں اور انہیں دھوپ میں پھینک دیا گیا، یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4470]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 233، 1501، 3018، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1671، وابن الجارود فى "المنتقى"، 913، 914، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 115، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1386، 1387، 1388، 4467، 4468، 4469، 4470، 4471، 4472، 4474، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8189، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4364، والترمذي فى (جامعه) برقم: 72، 73، 1845، 2042، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2578، 3503، والدارقطني فى (سننه) برقم: 476، 3263، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12224» «رقم طبعة با وزير 4453»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
70. باب قطع الطريق - ذكر البيان بأن العرنيين كفروا بعد فعلهم الذي فعلوا-
راہزنی کی حد کا بیان - اس بات کا بیان کہ عرنیوں نے اپنے فعل کے بعد کفر کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4471
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُرَيْنَةَ، فَقَالَ لَهُمْ: لَوْ خَرَجْتُمْ إِِلَى ذَوْدِنَا فَكُنْتُمْ فِيهَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا. فَفَعَلُوا" فَلَمَّا صَحُّوا قَامُوا إِِلَى رَاعِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلُوهُ، وَرَجَعُوا كُفَّارًا، وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَّلَ أَعْيُنَهُمْ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم لوگ ہمارے اونٹوں کی طرف چلے جاؤ اور وہاں ٹھہرے رہو اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو (تو یہ مناسب ہو گا)۔ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا، جب وہ لوگ تندرست ہو گئے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کے پاس جا کر اسے قتل کر دیا اور دوبارہ کافر ہو گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ ہانک کر لے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں مہم روانہ کی، ان لوگوں کو پکڑ کر لایا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4471]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 233، 1501، 3018، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1671، وابن الجارود فى "المنتقى"، 913، 914، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 115، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1386، 1387، 1388، 4467، 4468، 4469، 4470، 4471، 4472، 4474، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8189، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4364، والترمذي فى (جامعه) برقم: 72، 73، 1845، 2042، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2578، 3503، والدارقطني فى (سننه) برقم: 476، 3263، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12224» «رقم طبعة با وزير 4455»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله. تنبيه!! هذا الحديث وقع في «طبعة باوزير» مكان الذي بعده والذي بعده مكانه. ملحوظة قول الشيخ: انظر ما قبله أي رقم (4454). لأن رقم هذا الحديث (4455) وما قبله هو (4454). ولكن انظر إلى الحديث الآتي فهو مراد الشيخ. -مدخل بيانات الشاملة-.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
71. باب قطع الطريق - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم إنما قتل العرنيين لأنهم كفروا وارتدوا بعد إسلامهم-
راہزنی کی حد کا بیان - اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرنیوں کو اس لیے قتل کیا کہ انہوں نے اسلام لانے کے بعد کفر کیا اور مرتد ہوگئے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4472
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَكَلَّمُوا بِالإِِسْلامِ، وَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِِنَّا كُنَّا أَهْلَ ضَرْعٍ وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ، وَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَرَاعٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا لِيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِِذَا كَانُوا فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ" كَفَرُوا بَعْدَ إِِسْلامِهِمْ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ، وَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، ثُمَّ تَرَكَهُمْ فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا عَلَى حَالِهِمْ ذَلِكَ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عکل (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یا عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے اسلام کے بارے میں بات چیت کی (یعنی اسلام قبول کر لیا) اور عرض کی: اے اللہ کے نبی! ہم لوگ جانور پالنے والے لوگ ہیں، ہم کھیتی باڑی کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔ ان لوگوں کو مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اونٹوں اور چرواہے کے پاس جانے کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی: وہ لوگ جائیں اور ان اونٹوں کا پیشاب اور دودھ پیئیں۔ وہ لوگ چلے گئے یہاں تک کہ وہ پتھریلے علاقے کے کنارے پر پہنچ گئے، وہاں انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد کفر کو اختیار کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ جب اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے مہم روانہ کی، ان لوگوں کو پکڑ کر لایا گیا، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں، ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیے گئے اور پھر انہیں پتھریلی زمین کے کنارے پر ڈال دیا گیا یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4472]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 233، 1501، 3018، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1671، وابن الجارود فى "المنتقى"، 913، 914، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 115، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1386، 1387، 1388، 4467، 4468، 4469، 4470، 4471، 4472، 4474، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8189، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4364، والترمذي فى (جامعه) برقم: 72، 73، 1845، 2042، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2578، 3503، والدارقطني فى (سننه) برقم: 476، 3263، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12224» «رقم طبعة با وزير 4454»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله. تنبيه!! وقع هذا الحديث في «طبعة باوزير» مكان الذي قبله والذي قبله مكانه ملحوظة قول الشيخ: انظر ما قبله. أي رقم (4453). لأن رقم هذا الحديث (4454) وما قبله هو (4453). انظر ما قبله بحديثين. وهذا كله بسبب أن «طبعة المؤسسة» قدموا حديث على الآخر وعُكِسَ الوضع في «طبعة باوزير». وأشار إلى هذا «الناشر» بقوله: «وقع هذا الحديث والذي قبله - في «طبعة المؤسسة» - متبادلي المواقع». -مدخل بيانات الشاملة-.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
72. باب قطع الطريق - ذكر خبر قد يوهم عالما من الناس ضد ما ذهبنا إليه-
راہزنی کی حد کا بیان - ایک ایسی خبر کا بیان جو بعض اہل علم کو ہمارے بیان کردہ مفہوم کے برعکس گمان دلا سکتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4473
أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ : إِِنَّ لِي عَبْدًا أَبَقَ، وَإِِنِّي نَذَرْتُ لِلَّهِ إِِنْ أَصَبْتُهُ لأَقْطَعَنَّ يَدَهُ، فَقَالَ: لا تَقْطَعْ يَدَهُ، فَإِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ فِينَا " فَيَأْمُرُنَا بِالصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْمُثْلَةُ الْمَنْهِيُّ عَنْهَا لَيْسَ الْقَوَدُ الَّذِي أَمَرَ بِهِ، لأَنَّ أَخْبَارَ الْعُرَنِيِّينَ الْمُرَادُ مِنْهَا كَانَ الْقَوَدَ لا الْمُثْلَةَ.
حسن بصری بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمارا ایک غلام ہے، میں نے اللہ کے نام کی یہ نذر مانی ہے کہ وہ اگر مجھے مل گیا تو میں اس کا ہاتھ ضرور کاٹوں گا، تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس کا ہاتھ مت کاٹنا، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور «الْمُثْلَةِ» مثلہ کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع کر دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ممنوعہ مثلہ سے مراد یہ ہے: وہ کسی قصاص کے طور پر نہ ہو کیونکہ عُرینہ قبیلے کے لوگوں کے بارے میں روایات میں یہ بات مذکور ہے، اس سے مراد قصاص ہے مثلہ کرنا نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4473]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1133، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4473، 5616، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7938، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2667، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1697، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18121، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20158» «رقم طبعة با وزير 4456»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «المشكاة» (3540)، «الإرواء» (2230)، «صحيح أبي داود» (2393).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
73. باب قطع الطريق - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم إنما سمر أعين العرنيين لأنهم سمروا أعين الرعاء-
راہزنی کی حد کا بیان - اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرنیوں کی آنکھیں اس لیے داغیں کہ انہوں نے چرواہوں کی آنکھیں داغی تھیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4474
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْوَزَّانُ بِجُرْجَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِنَّمَا " سَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ لأَنَّهُمْ سَمَّرُوا أَعْيَنَ الرِّعَاءِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی آنکھوں میں سلائیاں پھروائیں کیونکہ انہوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4474]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 233، 1501، 3018، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1671، وابن الجارود فى "المنتقى"، 913، 914، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 115، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1386، 1387، 1388، 4467، 4468، 4469، 4470، 4471، 4472، 4474، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8189، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4364، والترمذي فى (جامعه) برقم: 72، 73، 1845، 2042، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2578، 3503، والدارقطني فى (سننه) برقم: 476، 3263، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12224» «رقم طبعة با وزير 4457»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «النسائي» (4043): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
74. باب الردة - ذكر الأمر بالقتل لمن بدل دينه رجلا كان أو امرأة إلى أي دين كان سوى الإسلام-
ارتداد (دین چھوڑنے) کی حد کا بیان - اس حکم کا بیان کہ جو شخص اپنا دین چھوڑ دے، چاہے مرد ہو یا عورت، اسے قتل کیا جائے، خواہ وہ کسی بھی دوسرے دین میں جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4475
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص اپنے دین (یعنی دین اسلام) کو تبدیل کر لے اسے قتل کر دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4475]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3017، 6922، وابن الجارود فى "المنتقى"، 910، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4475، 4476، 5606، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6351، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4070، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4351، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1458، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2535، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16921، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1896، والحميدي فى (مسنده) برقم: 543» «رقم طبعة با وزير 4458»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (8/ 124 / 2471)، «الصحيحة» (487): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
75. باب الردة - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه-
ارتداد (دین چھوڑنے) کی حد کا بیان - ایک دوسری خبر کا بیان جو ہمارے مذکورہ بیان کی صحت کو واضح کرتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4476
أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ بِمَكَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ دِينَهُ أَوْ قَالَ: رَجَعَ عَنْ دِينِهِ فَاقْتُلُوهُ، وَلا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ أَحَدًا يَعْنِي بِالنَّارِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص اپنے دین کو (یعنی دین اسلام کو) ترک کر دے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو شخص اپنے دین (یعنی دین اسلام) سے رجوع کر لے تو اسے قتل کر دو اور تم کسی بھی شخص کو وہ عذاب نہ دو جو عذاب اللہ تعالیٰ دے گا (راوی کہتے ہیں:) یعنی آگ کا عذاب نہ دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4476]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3017، 6922، وابن الجارود فى "المنتقى"، 910، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4475، 4476، 5606، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6351، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4070، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4351، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1458، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2535، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16921، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1896، والحميدي فى (مسنده) برقم: 543» «رقم طبعة با وزير 4459»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
ثقات على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں