سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب فِي قِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ
باب: ماہ رمضان میں قیام اللیل (تراویح) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1371
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ، ثُمَّ يَقُولُ:" مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا رَوَاهُ عُقَيْلٌ، وَيُونُسُ، وَأَبُو أُوَيْسٍ" مَنْ قَامَ رَمَضَانَ"، وَرَوَى عُقَيْلٌ" مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَقَامَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر تاکیدی حکم دئیے رمضان کے قیام کی ترغیب دلاتے، پھر فرماتے: ”جس نے رمضان میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے تمام سابقہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک معاملہ اسی طرح رہا، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے شروع تک یہی معاملہ رہا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح عقیل، یونس اور ابواویس نے «من قام رمضان» کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے اور عقیل کی روایت میں «من صام رمضان وقامه» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1371]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامِ رمضان کی ترغیب دیا کرتے تھے بغیر اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واجبی طور پر ان کو حکم دیں۔ پھر فرماتے تھے: ”جس نے ایمان کی بنا پر اور تقرب و ثواب کی غرض سے رمضان کا قیام کیا، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت ہو گئی اور معاملہ ایسے ہی رہا۔ اس کے بعد خلافتِ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور میں بھی یہ صورت رہی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عقیل، یونس اور ابواویس نے ایسے ہی روایت کیا ہے ”یعنی جس نے رمضان کا قیام کیا۔“ اور عقیل کی روایت ہے ”جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کا قیام کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1371]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 25 (759)، سنن الترمذی/الصوم 1 (683)، 83 (808)، سنن النسائی/قیام اللیل 3 (1604)، والصوم 39 (2002)، والإیمان 22 (2196)، 22 (5027)، (تحفة الأشراف:12277، 15270، 15248)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإیمان 27 (37)، والصوم 6 (1901)، والتراویح 1 (2009)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 173 (1326)، موطا امام مالک/ الصلاة فی رمضان 1 (2)، مسند احمد (2/232، 241، 385، 473، 503)، سنن الدارمی/الصوم 54 (1817) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پھر عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو مسجد میں ایک امام کے پیچھے جمع کر دیا، اسی وجہ سے اکثر علماء نے باجماعت تراویح کو افضل کیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ گھر میں اکیلے پڑھنا افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق لكن خ جعل قوله فتوفي رسول الله ... من كلام الزهري
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (759)
حدیث نمبر: 1372
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ المَعْنى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے روزے رمضان ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، اور جس نے شب قدر میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے اور محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1372]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں: ”جس نے ایمان اور تقرب و ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ اور جس نے ایمان اور تقرب و ثواب کے لیے لیلۃ القدر کا قیام کیا، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: ”یحییٰ بن ابی کثیر اور محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے ایسے ہی روایت کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1372]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/لیلة القدر 1 (2014)، سنن النسائی/الصیام 22 (2204)، (تحفة الأشراف:15145)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/241) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2014)
حدیث نمبر: 1373
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ، ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ:" قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيْكُمْ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی تو آپ کے ساتھ کچھ اور لوگوں نے بھی پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلی رات کو بھی پڑھی تو لوگوں کی تعداد بڑھ گئی پھر تیسری رات کو بھی لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ہی نہیں، جب صبح ہوئی تو فرمایا: ”میں نے تمہارے عمل کو دیکھا، لیکن مجھے سوائے اس اندیشے کے کسی اور چیز نے نکلنے سے نہیں روکا کہ کہیں وہ تم پر فرض نہ کر دی جائے ۱؎“ اور یہ بات رمضان کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1373]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی (یعنی رمضان کی رات میں قیام فرمایا) تو لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلی رات پھر نماز پڑھی تو لوگ بھی بہت ہو گئے۔ پھر جب وہ تیسری رات جمع ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے ہی نہیں۔ جب صبح ہوئی تو فرمایا: ”تم نے جو کیا وہ میں نے دیکھا ہے اور مجھے تمہاری طرف نکلنے سے بس یہی مانع رہا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے۔“ اور یہ رمضان کی بات ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1373]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 80 (729)، والجمعة 29(924)، والتہجد 5 (1129)، والتراویح 1 (2011)، صحیح مسلم/المسافرین 25 (761)، سنن النسائی/ قیام اللیل 4 (1605)، (تحفة الأشراف:16594)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة في رمضان 1(1)، مسند احمد (6/169، 177) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد اب یہ اندیشہ باقی نہیں رہا اس لئے تراویح کی نماز جماعت سے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ مشروع ہے، رہا یہ مسئلہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں راتوں میں تراویح کی کتنی رکعتیں پڑھیں تو دیگر (صحیح) روایات سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان راتوں اور بقیہ قیام اللیل میں آٹھ رکعتیں پڑھیں، اور رکعات وتر کو ملا کر اکثر گیارہ اور کبھی تیرہ رکعات تک پڑھنا ثابت ہے، اور یہی صحابہ سے اور خلفاء راشدین سے منقول ہے، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس رکعتیں پڑھیں لیکن یہ روایت منکر اور ضعیف ہے، لائق استناد نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2012) صحيح مسلم (761)
حدیث نمبر: 1374
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ أَوْزَاعًا، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبْتُ لَهُ حَصِيرًا فَصَلَّى عَلَيْهِ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَتْ فِيهِ: قَالَ: تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، أَمَا وَاللَّهِ مَا بِتُّ لَيْلَتِي هَذِهِ بِحَمْدِ اللَّهِ غَافِلًا، وَلَا خَفِيَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ رمضان میں مسجد کے اندر الگ الگ نماز پڑھا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا، میں نے آپ کے لیے چٹائی بچھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی، پھر آگے انہوں نے یہی واقعہ ذکر کیا، اس میں ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! اللہ کی قسم! میں نے بحمد اللہ یہ رات غفلت میں نہیں گذاری اور نہ ہی مجھ پر تمہارا یہاں ہونا مخفی رہا“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1374]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لوگ مسجد میں ٹکڑیوں میں بٹ کر نماز پڑھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چٹائی بچھا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، اور یہ قصہ بیان کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! میں نے اللہ کے فضل سے رات غفلت میں نہیں گزاری اور نہ تمہارا یہاں جمع ہونا مجھ پر مخفی رہا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1374]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:17747)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/267) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أصله تقدم (1368)
أصله تقدم (1368)
حدیث نمبر: 1375
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ:"صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ، فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، فَلَمَّا كَانَتِ السَّادِسَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا، فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ نَفَّلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ، قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ لَمْ يَقُمْ، فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ جَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ وَالنَّاسَ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا الْفَلَاحُ؟ قَالَ: السُّحُورُ، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِقِيَّةَ الشَّهْرِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ نے مہینے کی کسی رات میں بھی ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا یہاں تک کہ (مہینے کی) سات راتیں رہ گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ قیام کیا یعنی تیئیسویں (۲۳) یا چوبیسویں (۲۴) رات کو یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی اور جب چھ راتیں رہ گئیں یعنی (۲۴) ویں یا (۲۵) ویں رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام نہیں کیا، اس کے بعد (۲۵) ویں یا (۲۶) ویں رات کو جب کہ پانچ راتیں باقی رہ گئیں آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس رات کاش آپ اور زیادہ قیام فرماتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اس کو ساری رات کے قیام کا ثواب ملتا ہے“، پھر چھبیسویں (۲۶) یا ستائیسویں (۲۷) رات کو جب کہ چار راتیں باقی رہ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر قیام نہیں کیا، پھر ستائیسویں (۲۷) یا اٹھائیسویں (۲۸) رات کو جب کہ تین راتیں باقی رہ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں، اپنی عورتوں اور لوگوں کو اکٹھا کیا اور ہمارے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ ہمیں خوف ہونے لگا کہ کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے، میں نے پوچھا: فلاح کیا ہے؟ ابوذر نے کہا: سحر کا کھانا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینے کی بقیہ راتوں میں قیام نہیں کیا ۱؎۔۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1375]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ کوئی قیام نہ کیا، حتیٰ کہ مہینے میں ایک ہفتہ باقی رہ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قیام کروایا، حتیٰ کہ تہائی رات ہو گئی۔ جب (آخر سے) چھٹی رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام نہ کرایا۔ جب پانچویں رات آئی تو ہمیں قیام کروایا، حتیٰ کہ آدھی رات گزر گئی۔ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کاش آپ ہمیں بقیہ رات بھی اس کا قیام کروا دیتے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان جب امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے اور اس کے فارغ ہونے تک اس کے ساتھ رہتا ہے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے۔“ جب چوتھی رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام نہ کرایا۔ جب تیسری رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقارب، بیویوں اور دوسرے لوگوں کو جمع فرمایا اور ہمیں قیام کرایا، یہاں تک کہ ہمیں فکر ہوئی کہ کہیں ہماری ”فلاح“ ہی نہ رہ جائے۔ (جبیر رحمہ اللہ نے کہا) میں نے پوچھا کہ ”فلاح“ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: ”سحری“، پھر بقیہ راتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو قیام نہیں کرایا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1375]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصوم 81 (806)، سنن النسائی/السہو103 (1365)، قیام اللیل 4 (1606)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 173 (1327)، (تحفة الأشراف:11903)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/159، 163)، سنن الدارمی/ الصوم 54 (1818) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اگر مہینہ تیس دن کا شمار کیا جائے تو سات راتیں چوبیس سے رہتی ہیں، اور اگر انتیس دن کا مانا جائے تو تیئسویں سے سات راتیں رہتی ہیں، اس حساب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیئسویں، پچسویں اور ستائسویں رات میں قیام کیا، یہ راتیں طاق بھی ہیں اور متبرک بھی، غالب یہی ہے کہ شب قدر بھی انہیں راتوں میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1298)
أخرجه الترمذي (806 وسنده صحيح) والنسائي (1365 وسنده صحيح) وابن ماجه (1327 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (2206 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (1298)
أخرجه الترمذي (806 وسنده صحيح) والنسائي (1365 وسنده صحيح) وابن ماجه (1327 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (2206 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 1376
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَدَاوُدُ بْنُ أُمَيَّةَ، أَنَّ سُفْيَانَ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، وَقَالَ دَاوُدُ عَنْ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى،عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ، وَشَدَّ الْمِئْزَرَ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو يَعْفُورٍ: اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو جاگتے اور (عبادت کے لیے) کمربستہ ہو جاتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابویعفور کا نام عبدالرحمٰن بن عبید بن نسطاس ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1376]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ”جب رمضان کا (آخری) عشرہ شروع ہوتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو جاگتے، اپنی کمر کس لیتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ”ابویعفور کا نام عبدالرحمٰن بن عبید بن نسطاس ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1376]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/لیلة القدر 5 (2024)، صحیح مسلم/الاعتکاف 3 (1174)، سنن الترمذی/الصوم 73 (795)، سنن النسائی/قیام اللیل 15 (1640)، سنن ابن ماجہ/الصوم 57 (1768)، (تحفة الأشراف:17637)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/40، 41) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2024) صحيح مسلم (1174)
حدیث نمبر: 1377
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا أُنَاسٌ فِي رَمَضَانَ يُصَلُّونَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ:" مَا هَؤُلَاءِ؟" فَقِيلَ: هَؤُلَاءِ نَاسٌ لَيْسَ مَعَهُمْ قُرْآنٌ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّي وَهُمْ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَابُوا، وَنِعْمَ مَا صَنَعُوا". قَالَ أَبُو دَاوُد: لَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ بِالْقَوِيِّ، مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ضَعِيفٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو دیکھا کہ کچھ لوگ رمضان میں مسجد کے ایک گوشے میں نماز پڑھ رہے ہیں، آپ نے پوچھا: ”یہ کون لوگ ہیں؟“، لوگوں نے عرض کیا: یہ وہ لوگ ہیں جن کو قرآن یاد نہیں ہے، لہٰذا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پیچھے یہ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ”انہوں نے ٹھیک کیا اور ایک بہتر کام کیا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے اس لیے کہ مسلم بن خالد ضعیف ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1377]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دیکھا کہ لوگ رمضان میں مسجد کی ایک جانب میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ان کو کیا ہے؟“ کہا گیا کہ ان لوگوں کو قرآن یاد نہیں ہے اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے ہیں تو یہ لوگ بھی ان کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے درست کیا اور بہت خوب کیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ”یہ حدیث قوی نہیں ہے۔ مسلم بن خالد ضعیف ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1377]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:14094) (ضعیف)» (اس کے راوی مسلم متکلم فیہ ہیں، مولف نے ان کو ضعیف قرار دیا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللحديث شاھد قوي عند البيهقي (2/495) من حديث ثعلبة بن أبي مالك رضي الله عنه وله رؤية فالحديث حسن
وللحديث شاھد قوي عند البيهقي (2/495) من حديث ثعلبة بن أبي مالك رضي الله عنه وله رؤية فالحديث حسن
2. باب فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ
باب: شب قدر کا بیان۔
حدیث نمبر: 1378
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ فَإِنَّ صَاحِبَنَا سُئِلَ عَنْهَا، فَقَالَ: مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ يُصِبْهَا، فَقَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، زَادَ مُسَدَّدٌ: وَلَكِنْ كَرِهَ أَنْ يَتَّكِلُوا، أَوْ أَحَبَّ أَنْ لَا يَتَّكِلُوا، ثُمَّ اتَّفَقَا، وَاللَّهِ إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ لَا يَسْتَثْنِي، قُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ لِزِرٍّ: مَا الْآيَةُ؟ قَالَ: تُصْبِحُ الشَّمْسُ صَبِيحَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةِ مِثْلَ الطَّسْتِ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ حَتَّى تَرْتَفِعَ.
زر کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: ابومنذر! مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیے؟ اس لیے کہ ہمارے شیخ یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: جو پورے سال قیام کرے اسے پا لے گا، ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ رات رمضان میں ہے (مسدد نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے لیکن انہیں یہ ناپسند تھا کہ لوگ بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں یا ان کی خواہش تھی کہ لوگ بھروسہ نہ کر لیں، (آگے سلیمان بن حرب اور مسدد دونوں کی روایتوں میں اتفاق ہے) اللہ کی قسم! یہ رات رمضان میں ہے اور ستائیسویں رات ہے، اس سے باہر نہیں، میں نے پوچھا: اے ابومنذر! آپ کو یہ کیوں کر معلوم ہوا؟ انہوں نے جواب دیا: اس علامت سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بتائی تھی۔ (عاصم کہتے ہیں میں نے زر سے پوچھا: وہ علامت کیا تھی؟ جواب دیا: اس رات (کے بعد جو صبح ہوتی ہے اس میں) سورج طشت کی طرح نکلتا ہے، جب تک بلندی کو نہ پہنچ جائے، اس میں کرنیں نہیں ہوتیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1378]
”کہ لوگ اسی پر تکیہ نہ کر لیں۔“ (پھر سلیمان اور مسدد دونوں نے کہا) ”قسم اللہ کی! یہ رمضان کی ستائیسویں شب کو ہوتی ہے“، انہوں نے ان شاء اللہ نہ کہا، میں نے کہا: ”اے ابوالمنذر رضی اللہ عنہ! آپ کو اس کا کیسے علم ہوا؟“ انہوں نے کہا: ”اس علامت سے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی ہے۔“ (عاصم رحمہ اللہ نے کہا) میں نے جناب زر رحمہ اللہ سے پوچھا: ”وہ علامت کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اس رات کی صبح کو سورج طشت (تانبے کی بڑی پلیٹ) کی طرح نکلتا ہے اور اونچا ہونے تک اس میں شعاع (اور حدت) نہیں ہوتی۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1378]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 25 (762)، سنن الترمذی/الصوم 73 (793)، سنن النسائی/الاعتکاف (3406)، (تحفة الأشراف:18)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/130، 131) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1169)
حدیث نمبر: 1379
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسِ بَنِي سَلَمَةَ، وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ، فَقَالُوا: مَنْ يَسْأَلُ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَذَلِكَ صَبِيحَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ، فَخَرَجْتُ، فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ، ثُمَّ قُمْتُ بِبَابِ بَيْتِهِ، فَمَرَّ بِي، فَقَالَ:" ادْخُلْ"، فَدَخَلْتُ فَأُتِيَ بِعَشَائِهِ فَرَآنِي أَكُفُّ عَنْهُ مِنْ قِلَّتِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ:" نَاوِلْنِي نَعْلِي"، فَقَامَ وَقُمْتُ مَعَهُ، فَقَالَ:" كَأَنَّ لَكَ حَاجَةً" قُلْتُ: أَجَلْ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ رَهْطٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ يَسْأَلُونَكَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ:" كَمْ اللَّيْلَةُ؟ فَقُلْتُ: اثْنَتَانِ وَعِشْرُونَ، قَالَ:" هِيَ اللَّيْلَةُ"، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ:" أَوِ الْقَابِلَةُ، يُرِيدُ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ".
عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی سلمہ کی مجلس میں تھا، اور ان میں سب سے چھوٹا تھا، لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے شب قدر کے بارے میں کون پوچھے گا؟ یہ رمضان کی اکیسویں صبح کی بات ہے، تو میں نکلا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب پڑھی، پھر آپ کے گھر کے دروازے پر کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور فرمایا: ”اندر آ جاؤ“، میں اندر داخل ہو گیا، آپ کا شام کا کھانا آیا تو آپ نے مجھے دیکھا کہ میں کھانا تھوڑا ہونے کی وجہ سے کم کم کھا رہا ہوں، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”مجھے میرا جوتا دو“، پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لگتا ہے تمہیں مجھ سے کوئی کام ہے؟“، میں نے کہا: جی ہاں، مجھے قبیلہ بنی سلمہ کے کچھ لوگوں نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ شب قدر کے سلسلے میں پوچھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”آج کون سی رات ہے؟“، میں نے کہا: بائیسویں رات، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی شب قدر ہے“، پھر لوٹے اور فرمایا: ”یا کل کی رات ہو گی“ آپ کی مراد تیئسویں رات تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1379]
ضمرہ بن عبداللہ بن انیس اپنے والد (عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں بنی سلمہ کی ایک مجلس میں تھا اور میں ان سب سے چھوٹا تھا، انہوں نے کہا: ”کون ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے لیلۃ القدر کے متعلق پوچھ آئے؟“ اور یہ رمضان کی اکیسویں تاریخ کی صبح تھی۔ پس میں نکلا اور مغرب کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے دروازے پر کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اندر آ جاؤ۔“ میں اندر چلا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عشائیہ پیش کیا گیا، مجھے یاد ہے کہ میں کھانا کم ہونے کی وجہ سے جھجھک رہا تھا (یعنی بہت کم کھا رہا تھا)۔ جب فارغ ہو گئے تو فرمایا: ”مجھے میرے جوتے دو۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تم کسی کام سے آئے تھے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! مجھے بنی سلمہ کی ایک جماعت نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے، وہ لیلۃ القدر کے متعلق دریافت کرنا چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کون سی رات ہے؟“ میں نے کہا: بائیسویں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی رات ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات دہرائی اور فرمایا: ”اگلی رات ہے۔“ یعنی تئیسویں رات۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1379]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:5143)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ الاعتکاف (3401، 3402)، مسند احمد (3/495) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (في الكبريٰ :3401)
ابن شھاب الزھري عنعن (تقدم : 145)
و حديث النسائي في الكبري (3402 وسنده حسن) يغني عنه و فيه : بل القابلة ثلاث و عشرين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 55
إسناده ضعيف
نسائي (في الكبريٰ :3401)
ابن شھاب الزھري عنعن (تقدم : 145)
و حديث النسائي في الكبري (3402 وسنده حسن) يغني عنه و فيه : بل القابلة ثلاث و عشرين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 55
حدیث نمبر: 1380
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي بَادِيَةً أَكُونُ فِيهَا وَأَنَا أُصَلِّي فِيهَا بِحَمْدِ اللَّهِ، فَمُرْنِي بِلَيْلَةٍ أَنْزِلُهَا إِلَى هَذَا الْمَسْجِدِ، فَقَالَ:" انْزِلْ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ"، فَقُلْتُ لِابْنِهِ: كَيْفَ كَانَ أَبُوكَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: كَانَ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ فَلَا يَخْرُجُ مِنْهُ لِحَاجَةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ الصُّبْحَ، فَإِذَا صَلَّى الصُّبْحَ وَجَدَ دَابَّتَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَجَلَسَ عَلَيْهَا، فَلَحِقَ بِبَادِيَتِهِ.
عبداللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک غیر آباد جگہ پر میرا گھر ہے میں اسی میں رہتا ہوں اور بحمداللہ وہیں نماز پڑھتا ہوں، آپ مجھے کوئی ایسی رات بتا دیجئیے کہ میں اس میں اس مسجد میں آیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیئسویں شب کو آیا کرو“۔ محمد بن ابراہیم کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے پوچھا: تمہارے والد کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب عصر پڑھنی ہوتی تو مسجد میں داخل ہوئے پھر کسی کام سے باہر نہیں نکلتے یہاں تک کہ فجر پڑھ لیتے، پھر جب فجر پڑھ لیتے تو اپنی سواری مسجد کے دروازے پر پاتے اور اس پر بیٹھ کر اپنے بادیہ کو واپس آ جاتے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1380]
سیدنا عبداللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں دیہات میں رہتا ہوں اور بحمد اللہ وہیں نماز پڑھتا ہوں، تو آپ مجھے کسی رات (لیلۃ القدر) کے متعلق ارشاد فرما دیں کہ اس رات میں یہاں اس مسجد میں آ جاؤں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیئیسویں کی رات کو آ جانا۔“ (محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا) میں نے ان کے بیٹے (ضمرہ بن عبداللہ رحمہ اللہ) سے کہا: ”تو تمہارے والد کیسے کیا کرتے تھے؟“ انہوں نے کہا: ”وہ عصر پڑھ کر مسجد میں داخل ہو جایا کرتے تھے اور کسی حاجت کے لیے باہر نہ نکلتے تھے، حتیٰ کہ صبح کی نماز پڑھتے، پس نمازِ صبح کے بعد اپنی سواری مسجد کے دروازے پر پاتے تھے، اس پر بیٹھتے اور اپنی منزل پر (دیہات میں) چلے آتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1380]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5145)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاعتکاف 6 (12)، (کلاھما نحوہ) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2094)
وأصله عند مسلم (1168) وانظر الحديث السابق (1249)
مشكوة المصابيح (2094)
وأصله عند مسلم (1168) وانظر الحديث السابق (1249)