صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
20. ذكر البيان بأن النخل إذا أبرت والعبد الذي له مال إذا بيعا يكون الثمر والمال للبائع ما لم يتقدم للمبتاع فيه الشرط-
بیع کا بیان - بیان کہ اگر کھجور کے درخت گبھا نکلنے کے بعد یا ایسا غلام جس کے پاس مال ہے بیچا جائے تو پھل اور مال بیچنے والے کا ہوگا جب تک خریدار کے حق میں شرط نہ ہو۔
حدیث نمبر: 4923
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ بَاعَ نَخِيلا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ" .
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، ان تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان پہنچا ہے: ”جو شخص پیوندکاری ہو جانے کے بعد کھجور کا درخت فروخت کرتا ہے تو اس کا پھل فروخت کرنے والے کی ملکیت ہو گا، البتہ اگر خریدار نے اس کی شرط عائد کی ہو (تو حکم مختلف ہے) اور جو شخص کوئی غلام فروخت کرے جس کے پاس مال موجود ہو تو اس کا مال فروخت کرنے والے کی ملکیت ہو گا، البتہ اگر خریدار نے شرط عائد کی ہو (تو حکم مختلف ہو گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4923]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2204، 2206، 2379، 2716، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1543، وابن الجارود فى "المنتقى"، 684، 685، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4922، 4923، 4924، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3433، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1244، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2210، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7444، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4589، والحميدي فى (مسنده) برقم: 625» «رقم طبعة با وزير 4902»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
21. ذكر البيان بأن العبد المأذون له في التجارة إذا بيع وله مال وعليه دين يكون ماله لبائعه ودينه عليه-
بیع کا بیان - بیان کہ اگر تجارت کی اجازت یافتہ غلام بیچا جائے اور اس کے پاس مال اور قرض ہو تو مال بیچنے والے کا اور قرض غلام پر رہے گا۔
حدیث نمبر: 4924
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافِي الْعَابِدُ بِصَيْدَا، أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَيْدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلانَ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ، فَلَهُ مَالُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنُهُ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ أَبَّرَ نَخْلا فَبَاعَهُ بَعْدَ تَأْبِيرِهِ، فَلَهُ ثَمَرُهُ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی غلام فروخت کرتا ہے جس کے پاس مال موجود ہو تو اس غلام کا مال اس شخص کو ملے گا اور اگر اس غلام نے کچھ قرض لیا ہو تو اس کی ادائیگی اس شخص پر ہوگی البتہ اگر خریدار نے اس کی شرط عائد کی ہو (تو حکم مختلف ہوگا) اور جو شخص کھجور کے کسی درخت کی پیوندکاری کر دیتا ہے اور پیوندکاری کرنے کے بعد اسے فروخت کرتا ہے تو اس درخت کا پھل اسے ملے گا البتہ اگر خریدار نے شرط عائد کی ہو (تو حکم مختلف ہوگا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4924]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2204، 2206، 2379، 2716، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1543، وابن الجارود فى "المنتقى"، 684، 685، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4922، 4923، 4924، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3433، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1244، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2210، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7444، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4589، والحميدي فى (مسنده) برقم: 625» «رقم طبعة با وزير 4903»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الإرواء» (1314)، «البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
22. باب السلم - ذكر الزجر عن استسلاف المرء ماله إلا في الشيء المعلوم-
سلم کا بیان - قرض یا ادھار دینے سے روکا گیا ہے سوائے اس چیز کے جو واضح طور پر معلوم ہو۔
حدیث نمبر: 4925
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَالنَّاسُ يُسْلِفُونَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَسْلَفَ، فَلا يُسْلِفْ إِلا فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ" ، أَبُو الْمِنْهَالِ هَذَا اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُطْعِمٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ بیع سلف کیا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جو شخص بیع سلف کرے وہ اس وقت بیع سلف کرے جب وہ متعین ماپ اور متعین وزن کے بارے میں ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابومنہال نامی راوی کا نام عبدالرحمن بن مطعم ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4925]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2239، 2240، 2241، 2253، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1604، وابن الجارود فى "المنتقى"، 669، 670، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4925، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4630، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3463، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1311، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2280، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11202، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2798، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1893» «رقم طبعة با وزير 4904»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحاديث البيوع»، «الإرواء» (1376)، «الروض» (458): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
23. باب السلم - ذكر الإباحة للمرء أن يسلم وإن لم يعلم في ذلك الوقت عند المسلم إليه أصل ما أسلم فيه-
سلم کا بیان - بیان کہ اگرچہ اس وقت فروخت کنندہ کے پاس اصل چیز نہ ہو، پھر بھی سلم (بیع سلم) کا عقد جائز ہے۔
حدیث نمبر: 4926
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ:" أَرْسَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ، وَأَبُو بُرْدَةَ، فَقَالا لِي: انْطَلِقْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، فَقُلْ لَهُ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ وَأَبَا بُرْدَةَ يُقْرِئَانِكَ السَّلامَ، وَيَقُولانِ: هَلْ كُنْتُمْ تُسْلِفُونَ فِي الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ، كُنَّا نَصِيبُ غَنَائِمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُسْلِفُهَا فِي الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ، فَقُلْتُ: مَنْ لَهُ زَرْعٌ، أَوْ عِنْدَ مَنْ لَيْسَ لَهُ زَرْعٌ، فَقَالَ: مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ" .
محمد بن ابومجالد بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن شداد اور ابوبردہ رضی اللہ عنہما نے مجھے بھیجا اور ان دونوں نے مجھ سے کہا: تم سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ عبداللہ بن شداد اور ابوبردہ نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور ان دونوں نے یہ دریافت کیا ہے: کیا آپ لوگ گندم، جو اور کشمش میں بیع سلف کر لیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہمیں غلہ حاصل ہوتا تھا، تو ہم گندم، جو، کھجور اور کشمش میں بیع سلف کر لیا کرتے تھے۔ میں نے دریافت کیا: کیا آپ اس شخص کے ساتھ یہ معاملہ کرتے تھے جس کے پاس کھیت ہوتے تھے یا اس کے ساتھ جس کے پاس کھیت نہیں ہوتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہم اس بارے میں تحقیق نہیں کرتے تھے۔ (یعنی دونوں قسم کے لوگوں سے بیع سلف کر لیتے تھے) [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4926]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2242، 2244، 2254، وابن الجارود فى "المنتقى"، 671، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4926، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4628، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3464، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2282، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11210، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19429» «رقم طبعة با وزير 4905»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1370)، «أحاديث البيوع»: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
24. باب خيار العيب - ذكر البيان بأن مشتري الدابة إذا وجد بها عيبا بعد أن نتجت عنده كان له رد الدابة على البائع بالعيب دون النتاج-
خیارِ عیب کا بیان - بیان کہ اگر خریدار کو خریدی گئی جانور میں عیب بعد میں ظاہر ہو تو وہ جانور واپس کر سکتا ہے مگر پیدا ہونے والا بچہ واپس نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 4927
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: «الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ» ”خراج، ضمان کے حساب سے ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4927]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 682، 683، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4927، 4928، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2187، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3508، 3509، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1285، 1286، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2242، 2243، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10851، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3004، 3005، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24861» «رقم طبعة با وزير 4906»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الإرواء» (1315)، «البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث حسن لغيره
25. باب خيار العيب - ذكر البيان بأن الغلام المبيع إذا وجد به العيب يجب أن يرده إلى بائعه دون ما استغل منه بعد شرائه إياه-
خیارِ عیب کا بیان - بیان کہ اگر غلام میں خرید کے بعد عیب ظاہر ہو تو غلام واپس کیا جائے گا، مگر خریداری کے بعد ہونے والا نفع واپس نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 4928
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ ، قَالَ:" كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ شُرَكَاءَ لِي عَبْدٌ فَاقْتَوَيْنَاهُ بَيْنَنَا، وَكَانَ بَعْضُ الشُّرَكَاءِ غَائِبًا، فَقَدِمَ وَأَبَى أَنْ يُجِيزَهُ، فَخَاصَمْنَا إِلَى هِشَامٍ، فَقَضَى بِرَدِّ الْغُلامِ وَالْخَرَاجِ، وَكَانَ الْخَرَاجُ بَلَغَ أَلْفًا، فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ" ، قَالَ: فَأَتَيْتُ هِشَامًا فَأَخْبَرْتُهُ، فَرَدَّهُ وَلَمْ يَرُدَّ الْخَرَاجَ.
مخلد بن خفاف کہتے ہیں: میرے اور میرے کچھ رشتہ داروں کے درمیان ایک غلام مشترکہ ملکیت تھا (ہم نے اسے فروخت کر دیا)، ایک رشتہ دار وہاں موجود نہیں تھا جب وہ آیا، تو اس نے اس سودے کو برقرار رکھنے سے انکار کر دیا۔ ہم اپنا مقدمہ لے کر ہشام کے پاس گئے تو اس نے یہ فیصلہ دیا کہ وہ غلام واپس آئے گا اور خراج بھی واپس آئے گا۔ خراج کی رقم ایک ہزار (دینار یا درہم) تک پہنچتی تھی، میں عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کے پاس آیا۔ میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے بتایا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: «الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ» ”خراج، ضمان کے حساب سے ہو گا۔“ راوی کہتے ہیں: میں ہشام کے پاس آیا، میں نے اسے اس بارے میں بتایا تو اس نے اس غلام کو واپس کر دیا اور خراج واپس نہیں کروایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4928]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 682، 683، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4927، 4928، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2187، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3508، 3509، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1285، 1286، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2242، 2243، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10851، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3004، 3005، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24861» «رقم طبعة با وزير 4907»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حسن بما قبله
26. باب بيع المدبر - ذكر الخبر المدحض قول من نفى جواز بيع المدبر في حالة من الأحوال-
بیعِ مدبر کا بیان - وہ خبر جو ان لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جو ہر حالت میں مدبر غلام کے بیچنے کے منکر ہیں۔
حدیث نمبر: 4929
أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُجِيبِ أَبُو صَالِحٍ بِبَلَدِ الْمَوْصِلِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَذْرَمِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلاءِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَ الْمُدَبَّرَ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر (غلام) کو فروخت کر دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4929]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2141، 2230، 2231، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 997، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2445، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3339، 3342، 4234، 4929، 4930، 4931، 4932، 4933، 4934، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3955، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1219، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2512، 2513، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 439، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7849، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4258، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14349» «رقم طبعة با وزير 4908»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1288)، «الروض» (203): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
27. باب بيع المدبر - ذكر إباحة بيع المدبر إذا كان المدبر عديما لا مال له-
بیعِ مدبر کا بیان - بیان کہ اگر مدبر غلام کے پاس مال نہ ہو تو اس کو بیچنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 4930
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ أَعْتَقَ غُلامًا لَهُ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي؟" فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّحَّامُ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ، قَالَ جَابِرٌ: كَانَ عَبْدًا قِبْطِيًّا، مَاتَ عَامَ الأَوَّلِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے غلام کو آزاد کر دیا، اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا، اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اسے مجھ سے کون خریدے گا؟“ تو سیدنا نعیم بن عبداللہ نحام رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم کے عوض میں اسے خرید لیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رقم ان صاحب کو دے دی، سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: وہ ایک قبطی غلام تھا جو ایک سال کے اندر ہی فوت ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4930]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2141، 2230، 2231، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 997، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2445، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3339، 3342، 4234، 4929، 4930، 4931، 4932، 4933، 4934، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3955، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1219، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2512، 2513، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 439، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7849، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4258، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14349» «رقم طبعة با وزير 4909»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحاديث البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
28. باب بيع المدبر - ذكر البيان بأن قول جابر إن رجلا من الأنصار أعتق غلاما له أراد به أعتق غلاما له عن دبر دون العتق البتات-
بیعِ مدبر کا بیان - بیان کہ جابر رضی اللہ عنہ کا قول «أعتق غلاما له» سے مراد تدبیر کے ساتھ آزاد کرنا ہے نہ کہ مکمل آزادی۔
حدیث نمبر: 4931
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: أَبُو مَذْكُورٍ دَبَّرَ غُلامًا لَهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَهُ مَالُ غَيْرِهِ"، قَالُوا: لا، قَالَ: " مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي؟" فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمٌ النَّحَّامُ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْفِقْهَا عَلَى نَفْسِكَ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَعَلَى أَقَارِبِكَ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَهَهُنَا وَهَهُنَا" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام ابومذکور تھا، انہوں نے اپنے ایک غلام کو مدبر کر دیا، اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اس کے پاس اس غلام کے علاوہ کوئی اور مال ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا؟“ چنانچہ سیدنا نعیم نحام رضی اللہ عنہ نے اسے آٹھ سو درہم کے عوض میں خرید لیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس رقم کو تم اپنے اوپر خرچ کرو، اگر اضافی ہو تو اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرو، اگر اضافی ہو تو ادھر اُدھر (یعنی اللہ کی راہ میں) خرچ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4931]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2141، 2230، 2231، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 997، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2445، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3339، 3342، 4234، 4929، 4930، 4931، 4932، 4933، 4934، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3955، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1219، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2512، 2513، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 439، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7849، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4258، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14349» «رقم طبعة با وزير 4910»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (833)، «أحاديث البيوع»: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
29. باب بيع المدبر - ذكر خبر ثان يصرح بأن بيع المدبر يجوز عند حاجة المدبر إليه-
بیعِ مدبر کا بیان - ایک دوسری خبر جو واضح کرتی ہے کہ ضرورت کے وقت مدبر غلام کو بیچنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 4932
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ أَبَا مَذْكُورٍ دَبَّرَ غُلامًا لَهُ، فَاحْتَاجَ، فَبَاعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مُحْتَاجًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَلأَهْلِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَلأَقَارِبِهِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابومذکور رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو مدبر کر دیا، وہ خود ضرورت مند تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو فروخت کر دیا اور ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص ضرورت مند ہو تو وہ اپنی ذات (پر خرچ کرنے) سے آغاز کرے۔ اگر اس کے پاس اضافی ہو تو اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرے اور اگر اضافی ہو تو قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4932]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2141، 2230، 2231، 2403، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 997، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2445، 2452، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3339، 3342، 4234، 4929، 4930، 4931، 4932، 4933، 4934، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2545، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3955، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1219، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2512،وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 439، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7849، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4258، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14349» «رقم طبعة با وزير 4911»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحاديث البيوع»: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الشيخين غير ابي الزبير