🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. ذكر الخبر المدحض قول من نفى جواز اتخاذ الأحباس في سبيل الله-
وقف کا بیان - وہ خبر جو ان لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے اللہ کی راہ میں وقف (حبس) کے جواز کا انکار کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4899
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْكِنَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدَقَتِهِ بِثَمْغٍ، فَقَالَ: " احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَتَهَا"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَحَبَسَهَا عُمَرُ عَلَى السَّائِلِ، وَالْمَحْرُومِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَفِي الرِّقَابِ، وَالْمَسَاكِينِ، وَجَعَلَ قَيِّمَهَا يَأْكُلُ وَيُؤْكِلُ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالا .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «ثَمْغ» میں موجود زمین کو صدقہ کرنے کے بارے میں مشورہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اصل کو اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو (اللہ کی) راہ میں دے دو۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مانگنے والے، محروم، مسافر اور اللہ کی راہ میں (جہاد پر جانے والے افراد)، غلاموں اور مسکینوں کے لیے مخصوص کر دیا، اور آپ نے اس کے نگران کو اس بات کا حق دیا کہ وہ خود بھی اس کو کھا سکتا ہے اور کسی دوسرے کو بھی کھلا سکتا ہے جبکہ وہ مال کو جمع کرنے والا نہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوقف/حدیث: 4899]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2313، 2737، 2764، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1633، وابن الجارود فى "المنتقى"، 405، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2483، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4899، 4900، 4901، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3599، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2878، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1375، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4402، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4698» «رقم طبعة با وزير 4879»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1513).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. ذكر البيان بأن الأحباس في سبيل الله لا يحل بيعها ولا هبتها-
وقف کا بیان - بیان کہ اللہ کی راہ میں وقف شدہ مال کا نہ بیع جائز ہے نہ ہبہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4900
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اسْتَشَارَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ بِثَمْغٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَصَدَّقْ بِهِ تَقْسِمُ ثَمَرَهُ، وَتَحْبِسُ أَصْلَهُ، لا يُبَاعُ وَلا يُوهَبُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مشورہ لیا کہ وہ اپنے ثمغ میں موجود مال (یعنی زمین) کو صدقہ کر دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے صدقہ کر دو، یوں کہ تم اس کے پھل کو تقسیم کر دو اور زمین کو اپنے پاس رہنے دو جسے فروخت نہ کیا جا سکے اور ہبہ نہ کیا جا سکے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوقف/حدیث: 4900]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2313، 2737، 2764، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1633، وابن الجارود فى "المنتقى"، 405، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2483، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4899، 4900، 4901، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3599، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2878، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1375، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4402، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4698» «رقم طبعة با وزير 4880»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. ذكر الخبر المدحض قول من أجاز بيع الأحباس في سبيل الله بعد أن تحبس أو توريثها بعد أن توقف-
وقف کا بیان - وہ خبر جو ان لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے وقف کے بعد اس کا بیچنا یا وراثت میں دینا جائز قرار دیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4901
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ 2، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ، فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ قَطُّ مَالا أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، فَمَا تَأْمُرُ فِيهَا؟ فَقَالَ: " إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا عَلَى أَنَّهُ لا يُبَاعُ وَلا يُوهَبُ وَلا يُورَثُ، فَتَصَدَّقْ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ، وَفِي الْغُرَبَاءِ، وَفِي الرِّقَابِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَفِي الضَّيْفِ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ" ، قَالَ: وَقَالَ مُحَمَّدٌ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالا.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، وہ اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیا، انہوں نے عرض کی: مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ مجھے کبھی ایسی زمین نہیں ملی جو میرے نزدیک اس سے زیادہ عمدہ ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں مجھے کیا ہدایت فرماتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم چاہو تو اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس کے (پھل اور آمدن کو) صدقہ کر دو۔ اس شرط پر کہ اس زمین کو صدقہ نہیں کیا جائے گا، اسے ہبہ نہیں کیا جائے گا اور اسے وراثت میں منتقل نہیں کیا جائے گا، تم (اس کے پھل کو) غریبوں میں، مسافروں میں، غلاموں میں، اللہ کی راہ میں (جہاد پر جانے والوں میں)، مسافروں میں اور مہمانوں میں خرچ کرو، جو شخص اس کا نگران ہو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر وہ مناسب طور پر اس میں سے خود کھا لیتا ہے یا کسی دوست کو کھلا دیتا ہے جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ یہاں محمد نامی راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوقف/حدیث: 4901]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2313، 2737، 2764، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1633، وابن الجارود فى "المنتقى"، 405، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2483، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4899، 4900، 4901، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3599، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2878، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1375، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4402، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4698» «رقم طبعة با وزير 4881»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2562).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. ذكر البيان بأن اتخاذ الأحباس في سبيل الله من خير ما يخلف المرء بعده-
وقف کا بیان - بیان کہ اللہ کی راہ میں وقف کرنا ان بہترین اعمال میں سے ہے جو آدمی اپنے بعد چھوڑ کر جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4902
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " خَيْرُ مَا يَخْلُفُ الْمَرْءُ بَعْدَ مَوْتِهِ ثَلاثٌ، وَلَدٌ صَالِحٌ يَدْعُو لَهُ، وَصَدَقَةٌ تَجْرِي يَبْلُغُهُ أَجْرُهَا، وَعَمَلٌ يُعْمَلُ بِهِ مِنْ بَعْدِهِ" .
عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: آدمی مرنے کے بعد جو کچھ چھوڑ کر جاتا ہے، اس میں سے تین چیزیں سب سے بہتر ہیں: وہ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہتی ہے، وہ صدقہ جو جاریہ ہو جس کا اجر اس تک پہنچتا رہے اور وہ نیک عمل جس پر اس کے بعد بھی عمل کیا جاتا رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوقف/حدیث: 4902]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «صحيح، وأخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2495، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 93، 4902، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 241، وأبو الحسن القطان فى زوائده على "سنن ابن ماجه"، بدون ترقيم، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3472، والطبراني فى (الصغير) برقم: 395»
«‏‏‏‏قال ابن الملقن: حديث صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (7 / 101)» «رقم طبعة با وزير 4882»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - تقدم (93).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں